سعودی عرب کے قدیم پراسرار دروازے

سعودی عرب کے قدیم پراسرار دروازے
سعودی عرب کے قدیم پراسرار دروازے (تحریر: نوید نقوی )

سعودی عرب کے قدیم پراسرار دروازے

نوید نقوی

آئیے اس بار مسلمانوں کے عظیم اور مقدس ملک سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی سعودی عرب کی مذہبی شناخت کے علاوہ اس کی ایک اور تاریخی حیثیت سے تعارف کروائیں گے، یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں قدم قدم پر ہزاروں سال پر محیط تاریخ بکھری پڑی ہے اسلام کی آمد سے قبل بھی یہ جزیرہ نما عرب اپنی تاریخی اہمیت رکھتا تھا اور عرب کے قبائلی معاشرے میں ان علاقوں کی سیادت تسلیم شدہ تھی۔

جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل سعودی عرب

عرب جزیرہ نما عرب کا سب سے بڑا اور طاقتور ملک ہے۔مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔

کل آبادی کے 80 فیصد نسلی عرب

سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔سعودی عرب کا موسم مجموعی طور پر شدید گرم اور خشک ہے۔موسم سرما میں بلند پہاڑی علاقوں میں کبھی کبھار برف پڑ جاتی ہے۔تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں۔ اسلام سعودی عرب کا سرکاری مذہب ہے۔ سعودی عرب کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے۔

جغرافیائی سرحدیں

شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر، بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں سلطنت عمان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے۔
یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔سعودی عرب عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت سمجھی جاتی ہے۔سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے۔ 1992ء میں اختیار کیے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے۔

آبادی اور صوبے

ملک میں کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی انتخابات ہوتے ہیں۔ ،اس کا کل رقبہ 2,149,690 مربع کلومیٹر ہےاور اس مملکت کی کل آبادی 38,401,000 نفوس پر مشتمل ہے۔
سعودی عرب کو انتظامی لحاظ سے تیرہ علاقوں یا صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہےجن کو عربی زبان میں مناطق (عربی واحد: منطقہ) کہتے ہیں۔اس کا دارالحکومت ریاض ہے جو ایک جدید اور قدیم حصے پر مشتمل ہے، کرنسی سعودی ریال کہلاتی ہے۔اس کے بڑے شہروں میں ریاض ، جدہ ، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، دمام ، تبوک ، طائف، الخرج اور نجران قابل ذکر ہیں. اس کے علاوہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان ایک جدید شہر بھی تعمیر کر رہے ہیں جو کاربن فری ہوگا اور اس کا نام نیوم رکھا گیا ہے۔

بے شک سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اور اس کی عزت و تکریم دنیا کے سب مسلمان کرتے ہیں لیکن یہاں کچھ ایسی قدیم تہذیب کے آثار بھی ملتے ہیں جس کے بارے میں مکمل معلومات آنے والے تحقیق دانوں کو حاصل ہو سکیں گی۔

آسٹریلوی ماہرین کی دریافت

آسٹریلیا کے تحقیق دان نے گوگل ارتھ کی مدد سے سعودی عرب کے صحرا میں پتھر سے تعمیر ہوئے 400 پراسرار ’دروازے‘ دریافت کیے ہیں۔ڈیوڈ کینیڈی اور ان کی ٹیم نے کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں آثار قدیمہ پر کام کیا ہےان کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنے میں ‘دروازوں’ کی مانند ہیں اور یہ ہاتھ سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اندازے کے مطابق ان ‘دروازوں’ کو دو ہزار سے نو ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ ان دروازوں کا مقصد کیا تھا اس بات کو معلوم کرنا ہے۔ان ‘دروازوں’ کا حجم بہت بڑا ہے اور ان میں سے سب سے چھوٹا بھی 43 فٹ، جب کہ سب سے بڑا 1699 فٹ چوڑا ہے۔ایک خیال ہے کہ ان دروازوں کو اس علاقے میں بسنے والے قدیم باشندے ہرنوں کے شکار کے لیے استعمال کرتے تھے۔

کینیڈی کہتے ہیں کہ ‘دروازوں’ کے علاوہ یہاں پتھر میں کٹے ہوئے انتہائی بڑے مقبرے بھی موجود ہیں جو 400 کلومیٹر شمال میں اردن کے شہر پیٹرا میں واقع سنگی شہر کی یاد دلاتے ہیں۔لائیو سائنس’ میں چھپنے والے مقالے میں کینیڈی نے لکھا ہے کہ ان تعمیرات کی تعداد اور ان کا پھیلاؤ پہلے اندازے سے کہیں زیادہ ہے، اور یہ لاکھوں کی تعداد میں سارے جزیرہ نما پر پھیلی ہوئی ہیں۔

قدیم دروازے یا دیواریں جن کی عمر 9ہزار برس ہے

ماہرین کے مطابق یہ سعودی عرب میں انسانی ہاتھوں کی بنائی قدیم ترین تعمیرات ہیں، لیکن انھیں کس مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، یہ آج تک واضح نہیں ہو سکا۔سعودی عرب کے علاقے ہرۃ خیبر میں واقع پتھر کی ان دیواروں کو ‘دروازے’ کہا جا رہا ہے کیوں کہ جب انھیں اوپر سے دیکھا جائے تو یہ دروازوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ڈیوڈ کینیڈی نے لکھا ہے کہ مقامی بدو انھیں ‘قدیم انسان کا کام’ کہتے ہیں۔ان تعمیرات کی عمر کا تخمینہ دو ہزار سال قبل سے نو ہزار سال قبل لگایا گیا ہے۔

ڈیوڈ کینیڈی ایک عرصے سے پڑوسی ملک اردن میں تحقیق کر رہے تھے لیکن انھیں سعودی عرب کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم کچھ عرصہ قبل ان کی گوگل ارتھ کی مدد سے کی جانے والی تحقیق کے بعد کینیڈی کو وہاں جانے کی اجازت مل گئی۔

پراسرار تعمیرات کس مقصد کے لئے استعمال ہوتی تھیں ؟

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں کام کرنے والے ڈیوڈ کینیڈی نے کہا ‘آپ اگر زمین پر موجود رہ کر ان کو تلاش کرتے ہیں تو ان کے آثار نہیں ملتے۔ لیکن جونہی آپ چند سو فٹ بلندی سے اس جگہ کا معائنہ کرتے ہیں تو یہ صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ڈیوڈ نے کہا کہ 40 سال سے اس خطے میں کام کرنے کے باوجود وہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں گیٹ کو دیکھ کر پہلے دنگ رہ گئے کیونکہ یہ نہایت ہی دور افتادہ علاقے میں تھا اور یہ ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں قدیم آتش فشاں واقع تھی۔ میں ان کو گیٹ کہتا ہوں کیونکہ جب اس سٹرکچر کو آپ اوپر سے دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے دو پوسٹوں کے درمیان گیٹ سیدھا پڑا ہے اور دونوں پوسٹوں کے درمیان لمبی سلاخیں ہیں۔ یہ ایسا سٹرکچر نہیں لگتا جہاں لوگ رہتے ہوں گے یا پھر جانوروں کو پکڑنے کے لیے پنجرے ہوں یا پھر لاشوں کو ٹھکانے لگانے کی جگہ ہو۔ یہ ابھی دریافت کرنا باقی ہے کہ اس جگہ کا مقصد کیا تھا۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ اس سٹرکچر کو بنانے والوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن اندازہ ہے کہ یہ آج کل کے بدوؤں کے آباؤ اجداد ہوں گے۔ اس زمانے میں وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں ہر وقت جان کا خوف رہتا تھا ۔

ڈیوڈ نے بتایا کہ ان کی یہ دریافت ایک اتفاق تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک سعودی ڈاکٹر اس علاقے کے آثار قدیمہ کے بارے میں مزید معلومات چاہتا تھا اور اس نے رابطہ کیا۔
ڈیوڈ نے بتایا سعودی ڈاکٹر نے کہا ‘میں اپنے ملک کے آثار قدیمہ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ میں نے گوگل ارتھ پر اس علاقے میں عجیب قسم کے سٹرکچر دیکھے ہیں جو آتش فشاں کے بہت قریب واقع ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی ڈاکٹر نے اس علاقے کے نقاط بھیجے اور ‘جب میں نے یہ جگہ دیکھی تو میں دنگ رہ گیا۔اب سعودی حکومت نے تحقیق دانوں کو ان دروازوں پر مزید تحقیق کی اجازت دے دی ہے اور آنے والا وقت ہی بتائے گا یہ پراسرار دروازے آج کے عرب بدوؤں کے آباؤ اجداد نے کیوں بنائے تھے اور ان کا مقصد کیا تھا، مقامی آبادی بھی مکمل معلومات نہیں رکھتی وہ بھی صرف قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور مختلف کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں۔

سعودی ولی عہد کا وژن 2030

سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کے تحت مملکت کو سیاحت اور صنعت کے لحاظ سے ڈھالا جا رہا ہے اور اس طرح کی تحقیقات کے لیے وہ خود اربوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں تاکہ تیل کی دولت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی تاریخ کو بھی روشناس کرایا جائے اور سیاحوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیئے:

افغانستان : گرین اکانومی کا مرکز

Be the first to comment

Leave a Reply