شعور اور لاشعور ، ایک سکے کے دو رخ

یہاں یہ بحث لا حاصل ہے ہے کہ شعور اور لاشعور میں سے سے کون سا زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ دونوں اپنے کاموں کے اعتبار سے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ دونوں مل کر کام کرتے ہیں ۔

پاکستان کی دس بہترین یونیورسٹیاں جو آپ کے خوابوں کی تعبیر کر سکتی ہیں

پاکستان کی دس بہترین یونیورسٹیاں

اس مضمون میں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی دس بہترین یونیورسٹیاں کون سی ہیں جو عالمی رینکنگ ادارے کے ان اصولوں پر پورا اترتی ہیں۔ اگر آپ نے انٹرمیڈیٹ کر لیا ہے تو کون کون سی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کےلئے آپ کو کوشش کرنی چاہیے تاکہ آپ ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔

فیفا ورلڈ کپ،مسلمان اسٹارز کا دنیا کو خوب صورت پیغام

فیفا ورلڈ کپ ،مسلمان اسٹارز کا دنیا کو خوب صورت پیغام

شائقین فٹ بال کا پہلی بار عجیب میزبانوں سے واسطہ پڑا ۔ بچے، بوڑھے اور جوان، سب بچھے جا رہے ہیں۔ ایک اور منظر میں اسٹیڈیم کے باہر دین حنیف کے داعی طلبہ کا اسٹال لگا ہوا ہے۔ لکھا ہے کہ ’’ہر چیز آپ کے لئے گفٹ‘‘ وہ عربی قہوہ، کھجور کے ساتھ روایتی قطری حلوہ، ساتھ رومال، عقال اور بشت (جبہ) کے تحائف کی تقسیم کرتے ہیں۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹر کامرس ریگولر کے نتائج کا اعلان کر دیا

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹر کامرس ریگولر کے نتائج کا اعلان کر دیا

کراچی ، ویب ڈیسک ؛اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹر کامرس ریگولر کے سالانہ امتحانات برائے 2022 کے نتائج کا اعلان کردیا ہے.امتحانات میں 43366 نے شرکت کی۔ جن میں سے 26151 امیدوار کامیاب اور 16467 ناکام ہوئے جبکہ 748 غیر حاضر رہے۔

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور اور دسمبر کے انسو

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔جس کے بعد سے ہر سال اس تاریخ کو پاکستانی سوشل میڈیا پر صرف اے پی ایس کا ہی موضوع ٹرینڈ کر رہا ہوتا ہے اور لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آج تک قاتلوں کا کیا انجام ہوا؟

مشرقی پاکستان کا سانحہ

مشرقی پاکستان کا سانحہ

یکم مارچ 1971ءکو گورنر مشرقی پاکستان ایڈمرل احسن کو ہٹا دیا گیا۔ پورے مشرقی پاکستان میں کر فیو نافذ کر دیا گیا، لیکن کرفیو کو عوامی لیگ کے کارکنوں نے تسلیم نہیں کیا اور اس کی مکمل اور کھل کر خلاف ورزی کرنے لگے، بلکہ بعض جگہوں پر جہاں محب وطن غیر بنگالیوں کی آبادی تھی،

چلو آذربائیجان چلیں

چلو آذربائیجان چلیں

ماہ اکتوبر کے شروع میں ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر نے بونی، اپر چترال میں اپنے کلینک کے اختتام پر اذربائیجان جانے کا پروگرام بنایا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی کیونکہ آذربائجان اور مصر دیکھنے کا شوق بہت پہلے سے پال رکھا تھا۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا کی وبا نے ہمارے پیروں میں خوف جان کی زنجیر ڈال رکھی تھی اس لیے ہم نے باہر جانے کا خیال دل سے نکال رکھا تھا۔