خاندانی ثقافت تربیت کی بنیاد

خاندانی ثقافت تربیت کی بنیاد

 گھریاخاندان وہ مقام  ہوتاہے جہاں ایک نسل ڈھل کرتیار ہوجاتی ہے۔ایک سائنٹفک ریسرچ کے مطابق بچہ پچاس فیصد عادات ،مزاج اور رویے ماں باپ سے موروثی طور پر لے کر پید اہوتا ہے۔ اور پچاس فیصد اپنے گھرخاندان اور ماحول سے سیکھتا ہے۔ ان دونوں کو ملانے سے بچے کی پوری شخصیت تیار ہوکرسامنے آجاتی ہے۔ شخصیت بنانے والے یہ دونوں سانچے معیاری اور اعلی درجے کے ہوں تو بچے کی شخصیت بھی اعلی درجے کی بن جاتی ہے۔

لیکن ان دونوں میں سے کوئی ایک عنصر بھی کمزور ہو۔ اسی حساب سے بچے کی شخصیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔گھر کے ماحول کو بچوں کی اچھی تربیت کے لئے موافق بنانا اس لئے بھی  اہم ہے۔ کہ یہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اور ہم اسے اچھی طرح سے کرسکتے ہیں۔ جبکہ موروثی معاملہ قدرت کی طرف سے طے شدہ ہے۔ جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خداکی طرف سے مقررکردہ  اسکول جو آپ کے بچے کو بہترین تعلیم وتربیت فراہم کرسکتا ہے۔ وہ خودآپ کے گھرکاماحول ہے۔

اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے خاندانی ثقافت ، طرززندگی اور گھر کے ماحول کو خود اپنی کوششوں اور اختیار سے تربیت دوست بنائیں۔ تاکہ ہمارے بچوں کی بہترین تربیت ہوسکے۔ ذیل میں ہم چند چیزوں کی نشاندہی کررہے ہیں ۔جن کو اختیار کرکے ہم اپنے خاندانی ثقافت کو بچوں کی تربیت کے لئے موزوں بناسکتے ہیں۔

:زندگی میں سادگی کا پہلوحاوی رکھیں

تربیت دوست خاندانی ثقافت کاایک اہم پہلو یہ ہوتا ہے۔ کہ گھر میں سادگی اور نفاست کواختیار کیا جائے۔آپ کا لائف اسٹائل اورآپ کی طرز زندگی آپ کی سادگی کا پتہ دیتی ہو۔کوئی بھی چیز صرف اس وقت خریدیئے جب آپ کو اس کی واقعی ضرورت ہو۔نہ کہ اس وقت جب آپ کو اس کی خواہش ہو۔غیرضروری خریداری اور نمودونمائش سےہر ممکن اجتناب کریں۔ سادگی کی یہ قدر جب خاندانی ثقافت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اور گھر میں اسی ذہن کے مطابق بڑے چھوٹے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ تو اس قدر کی افزائش کے لئے کسی پر الگ سے زور دینے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔بچپن سے ہی بچے اس بات کے عادی ہوجاتے ہیں۔ کہ وہ اسی وقت کوئی چیز  خریدنے کا تقاضا کرتے ہیں ۔جب واقعی اس کی ضرورت ہو ۔ ورنہ وہ اس کا تقاضا ہی نہیں کرتے۔ یہ درحقیقت خاندانی قدربن چکی ہوتی ہے۔

:دوسروں کو عزت واحترام دینا

دوسروں کو  انسان کی حیثیت سے عزت واحترام دینا نہایت اعلی قدر ہے۔ اگر یہ قدر ہمارے گھرکی ثقافت کا حصہ بن جائے ۔کہ گھرکا ہر فرد ہر انسان کو اس کی عمر،پوزیشن، جنس، جسمانی فٹنس اورمنصب سے قطع نظر عزت واحترام دینے کاعادی ہو۔نیز خاندان کے علاوہ بھی ہر انسان کو عزت سے نوازاجاتا ہو۔ اور اس کی بات اہتمام سے سنی جاتی ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے بچے بھی خاندان کی اس ثقافت کا حصہ ہونے کے ناطے اس بات کے عادی ہونگے۔ جونہایت مطلوب انسانی قدر ہے۔

: حفظان صحت کی خاندانی پالیسی

حفاظت اور حفظان صحت کی پالیسی صحت مند اور خوش حال خاندان کی پہچان ہوتی ہے۔ جس خاندان میں حفظان صحت کی پالیسی اپنائی جاتی ہو۔اور اپنا لائف اسٹائل اسی کے مطابق اختیار کرتے ہوں۔ یقینا وہ گھرانہ خوش حال ہوگا ۔اس گھر میں پرورش پانے والے بچے بھی جسمانی اور ذہنی صحت سے مالامال ہونگے۔اس پالیسی کے ذریعے ہم اپنے بچوں کی اچھی جسمانی ، ذہنی اور روحانی صحت کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے۔ کہ ہم اپنے گھر میں کوئی بھی غیر صحت مند سرگرمی اختیار کرنے سے گریز کریں چاہے۔ اس کا نقصان جسمانی ، ذہنی اور روحانی میں سے کوئی بھی ہو۔کیونکہ ان تمام پہلووں سے صحت مند انسان ہی متوازن شخصیت کا حامل کہلائے گا۔

:پوری فیملی کے لئے کوالٹی ٹائم مختص ہو

جذباتی توازن اور آسودگی کے بغیر کوئی انسان متوازن شخصیت کا حامل نہیں بن سکتا۔ چاہے وہ فزیکل یعنی جسمانی طور پر کتنا صحت مند کیوں نہ ہو۔ بلکہ جذباتی توازن کے بغیر جسمانی طور پر صحت مند انسان بعض اوقات زیادہ خطرناک واقع ہوسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ ہیں جو جسمانی طور پر تندرست ہونے کے باجود خودکشیاں کرتے ہیں۔یادوسروں کو قتل کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یا گھر اور محلے میں اودھم مچاکر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت جذباتی آسودگی سے عاری ہوتے ہیں۔

جذباتی آسودگی متوازن خاندانی کلچر سے فروغ پاتی ہے ۔اگر گھریلواورخاندانی ماحول جذباتی آسودگی کے لئے مناسب  نہ ہو۔تو بچوں میں بھی اس کی افزائش نہیں ہوسکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ جذباتی آسودگی کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟ سوگھریلوماحول اور بچوں میں محبت، اپنائیت اور جذباتی آسودگی کوفروغ دینے کے لئے ضروری ہے۔ کہ پورےگھرانےکے لئے فیملی شیئرنگ اور کوالٹی ٹائم مقرر کیاجائے۔جس میں گھرکے تمام افراد روزانہ کی بنیاد پرایک ساتھ بیٹھ سکیں۔اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے موضوع پر گفتگو کرسکیں۔

کوالٹی ٹائم کیا ہوتا ہے؟

اس کو فیملی کوالٹی ٹائم اس لئے کہا جاتا ہے۔ کہ اس میں پورے گھر یا خاندان کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوجاتے ہیں۔ایک ساتھ کھاناکھا تے ہیں اورباہمی گفتگو میں سب شریک ہوتے ہیں ۔ اس میں بچے بڑے سبھی حصہ لیتے ہیں۔ دن میں گزرے واقعات کو ایک دوسرے سے شئیر کرتے ہیں۔ کچھ ہنسی مزاح کچھ مکالمہ اور کچھ بات چیت ہوتی ہے۔ اس دوران کوشش ہونی چاہیے کہ اسکرین، موبائل یا ٹی وی کو بالکل بند رکھا جائے۔

اس کو کوالٹی ٹائم کا نا م اس لئے دیا جاتا ہے کہ اس دوران کوئی بھی بھاری موضوع نہیں لیا جاتا۔ بلکہ ایسے موضوعات پر مکالمہ کیا جاتا ہے جو سب کے لئے دلچسپی کے حامل ہوں۔ کوالٹی ٹائم یا فیملی شیئرنگ ٹائم سے خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں جذباتی آسودگی کو فروغ ملتی ہے۔ یہ ٹائم رات کے کھانے کے بعد یا سہ پہر کی چائے کے بعدایک گھنٹے کے لئے مقررکیا جاسکتا ہے۔

:گھر کے لئے مقصدیت سے بھرپور پرلطف سرگرمیاں مقرر ہوں

گھر کے افردکے لئے مقصدیت سے بھرپورتفریح کے لئے کچھ سرگرمیاں ایک محدود وقت کے لئے مقررہونی چاہییں۔ یہ کئی قسم کی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔ مثلاپڑھنے لکھنے کی سرگرمی، کوئی جسمانی سرگرمی،کوئی انڈورگیم یا دماغی کھیل وغیرہ۔فنون لطیفہ یا دست کاری وغیرہ جو گھریلو، معاشرتی یا فطری انداز کی ہوں۔ اس زمرے میں شامل کیا جاسکتاہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*