ڈرائیونگ کے آداب

ڈرائیونگ کے آداب
سواری کے وقت پڑھنے کی دعائیں سواری کی قدر کیجئے ڈرائیونگ اور ایذاء مسلم غلط جگہ گاڑی روکنا دوسرے کو ناحق انتظار کروانا

     آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ،یہی وجہ ہے کہ اگر ایک مسلمان کسی دنیاوی کام میں بھی اپنی نیت درست کر لے تو وہ کام اس کے لئے عبادت اور ثواب کمانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔دیکھا جائے تو ڈرائیونگ کرنا اور گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا ایک دنیاوی کام ہے اور انسان عام طور پر اپنی ضرورت کیلئے سواری کرتا ہے ،اگرچہ بعض خوش قسمت لوگ ایسے ہیں جو کسی دینی خدمت میں مصروف ہیں تو ان کا اس کام کیلئے سواری کرنا بھی عبادت ہے، لیکن ہم بات کر رہے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان اپنی دنیاوی ضرورت کیلئے بھی ڈرائیونگ کر رہا ہے تو اس کا یہ عمل بھی نیکی کمانے کاذریعہ بن سکتا ہے صرف چند باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے ،چنانچہ ذیل میں ہم انہی چند باتوں کا ذکر کریں گے کہ جن کا خیال کر کے ایک مسلمان ڈارائیونگ کے ذریعہ بھی ثواب کماسکتا ہے ۔

سواری کے وقت پڑھنے کی دعائیں

     جب بھی گاڑی میں سوار ہوں تو دعاؤں کا اہتمام کریں ،اور یہ عمل صرف ڈرائیونگ کرنے والے کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ جو بھی کسی چیز پر سوار ہو خواہ بس میں ہو گاڑی میں اس کے لئے یہ عمل ہے کہ وہ دعاؤں کا اہتمام کرے ۔

سواری کی دعاء

سواری کی دعا یہ ہے

 سُبحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ

اسی طرح ا ور بھی دعائیں ہیں جو سواری کے وقت پڑھی جاسکتی ہیں۔ مثلاً آپ یہ آیت بھی پڑھ سکتے ہیں :

بِسمِ اللَّہِ مَجرَاہَا وَمُرسَاہَا إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ

اور یہ آیت بھی پڑھ لیں :

وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدرِہِ وَالأَرضُ جَمِیعًا قَبضَتُہُ یَومَ القِیَامَۃِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشرِکُونَ (الزمر)

ان دونوں آیات کا پڑھنا اگرچہ کشتی میں سواری کے وقت وارد ہوا ہے لیکن گاڑی وغیرہ میں سوار ہوتے وقت بھی انہیں پڑھا جاسکتا ہے ۔

سواری کی قدر کیجئے

      سواری اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے ،اور اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کی قدر کرنا ضروری ہے ،اور ہر چیز کی قدر الگ طریقہ سے ہوتی ہے ،سواری کی قدر یہ ہے کہ اس کی حفاظت کا جس قدر بس میں ہو اہتمام کیا جائے ،اس کو صاف ستھرا رکھا جائے ،اور اس کی مینٹینس کا خیال رکھا جائے ،اگر کوئی شخص ان تینوں باتوں کا اہتمام کرتا ہے اور یہ نیت کرتا ہے کہ یہ میرے رب کی دی ہوئی نعمت ہے اور میں اس کا خیا ل اس لیئے رکھ رہاہوں تاکہ اس نعمت کی ناشکری نہ ہوجائے تو یہ اس کیلئے اجر کا باعث ہوگا ۔

ڈرائیونگ اور ایذاء مسلم

     آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’ مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ‘‘ یہاں حدیث میں اگرچہ صرف ہاتھ اور زبان کا ذکر کیا گیا ہے لیکن یہاں مراد ہر قسم کی تکلیف ہے کہ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کامل مسلمان نہیں ،چنانچہ علماء فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو ناحق ایذاء دینا حرام ہے ۔اب سواری سے متعلق بھی بہت سی باتیں ایسی ہیںکہ جن کے کرنے سے کسی مسلمان کو ناحق تکلیف پہنچ سکتی ہے۔

غلط جگہ گاڑی روکنا

ان میں سے سب سے زیاد ہ پیش آنے والی چیز ہے راستہ میں گاڑی کھڑی کرنا یا ایسی جگہ گاڑی روک لینا کہ اس کی وجہ سے آنے جانے کا راستہ رک جائے ،اور اس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں ،ایک تو یہ کہ ایسی جگہ گاڑی پارک کردی جوکہ راستہ ہے ،یا گاڑی میں سے کسی کو اتارنے کے لئے گاڑی راستہ میں روک دی،حالانکہ تھوڑا آگے جاکر بھی اترا جاسکتا ہے ،اس میں بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ڈرائیور حضرات اپنے مالکان کو اتارنے کیلئے بیچ راستے میں گاڑی روک دیتے ہیں ،کہ جہاں مالک کو جانا ہے وہیں اتاراجائے ،خواہ اس کی وجہ سے پورا ٹریفک رک جائے ،یاد رکھئے اس کی وجہ سے جتنی گاڑیاں رکیں گی ،اور جتنے لوگوں کو تکلیف پہنچی گی ان کا دل دکھے گا ،اس سب کاذمہ دار وہی ہوگا ،لہٰذا ڈرائیوروں کو یہ بات سمجھادینی چا ہیئے کہ گاڑی ایسی جگہ روکیں کہ پیچھے آنے والوں کا راستہ نہ رکے ۔(لیکن بعض صورتیں مجبوری کی ہوتیں ہیں جن میں راستہ میں گاڑی روکنی پڑتی ہے ،وہ ظاہر ہے اس سے مستثنیٰ ہونگی)

دوسرے کو ناحق انتظار کروانا

اسی طرح گلی میں سے گزرتے ہوئے کوئی مل گیا تو وہیں بیچ راستے میں گاڑی روک کر اس سے بات کرنا شروع کردی ،اب کوئی اور گاڑی آرئی تو پھر گاڑی کنارے سے کھڑی کی لیکن دوسرے کو ناحق انتظار کروایا۔یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ لوگ اس کو گناہ نہیں سمجھتے بلکہ کمال سمجھتے ہیں اور بعض دفعہ دین دار لوگوں کو بھی اس کا خیا ل نہیں رہتا ،ہو سکتا ہے بعض پڑھنے والے یہ سوچ رہے ہوں کہ یہ دینی بات چل رہی ہے یا ٹریفک کے قوانین بیان ہورہے ہیں ،واقعہ یہ ہے کہ یہ ہے تو دین کی بات لیکن ہمارے ذہن سے یہ بھی نکل گیا ہے کہ ان باتوں کا دین سے کوئی تعلق ہے، حالانکہ ان سب باتوں کی وجہ سے اگر کسی مسلمان کو تکلیف پہنچے تو ایک ناجائز کام کے ارتکاب کا گناہ ملے گا۔

اسی طرح کسی کے دروازہ کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے چلے جانا کہ اگر اس کو اپنی گاڑی نکالنی پڑجائے تو جگہ ہی نہ ہو ،جوکہ اس کیلئے تکلیف کا باعث ہے ۔

گاڑی آہستہ چلاتے ہوئے دھیان رکھیں

بعض دفعہ انسان کسی مجبوری کی وجہ سے بہت آہستہ رفتار میں گاڑی چلا رہا ہوتا ہے ،تو اس میں بھی یہ دھیان رکھنا چاہیئے کہ اگر ممکن ہوسکے تو گاڑی ایک کنارے سے چلائی جائے ،تاکہ معمول کی رفتار سے آنے والے کسی اور مسلمان بھائی کو پریشانی نہ ہو ۔

تیز ہیڈ لائٹس کے ذریعے دوسروں کو تکلیف دینا

ایک اور کوتاہی جو عام طور پر ہمارے ہاں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ بعض لوگ گاڑی کی ہیڈلائٹس اتنی تیز لگاتے ہیں جو ان کی ضرورت سے زائد ہوتی ہے ،اور اس کی وجہ سے سامنے سے آنے والے کی آنکھوں میں ایک دم تیز روشنی پڑتی ہے،جس کی وجہ سے ایک دم آنکھیں چندھیا بھی جاتی ہیں اور آنکھوں کو نقصان بھی ہوتا ہے اور بعض مرتبہ حادثہ کا اندیشہ بھی ہوجاتا ہے ،تو یہ بھی ایک مسلمان کو تکلیف دینے میں شامل ہے ۔

بلا ضرورت ہارن بجانا

اسی طرح بے موقع، بلاضرورت تیز تیز ہارن بجانا بھی کبھی کسی کی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اور ڈرائیونگ کے آداب کے خلاف ہے۔ اس بھی احتیاط کرنی چاہیئے ۔

یہ تو چند مثالیں ذکر کی گئی ہیں ،ورنہ ہر ایسا کام کہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچے اس سے بچناضروری ہے ،اور کسی سمجھدار انسان کیلئے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ وہ کونسے کام ہے کہ جن کی وجہ سے کسی دوسرے کو تکلیف پہنچ سکتی ہے ،اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر رکھ کر سوچے کہ جو کام میں کرنے جارہا ہوں اگریہی کام کوئی اور کرے تو مجھے اس سے تکلیف ہوگی یا نہیں ،اگر ہوتی ہے تو اس کام کو نہ کرے اور اگر نہیں ہوتی تب بھی یہ غور کرے کہ دوسرے کوتو نہیں ہوگی،اسی طرح ہر کا کو سوچ سمجھ کر کرے ۔

ڈرائیونگ اور اکرامِ مسلم

عام طور پر اکرامِ مسلم سے ہمارے ذہن میں جو تصور آتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی مسلمان بھائی کی دعوت کردی یا اس کو کوئی ہدیہ پیش کردیا یہ اکرامِ مسلم ہے ،بے شک یہ چیزیں بھی اس میں داخل ہیں لیکن ایک مسلمان کو اپنی عام زندگی میں جگہ جگہ پر ایک مسلمان کو آرام اور راحت پہنچانے کا موقعہ ملتا ہے ،اور ایک مسلمان کو اپنے عمل سے راحت پہنچانا اعلیٰ درجہ کا اکرام ہے،چنانچہ گاڑی چلاتے وقت بھی ایک مسلمان اس فضیلت کو حاصل کرسکتا ہے ،اس کی چند مثالیں دیکھ لیجئے ؛کسی دوسرے مسلما ن کو پہلے گزرنے کا موقعہ دیدینا اس کے اکرام میں داخل ہے ،اسی طرح اگرممکن ہو تو روڈ پار کرنے والوں کو گزرنے کا موقعہ دیدینا بھی ان کا اکرام ہے ،ایک مسلمان کے اکرام میں یہ بھی شامل ہے کہ اگراس کی گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ مقرر ہے تو اگرچہ وہ اس کا مالک نہیں ہے لیکن پھر بھی اکراماً اس کی جگہ پر گاری نہ کھڑی کرنا ایک اچھا عمل ہے ۔یہ تو دو تین مثالیں ہیں ورنہ کسی بھی موقع پر اپنا حق چھوڑکر دوسرے مسلمان کو موقع دینا اکرام مسلم کی بہترین صورت ہے ۔

 ضد اورتکبر سے بچئے

بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے ہم صرف اپنی ضد کی وجہ سے ایک مسلمان کو تکلیف پہنچادیتے ہیں یا کم از کم اس کے اکرام سے محروم ہوجاتے ہیں ،مثلا ً کسی کو واقعۃً جلدی ہے اس نے راستہ مانگنے کیلئے دو تین دفعہ ہارن بجادیا تو اب ہم اس کو راستہ ہی نہیں دیں گے کہ اس نے ہارن کیوں بجایا ،اور اس کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ،کیا معلوم اس کو کوئی ایمرجنسی ہو ،اورراستہ نہ دینے کی وجہ سے اس کو دیر ہوجائے ،بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ تو لوگوں کی عادت بن گئی ہے اس لیئے ہم راستہ کیوں دیں،تو اس بارے میں عرض ہے کہ اس بارے ایک تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ واقعی عادۃً ہارن بجارہا ہے ،دوسرے یہ کہ اگر اس کو راستہ دیدیاتو بھی اس میں انکساری اور عاجزی ہے جو کہ ہر مسلمان سے مطلوب ہے۔

ڈرائیو کرتے ہوئے دوسرے کی غلطی نظر انداز کیجئے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوسر ی گاڑی چلانے والاایسی حرکت کرتا ہے جوکہ قانون اور اخلاق کے لحاظ سے بالکل غلط ہوتی ہے ،یا ناگوار ہوتی ہے تو ہم اس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ،اس کو سائڈ مارتے ہیں یا اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں یا خوب زور زور سے ہارن اس کو مارتے ہیں یا اس کے آگے آکر گاڑی کی رفتار آہستہ کردیتے ہیں،یاد رکھیں اگر آپ اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ نہیں ہے ،اس کا طریقہ تو یہ ہے کہ آپ اس کو روکیں اور پھر اس کو محبت سے سمجھائیں ،لیکن یہ عام طور پر ممکن نہیں ہوتا ،لہٰذا آپ کے پاس محسنین کی صفات کا حامل بننے کا ایک بہترین موقعہ ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کو غصہ پی جانے والے اور معاف کردینے والے بہت پسند ہیں ،تو ایسے موقع پر آپ بھی اللہ کی خاطر غصہ پی جائے اور اس کی غلطی کو معاف کردیجئے اور اللہ کے محبوب بن جائیے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین

تحریر:  مفتی فرحان فاروق

خلیفہ سوم حضرت عثمان ذوالنورین

1 Trackback / Pingback

  1. ٹیلیفون اور موبائل فون کے استعمال کے آداب اور مسائل - EduTarbiyah.com

Leave a Reply