جامعہ الازہر،دنیا کی دوسری قدیم ترین یونیورسٹی

جامعہ الازہر،دنیا کی دوسری قدیم ترین یونیورسٹی

تحریر ؛ جبران عباسی

مصر کی جامعہ الازہر کو بےشمار اعزازات حاصل ہیں، یہ مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ جامعہ الا زہر کی لائبریری دنیا کی قدیم لائبریریوں میں سے ایک ہے، جامعہ الازہر کو اسلامی دنیا میں نمایاں مذہبی حثیت حاصل ہے۔ جامعہ الازہر سے جاری کردہ فتویٰ آخری سند کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک مسجد کے طور پر ابتداء

جامعہ الاز ہر کا آغاز 972 عیسوی میں ایک مسجد کے طور پر ہوا تھا تاہم موجودہ وقت میں جامعہ الازہر کا شمار عالم اسلام کی قدیم ترین اور مستند ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ موجودہ وقت میں جامعہ الاز ہر سے چار ہزار تعلیمی ادارے اور بیس لاکھ کے قریب طلباء وطالبات منسلک ہیں۔ خود جامعہ الازہر یونیورسٹی کے طلبا کی تعداد نوے ہزار کے قریب ہے۔

اسلامی فن تعمیر کا شاندار نمونہ

مصر کے شہر قاہرہ کے وسط میں واقع جامعۃ الازہر ایک وسیع کمپلیکس کی صورت میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کمپلیکس میں تاریخی مسجد ، یونیورسٹی کی عمارات، ہال ، لائبریریاں اور دیگر عمارات شامل ہیں۔ جامعہ ا لازہر کی یہ کلاسیکل عمارات مختلف مسلم ادوار جیسے فاطمی، ایوبی اور عثمانی خلافت کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھیں یہی وجہ ہے کہ آپ کو یہاں نویں صدی عیسوی سے لے کر بیسویں صدی تک کی ہر طرز تعمیر دیکھنے کو ملے گی۔
جامع الازہر اپنے پانچ دیدہ زیب میناروں کی وجہ سے بھی مشہور ہے یہ پانچ مینار 1340,1469 اور 1510 میں تعمیر کئے گے تھے۔

جامعہ الازہرفاطمیوں کا عظیم تحفہ

تاریخ دانوں کے مطابق جامعہ الا ز ہر یونیورسٹی فاطمیوں کے چوتھے خلیفہ اور اسمعیلیوں کے چودہویں امام المعز لدین اللہ نے 972 عیسوی میں مصر کے نئے آباد کردہ شہر قاہرہ میں قائم کی تھی۔
جامعہ الازہر کی مسجد کی تعمیر کا آغاز 970 عیسوی میں ہوا اور 972 عیسوی میں مسجد میں نمازیں ادا ہونا شروع ہوئیں اور مدرسے کا آغاز 988 عیسوی میں کیا گیا تھا۔
نویں صدی عیسوی سے بارہویں صدی عیسوی تک جامع الازہر بطور شیعہ مدرسہ فاطمی خلافت اور اسماعیلی فرقے کی ترویج کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
دراصل حضرت فاطمتہ الزہرا کے نام سے منسوب اس مدرسے کو “الازہر” کا نام دیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد شیعہ اسماعیلی عقائد کی اشاعت و ترویج کرنا تھا۔

جامعہ ازہر اور صلاح الدین ایوبی

تاہم گیارھویں صدی میں مصر میں اہم ترین سیاسی تبدیلی ہوئی۔ صلاح الدین ایوبی نے مصر پر قبضہ کر کے فاطمی خلافت کا خاتمہ کر دیا اور مصر میں سنی العقیدہ ایوبی سلطنت کا آغاز ہوا۔
قائرہ کے محاصرے کے دوران جامعہ ا لازہر کو بھی جزوی نقصان پہنچا لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی نے جو علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے ذاتی دلچپسی لے کر جامعہ الاز ہر کی مرمت کروائی اور یہاں کی کتابوں کو محفوظ کرنے کےلئے ایک لائبریری کا اضافہ کیا۔
جامعہ الازہر جب سنی العقیدہ مسلمانوں کا مرکزی تعلیمی ادارہ بنا تو یہ وہ دور تھا جب بغداد کی سیاسی و تعلیمی عظمت ہلاکو خان کے ہاتھوں ختم ہو چکی تھی، بیت الحکمہ کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا، بخارا و سمرقند کے مدرسے منگولوں کی یلغار سے تباہ ہو گے تھے۔ سنٹرل ایشیا کے مسلمان علما نے بھی مصر میں پناه لے رکھی تھی۔ یوں جامعہ الازہر پر مسلمانوں کا انحصار بھی بڑھ گیا تھا۔

جامعہ ازہر مملوک دور میں

ایوبی سلطنت کا خاتمہ 1250 کو مملوکوں کے ہاتھوں ہوا لیکن جامع الازہر کی ساکھ و عظمت میں فرق نہ آیا۔ مملوک سلطان بیبرس اور اس کے وزیراعظم عزالدین الجدیکی کا جامعہ الازہر سے خصوصی لگاؤ تھا۔ سلطان بیبرس اور دیگر شہزادوں اور امرا نے خاصی رقم جمح کی اور جامعہ الازہر کی توسیع پر خرچ کی اور جامعہ کی موجودہ تعمیرات کروائیں۔ بیبرس باقاعدگی سے جمعہ کی نماز جامعہ الازہر کی مسجد میں ادا کرتے اور وہاں کی علمی مجالس کا حصہ بنتے۔ محققین اس دور کو سنہری دور سے تعبیر کرتے ہیں۔

بیبرس کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے منگولوں کو پہلی بارجنگ جالوت میں زبردست شکست سے دو چار کیا۔ بیبرس نے بغداد کے عباسی خاندان کے بچے کھچے افراد کو قاہرہ بلایا اور وہاں انھیں اعزازی خلافت کے عہدے سے نوازا۔ عباسی خاندان کے ساتھ بغداد کے جلیل القدر دانشور ، عالم ، مذہبی اسکالرز بھی تشریف لائے اور جامعہ الازہر کی رونقوں میں خوب اضافہ ہوا۔ دوسری طرف مسلم اندلس پر عیسائیوں نے یلغار شروع کر دی قرطبہ اور اشبیلیہ کے جید علما نے بھی قاہرہ کا رخ کیا اور اپنی زندگی اور علمی کام جامعہ الازہر کے سپرد کیا یوں یہ ادارہ بیبرس کے زمانے میں پورے عالم اسلام کا سب سے عظیم تعلیمی ادارہ بن گیا۔

عثمانیوں نے جامعہ کی صدر نشینی مصریوں کے لئے مختص کر دی

پندرہویں صدی میں عثمانی خلافت نے مصر کو فتح کیا تاہم جامعہ الازہر کا مکمل احترام ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ عثمانی خلافت میں بھی جامعہ الازہری کو مکمل خود مختاری دی گئی۔ عثمانیوں نے جامعہ الازہر کو معاشی طور پر خوشحال بنانے کےلئے باقاعدہ جاگیریں مقرر کیں۔ جامعہ کا سب سے بڑا عہدہ صرف مصری علما کےلئے مختص کیا گیا۔

نپولین کے ہاتھوں جامعہ کی عمارات کو نقصان

1798 میں جب نپولین نے مصر پر قبضہ کیا تو جامعہ الازہر کا خود مشاہدہ کیا اور اپنی ذاتی ڈائری میں جامعہ کو پیرس کی یونیورسٹی کے برابر قرار دیا۔ اگرچہ جامعہ الازہر کے طلبا اور شہریوں نے فرانسیسیوں کے خلاف عسکری مزاحمت کی جس کے نتیجے میں نپولین نے جامعہ الازہر پر فوج کشی کی اور میناروں اور کچھ عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم مصر کے سلطان نے 1802 میں ازسرنو تعمیرات کی اور جامعہ کو پھر سے بحال کیا۔

جامعہ الازہر کا تعلیمی نصاب

ابتدائی طور میں جامعہ الازہر کا زیادہ تر نصاب
تھیولوجی، اسلامی قوانین، شریعہ، فقہ، حدیث، عربی گرائمر، عربی ادب، تاریخ، منطق ، فلکیات وغیرہ کے شعبوں پر مشتمل تھا۔
موجودہ وقت میں جامعہ الازہر میں 359 اکیڈمک ڈیپارٹمنٹ اپنے تعلیمی فرائض انجام دے رہے ہیں یہ اکیڈمک ڈیپارٹمنٹ 81 فیکلٹیز میں تقسیم ہیں۔ تقریبا نوے ہزار سٹوڈنٹس جامعہ الازہر سے منسلک ہیں۔

جامعہ الازہر کے جاری کردہ فتووں کی اہمیت

جامعہ الازہر کے ہاں ایک اسلامک ریسرچ اکیڈمی قائم ہے جو مصر کے ایک دوسرے ادارے دارالافتاء مصر سے منسلک ہے۔
دارالافتاء 1895 میں مصر کے سلطان نے قائم کیا تھا یہ وزارت انصاف کے ماتحت کونسل ہے۔ اس کونسل میں مصر کے مفتی اعظم ، جامعہ الازہر یونیورسٹی کے سکالرز ، وزارت مذہبی امور اور دارالافتاء کے اپنے ممبران شامل ہوتے ہیں۔
یہ کمیٹی کسی بھی مسلے پر فتویٰ جاری کرتی ہے جامعہ الازہر اس فتوی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اسلامی اور فقہ کے قوانین پر جامعہ الازہر کے موقف کا احترام کیا جاتا ہے۔ جامعہ الاز ہر کے سکالرز فتوی مکمل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
جامعہ الازہر اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے تحت بھی ایک فتویٰ کونسل قائم ہے جو دور جدید کے مسائل کے مطابق فتویٰ جاری کرتی ہے۔ مملوک دور خلافت ہو یا عثمانی دور حکومت یا پھر آج کا مصر ، ہر دور میں میں جامعہ الازہر یونیورسٹی کے فتووں کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔

جامعہ الازہر سے فیض یافتہ ممتاز شخصیات

ابن الہیثم: دنیا کا پہلا سائنس دان جنہوں نے انسانی آنکھ کا اندرونی معائنہ کیا تھا۔ آپ کی شہرہ آفاق کتاب ” المناظر” صدیوں تک یورپی نصاب کا حصہ رہی۔ آپ فزکس ، فلکیات اور حساب کے ماہر تھے۔ آپ نے ہی یہ نظریہ پیش کیا کہ ہماری آنکھوں میں ریٹنا سیلز ہیں جو ہمیں دیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ ابن الہیثم کی تھیوری آف ریفلکیشن آج بھی فزکس کا حصہ ہے۔

ابن خلدون: زندگی کے آخری سال ابن خلدون نے جامعہ الا زہر اور مملوک سلطان کے ہاں قاہرہ میں گزارے ہیں۔ تاریخی کتاب مقدمہ کے مصنف ابن خلدون نے پانچ سال جامعہ الازہر میں گزارے اور اپنی خودنوشت اور تاتاریوں پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔

سبط المردینہ: سبط ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھے ، آپ نے پچاس سے زائد مسودات فلکیات کے علم پر تخلیق کئے ہیں۔

عبدالقادر البغدادی: اپ کو دنیا کے اولین انسائیکلو پیڈیاز میں سے ایک لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ عثمانی سلطنت میں مجسٹریٹ کے منصب پر فائز تھے۔ آپ نے ترک خلاف پر شاہنامہ بھی لکھا ہے اور اس کے علاؤہ دوسری اہم کتب بھی تحریر کی ہیں۔

شہاب الدین نقشبندی: آپ نے 1412 میں چودہ جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا شائع کیا۔ یہ جغرافیہ ، سیاست ، سائنس ، سماج ، حیوانات غرض دنیا کی تمام دستیاب معلومات پر مشتمل تھا۔

ابن حجر عسقلانی: اپ فقہ ، حدیث اور تاریخ کے ماہر تھے۔ صرف حدیث پر 150 سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں۔ تفسیر فقہ شافعی اور شرعی قوانین پر بھی آپ کا کام مستند مانا جاتا ہے۔

جامعہ الازہر میں داخلہ کیسے لیں؟

سال 2023 کےلئے الازہر یونیورسٹی میں داخلے جاری ہیں۔ داخلہ لینے کےلئے ان لائن اپلائی کر کے مصر کی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی میں ایک امتحان دینا پڑتا ہے جو پچاس فیصد نمبروں کے ساتھ پاس کرنا لازمی ہے۔ امتحان پاس کرنے کی صورت میں مقرر کردہ وقت کے اندر ویزہ اور دوسرے ضروری دستاویزات داخل کرنے پڑتے ہیں جو وزارت سے منظور ہوتے ہیں ، اس کے بعد یونیورسٹی آپ کودعوتی لیٹر جاری کرتی ہے اور فیس جمع کر کے آپ مصر روانہ ہو جاتے ہیں۔ مسلم دوست ممالک کےلئے جامعہ ا لازہر مختلف اسکالرشپ بھی فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ سے آپ بآسانی ایڈمیشن پراسس کر سکتے ہیں۔

1 Comment

2 Trackbacks / Pingbacks

  1. طلباء کو زبردستی کتابیں فروخت نہ کی جائیں ،ڈائریکٹوریٹ پرائیوٹ انسٹی ٹیوشن
  2. مسلم اندلس کی تاریخ اور علمی میراث

Leave a Reply