جلال الدین محمد اکبر

جلال الدین محمد اکبر
مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر ، جلال سے ظل الٰہی تک کی مکمل داستان

مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر ، جلال سے ظل الٰہی تک کی مکمل داستان

اکبر کی پیدائش کی خوشی کے موقع پر ہمایوں کے پاس خیرات اور تحائف دینے کو کچھ نہ تھا کہ اچانک اسے یاد آیا اس کی کمر میں ہرن کی مشک بندھی ہے ، ہمایوں نے وہ مشک نکالی اور خوشبو توڑ کر سب میں تقسیم کر ڈالی۔

اکبر کی پیدائش انتہائی کسمپرسی میں ہوئی مگر جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے پاس دنیا کی سب سے بہترین فوج تھی، خزانہ میں دس کروڑ روپیہ ، 272 من سونا ، 370 من چاندی اور 1 من کے ہیرے و جواہرات پڑے تھے۔

مغل حکمران جلال الدین محمد اکبر کی پیدائش:

جلال الدین محمد اکبر 1542 میں سندھ کے قصبے عمر کوٹ میں پیدا ہوا۔ اکبر کا والد شہنشاہ ہمایوں تب تک شیر شاہ سوری سے شکست کھا چکا تھا اور عمر کوٹ کے راجہ ہاں پناہ گزین تھا۔

تخت گیا مگر شوق عشق نہ گیا ، حمیدہ بیگم جو اکبر کی والدہ تھیں دراصل ہمایوں کے بھائی مرزا ہندال کے اتالیق کے گھرانے سے تھی ۔ ہمایوں کی جلاوطنی میں ہی محبت کی پینگیں بڑھیں اور عقد ہوا۔

جلال کا قندھار میں پرورش پانا :

ہمایوں کی کوشش تھی کہ وہ ٹھٹہ اور بھکر پر قبضہ کر لے، اسی اثناء اکبر کی پیدائش ہوئی۔ ٹھٹہ کے حکمران آرگون نے ہمایوں کو شکست دے دی۔ بعد ازاں صلح ہوئی اور ہمایوں کو خاندان سمیت افغانستان میں پناہ لینے کی اجازت مل گئی ہے۔

کابل پر ہمایوں کے بھائی کامران کا قبضہ تھا اور اسے خدشہ تھا کہ اگر  ہمایوں افغانستان چلا آیا تو اس کےلئے مشکلات پیدا کرے گا۔ کامران کے سالار اور ہمایوں کے اپنے بھائی مرزا عسکری نے اسے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر ہمایوں فرار ہو گیا اور جلال عسکری کے قبضے میں آ گیا۔ عسکری کی بیوی سلطان بیگم کم سن جلال  کا خیال بالکل اپنے بچوں کی طرح رکھا تھا۔

جنگ قندھار اور جلال کو توپ کے آگے باندھ دینا:

شاہ ایران نے ہمایوں کی مدد کےلئے دو شرائط رکھی تھیں ، اول شیعہ فرقہ قبول کرنا اور دوم قندھار کو فارسی سلطنت کا حصہ بنا دینا۔1545 میں ہمایوں ایرانی فوج لے کر قندھار آیا جہاں اس کے بھائی مرزا کامران کا قبضہ تھا۔

کامران نے جلال الدین کو قلعہ کی اس فصیل پر کھڑا کر دیا جہاں ہمایوں کی فوج سب سے زیادہ گولہ باری کر رہی تھی۔ شاید اکبر کی جان چلی جاتی تاہم ہمایوں کی فوج نے اسے پہچان لیا اور گولہ باری بند کر دی ۔ ہمایوں نے قندھار فتح کر لیا اور پھر کابل فتح کیا۔

اکبر کی تعلیم و تربیت:

سلطان بیگم نے اکبر کی تربیت میں بھرپور اپنائیت سے حصہ لیا تاہم اکبر کو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ ملی تھی ، اس لئے وہ ان پڑھ رہے۔ ہمایوں نے جب کابل میں ملا پیر محمد اور بیرام خان کو اکبر  کا اتالیق مقرر کیا تو اس وقت تک وہ پڑھائ سے دل اُچاٹ کر چکے تھے۔ تاہم انتہائی کم عمری میں اکبر ہاتھی اور گھوڑے کے بہترین سوار بن گے اور ایک زبردست شکاری ثابت ہوئے۔

جلال الدین محمد اکبر گورنر غزنی:

1551 میں محض 9 برس کی عمر میں اکبر کو غزنی کا گورنر مقرر کیا گیا۔ ہمایوں نے جب ہندوستان پر دوبارہ قبضہ کرنے کےلئے پنجاب پر قبضہ کیا تو اکبر ان کے ہمراہ تھے اور سرہند کی اہم لڑائی میں شانہ بشانہ لڑے۔

اکبر کی تخت نشینی:

سرہند کی لڑائی میں سوری سلطنت کا آخری حکمران سلطان سور سکندر شکست کھانے کے بعد پنجاب کی شیوالک پہاڑیوں میں جا چھپا اور وہاں فوج تیار کرنے لگا۔ ہمایوں نے اکبر کو اس کے تعاقب کےلئے روانہ کیا ، اکبر کی عمر محض 14 سال تھی اور وہ بیرام خان کی زیر سرپرستی تھے۔

ابھی اکبر شیوالک میں ہی تھے کہ خبر موصول ہوئی ہمایوں لائبریری کی سیڑھیوں سے گرنے کے بعد جان کی بازی ہار گے ہیں۔ بیرام خان نے کلانور کے مقام پر اکبر کی تخت نشینی کی اور انھیں لے کر  دہلی کی طرف لے کر روانہ ہو گیا۔ 14 فروری 1556 کو اکبر کی دہلی میں تخت نشینی کی گئی اور وہ مغلیہ سلطنت کے تیسرے شہنشاہ بن گے۔ بیرام خان کو خانخاناں کا لقب دے کر وزیر اعظم مقرر  کیا گیا ۔

اکبر کی ابتدائی مشکلات:

اکبر کی تخت نشینی چونکہ محض 14 برس کی عمر میں ہوئی تو افغانستان سے ہندوستان تک ہر ایک کی نظریں دہلی کے تخت پر جا لگیں اور بغاوتوں کے سلسلے شروع ہو گے۔ سب سے پہلے اتر پردیش ، بہار اور مالوہ کے ازبک سرداروں نے خودمختاری کا اعلان کیا۔ اکبر کے سوتیلے بھائی مرزا حاکم نے بھی بغاوت کر کے پہلے کابل پر قبضہ کیا اور پھر پنجاب پر حملہ کر دیا۔ تاہم اکبر کی فوج نے مرزا حاکم کو پنجاب میں شکست دی اور اسے کابل پسپا کر دیا۔

بیرام خان: خانخاںاں بیرام خان اکبر کے اتالیق اور وزیر مقرر تھے ، بیرام خان انتہائی طاقتور ہو گیا اور اکبر کی مرضی کے خلاف بھی فیصلے کرنے لگا۔

پانی پت کی دوسری لڑائی: 5 نومبر  1556

ہیمو بنگال کے حکمران عادل شاہ کا ہندو گورنر تھا۔ جب ہمایوں نے جلاوطنی کے بعد دوبارہ دہلی پر قبضہ کیا تو عادل شاہ نے ہیمو کو پچاس ہزار فوج ، ایک ہزار ہاتھی اور 51 بندوقیں دے کر دہلی فتح کرنے کےلئے روانہ کیا۔ ہیمو اور مغل فوج کی پہلی جنگ تغلق آباد میں ہوئی جس میں مغلوں کو شکست ہوئی اور ہیمو نے دہلی پر قبضہ کر لیا۔

اکبر اس وقت پنجاب میں تھا ، اکبر  کی خواہش تھی کہ دہلی کا ارادہ دل سے نکال کر مغل فوج واپس کابل چلی جائے تاہم بیرام خان کی خواہش تھی کہ مغل دوبارہ دہلی حاصل کریں۔

بیرم خان کی بات اکبر کو ماننی پڑی۔ بیرم خان نے دس ہزار کا لشکر پانی پت بھیج دیا جہاں ہیمو نے پہلے سے ہی اپنا توپخانہ منتقل کر دیا تھا۔ بعدازں خود بھی اکبر کے ساتھ پانی پت پہنچا

ہیمو کے پاس تیس ہزار کا لشکر اور پانچ سو جنگی ہاتھی تھے دوسری طرف مغل فوج دس ہزار نفوس اور توپخانہ پر مشتمل تھی۔

بیرم خان اور اکبر دونوں ایک محفوظ ٹیلے پر کھڑے رہے اور ان کے جرنیلوں نے یہ جنگ لڑی دوسری طرف ہیمو خود میدان جنگ میں لڑتا رہا.

ہیمو کی افواج بہادری سے لڑ رہی تھیں اور عنقریب تھا کہ مغل فوج کا پاؤں اکھڑ جائے ایک انہونی ہو گئی جس نے پانی پت کے جنگ کا نتیجہ بدل ڈالا۔

بیرم خان نے کچھ تیر انداز صرف ہیمو کو مارنے کےلئے مقرر کئے تھے۔ ایک تیرانداز نے ہیمو کی آنکھ کا نشانہ لیا اور تیر داغ دیا۔ ہیمو کی آنکھ ضائع ہو گئی اور وہ ہاتھی سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔ اس کی فوج ہمت ہار گئی اور ہیمو کو گرفتار کر لیا گیا۔

ہیمو کی موت:

زخمی ہیمو کو اکبر کے سامنے پیش کیا گیا ، ہیمو نے 20 بڑی جنگیں فتح کی تھیں۔ بیرم خان نے اکبر کو کہا وہ خود اپنے ہاتھوں سے اس کا سر قلم کرے مگر اکبر کو رحم آ گیا۔ اکبر کے انکار پر بیرم خان نے خود ہیمو کا سر قلم کر دیا۔

پانی پت کی دوسری لڑائی میں بھی مغل فتح یاب رہے اور  ایک مضبوط مغل عہد کا آغاز ہوا۔

اٹھارہ برس تک اکبر بیرم خان کے زیر سرپرست حکمرانی کرتے رہے تاہم بیرم خان کی بڑھتی طاقت اور تکبر ان کو پسند نہ آیا ۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکبر نے خودمختار حکمرانی کا ارادہ کیا۔ بیرم خان نے بغاوت کی تاہم وہ گرفتار ہو گے اور اکبر نے بیرم خان کو زبردستی مکہ حج کےلئے روانہ کر دیا ، راستے میں ہی بیرم خان کا قتل ہو گیا۔

مغلیہ سلطنت کا قیام

اکبر کا پہلا دور:1567 سے 1576

راجپوتوں کے خلاف فتوحات

شمالی و جنوبی ہندوستان کے وسیع علاقوں پر راجپوت حکمران تھے جن کی بڑی بڑی ریاستیں تھیں۔ اکبر نے ان کو فتح کرنا شروع کر دیا۔

1559 میں گوالیار کو فتح کیا گیا ، 1561 میں اکبر کے رضاعی بھائی آدم خان نے مالوہ فتح کر لیا۔ آدم خان ایک ظالم گورنر تھا اس کی پالیسیوں سے نالاں گوالیار کے سابق گورنر باز بہادر نے پھر سے اقتدار بحال کر لیا تاہم اکبر نے دوبارہ فوج کشی کی اور آخر میں باز بہادر نے اکبر کی اطاعت قبول کر لی اور اکبر نے اسے  گوالیار کا گورنر مقرر کر دیا تھا۔

1564 میں اکبر کے گورنر آلہ آباد آصف خان نے گنڈوانہ پر حملہ کیا ، وہ وہاں کی حکمران رانی درگا دیوی کی دولت اور حسن کا آسیر تھا۔ درگا دیوی نے بھرپور مقابلہ کیا مگر ہار گئی اور اس نے خودکشی کر لی یوں یہ علاقہ بھی مغل سلطنت کا حصہ بن گیا تھا۔

راجھستان کی فتوحات: اکبر نے راجپوتانہ بھی فتح کرنے کی ٹھانی یہاں میواڑ جیسی اہم ریاستیں تھیں۔

اکبر کی کوشش تھی کہ راجپوت امن سے اس کی سلطنت میں شامل ہوں اس مقصد کےلئے اکبر نے امبھیر کے راجپوت حکمران راجہ بھارمل کی بیٹی جودھا بائی سے شادی کی۔ آپ نے اس شادی پر مبنی بالی ووڈ فلم ضرور دیکھی ہو گی۔ اکبر نے راجپوتوں کو اہم عہدے دیے۔ راجہ بھارمل کے بیٹے بھگوان داس کو گورنر لاہور اور اس کے بیٹے مان سنگھ کو بہار اور بنگال کا گورنر مقرر کیا ۔ راجپوت ریاست جودھپور نے آسانی سے اطاعت قبول کر لی۔

ریاست میواڑ کی فتح:

راجپوت ریاست میواڑ نے اکبر کی اطاعت قبول کرنے سے انکاری کیا اور اکبر نے ان کے مضبوط ترین ناقابل تسخیر قلعے چتوڑ گڑھ کا محاصرہ کر لیا۔ 1568 میں چھ ماہ تک یہ محاصرہ جاری رہا ۔ بعد ازاں ایک خونریز جنگ میں یہ قلعہ فتح ہوا۔ 30 ہزار راجپوت ایک دن میں مارے بے تھے۔

رانا پرتاب سنگھ اور اکبر:

تاریخ میں ان دونوں کی دشمنی ، جنگیں اور سازشیں ایک رومانوی حثیت رکھتی ہیں۔ رانا پرتاب سنگھ میواڑ کا حکمران تھا جس نے اکبر کی اطاعت سے انکار کیا تھا۔ رانا پرتاب سنگھ کی مغلوں کے ساتھ خاندانی دشمنی تھی۔

رانا پرتاب کا دادا رانا سانگا تھا جس نے بابر کو ہندوستان فتح کرنے کی دعوت دی اور جنگ کنواہہ میں بابر سے شکست بھی کھائی تھی۔ رانا پرتاب کا والد رانا اودھے سنگھ تھا جسے چتوڑ میں اکبر نے شکست دی تھی۔

جب اکبر نے چھ راجپوت راجاؤں کو رانا پرتاب کے پاس اطاعت قبول کرنے کےلئے بھیجا تو اس نے ان کی خوب بےعزتی کی

مغلوں اور رانا پرتاب کے درمیان فیصلہ کن جنگ ہلدی گھاٹی کی ہے۔

ہلدی گھاٹی کی جنگ : 1976

18 جون 1576 کو ہلدی گھاٹی کے مقام پر اکبر اور رانا پرتاب کے درمیان ایک زبردست جنگ ہوئی۔ اکبر کی فوج کی سربراہی امبھیر کے راجہ مان سنگھ کر رہے تھے۔ اکبر نے دو راجپوتوں کو آپس میں لڑوایا ہے۔ جدید تاریخ دانوں کے مطابق مغل فوج دس ہزار افواج پر مشتمل تھی جبکہ رانا پرتاب سنگھ کی فوج 3400 سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ رانا پرتاب سنگھ کی فوج میں 800 افغان سپاہی بھی شامل تھے۔

ہلدی گھاٹی کی زبردست جنگ میں رانا پرتاب سنگھ کو شکست ہوئی تاہم وہ جنگ سے زندہ بچ نکلے ، رانا پرتاب سنگھ کے گھوڑے چیتک نے ایک انتہائی بلند ٹیلے سے چھلانگ لگائی ، خود تو موقع پر دم توڑ دیا مگر رانا پرتاب سنگھ کو زندہ بچا لیا۔

رانا پرتاب سنگھ نے بعدازاں کئی چھوٹی چھوٹی جنگیں لڑی ہیں جب تک وہ زندہ رہے میواڑ نے سرنڈر نہیں کیا تھا۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے نے بھی مغلوں سے 17 لڑائیاں لڑی اور آخر میں مغلوں کو یہ ماننا پڑا کہ میواڑ کے حکمران خودمختار ہیں۔

اکبر کی فتوحات؛

جلال الدین محمد اکبر نے تقریباً ہندوستان کے اسی فیصد رقبے جبکہ افغانستان پر مکمل قبضہ حاصل کیا تھا۔ اکبر نے 1584 میں گجرات ، 1585 میں کابل ، 1586 میں کشمیر ، 1591 میں سندھ، 1592 میں بنگال اور 1595 میں قندھار اور بلوچستان کے علاقے فتح کیے۔ اکبر کو رانا پرتاب سنگھ ، احمد نگر کی چاند بی بی اور پشاور کے آفریدی و خٹک قبائل سے زبردست مقابلہ بھی  کرنا پڑا تاہم وہ ان جنگوں میں ہمیشہ کامیاب رہے۔

جلال الدین محمد اکبر کا انتظام سلطنت:

اکبر کے عہد کو سیکولر ہندوستان کا آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ جلال الدین محمد اکبر کے دربار میں ہندو اور مسلمان سب کو برابر کے اختیارات حاصل تھے۔ اکبر نے انصاف کا محکمہ اپنے پاس رکھا تھا۔ اکبر کے عہد میں مغل سلطنت 15 بڑے صوبوں اور ہزاروں چھوٹی جاگیروں میں تقسیم تھی۔ ہر صوبہ کا نگران صوبیدار کہلاتا تھا۔ ہر صوبے میں کئی ڈویژن ہوتے تھے جنہیں سرکار کہتے تھے جبکہ سرکار پرگنوں میں تقسیم ہوتے تھے۔ ایک پرگنہ کئی گاؤں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ہر گاؤں کا سربراہ مقدم کہلاتا تھا جس کی معاونت کےلئے پٹواری ، چوکیدار اور پنچایت تھی ۔

اکبر نے فوجی معاملات میں بھی اصلاحات کیں اور منصب داری کا نظام متعارف کروایا۔ منصب دار اپنی جاگیروں پر شاہی فوج بھرتی کرتے تھے اور ان کی ٹریننگ کرتے تھے۔ مجموعی طور پر 33 قسم کے منصب دار ہوتے تھے۔ دس سپاہیوں سے لے کر دس ہزار تک کی سپاہ منصب دار رکھتے تھے۔ بوقت ضرورت یہ فوج بادشاہ کو مہیا کی جاتی تھی۔

جلال الدین محمد اکبر کا دین الٰہی :

اکبر جس عہد میں پیدا ہوا تب صوفی ازم اپنے عروج پر تھا۔ صوفیوں کے مذہبی خیالات قدرے رواداری پر مشتمل تھے۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں اسلام بھی تیزی سے پھیلا ہے۔

اکبر نے تقریباً دنیا میں رائج تمام بڑے مذاہبِ کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ اکبر نے اپنے محل کے اندر ایک عبادت خانہ تعمیر کیا جہاں وہ علماء و مشائخ کی بحث سنا کرتا تھا۔ اس عبادت خانہ میں عیسائی ، زرتشتی ، ہندو ، بدھ اور جین مت کے علما بھی بلائے جاتے اور بحث کروائی جاتی تھی۔ عبادت خانے میں جب بحثیں طویل اور بے معنی ہو گئیں تو اس نے عبادت خانہ بند کر دیا

اور آہستہ آہستہ وہ ایک خودساختہ دین کی زمین ہموار کرنے لگا۔ ایک ایسا دین جس میں ہندو و مسلم اور دیگر اقوام ایک ہو جائیں۔ اکبر نے گوشت خوری و شراب نوشی ترک کر دی اور دین الہٰی کی اپنی عبادات ایجاد کیں جن میں ظل الٰہی کو سجدہ سب سے اعتراض نکتہ ہے۔ تاہم اکبر کا دین الٰہی اس کی وفات تک ہی محدود رہا ہے ۔ حضرت مجدد الف ثانی نے دین الٰہی کی خوب مذمت کی تھی۔

اکبر اعظم کے نو رتن:

اکبر کے نو وزیروں نے اپنی ذہانت اور قابلیت سے خوب شہرت حاصل کی ہے۔ ان نو رتنوں میں بیربل ( شاعر اور چالاک ترین انسان )، راجہ ٹوڈرمل ( وزیراعظم ، وزیر خزانہ ) ، ملا دو پیازہ ( شاعر و عالم ) ، تان سین ( سنگیت کار) ، راجہ مان سنگھ ( سپہ سالار ) ، عبدلرحیم خانخاںاں ( اتالیق ) اور فقیر عذی الدین ( قانون دان اور وزیر ثقافت ) شامل ہیں۔

اکبر کی تعمیرات:

اکبر نے کئی قلعے اور شہر بنوائے تھے۔ موجود آگرہ فورٹ ، فتح پور سیکری کا مکمل شہر ، ہمایوں کا مقبرہ، قلعہ اجمیر ، لاہور کا موجودہ شاہی قلعہ اور آلہ آباد ( پریاگ راج ) کا قلعہ بھی اکبر نے تعمیر کروایا تھا۔

اکبر اور شہزادہ سلیم :

شہزادہ سلیم جنہیں تاریخ مغل شہنشاہ جہانگیر کے نام سے جانتی ہے اکبر کے پسندیدہ بیٹے تھے۔ تاہم شہزادہ سلیم نے اپنے والد سے بغاوت بھی کی اور ایک جنگ بھی لڑی۔ کہتے ہیں یہ بغاوت انارکلی کی وجہ سے ہوئی جو اکبر کی کنیز اور شہزادہ سلیم کی محبوبہ تھی۔ اکبر کو یہ قربت پسند نہ آئی اور اسے دیوار میں زندہ چنوا دیا۔ اس پر مشہور بالی ووڈ فلم ” مغل اعظم” بھی موجود ہے۔ تاہم مورخین کے مطابق بغاوت کی وجہ سیاسی تھی۔ انارکلی سے منسوب اب بھی ایک مقبرہ لاہور میں ہے جسے مقبرہ انارکلی کہا جاتا ہے ۔

اکبر کی وفات:

اکبر نے پچاس برس تک حکومت کی تاہم اس کا اختتام زیادہ خوشگوار نہ ہوا۔ اس کے دو بیٹے مراد اور دنیال کثرت شراب نوشی سے ہلاک ہو گے اور اس کے نو رتن بھی اس سے جدا ہوتے گے۔ عمر کے آخری حصے میں اسے ولی عہد جہانگیر سے جنگ بھی لڑنا پڑی۔

تیسرے مغل فرمانروا جلال الدین محمد اکبر 13 اکتوبر 1605 کو فتح پور سیکری میں فوت ہوئے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*