کوریا میں اسلام کیسے پھیلا ؟

کوریا میں اسلام کیسے پھیلا؟

کوریا میں اسلام کیسے پھیلا ؟

ضیاء چترالی

1982ء کی بات ہے۔ جنوبی کوریا کا ایک وزیر کویت کے دورے پر آیا۔ اسلام، اس کی تعلیمات اور کویتی مسلمانوں سے کافی متاثر ہوا۔ اس نے کویتی وزراء سے کہا کہ ہے کوئی ایسا شخص جو اپنے آپ کو کوریا کے لئے وقف کر دے۔ کورین لوگ کفر پر مر رہے ہیں اور آپ کے پاس اتنا خوب صورت دین ہے؟ وزراء کیا جواب دیتے، بس خاموش رہ گئے۔

کچھ عرصے بعد کویت کے وزیر اوقاف و مذہبی امور نے اپنی وزارت کے تحت چلنے والے ایک فقہی ادارے کا دورہ کیا اور وہاں کورین وزیر کی اس بات کا تذکرہ کیا۔ یونیورسٹی کے ایک نوجوان پروفیسر کو جب کورین وزیر کی یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے کہا کہ میں اس کام کے لئے تیار ہوں۔

شیخ عبد الوھاب 38 سال سے کوریا میں دین حق کی تبلیغ کر رہے ہیں

یہ عظیم شخص گو کہ جسماً تو ہمارے زمانے میں رہتا ہے، لیکن قلب و روح کے اعتبار سے یہ قرون اولیٰ کا مسافر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے مقدس قافلے سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ اس نے لگی بندھی بہترین ملازمت، گھر بار، بیوی بچے، پرتعیش زندگی، غرض سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک انجان ملک میں مستقل قیام کے لئے روانہ ہو گیا۔ جہاں کوئی اس کی جان پہچان نہیں تھی، ملک بھی وہ جس کے باسی سات خدائوں کے ماننے والے۔ پھر یہ وہیں کا ہوکر رہ گیا۔
اس بات کو اب 38 برس بیت گئے ہیں۔ مگر اس شخص نے جب دین کے لئے ایک بار وطن چھوڑا تو کبھی واپس آنے کا خیال بھی دل سے نکال دیا۔ یہ ہے کون اور اس عرصے میں اس نے کیا خدمات سر انجام دیں؟ اس کی کاوشوں سے کوریا میں کیا انقلاب برپا ہوا؟ آیئے پڑھتے ہیں:

یہ کویت کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر اور وزارت اوقاف ومذہبی امور سے وابستہ مشہور علمی شخصیت امام الشيخ الدكتورعبد الوہاب زاہد الحق ہیں۔ بہت بڑی علمی شخصیت، اتنی بڑی کہ نوجوانی میں ہی ان کا شمار کبار علمائے کرام میں ہونے لگا تھا۔ حدیث، فقہ اور تفسیر سمیت جملہ دینی علوم و فنون میں یکتائے روزگار۔ شیخ نے تفسیر اور حدیث کا علم جامعہ ازہر سے حاصل کیا تھا۔ جبکہ وہ الفقه المقارن Comparative jurisprudence پر پی ایچ ڈی تھے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بھی شیخ کی خدمات طلب کر چکی ہے

ان کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جب اسلام آباد میں سعودی عرب کے تعاون سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے وائس چانسلر کے عہدے کے لئے جس شخصیت پر نظر انتخاب ٹھہری، یہ وہی تھے۔ حکومت پاکستان نے ان سے درخواست کی کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بننے کے ساتھ شعبہ قسم الفقہ و الحديث کو سنبھالیں۔ یہ کویت میں بھی یونیورسٹی کی تدریس کے ساتھ مذہبی امور کی وزارت کے تحت ایک بڑی علمی خدمت سر انجام دے رہے تھے۔ کویتی وزارت اوقاف کی خواہش تھی کہ شیخ عبد الوہاب ان کے ساتھ کام جاری رکھیں اور الموسوعة الفقھية کو مرتب فرمائیں۔ دوسری جانب سعودی حکومت بھی چاہتی تھی کہ وہ ان کے یہاں تدریس کریں۔ مگر شیخ عبد الوہاب نے یہ سب کچھ ٹھکرا دیا اور دین کی دعوت کے کٹھن سفر پر روانہ ہوئے۔

ہزاروں کوریائی باشندے شیخ عبد الوھاب زاہد الحق کے ہاتھوں مسلمان ہونے

کوریا میں نہ شیخ عبد الوہاب کا کوئی جاننے والا تھا اور نہ ہی وہ کورین زبان جانتے تھے۔ کوریا پہنچ کر انہوں نے پہلے مقامی زبان سیکھنے پر توجہ دی۔ پھر وہاں کے ماحول کو سمجھا۔ لوگوں کے عقائد و رسومات اور ذہنی خیالات کو پرکھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں کے بیش تر لوگ سات خدائوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ عیسائی بھی تھے اور ملحدین کی بھی کمی نہیں تھی۔ جس وقت شیخ عبد الوہاب نے کوریا میں دعوت دین کا کام شروع کیا تو اس وقت وہاں مسلمانوں کی تعداد انگلی پر گنی جا سکتی تھی۔ لیکن اب ان کے ہاتھوں ہزاروں کورین مسلمان ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نو مسلموں کو بھی اسلام کی دعوت کے کام پر لگا دیا۔ مختلف شہروں میں مساجد کے ساتھ اسلامک سینٹرز قائم کئے۔ الشيخ عبد الوہاب نے کورین زبان میں اسلام کے تعارف پر کئی کتابیں لکھیں۔ ان کی ایسی کتب کی تعداد 55 ہے۔ ان کی کاوشوں سے اب اسلام کورین باشندوں کے لئے اجنبی نہیں رہا۔

کوریا میں سیٹل ہونے کے بعد ایک مرتبہ مصر کے بزنس ٹائیکون عبد اللطيف الشريف نے الشيخ عبد الوہاب کو آفر کی کہ وہ کوریا میں ان کے بزنس پارٹنر بن جائیں۔ پرافٹ کا نصف حصہ انہیں ملے گا۔ یوں ملین ڈالر بیٹھے بٹھائے انہیں مل جایا کریں گے۔ لیکن شیخ نے کہا کہ: عبد اللطيف! میں عرب کی سر زمین، اچھی نوکری اور سب کچھ مال کے لئے نہیں چھوڑا، مجھے مال کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے اعلیٰ سرکاری عہدہ اور تمام مراعات حاصل تھیں۔ میں یہاں صرف اسلام کی دعوت کے لئے مقیم ہوں۔ مجھے کورین لوگوں کو جہنم سے بچانے کی فکر ہے۔ میں کاروباری جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ یہ سن کر عبد اللطیف بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میں آپ کی اس میدان میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟ شیخ نے کہا کہ دو شہر ایسے رہ گئے ہیں، جہاں کوئی مسجد نہیں ہے۔ مجھے دو مسجد بنوا کر دے دیں۔ عبد اللطیف نے اسی وقت دونوں مساجد کی تعمیر کے تمام اخراجات شیخ کو دے دیئے۔ ایک مسجد سیدنا ابو بكر الصديقؓ کے نام سے اور دوسری سیدنا عمر فاروقؓ کے نام سے قائم ہوئی۔ اب دونوں کا شمار کوریا کی مشہور مساجد میں ہوتا ہے۔

کوریا میں 1930 میں پہلا شخص مسلمان ہوا،اب تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے

شیخ عبد الوہاب ابھی تک کوریا میں 80 مساجد اور درجنوں اسلامی سینٹر بنا چکے ہیں۔ غیر رسمی مساجد یعنی مصلوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ واضح رہے کہ 1930ء میں پارک جے سنگ Park Jaeseoung وہ پہلا کورین شخص تھا، جو مسلمان ہوا تھا اور اب وہاں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی نوجوان مسلمان ہو کر دین کا علم حاصل کرکے اسلام کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔

کوریا کے عرب مفتی اعظم کوریا کی زبان میں 23 کتابیں تصنیف کر چکے ہیں

شیخ عبد الوہاب کا کہنا ہے کہ مجھے کورین نو مسلموں پر فخر ہے۔ یہ قیامت کے دن میرے آگے ہوں گے۔ یہی میرا سرمایہ ہے۔ میں نے ان کے عقائد کی درستگی کے لئے 23 كتب لکھی ہیں۔ الدكتور عبد الوہاب زاہد الحق کا اصل تعلق شام کے تاریخی شہر حلب سے ہے۔ جہاں وہ 1941ء کو پیدا ہوئے۔ 1984ء سے وہ کوریا میں مقیم اور اسلام کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ اس وقت وہ کوریا کے مفتی اعظم اور مركزی مسجد ابو بكر الصديق کے امام و خطیب ہیں۔ ان کی ایک بیوی اور سات بیٹے ہیں۔ پوتوں کی تعداد 35 ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسلم ممالک کی طرف سے اسلام کے نشر و اشاعت میں نہایت سستی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کی اس فریضہ پر کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔ جس پر وہ قیامت کے دن جوابدہ ہوں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply