Columns

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور اور دسمبر کے انسو

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور اور دسمبر کے انسو

نوید نقوی

اس دن مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے ہم سے جدا ہوا تھا اور قوم ہر سال اس سانحے کا غم مناتی ہے۔میں 16 دسمبر 2014 کو کراچی میں ایک نیوز چینل میں بطور ریسرچر / ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کرنٹ افیئرز تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے دوپہر کے وقت جب اپنے آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا میرا بنگالی مکان مالک بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا کہ پشاور میں بچوں کے ایک سکول پر بہت بڑا حملہ ہوا ہے جس میں بہت سے بچے شہید ہو گئے ہیں، یہ سن کر میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی اور دل سے یہ دعا نکلی کہ یا اللہ سب خیر ہو۔کیونکہ اس وقت شمالی وزیرستان اور افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقے دہشت گردوں کا گڑھ بنے ہوئے تھے اور میرا ذہن فوری طور پر کسی خودکش حملے کی طرف گیا۔کچھ ہی دیر میں اس سانحہ کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی بہت سارے ممالک کے سربراہان نے اس واقعے کی پرزور مذمت کی اور اس دن کو پوری انسانیت کے لیے ایک سیاہ دن قرار دیا۔

سانحہ کے فورا بعد افغانستان کی حکومت پر اس بات کا دباؤ ڈالا گیا کہ وہ افغانستان کے اندر موجود چھپے ہوئے بزدل تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو ختم کریں ورنہ ہمیں مجبوراً یہ کام خود کرنا پڑے گا۔ اس وقت کے افغان صدر نے پاکستان کی عسکری و سول قیادت کے تیور دیکھتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن آج تک ٹی ٹی پی کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے افغانستان اپنے اس وعدے کی پاسداری نہیں کر سکا ہے۔
میں جب آفس پہنچا تو تفصیلات سے آگاہی حاصل ہونے کے بعد دل خون کے آنسو روتا رہا. اس روز لگ بھگ سوا دس بجے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس)پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بزدل دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ کو نہ صرف یرغمال بنایا بلکہ ان پر فائرنگ کرکے طلبہ سمیت 147 سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا۔ سانحہ پشاور نے ہر پاکستانی کو رلا دیا تھا یہ بھی ایک حقیقت ہے طالب علم کسی بھی قوم کے لیے فخر کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاشرے کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بہت معصوم ہوتا ہے ان سے ہر کوئی شفقت سے پیش آتا ہے کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جس سے بہت جلد قوم کی ترقی کے لیے کام لیا جانا ہوتا ہے اور ان طالبعلموں سے اس بات کی توقع کی جاتی کہ وہ ترقی پسند روایات کو قائم رکھتے ہوئے قوم کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ پاکستانی تعلیمی اداروں کے اندر تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے اور ہر طرح سے ان تعلیمی اداروں کو نقصان پہچانےکی کوشش کرتے ہیں۔

تعلیم سے خوف زدہ عناصر

تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد تعلیم سے شروع سے ہی خوفزدہ رہے ہیں اور انہوں نے اس خوف کے زیر اثر معصوم طالبعلموں پر بزدلانہ حملہ کیا اس وقت کتنے ہی غازی بچے کہتے رہے اگر ہمارے پاس بھی ہتھیار ہوتے تو ہم ایک بھی دہشت گرد کو سکول سے زندہ واپس نہ جانے دیتے ہماری اس وطن عزیز پر جان بھی نچھاور ہو۔ یہ بھی کیا وقت تھا جب خیر و شر کی جنگ میں قسمت بھی کیا موڑ لائی جس نے ہم سے ہمارے پیارے بچوں اور ان کے اساتذہ کی قربانی مانگی۔

پوری قوم کو بلا کر رکھ دینے والا سانحہ

1971کی جنگ کے بعد یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور سفاک دہشت گردوں کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچانے کی طالب تھی۔ان معصوم طالب علموں اور ان کے اساتذہ کی قربانی صدق خلیل اور صبر حسین علیہ السلام کی عظیم روایت کا احیا ہے۔
سولہ دسمبر ایک قیامت تھی جو ہم سب پر گزری۔ ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، باپ کے کندھے جھک گئے اور بہت سے لال ماں اور والد کی شفقت سے محروم ہوگئے تو کچھ کے شریک حیات ابدی نیند سوگئے۔پھولوں کے شہر نے پھولوں کے اتنے جنازے دیکھے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ اس رات کی کوئی صبح نہیں۔سب نگاہیں پاک وطن کی پاک فوج پر مرکوز تھیں، ہر دل میں بدلے کی آگ تھی، ہر شخص معصوموں کے لئے تڑپ رہا تھا۔
اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرکے رہیں گے ۔انہوں نے اے پی ایس حملے کو پاکستان کے دل پرحملہ قرار دیا۔جنرل راحیل شریف نے کہا یہ حملہ پاک فوج کے جونئیر دستے پر حملہ ہے ۔اس وقت پاکستان کے ہر فوجی نے مشرقی اور مغربی باڈر سے لے کر گوادر کے ساحل سے سیاچین کے پہاڑوں پر ڈیوٹی کرتے ہوئے یہ قسم کھائی کہ خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے لیکن اپنے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کے خون کا بدلہ لیں گے ۔
بزدل دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کرکے علم کی شمع بجھانا چاہی ۔ مستقبل کے معماروں کو نشانہ بنایا مگر قوم کے حوصلے پست نہ کر سکے ۔بچوں سے ان کے خواب تو چھین لیے مگر والدین کے عزم کو کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ لہو سے جلے علم کے چراغ آج بھی روشن ہیں۔ اپنے پیاروں اور لخت جگر کو کھونے والوں کے حوصلے بلند ہیں۔ آج بھی شہید ہونے والے بچوں کے بہن بھائی اسی سکول میں بہادری سے پڑھ رہے ہیں۔ جہاں بزدلوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی اور معصوموں کا خون بہا تھا۔

نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل

اس واقعے کے بعد پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب کو مزید تیز کیا گیا تھا اور یہی نہیں بلکہ واقعے کے کچھ دن بعد ہی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کیا تھا نواز شریف نے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا اعلان کیا تھا اور اس پر ملک کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد اتفاق رائے ہوا تھا۔حکومت نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نہ صرف قومی لائحۂ عمل ترتیب دیا تھا بلکہ دہشت گردوں کو سزائیں دلانے کے لیے ملک میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جب کہ سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد غیر اعلانیہ پابندی بھی اٹھالی گئی تھی۔

دہشت گردی کے خلاف قلم کا ہتھیار

میں نے بھی ایک عہد کیا جب تک زندہ رہوں گا تحریک طالبان پاکستان کے وحشی جانوروں کا اپنے قلم سے مقابلہ کرتا رہوں گا اور آج بھی اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ اس سانحے کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ میں ان شہید بچوں اور ان کے ٹیچرز کو آج بھی ان کی بہادری کی وجہ سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آپ بھی اپنا عزم دہرائیں کہ غازیوں اور شہید بچوں کے والدین کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔ہم یہ سانحہ کبھی نہیں بھول سکتے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔ ہمارے معاشرے میں تشدد اور اسے بطور ہتھیار برتنے والے دہشت گردوں کے لیے بالکل کوئی گنجائش نہیں ہے۔ہمیں بطور پاکستانی پوری دنیا کو بھی یہ یاد دلانا چاہیئے کہ 8 برس قبل ہم نے یہ وزنی ترین کفن اٹھائے تھے اور ہماری قربانیاں کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں اور ہم ان قربانیوں کو نہ تو خود بھولیں گے اور نہ ہی دنیا کو بھولنے دیں گے۔

قوم کا سوال

پاکستان کی 75 سالہ تاریخ مختلف حادثات و سانحات سے بھری پڑی ہے تاہم کچھ واقعات ایسی بھی ہیں جو ہم شاید کبھی بھلا نہ پائیں 16 دسمبر کا دن بھی تاریخ کے انہی واقعات میں سے ہے۔ جہاں ایک طرف 1971 میں ہمارا پاک وطن دو لخت ہوا۔ 2014 میں اسی روز یہی اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔جس کے بعد سے ہر سال اس تاریخ کو پاکستانی سوشل میڈیا پر صرف اے پی ایس کا ہی موضوع ٹرینڈ کر رہا ہوتا ہے اور لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آج تک قاتلوں کا کیا انجام ہوا؟ لیکن اس سوال کا جواب میرے جیسے ایک عام پاکستانی کے پاس کہاں سے آ سکتا ہے۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں آج بھی ان شہید بچوں کی مائیں اپنے جگر گوشوں کو یاد کر کے روتی ہیں اور یہ یادیں اور غم ایک ماں ہی محسوس کر سکتی ہے ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ان کے درد کو بانٹنے کی کوشش کریں۔

ایک ماں کی دل چیرنے والی فریاد

مجھے آج بھی وہ ماں یاد ہےجو اپنے ساتویں جماعت میں پڑھنے والے پیارے لاڈلے بچے کو تیار کر کے سکول روانہ کرتی ہے اور سارا وقت اس کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتی رہتی ہے اسے جب اس سانحے کا پتا چلتا ہے تو وہ غش کھا کر گر جاتی ہے اور آج بھی اپنی اشکبار آنکھوں سے اپنے جگر گوشے کی راہ دیکھتی رہتی ہے وہ کہتی ہیں کہ یہ میں ہی جانتی ہوں، وہ بچہ جو چند روز پہلے ایک انجیکشن کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا تھا، وہ ہنس مکھ تھا لیکن ذرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ماں روتی ہوئے کہتی ہیں حملے سے کچھ روز پہلے ڈاکٹر کے پاس گئے تو ایک انجیکشن کا درد سہہ نہیں سکا اور اس نے ہسپتال میں خوب شور مچایا تھا۔جانے کیسے اتنی گولیاں اس کے جسم کو چھلنی کر گئیں، میرے بچے کے دونوں بازو فریکچر تھے اور جرسی گولیوں سے ادھڑ گئی تھی۔، دونوں بازو کندھوں سے ٹوٹ چکے تھے جسم خون خون تھا اور وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ نہ جانے ان کے بچے پر کیا گزری ہوگی، جب اتنی گولیاں لگی ہوں گی تو اس وقت ان کے بیٹے کا کیا حال ہوا ہو گا؟ میرے بیٹے کو خدا جانے کتنا درد ہوا ہوگا ؟ یہ بے بس ماں کہتی ہیں کہ آج بھی اپنے بیٹے کا بستر دیکھتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ میرے بیٹے اور اس کے معصوم ساتھیوں کا کیا قصور تھا اور کس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمان اور کسی بھی بے گناہ کو قتل کرسکتا ہے؟ کیا وہ دہشت گرد مسلمان تھے یا صرف مسلمان کے روپ میں وحشی درندے تھے؟
یہ باتیں ایسی اشکبار ماں کے ہیں جو آج آٹھ سال بعد بھی اپنے بیٹے کا غم بھلا نہیں پائیں۔ صرف یہ ایک ماں نہیں بلکہ ایسے 147 والدین ہیں جو ہر روز مرتے ہیں اور ہر روز جیتے ہیں۔ آئیں مل کر اس بات کا عہد کریں کہ انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان کی تاریخ میں آئندہ ایسا کوئی سانحہ رونما نہیں ہوگا اور ہم اپنے ملک سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے اپنی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button