HistoryIslamIslam & Muslimsاسلامی معلوماتتاریخ اسلامی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت

خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ پر خارجی ابن ملجم نے بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار کے ذریعہ نماز کے دوران میں قاتلانہ حملہ کیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی آپﷺ کی  پیاری بیٹی  حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے شوہر اور حسنین  کریمین  کے والد گرا می ہیں ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت  باسعادت 13 رجب کو خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ آپ  کرم اللہ وجہہ کے والد گرمی کا نا م حضرت ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پیدائش بعثت نبویﷺ سے تقریبا 9 برس قبل ہوئی۔اسلام کی پہلی دعوت ذوالعشیرہ جب دی گئی  اور نبیﷺ نے خاندان والوں سے کہا کہ کون میرا مددگار بنے گاہر جانب خاموشی تھی ۔کہ اک آواز بلند ہوئی کہ  انا ناصرک یا رسول اللہ(اے اللہ کے نبیﷺ میں اپﷺ کی مدد کروں گا۔اور یہ آواز تھی  حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اس وقت آپ  کرم اللہ وجہہ کی عمر مبارک بمشکل10برس تھی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ مدینے میں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسولﷺ کے ساتھ ہر جنگ میں شامل رہے اور ہمیشہ آپﷺ کی مدد اور نصرت کے لئے ہر لمحہ تیار رہا کرتے تھے ۔صرف غزوہ تبو ک وہ واحد غزوہ ہے جس میں کہ آپ کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کے ساتھ نہ گئے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رسولﷺ نے خود آپ  کرم اللہ وجہہ کو اہل مدینہ کی حفاظت کی خاطر مدینے میں چھوڑا تھا۔ جب منافقین نے آپ  کرم اللہ وجہہ نسبت یہ کہنا شروع کیا کہ آنحضرت کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی کوئی پرواہ نہیں وہ ان کو بار خاطر سمجھتے تھے  اس لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔

جو نسبت ہارون کو موسی علیہ السلام سے تھی

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ منافقین کے طعنوں سے بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور تبوک کی جانب جانے والے لشکر اسلام سےجا ملے۔ جب رسولﷺ نے دریافت فرمایا کہ میں نے تو تمہیں مدینے میں چھوڑا تھا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے منافقین کی جانب سے کہی جانے والی باتوں کا ذکر کیا تورسولﷺ نے کہا کہ اےعلی وہ جھوٹ  کہتے ہیں میں نے تمہیں  حفاظت کے لئے مدینے میں چھوڑا تھا تم واپس جاؤاور فرمایا کہ”تم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسی علیہ السلام سے تھی مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔”

حضرت علی کرم اللہ وجہہ بستر رسول ﷺپر

ہجرت کی رات رسولﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مشرکین مکہ کی امانتیں سپرد کرکے کہا کہ اے علی صبح یہ امانتیں  مالکوں کے سپرد کرکے تم بھی مدینے چلے آنا ۔ ہجرت کی رات آپ  کرم اللہ وجہہ نے بستر رسولﷺ پر گزاری جس رات کے بارے میں کافر یہ پرو گرام بنا چکے تھے کہ آج رسولﷺ کو نعوذباللہ قتل کر دیں گے اس رات بستر رسولﷺ پر محو استراحت  رہے اور بغیر کسی خوف وخطر کے پوری رات بستر رسولﷺ پر گزار دی۔

خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ

حضرت عثمان کی شہادت کے  بعد  عوام کی نظر انتخاب آپ کرم اللہ وجہہ کی جانب اٹھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مجبور کیا گیا کہ  آپ انتظام وانصرام سلطنت کو سنبھالیں آپ نے عام بیعت کے بعد  اصحاب بدر اور کبار صحابہ کرام سے بھی بیعت طلب کی اس کے بعد جب آپ  نے تمام لوگوں سے بیعت لے لی  تو اکثریت عوام کا آپ سے یہ مطالبہ ہونے لگا کہ حضرت عثمان کے قتل کا بدلہ لیا جائے جبکہ آپ کا موقف یہ تھا کہ پہلے سلطنت کو مضبوط ہونا چا ہیئے اس کے بعد ہم قاتلین عثمان سے بدلہ لیں گے لیکن دوسری طرف سے مطالبات تھے کہ  بڑھتے چلے جارہے تھے ۔

 ان کا مشیر میں تھا اور میرے تم

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا  دور خلافت سورشوں  سازشوں  جنگوں اور لڑائیوں کی نذر ہو گیا یہی وجہ ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سوال کیا کہ  باقی تینوں خلافتوں کے مقابلے میں آپ کا دور کچھ اچھا نہیں رہا توآپ نے فرمایا کہ ان تینوں کا مشیر میں ہوا کرتا تھا اور میرے  مشیر تم لوگ ہو یہی وجہ ہے کہ میرے دور خلافت میں لڑائیوں اور سازشوں کا زور رہا۔

  خلافت علوی کے اہم واقعات

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی  قتل عثمان کی تحقیق وتفتیش شروع کردی کیونکہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کا بھی یہی مطالبہ تھا کہ قاتلیں عثمان سے بدلہ لیا جائے اس سلسلے میں حضرت علی نے مروان بن الحکم کو طلب کیا لیکن  اس کا کہیں پتہ نہ چلا  تو آپ  کرم اللہ وجہہ نے زوجہ عثمان حضرت نائلہ سے قاتلوں کا نام دریافت فرمایا تو انہوں نے دو اشخاص کا صرف حلیہ بتا یا اور نام نہ بتا سکیں  محمدبن ابی بکر کے متعلق جب پوچھا گیا تو زوجہ عثمان نے بتایا کہ وہ قتل ہونے سے پہلے دروازے سے باہر نکل گئے تھے۔ذوجہ عثمان حضرت نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں اور حضرت عثمان کا خون آلود پیرہن  بنو امیہ کے بعض افراد نے شام میں معاویہ بن ابو سفیان کے  پاس پہنچا دیا۔

عمال اور والیوں کی معزولی کا حکم

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان تمام  عاملوں اور والیوں کی معزولی کا حکم ناہ جاری کردیا  کہ جن کو دور عثمانی میں نامزد کیا گیا تھا یہ حضرت علی کی خلافت کا تیسرا یا چوتھا روز تھا اور اس کے ساتھ ساتھ  آپ نے طلحہ وزبیر اور دیگر کبار صحابہ کرام پر  پابندی لگا دی کہ کوئی بھی مدینے سے باہر نہیں جاسکتا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ابن عباس اور مغیرہ بن شعبہ نے مشورہ بھی دیا کہ ا طرح کرنے سے سلطنت کمزور ہو جائے گی لیکن دوسری جانب سے ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔اور پھر وہی ہوا کہ آہستہ آہستہ خلافت کمزور ہونے لگی۔

 معاویہ بن ابو سفیان کا طرز عمل

 حضرت عثمان کا خون آلود پیرہن اور زوجہ عثمان کی کٹی ہوئی انگلیاں امیر معاویہ کے پاس  موجود تھیں وہ جامع مسجد میں   انہیں رکھا کرتے تھے  اور لوگوں کو دکھا دکھا کر کہتے کہ  ہمیں خون عثمان کا بدلہ لینا ہے۔جس طرح دیگر ؑعمال اور والیوں کو معزولی کے خط بھیجے گئے اسی طرح کا ایک خط  جریر  بن عبداللہ کے ہاتھ دمشق      معاویہ  بن ابو سفیان کے لئے بھی بھیجا گیا انہوں نے تین ماہ تک پلٹ کے کوئی جواب نہ دیا اور تیں ماہ کے بعد ایک خط اپنے قاصد  قبیصہ عبسی کو دے کر جریربن عبداللہ کے ساتھ  مدینے کی جانب روانہ کیا حضرت علی نے لفافے کو کھولا تواس سے کوئی خط برآمد نہ ہوا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب قاصد کی جانب غصے سے دیکھا تو وہ کہنے لگا کہ میں قاصد ہوں مجھے جان کی امان ہے حضرت علی نے فرمایا ہاں تجھ کو امان ہے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فیصلہ

معاویہ بن ابوسفیان کی اس حرکت کا حضرت علی کو بہت دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا ۔قاصد نے بھی حضرت علی سے کہا کہ  شام میں آپ کی بیعت کسی نے بھی نہیں کرنی کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ  ساٹھ ہزار شیوخ حضرت عثمان کی خون آلود قمیض اور حضرت نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیوں پر رو رہےہیں جو کہ لو گوں کو مشتعل کرنے کی غرض سے جامع مسجد دمشق کے منبر پر رکھی ہوئی ہے۔ آپ کرم اللہ وجہہ  نے فرمایاکہ وہ لوگ مجھ سے خون عثمان کا بدلہ طلب کررہے ہیں حالانکہ میں خون عثمان سے بری ہوں۔اللہ قاتلیں عثمان کو معاف نہ کرے گا۔

ام المومنین حضرت عائشہ اور قتل عثمان

 ام المومنین حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہ حج کے بعد مکے جارہی تھیں کہ لوگوں نے آپ کی سواری کو گھیر لیا اور ساری بات گوش گزار کرنے کے بعد انہیں  اکسایا کہ انہیں اس معاملے میں آگے بڑھنا چایئے دوسر ی طرف  وہ عاملین جنہیں برطرف کیا گیا تھا وہ بھی حضرت عائشہ سے آملے اور بنو امیہ  اور ؑ عام عوام کا تو پہلے ہی یہ مطالبہ تھا کہ  قتل عثمان کا بدلہ لیا جائے  لہذا چہار سو سے پڑنے والے دباؤ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کو کمزور کر کے رکھ دیا۔

خاجیوں کی سازش

مسلمانوں کی آپس کی چپقلش کا بلوائیوں .سازشیوں اور سبائیوں نے بھرپور فائدہ  اٹھایا پھر یہی سلسلہ جب آگے چلا تو جنگ جمل ونہروان وغیرہ پیش آئیں جو آج بھی تاریخ اسلام کے ماتھے  پر ایک دھبہ ہیں۔جب سلطنتیں اندرونی خلفشار کا شکار ہوکر رہ جائیں توبیرونی طاقتوں کو اپنے مفادات اور مقاصد کے لئے کوئی خاص جدوجہد نہیں کرنی پڑ تی اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا خلافت کو جب خارجیوں نے کمزور دیکھا تو ان میں سے ایک گروہ سرگرم عمل ہو گیا اور اس گروہ کے ایک شخص کے سپرد یہ کام لگایا گیا کہ اس نے حضرت علی کو قتل کرنا ہے

شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ

رمضان المبارک 40 ھ کی ایک رات تھی  جس کی صبح  کا نزول شہادت علی کے ساتھ ہوناتھا 17 رمضان المبارک حضرت علی کرم اللہ وجہ  صبح کی نماز  پڑھانے کے لئے جب  مسجد میں تشریف لائے تو مسجد میں ایک جانب چھپ کے بیٹھے ہوئے ابن ملجم نے آپ کی پیشانی پر تلوار کا بڑا کاری وار کیا  جو کہ آپ کی شہادت کا باعث بنا۔جیسے ہی آپ کے ماتھے پر تلوار کا وار ہوا  تو آپ نے فرمایافزت برب الکعبہ(رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا)

کسے را میسر نہ شد این سعادت

بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کےماتھے پر ضربت لگنے کے دو دن بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےوفات پائی آپ ‘امام المتقین   ‘اخی رحمتہ للعامین ‘امام زاہدین’ فخر المتوکلیں’اسد اللہ رب   العالمین ہیں  اللہ تعالی آپ کی مرقد پر کڑوڑوں  رحمتوں اور برکات کا نزول فرمائے اور  ہمیں اہل بیت اطہار کی سچی مودت نصیب فرمائے(آمین)

یہ بھی پڑھیں: خلافت راشدہ کےچوتھے امام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button