Board ExamasFor TeachersMadarisPrimary & Secondary

امتحان کی تیاری کیسے کریں اور کرائیں؟

امتحان کی تیاری کیسے کریں اور کرائیں؟

اسکولوں کے امتحانات پورے سال کی پڑھائی کے بعد انعقاد پذیر ہوتے ہیں ۔جس میں بچے کی پوری سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی جائزے کے تحت بچے اول، دوم اور سوم پوزیشن بھی حاصل کرتے ہیں ۔ امتحانات کے ذریعے بچوں کی ذہنی کیفیت کو پرکھا اور سمجھا جاتا ہے۔

امتحان کے چند بنیادی مقاصد

 امتحانات کے انعقاد کے کچھ بنیادی مقاصد ہوتے ہیں جو مندرجہ ذیل  ہیں ۔

۔۔ بچے کی ذہنی صلاحیت کو جانچنا کہ سال بھر میں اس نے کیا کچھ سیکھا۔

۔۔ پھر اسی سیکھے ہوئے کی بنیاد پر اسے اگلی جماعت میں ترقی دینا۔

۔۔ اساتذہ کے ذریعے سلیبس کی تکمیل کو یقینی بنانا اورمطلوبہ ہدف کو پورا کرنا

۔۔ بچوں کے درمیان تقابلی رجحان پیدا کرنا تاکہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی لگن میں اچھی کارکردگی دکھائیں۔ وغیرہ

امتحان کی تیاری کےحوالے سے کچھ مفید باتیں

 امتحانات کے دوران عموما بچے ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔اور امتحانات کے بعد نتائج کے حوالے سے فکر مند ہوتے ہیں۔ کہ کس طرح اچھے نمبرز لیے جائیں۔ امتحانات کی تیاری کے لیے چند باتوں کو  اگرملحوظ خاطر رکھیں  تو کامیابی کا امکان  بڑھ جاتا  ہے۔

  • مناسب منصوبہ بندی

امتحانات کی تیاری کے حوالے سے منصوبہ بندی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اگر بچے نے پورا سال مناسب منصوبہ بندی کے تحت کام کیا ہو، اور اسکول سے ملنے والے روزانہ کے اسباق کو یاد کیا ہو۔ تو سال کے آخر میں اس بچے کے لیے امتحان مسئلہ نہیں بنتا۔ اس نے صرف ایک بار پورے سال کی جانے والی پڑھائی اور یاد کیے جانے والے عنوانات کا اعادہ کرنا ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عنوانات بچے کے ذہن اور یاد داشت میں تروتازہ ہو جاتے ہیں۔

  • ہر سبجیکٹ کے لئے وقت مقرر کرنا

امتحان کی تیاری اور امتحان میں اچھی کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ ہر سبجیکٹ کی تیاری کیلئے الگ وقت مقررکیا جائے۔ بچوں کو اپنے  ہر سبجیکٹ کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ۔ یہ منصوبہ بندی کچھ اس طرح ہوگی کہ وہ ہر سبجیکٹ کے لیے دن بھر میں الگ الگ وقت نکالیں گے۔ اس کا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں گے،اور اس ٹائم ٹیبل کو ایسی جگہ آویزاں کریں گے جہاں ان کی نظر پڑتی رہے۔ اور پھر وہ مختص شدہ وقت جوکہ  ٹائم ٹیبل میں کسی سبجیکٹ کےلئے رکھا گیا ہے اس وقت میں اس سبجیکٹ کی تیاری کرنی پڑے گی ۔

  • اہم سوالات کی فہرست بندی

پہلا کام تو یہ تھا کہ سبجیکٹ کے لیے وقت مقرر کیا جائے اور اس وقت میں متعلقہ سبجیکٹ کی تیاری کی جائے۔ دوسرا اہم کام یہ ہے کہ ہر سبق کے  اہم سوالات کی ایک مکمل فہرست تیار کی جائے۔ جس میں بیانیہ اور مختصر سوالات الگ الگ تحریر ہوں۔ اور ان سوالات کے سامنے  کتاب کا صفحہ نمبر لکھا جائے۔ اور وہ سبق نمبر بھی جہاں یہ سوال موجود ہے ۔ اس طرح ہر سبجیکٹ کی ایک مکمل فہرست تیار کی جائے گی۔ جس میں  بیانیہ اور مختصر سوالات الگ الگ لکھے ہوئے ہوں۔ اور ان کے سامنے کتاب کا صفحہ نمبر اور سبق نمبر درج ہو۔

 نویں،دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت  کے طلبہ کو مارکیٹ سے دس سالہ سوالات کے حل شدہ اور بغیر حل شدہ پرچہ جات با آسانی مل جاتے ہیں۔ البتہ آٹھویں تک کے بچوں کو یہ سوالات اور ان کی فہرست خود ترتیب دینی ہوگی ۔

اگلا مرحلہ

اس کے بعد اگلے مرحلہ میں آپ نے جو بھی فہرست ترتیب دی ہے۔ اس میں سے روزانہ ہر سبجیکٹ کا ایک تفصیلی جواب اور دو مختصر جوابات  یاد کرنے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے سات سبجیکٹ ہیں۔  اور آپ نے ان تمام سبجیکٹ کے لئے ٹائم ٹیبل کے مطابق ساڑھے تین یا چار گھنٹے روزانہ کے رکھے ہیں۔ تو اب آپ ٹائم ٹیبل کے مطابق پہلے سبجیکٹ کا ایک تفصیلی جواب اور دو مختصر جوابات آدھے گھنٹے کے اندر یاد کریں گے ۔ طلبہ اپنی ذہنی استعداد کے مطابق اس کا دورانیہ آدھے گھنٹے سے بڑھاکر چالیس یا پینتالیس منٹ بھی کرسکتے ہیں۔

امتحانات کے انعقاد میں اگر مہینہ باقی ہے۔ اور دل جمعی سے روزانہ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ یا پینتالیس منٹ ہر سبجیکٹ کو دیے جائیں۔ تو مہینے کے آخر میں آپ اس سبجیکٹ کے تیس تفصیلی اور ساٹھ مختصر جوابات یاد کرچکے ہوں گے ۔اس طریقے کو اور اس طرح مزید آسان بنایا جا سکتا ہے، کہ روزانہ ایک تفصیلی جواب یاد کرلیں۔ یا پھر تین مختصر جوابات یاد کرلیں۔ البتہ اس طرح کی منصوبہ بندی میں امتحانات کے وقت کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا ۔اگر آپ شیڈول کے مطابق دن کے چار گھنٹے پڑھائی کو دیتے ہیں۔ تو اس صورت میں آپ کی کا میابی سو فیصد یقینی ہے۔

جو یاد کر رہے ہیں اسے لکھتے بھی جائیں!

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے ،کہ آپ جو کچھ بھی یاد کر رہے ہیں، اسے یاد کرنے کے بعد ضرور لکھیں۔ یعنی خود اپنا ٹیسٹ لیں کہ مجھے کتنا یاد ہوچکا ہے ۔  اس طرح لکھنے سے آپ کو کئی فائدے ہوں گے ۔ ایک تو آپ کی رائٹنگ اسپیڈ بڑھے گی ۔دوسرا یہ کہ یاد کرنے اور لکھنے کی بنا پر سوالات آپ کے ذہن میں پختہ ہو جائیں گے ۔

 اس کے لیے ایک الگ رف رجسٹر بنالیں۔ جس کو آپ سبجیکٹ کے حساب سے حصوں میں تقسیم کردیں۔ اس کا  فائدہ یہ  ہوگا کہ جب تک امتحانات شروع ہوں گے۔  تب تک آپ کے پاس وہ یاد شدہ مواد یکجا ہوگا،۔آپ  وہیں سے دیکھ کر ہر سبجیکٹ اور ہر اگلے پرچے کی تیاری کر سکیں گے۔اس صورت میں آپ کا وقت بھی بچے گا اور اھر ادھر سوالات کو ڈھونڈ نے کی جھنجھٹ سے بھی جان چھٹے گی۔

اپنے لئے خود اصول و ضوابط متعین کریں۔

طلبہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے، کہ وہ اپنی تیاری کےحوالے سے خود ہی اصول و ضوابط کا تعین کریں ۔اور ان پر سختی سے عملدرآمد کریں۔ ویسے تو یہ ہر طالب علم کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائے۔ اور  اس کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔کامیاب لوگ ہمیشہ ٹائم ٹیبل کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ۔

اگر عام دنوں  میں آپ ایسا نہیں کرسکتے، تو کم از کم امتحانات کے لئے ٹائم ٹیبل ضرور بنائیں۔ اور اس  پر سختی سےعمل درآمد کریں ۔ اس حوالے سے اصول و ضوابط متعین کریں۔ مثلا جو وقت آپ نے پڑھنے کے لیے ترتیب دیا ہوا ہے۔ اس وقت میں صرف پڑھیں گے اور کچھ نہیں کریں گے، باقی کاموں کو بعد میں دیکھیں گے۔

امتحان کے دنوں میں  موبائل کے غیر استعمال  سے بالکل دور رہیں ۔

 دوران مطالعہ موبائل فون بند رکھیں ،اس سے پڑھائی کے سلسلے میں بھی مدد نہ لیں ۔ عموما یہ دیکھاگیا ہے کہ پڑھتے پڑھتے کوئی مسئلہ درپیش آیا آپ نے موبائل کھول کر وہ سوال سمجھنے یا جاننے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں آپ سوال کو بھول گئے۔ اور ایسی بھول بھلیوں میں کھو گئے۔ کہ آپکو علم ہی نہ ہوا۔ یوں آپ کا بہت سارا وقت موبائل کی نذر ہوگیا ۔ لہٰذا موبائل کو کم از کم امتحانات کے دنوں میں چھوڑہی دیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوتو پھر اسے پڑھائی کے اوقات میں ضرور بند رکھیں۔

  امتحانات کے دنوں میں کھیل کود سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اور اگر دل بار بار کھیلنے کی طرف مائل ہو تو اسے یہ کہہ کر سمجھائیں کہ پڑھائی کھیل سے زیادہ اہم ہے۔ امتحانات سے فارغ ہوکر خوب کھیلیں گے۔

مطالعہ انہماک و توجہ سے کریں۔

کسی بھی مضمون کو جو آپ پڑھ رہے ہیں توجہ و انہماک سے تین سے چار بار پڑھیں۔  رٹہ لگانے کی کوشش بلکل نہ کریں۔ کیونکہ رٹہ لگایا ہوا کام ایک خاص وقت کے بعد ذہن سے نکل جاتا ہے۔ لہٰذا پورے انہماک اور توجہ سے مطلعہ کریں ۔  اس دوران کسی بھی قسم کا شور و غل قرب و جوار میں نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ  ہی ہاتھ میں کوئی قلم یا پینسل وغیرہ ہو ۔کیونکہ اس طرح انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے ۔

مطالعے کے لیے ہوا دار ، روشن اور کشادہ جگہ کا انتخاب کریں۔ جہاں لوگوں کی آمد ورفت نہ ہو ۔  یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کو سوال کا جواب لکھنا ہے ۔جس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ بعینہ وہی لکھیں، جیسا کہ کتاب کے اندر لکھا ہے۔ بلکہ آپ آسان پیرائے میں اپنا مدعا بیان کرنے کی کوشش کریں ۔ زیادہ لمبے اور تفصیلی سوالات کو ٹکڑوں میں توڑ توڑ کر یاد کریں۔ دوران مطالعہ چائے بسکٹ یا کچھ بھی کھانے پینے سے احتراز کریں۔

مزید پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کیجئے۔

امتحان کے حوالے سے چند رہنما باتیں ۔

امتحانات کی تیاری کے حوالے سے چند کام کی باتیں درج کی جارہی ہیں۔ جوکہ طلبہ کے لیے امتحان کی تیاری کے سلسلے میں معاون ثابت ہوں گی۔

 (1)اپنی تیاری پر توجہ دیں۔ دوسروں سے بے فکر ہوجائیں، کہ وہ کیا کررہے ہیں یا کیا نہیں کر رہے ۔

(2)جس مضمون میں بھی آپ کمزور ہیں اس کو دوسرے مضامیں کے مقابلے میں زیادہ وقت دیں۔

(3)اگر پڑھتے پڑھتے طبیعت اکتانے لگے، تو تھوڑی دیر کے لیے پڑھائی چھوڑ کر آرام کریں یا چائے پیئں۔

(4) امتحان کے دنوں میں غذایئت سے بھرپور غذائیں کھانے کی کوشش کریں۔

(5)نماز کی پابندی کریں اور “ربی زدنی علما” اور “رب اشرح لی صدری ” جیسی دعائیں پڑھنے کا اہتمام کریں۔

(6)سونے اور جاگنے کے لیے وقت مقرر کریں اور اس کی ہر صورت پابندی کریں۔

عملی کام سے پہلے ذہنی تیاری

اللہ تعالی آپ کا حامی وناصر ہو۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button