بچوں کی تربیت میں بڑوں کاکردار

seed ur rahman

تحریر:   سعیدالرحمن ثاقب

تعلیم کی افادیت و ضروت اور طلباء کی تربیت کے حوالے سے آج تک اہل علم کی طرف سے بہت کچھ لکھاجا چکا ہے اور آئندہ بھی اس موضوع کی اہمیت و حساسیت کے پیش نظر اس پر بہت کچھ لکھا  جاتا رہیگا۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ آج تک اس موضوع پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں یا جس جس نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس نے یا تو اپنے تجربات کا نچوڑ پیش کیا ہے یاپھر کسی معروف اسکالر یا مشہور دانشور کے طلباء کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے فکری رجحانات کا خلاصہ قلمبند کیا ہے۔

چونکہ میں بھی گزشتہ بیس سالوں سے تعلیم وتعلم اور درس وتدریس کے شعبے سے منسلک ہوں اس قدرے طویل عرصے میں بحیثیت استاذ کچھ دینی اور عصری تعلیمی اداروں  میں پڑھانے کے مواقع میسر آئے۔اور  اس دوران ہر طرح کے مزاج و مذاق کے حامل طلباء سے میرا واسطہ رہا  ۔

ان طلباء کے واسطے سے ان کے والدین سے تعلق بنا۔ پھر ان سے انکے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر سے بہترین بنانے کے حوالے سے وقتا فوقتا گفتگو ہوتی رہی۔ یا ذھنی اور دماغی لحاظ سے کمزور بچوں کو کسی نہ کسی طرح آگے بڑھانے ،ان کے احساس کمتری کو دور کرنے اور ان کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے مشاورت ہوتی رہی۔

 ان صفحات میں  انشاءاللہ  ان والدین کے انداز تربیت، ترجیحات اور انکی ذاتی کاوشوں اور طرز تربیت کا نچوڑ پیش کیا جائے گا ۔اور یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ کس طرح کچھ والدین اپنے بچوں کو تراش خراش کر انہیں ہیرہ بنانے اور ان کا مستقبل شاندار بنانے میں دن رات ایک کرلیتے  ہیں۔اور کچھ  والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جو  منفی طرز تربیت کی وجہ سے خود ہی اپنے بچوں کو بگاڑ کر ناکارہ بنانے میں غیر محسوس طریقے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

طلباء کے والدین سے رابطہ کاری استاد کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے

میں ایک ایسے عصری تعلیمی ادارے سے منسلک ہوں۔ جہاں ہر وقت والدین کے ساتھ رابطے میں رہنے کا ضابطہ اس ادارے کی منجملہ خصوصیات میں سے ایک قابل تعریف خاصیت ہے۔ جو ادارے کو دیگر اداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے عرصے میں  ان گنت مختلف الخیال،مختلف المسالک اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات، مل بیٹھنے اور آپس میں افکار و خیالات کے تبادلے کا موقع ملا ۔

 ان ملاقاتوں میں بچوں کی شرارتوں، انکی ذہانت و قابلیت ، حصول علم میں دلچسپی یہاں تک کہ پڑھائی سے جان چھڑانے والے بچوں کے دلچسپ واقعات اور بچوں کی تعلیم سے بیزاری کے اسباب بھی سامنے آئے ۔اور بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی کے اسباب کو دور کرنے کے حوالے سے والدین کی مثبت کوششیں بھی معلوم ہوئیں۔ اس کے علاوہ بھی  ان سے بہت کچھ سیکھنے کا بھی موقع ملا۔

شاگردوں کی اصلاح کے لئے ان کے مزاج اور گھریلو ماحول سے واقفیت ضروری ہے۔

میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ جب والدین کے ساتھ مشاورت کی جائے ۔اور اس کے مطابق بچوں کی دلچسپیوں ، ان کی پسند و ناپسند اور ان کے گھریلو ماحول کے تناظر میں انہیں کوئی بات سمجھائی جائے ۔ یا انہیں شفقت اور اپنائیت کا احساس دلاتے  ہوئے کسی ناپسندیدہ سرگرمی سے منع کیا جائے۔ تو وہ بہت جلد اثر قبول کرلیتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر بچے کے مزاج سے واقفیت نہ ہو۔ ان کے گھریلو ماحول کاپتہ نہ ہو۔ تو نہ وعظ و نصیحت کا کوئی اثر لیتے ہیں اور نہ ہی  غلط روش پر ڈانٹ ڈپٹ انہیں فائدہ دیتی ہے۔

استاد کے کردار اور اچھے برے رویوں کا شاگردوں کی تربیت پر اثر ہوتا ہے۔

یہاں پر میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ تربیت کے مراحل سے گزرنے والے بچوں کی کردار سازی اور انہیں معاشرے کا ایک اچھا اور کارآمد انسان بنانے میں خود اساتذہ کرام کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ ، مزاج شناسی اور سب سے بڑھ کر خود اساتذہ کرام کے بلند اخلاقی معیار جیسی صفات بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ عام مشاہدہ ہے کہ جذبہء ہمدردی ، تقوی  و للہیت سے سرشار اور خلیق اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے والے بچے اکثر اپنے اساتذہ کرام کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ لہٰذا تربیت کے حوالے سے ان پر بہت زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔

کلاس میں استاد کو سطحی گفت گو اور ناشائستہ حرکات سے پرہیز کرنا چاہیے

 اس کے مقابلے میں جس استاذ کی گفتگو سطحی ہو، اخلاق اچھےنہ ہوں،  مزاج میں چڑچڑا پن ہو ، بات بات پر ڈانٹنے کی عادت ہو ،کلاس میں ناشائستہ  گفتگو  کرنے والا ہو اور خاص کر  اپنی ذمہ داریوں سے جی چرانے والا ہو، تو ایسے ماحول میں بچے بھی وہی کچھ سیکھتے اور کرتے  ہیں، جو وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور محسوس کررہے ہوتے ہیں۔

اسلئے خود معماران قوم کا ان تمام عیوب اور ہر قسم کے سطحی رویوں سے ہمہ وقت خصوصا دوران تدریس اپنے آپ کو بچانے کی کوشش بھی بچوں کی اچھی تربیت کے لئے بہت ضروری ہے۔

کسی بچے کی شکایت ہو تو مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔

میرے پاس ایک بچے کی شکایت آئی کہ وہ دوسرے بچوں کو بات بات پر ” الو کا پٹھا” کہہ دیتا ہے۔ اس سے پہلے ایک بچے کے والدین کی طرف سے بھی مذکورہ بچے کی اسی قسم کی شکایت آئی تھی۔  ان کا کہنا تھا کہ  ہمارے خاندان اور برادری میں اس جملے کو گالی تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس بچے کو  سمجھائیں۔

میں نے اس بچے کو سمجھانے اور اس سے اس بری عادت کو چھڑوانے کی بہت کوشش کی ۔مگر بچوں کی طرف سے اس بچے کے اس ناشائستہ جملے کی مسلسل شکایتیں آتی رہیں ۔ایک دن بریک ٹائم میں جبکہ دوسرے بچے کلاس روم میں موجود نہیں تھے۔ میں نے اس بچے کو بٹھایا اور غیر محسوس طریقے سے کھود کرید کر حقیقت جاننے کی کوشش کی کہ آخر یہ غیر شائستہ جملہ اس کا تکیہ کلام کس طرح بن گیا ہے۔

 میں نے بڑے پیار اور اپنائیت کے ساتھ اس کا خوف دور کرکے پوچھا کہ بیٹا آپ بچوں کو  بات بات پر الو کا پٹھا کیوں کہتے ہو؟ کیا آپ کو  پتہ ہے کہ یہ گالی ہے؟ تو بچے نے گالی کا لفظ سنکر ہی فورا جواب دیا ” نہیں قاری صاحب یہ گالی تو نہیں ہے،، میں نے کہا کہ بیٹا ! آپ کو کس نے کہا کہ یہ گالی نہیں ہے؟ اگرگالی نہیں ہے تو بچے اس جملے سے چڑتے کیوں ہیں؟ اور ان کے والدین کی طرف سے تمہاری شکایتیں کیوں آتی ہیں؟

 تب جاکے عقدہ کھلا اور بچے نے یہ جواب دیا ۔کہ قاری صاحب! میں جس اسکول میں پہلے پڑھتا تھا وہاں کے سر ہمیں ہروقت  الو کا پٹھا کہتے رہتے تھے۔ اور بچے بھی اس جملے کا برا نہیں مناتے تھے ۔اور میری امی بھی کبھی کبھار مجھے الو کا پٹھا کہتی ہے۔

قارئین کرام ! اس بات سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ  بڑوں کی اپنی  گفتگو اور طرز تخاطب میں معمولی بے احتیاطی بھی بچوں کی تربیت پر کس طرح اثر انداز ہوجاتی ہے( جاری ہے )

Be the first to comment

Leave a Reply