بچوں کی جنسی تربیت کے 33 رہ نما اصول

بچوں کی جنسی تربیت
بچوں کی جنسی تربیت کے 33 رہ نما اصول

بچوں کی جنسی تربیت کے 33 رہ نما اصول

 سید عرفان احمد

بہت سے والدین اپنے بچوں کی جنسی تربیت کے بارے میں سوچتے تک نہیں، اور اس کے کئی اسباب ہیں جو مختلف مسلم معاشروں میں مختلف ہیں۔ ایک مشترکہ وجہ اس موضوع کو پوشیدہ موضوع سمجھنا اور آپس میں گفتگو پر جھجکنا ہے۔ یا پھر، اکثر والدین کو بھی جنس کے بارے میں درست معلومات نہیں ہوتی، اور جو ہوتی ہے وہ بھی مستند ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہوتی۔

نتیجہ یہ ہےکہ والدین نے اپنے بچوں کی جنسی تعلیم و تربیت کیلئے انھیں اسمارٹ ڈیوائسز کے حوالے کردیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان جدید ذہین برقیاتی آلات سے جو معلومات نئی نسلوں کو مل رہی ہے، وہ غلط راستے سے آرہی ہے اور غلط ہے۔

اس لیے والدین کو درست معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ ذیل کی تحریر میں، والدین کو ؟ ایسے رہ نما اقدامات بتائے جارہے ہیں جو آسان بھی ہیں اور عملی بھی۔

  دوسال عمر تک کے بچے

1             میاں بیوی ہم بستری کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان بچوں کو اپنے سامنے نہ سلائیں۔ دوسرے کمرے میں جائیں۔

2             اس عمر کے بچوں کے سامنے کپڑے بھی مت بدلیں۔

3             اپنا ستر بھی ان سے چھپا کر رکھیں۔

4             گھر کے ملازم یا ملازمہ کے پاس تنہا چھوڑ کر گھر سے باہر نہ جائیں۔

 دوسال سے 6 سال عمر کا بیٹا / بیٹی

5             اس عمر کے بچوں کو گھر سے باہر تنہا نہ جانے دیں۔ انتہائ نگہ بانی کریں، کیوں کہ اس عمر کے بچے اکثر گھر میں چلتے پھرتے جہاں ذرا موقع ملا، گھر سے باہر نکل جاتے ہیں۔

6             بچوں، خاص کر بچیوں کو سمجھائیے کہ ان کے والدین یا سگے بہن بھائیوں کے سوا اگر انھیں کوئ چھوئے تو اسے ایسا نہ کردیں اور امی یا ابو کو بتائیں۔

7             کپڑے بدلنے کیلئے تاکید کریں کہ وہ کمرا بند کرکے یا بیت الخلا میں جاکر کپڑے بدلیں۔ کسی کے سامنے کپڑے مت اتاریں۔

8             کچھ بھی ہوجائے، کسی کے سامنے اپنے کپڑے ہرگز نہ اتاریں۔

9             اس عمر کے بچوں کو بیت الخلا (واش روم) جاکر تنہائ میں تقاضا پورا کرنے کی عادت ڈالیں۔گھر والوں کو ابتدا میں کچھ سختی کرنا پڑے تو ضرور کریں۔

  چھ سال سے 10 سال عمر کا بیٹا / بیٹی

10          اس عمر کے بچوں کو بلوغت کا شعور دینا شروع کردیں

11          انھیں بتایا جائے کہ ماں یا باپ کے سوا کوئ اور اگر ان کے جسم کو چھونے کی کوشش کرے تو اسے ایسا نہ کرنے دیں، اور اپنے والدین کو بتائیں۔

12          کپڑے تنہائ میں بدلنے کی عادت ڈالیں۔ کپڑے بدلنے ہوں تو کمرے میں اکیلے ہوکر یا بیت الخلا میں جاکر کپڑے بدلیں۔

13          بچوں اور بچیوں کو حلال اور حرام (نا محرم) رشتوں کے بارے میں بتائیں۔

  چھ سال سے 10 سال عمر کی بیٹی

14                         بچی کو بلوغت کا شعور دیں۔

15          بیٹیوں کو مائیں خواتین کے خاص  ماہانہ ایام کے بارے میں بتائیں۔

16          بچیوں میں جنسی زیادتی اور جنسی تشدد کا شعور پیدا کریں۔

17          بچیوں کو بتائیں کہ وہ اپنی عمر یا زیادہ عمر کے لڑکوں کے ساتھ کہیں تنہا جائیں اور نہ تنہا بیٹھیں۔ انھیں مناسب الفاظ میں یہ بھی بتائیں کہ انھیں یہ احتیاط کیوں کرنی چاہیے۔

18          بچیوں کو بتائیں کہ کیسا لباس نہیں پہننا چاہیے، خاص کر ایسا لباس کبھی نہ پہنیں جس میں سے بدن دکھائ دے۔

 چھ سال سے 10 سال عمر کا بیٹا

19          بیٹے کو احتلام کے بارے میں بتائیے اور یہ کہ یہ کیوں ہوتا ہے۔ عام طور پر، اس بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں، ان غلط فہمیوں سے بھی آگاہ کیجیے۔

20           جنسی تشدد کے تصور سے آگاہ کیجیے اور ہوسکے تو بتائیےکہ اس کے اسکول میں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔

21          اسے تنبیہ کیجیے کہ وہ اپنی کلاس یا اسکول کے کسی دوست یا ساتھی کو بوسہ  نہ دے۔ اور کوئ ایسا کرنے لگے تو زبردستی اسے پرے دھکیل دے۔

22           حرام اور حلال تعلق (رشتے) کے بارے میں علم دیں۔

  دس سال سے 15 سال عمر کی بیٹی

23          بچی کو عزت و عصمت کے تصور سے آگاہ کیجیے۔ اس کی حفاظت کی اہمیت بتائیے۔

24           بچی کو نکاح کے بارے میں بتائیے اور یہ بھی کہ صرف نکاح کے بعد وہ کسی کے ساتھ ہم بستری کرسکتی ہے۔ اس کے بغیر بہت بڑا گناہ ہے۔

25          حجاب یعنی پردہ کرنے کی اہمیت اور اسلامی حکم کے بارے میں بتائیے۔ یہ بھی بتائیے کہ پردہ کرنے سے لڑکی کیسے لالچی نظروں سے اپنی عصمت کی حفاظت کرسکتی ہے۔

26           نامحرم لڑکے (خواہ وہ اسکول یا کالج یا یونیورسٹی کا ساتھی ہی کیوں نہ ہو) کے ساتھ جانے اور گھومنے پھرنے کے کیا خطرات ہیں۔

27           بچی کو پاکی اور غسل وغیرہ کےا حکام بتائیے اور طریقہ سمجھائیے۔

 دس سال سے 15 سال عمر کا بیٹا

28          بچے کو دوسری لڑکیوں کی عزت و عصمت کے تصور سے آگاہ کیجیے، اور بتائیے کہ دوسری لڑکیوں کا احترام اور عزت اس کی ذمے داری ہے۔

29           نظروں کی حفاظت کی اہمیت اور فوائد سے آگاہ کیجیے۔

30          بتائیےکہ اسلام نے کیوں نامحرم لڑکے اور لڑکی کو ایک ساتھ میل جول سے منع کیا ہے۔

31          بچے کو اچھی اور بری صحبت کا شعور دیں۔ بتائیے جو دوست گندی باتیں کرتے ہیں یا پورنوگرافی دیکھتے ہیں، ان سے دور رہے۔

31          لڑکیوں سے بات کرنے کی کیا حدود ہیں، اسے بتائیے۔

32          والدین کو چاہیے کہ وہ بار بار ان نکات کا مذاکرہ اپنے گھر پر بچوں کے سامنے کریں۔ بیٹی سے یہ گفتگو کرنا ماں کی ذمے داری ہے جبکہ باپ اپنے بیٹے کو یہ باتیں سمجھائے۔

33          اسکول بیگ اور موبائل فون کی نگرانی کرتے رہیے۔

پاکستانی معاشرے میں بڑھتا ہوا جنسی استحصال

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.