Self development

سوشل جینیئس بننا کامیابی کی ضمانت

سوشل جینیئس بنئے
(Social Development)

ڈاکٹر محمد یونس خالد

(آرٹیکل “کامیاب شخصیت کی تعمیر” نامی زیر طبع کتاب سے ماخوذ ہے)

انسان کے پانچ اہم ڈویلپمنٹ ایریاز (جن پرتعمیر شخصیت کے دوران باقاعدہ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے)میں سے ایک اہم ایریاسوشل ڈویلپمنٹ کا ہے۔ یعنی انسان کو سوشل جینئس یا ایسا بننے کی کوشش کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ہم جنس انسانوں سے ملتے ہوئے ،ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے، ان سےگفتگو کرتے ہوئے یا کوئی اورمعاملہ ان سے کرتے ہوئے خوشی اور خوداعتمادی محسوس کرے کوئی جھجھک محسوس نہ کرے۔ انسان جتنا سوشل، لوگوں سے میل جول رکھنے والا، باتیں کرنے والا، ہمدردی کرنے والا، ہنسی خوشی رہنے والا اور ملنسار ہوتاہے وہ معاشرے میں اتنا ہی کامیاب ہوتاہے ۔

کامیابی کا تعلق آئی کیو لیول سے زیادہ سوشل جینیئس ہونے سے ہے

کسی زمانے میں انسان کی کامیابی کا معیار آئی کیو لیول کوہی قراردیا جاتا تھا کہ جس کا آئی کیولیول یعنی ذہانت کی سطح زیادہ بلند ہو وہ زیادہ ذہین ہوگا اور جوزیادہ ذہین ہوگا وہ زیادہ کامیاب بھی ہوگا۔ لیکن انسانی کامیابی پر کی جانے والی بعد کی کئی ریسرچز نے یہ ثابت کردیا کہ کامیابی کا تعلق آئی کیولیول سےزیادہ سوشل جینئس ہونے سے ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کامیابی کا 85 فیصد تعلق سوشل جینئس ہونے سے ہے صرف 15 فیصد آئی کیو لیول یا ذہانت سے ہے۔

تعلقات بنانے اور نبھانے کا گر

سوشل جینئس انسان کے پاس لوگوں سے تعلقات بنانے اور پھر نبھانے کا شاندار گر ہوتا ہے۔ان لوگوں کے پاس لیڈرشپ کی صلاحیت ہوتی ہے، یہ لوگوں کے سامنے مضبوط انداز سے اپنا آئیڈیا رکھ سکتے ہیں، پیش کرسکتے ہیں ان کو اپنے آئیڈیا پرکام کرنے کے لئے قائل کرسکتے ہیں اورزندگی کا کوئی اہم مقصد یا گول بنا کردوسرے لوگوں کو اس کے پیچھے دوڑاسکتے ہیں یعنی ایسے لوگوں کی ہاں سب کی ہاں اوران کی نہیں سب کی نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک بہترین صلاحیت ہوتی ہے جو انسانی شخصیت کو چارچاند لگاتی ہے اور کامیابی ان کامقدر بناتی ہے۔

اسلام میں معاشرتی تعلقات کی اہمیت

ہمارے دین میں معاشرتی تعلقات کی بہتری، مضبوطی واستحکام اور معاشرے کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے او ر قریب کرنے کے لئے کئی اقدامات کئےگئے ہیں۔مثلا رشتوں کو نبھانے اور صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ، حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص سے بھی رشتہ نبھانے کی کوشش کرو جو تم سے قطع تعلقی کرے۔ ایک حدیث میں قطع تعلقی کرنے والوں کے لئے جنت کی خوشبو کو حرام قراردیا گیا ہے ۔اسلام نے ماں باپ، بہن بھائی او ر دیگر رشتوں کے احترام کے حکم کے ساتھ ان کے حقوق کی ادائیگی کابھی حکم دیا ہے۔قریبی خونی رشتوں کے اندرنکاح کو حرام قراردیا گیا بلکہ ان سے باہر نکاح کرنے کاحکم دیا گیا تاکہ معاشرے میں سسرالی رشتے قائم ہوں اور معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کے زیادہ سے زیادہ قریب ہوں۔

اسلامی عبادات اور سوشل تعلقات

قرآن کریم میں خونی رشتے کے ساتھ سسرالی رشتے کوبھی اللہ تعالی نے ایک نعمت کے طور پر ذکرفرمایا۔ دین نے رشتہ داروں کے علاوہ پڑوسیوں کے بھی بے شمار حقوق متعین کئے۔ اس کے علاوہ دن میں پانچ نمازوں ،جمعہ وعیدین کے لئے مسجد جانے کا حکم دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ مل سکیں۔اور سب سے بڑھ کر پوری امت کو یکجا کرنے ، باہمی تعارف اورملی رشتوں کی مضبوطی کے لئے عمربھرمیں ایک مرتبہ حج فرض قراردیا جہاں پوری دنیا کے مسلمان مل کر اللہ تعالیٰ کے آگے ایک ساتھ سرجھکاتے ہیں۔ان تمام عبادات کا بنیادی مقصدتو اللہ سے تعلق کی مضبوطی ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور اہم مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں میں معاشرتی تعلقات مضبوط ہوں۔

سوشل جینئس بنانے والی تین وجوہات

سوال یہ ہے کہ ایک انسان سوشل جینئس کس طرح سے بن سکتا ہے؟ تحقیق کے مطابق تین وجوہات یا حالات ایسے ہوتے ہیں جن سے انسان سوشل جینئس بن سکتا ہے۔

پیدائشی سوشل جینیئس

پہلی وجہ پیدائشی ہوتی ہے یعنی بعض بچے فطری طورپر سوشل جینئس پیدا ہوتے ہیں یہ خصوصیت وہ اپنے ماں باپ سے پیدائش کے وقت لے کرآتے ہیں۔

ماحول کے زیر اثر بننے والا سوشل جینیئس

دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو حالات اور مواقع ایسے ملتے ہیں کہ شعور آنے تک سوشل جینئس بن چکے ہوتے ہیں۔مثلا گھر کا آزادانہ ماحول اور لوگوں سے وسیع سماجی تعلقات بچوں کو سوشل جینئس بنادیتے ہیں۔

کسبی سوشل جینیئس

تیسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی کوشش سے سوشل جینئس بن جائے ،یعنی ایک بالغ فرد اپنے اندر یہ کمی محسوس کرتا ہے کہ میں شاید سوشل جینئس نہیں ہوں۔ یامیرے اند ر یہ قابلیت کم ہے اور پھر وہ اس کو بہتر بنانے کی شعوری کوشش کرتا ہے۔ کتابیں پڑھتاہے،ویڈیوز دیکھتا اور کوئی ورکشاپ یاکورس جوائن کرتاہےجس کے نتیجے میں وہ کسی حد تک سوشل جینئس بن جاتا ہے۔

ماہرین کی رائے

اس موضوع کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل جینئس ہونا کسی حد تک پیدائشی عمل بھی ہے تاہم اس کا زیادہ تر حصہ کسبی ہے، یعنی انسان اپنے ماحول سے سیکھ کر سوشل جینئس بن سکتا ہے۔اس میں والدین اور گھر کے ماحول کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے،نیزاس حوالے سے واقعات اور مواقع بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلا بعض لوگوں میں سوشل جینئس کا ٹیلنٹ پیدائشی طور پر شاید کم ہو لیکن والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی، مواقع کی فراہمی اور گھر کا موافق ماحول انسا ن کو سوشل جینئس اور کامیاب بنادیتا ہے۔

سوشل جینیئس بننے میں اچھے مواقع کا کردار

بعض اوقات انسان کو جاب اس نوعیت کی مل جاتی ہے کہ انسان کے اندر موجود محدود پیمانے کا سوشل ٹیلنٹ نکھرکر سامنے آتا ہے اور وہ شوسل جینئس بن جاتاہے۔ تاہم اس کے برعکس بعض اوقات انسان میں ابتدا میں شوسل جینئس کا ٹیلنٹ بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کو جاب اس نوعیت کی مل جاتی ہے کہ اس کا ٹیلنٹ پالش نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے انسان سوشل جینیس نہیں بن پاتا۔ جب شعوری سطح پر سوشل جینئس بڑھانے کی کوشش کی جائے تواس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایسی جاب یا ایسے مواقع تلاش کیے جائیں جن سے سوشل جینئس کے ٹیلنٹ کو بڑھنے کا موقع ملے۔

سوشل جینئس بنانے والے گر

ذیل میں شخصیت کی اس بہترین خصوصیت کو بڑھانے کے لئے چندتجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ قارئین ان تجاویز پر عمل کرکے بڑی حد تک سوشل جینئس بن سکتے ہیں اور اپنی شخصیت کو بہتر اورکامیاب بنا سکتے ہیں۔

1۔ سوشل جینئس بننے کو اپنی ترجیح بنائیں یعنی مردم بے زاری کواپنا فلفسہ حیات بنانے کے بجائے مردم خواہی ، مردم شناسی اور انسان دوستی کو اپنا فلسفہ حیات بنائیں۔

2۔ فیملی ، رشتہ دار ، دوست احباب ، عزیزواقارب اور آفس ایسوسی ایٹس کو اہمیت دیں ان کو وقت دیں، ان کو عزت واحترام دیں اور ان کی تکریم کریں۔یعنی قدردانی کا رویہ انسان کو سوشل جینئس بناسکتاہے۔

3۔ مزاج پر بھرپور کام کیا جائے،مزاج سے روکھا پن کو دور کرکے شخصیت میں شگفتگی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔مزاح اور خوش طبعی کو اپنی شخصیت کا باقاعدہ حصہ بنانے کی کوشش کی جائے۔

4۔ نرم لہجہ ، نرم مزاج، خیرخواہی اور دوستی کا رویہ اپنایاجائے جس سے لوگ آپ کی طرف مائل ہوسکتے ہیں، اورآپ کی شخصیت سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

5۔ لوگوں سے گھل مل کر رہنے اوران سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کی جائے۔

6۔ وقت اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کا فن سیکھا جائے جس سے سوشل جینئس بننا آسان ہوسکتا ہے۔
7۔لوگوں کے دکھ درد میں کے کام آنے ، خدمت خلق کا جذبہ اپنانے ،اوروں کے دکھ کو سننے کی عادت ڈالنے اور اپنے دل میں دوسروں کا احسا س پیدا کرنے سے بھی سوشل جینیس کی خصوصیت میں اضافہ ہوجاتاہے۔

8۔ اپنے جذ بات کی مینجمنٹ پر بھرپورکام کیجئے ۔یاد رکھیے انسان اس وقت تک سوشل جینئس نہیں بن سکتا جب تک کہ جذبات کو کنٹرول اور مینیج کرنے کا طریقہ اس کو نہیں آتا ۔ اس کے لئے خودشناسی اپنے اندر پیداکیجئےاور اپنے جذبات کو متوازن بنانے پر بھرپورکام کیجئے۔

یہ بھی پڑھیئے:

کامیابی اور کامیاب شخصیت

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button