استخارہ کی حقیقت

مفتی فرحان فاروق

استخارہ ایک مسنون عمل ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس کی بہت تاکید فرمائی ہے ،لیکن آجکل استخارہ کے بارے میں لوگوں کی سوچ اور نظریہ وہ نہیں رہا جو کہ احادیث اور اسلاف سے ثابت ہے بلکہ اس میں طرح طرح کی عملی اور نظریاتی تبدیلیاں پیدا ہوگئی ہیں ،اس مضمون میں اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ احادیث کی روشنی میں استخارہ کی حقیقت اور اس کے اہم پہلوؤں کو واضح کیا جائے ۔

استخارہ کی اہمیت

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے ،جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔۔۔الحدیث ،( بخاری ترمذی اور ابوداؤد)

قرآن کی سورت کی طرح سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو اپنی عام زندگی میں استخارہ کی ضرورت اسی طرح ہے کہ جس طرح نماز پڑھنے کیلئے ایک مسلمان کو قرآن کی سورتیں سیکھنے کی ضرورت ہے ۔(شرح ابن بطال )چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ چیز جو صحابہ قرآن کی طرح سیکھتے تھے ،وہ استخارہ کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔(العرف الشذی )

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘جو شخص استخارہ کرتا ہے ،وہ ناکام نہیں ہوتا ،اور جو مشورہ کرتا ہے وہ شرمندہ نہیں ہوتا ،اور جو میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ فقیر نہیں ہوتا ’’۔(مجمع الزوائد)

حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :‘‘انسان کی سعادت اور خوش بختی میں سے ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے استخارہ کرے ’’(غایۃ المقاصد ،اتحاف )اور ایک روایت میں اس کا اضافہ بھی ہے کہ : ‘‘انسان کی ایک بدبختی یہ ہے کہ اللہ سے خیر طلب نہ کرے ’’(حاکم )

استخارہ کا مطلب اور ایک غلط فہمی

استخارہ کا مطلب ہے اللہ تعا لیٰ سے خیر طلب کرنا ،خیر کی دعا مانگنا،لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ استخارہ عملیات کی طرح کی کوئی چیز ہے،کہ جس طرح دیگرضروریات کیلئے لوگ عملیا ت کرتے کراتے ہیں اسی طرح ایک عمل استخارہ بھی ہے ، حالانکہ استخارہ در حقیقت دعاء ہے ،جس طرح انسان اللہ تعالیٰ سے اپنی آخرت اور دنیا کی ضرورتیں مانگتا ہے ،بالکل اسی طرح کوئی کام انسان کرنے جارہا ہو اور اس کے کرنے یا نہ کرنے میں اس کو تردد ہو یا تردد نہ بھی ہو ،تواس میں اللہ تعالیٰ سے خیر مانگنا، اور یہ دعاء کرنا کہ اے اللہ اگر یہ کام میرے حق میں بہتر ہے تو مجھ سے یہ کام کروالے اور اسے میرے حق میں بہتر اور برکت والا بنادے ،اور اگر میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو اس کام کو مجھ سے ٹال دے،یہ دعاء مانگنا ہی استخارہ ہے ،اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ، ہاں! اس کا ایک سنت طریقہ ہے جو حدیث میں آیا ہے اور کچھ آداب ہیں جو محدثین نے بیان کیئے ہیں ،جن کا اہتما م کرتے ہوئے اس دعاء کو مانگا جائے ،تواسی کو استخارہ کا عمل کہا جاتا ہے ۔
رسول اللہ نے استخارہ کس طرح سکھا یا ہے ۔

استخارہ حدیث کی رو سے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے ،جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے ،اور فرماتے تھے کہ جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرو تو دو رکعت نفل پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ سے دعاء کرو (دعا کے الفاظ آگے آرہے ہیں) ۔اب اس حدیث میں جو کہ استخارہ کی اصل بنیاد ہے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو باتیں ارشاد فرمائی ہیں ،ایک تو یہ کہ دو رکعت نفل پڑھو ،اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ سے دعاء کرو ،اور پھر دعاء کے الفاظ سکھادیئے ۔اس حدیث میں نہ کسی وقت کی قید ہے اور نہ اس بات کا ذکر ہے کہ رات کو کیا جائے ،اور نہ کسی طرح کے خواب یا اشارہ ملنے کا ذکر ہے ۔

استخارہ کا وقت

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استخارہ کا کوئی وقت مقرر نہیں ،دن میں بھی استخارہ ہوسکتا ہے اور رات میں بھی استخارہ ہوسکتا ہے ،اسی طرح کوئی دن بھی خاص نہیں ہے ،بلکہ جس وقت بھی ضرورت پڑے استخارہ کیا جاسکتا ہے(فتح الباری لابن رجب) البتہ جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے یا منع ہے ان میں استخارہ کی نماز بھی پڑھنا منع ہے۔(عمدۃالقاری)

عام طور پر رات کوسونے سے پہلے جو استخارہ کرنے کا کہاجاتا ہے وہ اسوجہ سے وہ وقت سکون کا ہوتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا آسان ہوتا ہے ۔
مسنون استخارہ بہت آسان ہے
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسنون استخارہ بہت آسان ہے ،اس میں کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ،کوئی وقت مقرر نہیں،کوئی تعداد مقرر نہیں،بلکہ اسے انسان اپنے ہر چھوٹے بڑے کام میں اپنا سکتا ہے ،اور اپنانا چاہیئے ۔

استخارہ کن امور میں ہوتا ہے

جو کام کرنا شرعاً ضروری ہے ان میں استخارہ نہیں کیونکہ ان میں خیر ہی خیر ہے ،اور جو شرعاً ممنوع ہے اس کے کرنے کیلئے بھی استخارہ نہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی شر ہے ،البتہ جو کام شرعی طور پر ضروری نہیں منع بھی نہیں ، ایسے کاموں میں استخارہ کرنا مسنون ہے ،اور ایسے کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے،ان تمام کاموں میں استخارہ کیاجاسکتا ہے ،عام طور پر لوگوں کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ صرف زندگی کے بڑے بڑے کاموں میں استخارہ ہوتا ہے ،یہ بات تو ٹھیک ہے کہ کم از کم بڑے اہم کاموں میں استخارہ کرنا چاہیئے ،بالخصوص نکاح کے معاملہ میں کہ ایک روایت میں خاص طور پر نکاح کے معاملہ میں استخارہ کاذکر ہے ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیگر کاموں میں استخارہ مسنون نہیں ،بلکہ ہر کام میں استخارہ کرناچاہیئے ۔ اسی طرح جو کام شرعاً ضروری ہیں ان کے کرنے یا نہ کرنے میں تو استخارہ نہیں ہے لیکن ان کس طرح کرنا ہے یا کس وقت کرنا ہے اس کے بارے استخارہ کیا جاسکتا ہے ،مثلاً حج کے سفر کیلئے استخارہ کرنا کہ کس طرح سفر کیا جائے ،یا زکوٰۃ کے بارے میں استخارہ کرنا کہ فلاں شخص کو دوں یا نہیں ،یا قربانی کیلئے استخارہ کرنا کہ کونسا جانور ذبح کروں ،اس طرح کے امور میں استخارہ کیاجاسکتا ہے ۔
اسی طرح ثواب کے جو مختلف کام ہیں ان میں اس بات کیلئے استخارہ کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کونساعمل اختیار کیا جائے، (شرح الاربعین للنووی)

استخارہ کب تک کرے

یہ بات گزرگئی کہ استخارہ بعد خواب آنا یا کسی اشارہ کاملنا ضروری نہیں،حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے ،لہٰذا استخارہ کرنے کے بعد کسی خواب یا اشارہ کے انتظار نہیں کرناچاہیئے بلکہ جس صورت پر دل مطمئن ہوجائے اس کو اختیار کرلے ، البتہ اگر کسی بات پر دل مطمئن نہیں ہورہا ہو تو بار بار استخارہ کرتا رہے ،ایک روایت میں سات مرتبہ تک استخارہ کرنے بھی ذکر ہے (مرقاۃ) استخارۃ کا طریقہ
وضوء کرکے دو رکعت استخارہ کی نیت سے پڑھیں،اس میں کوئی خاص سورت متعین نہیں ،البتہ مستحب یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھ لیں ، اور استخارہ کی مناسبت سے یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون کے بعدسورۃ القصص کی یہ آیات تلاوت کریں وربک یخلق ما یشاء ویختار ما کان لہم الخیرۃ سبحان اللہ وتعالی عما یشرکون وربک یعلم ما تکن صدورہم وما یعلنوناور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص کے بعد سورۃ الاحزاب کی یہ آیت تلاوت کریں وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ إذا قضی اللہ ورسولہ أمرا أن یکون لہم الخیرۃ من أمرہہم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا(فتح الباری)پھرنماز پڑھنے کے بعد دعاء کریں اس طرح کہ پہلے اللہ کی حمد و ثناء کریں (بیہقی )پھر یہ دعاء پڑھیں:

‘ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاقْدِرْهُ لِیْ ، وَ یَسِّرْهُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِهٖ ۔”

استخارۃ خود کرنا سنت ہے

احادیث کی روشنی میں معلوم ہوا کہ استخارہ ایک دعاء ہے ،لہٰذا انسان جس طرح اپنے لیئے خود دعائیں مانگتا ہے اسی طرح اسے استخارہ بھی خود کرنا چاہیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھایا ہے ،اور بہتر عمل وہی ہے جو سنت کے مطابق ہو ۔البتہ جیسے اللہ کے مقبولین بندوں سے دعاء کروائی جاتی ہے ،اس طرح اپنے لیئے ان سے استخارہ بھی کروا لیا جائے کہ یہ اللہ کے نیک بندے ہیں یہ میرے لیئے اللہ سے خیر طلب کرلیں اور اللہ تعالیٰ ان کے دل میں جو بات ڈالدیں اس میں میرے لیئے خیر ہوجائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔لیکن خود استخارہ نہ کرنا بلکہ صرف دوسروں سے کروانا ،یہ سنت طریقہ کے مطابق نہیں ۔

آجکل لوگ عاملوں کے ذریعہ استخارہ کرواتے ہیں اور اس کو استخارہ نکلوانا کہتے ہیں ، جیسے کہ فال نکلوائی جاتی ہے ،یہ نظریہ بالکل غلط ہے یہ فال کی طرح کی کوئی چیز نہیں یہ ایک دعاء ہے ،اسی طرح آجکل غیر مسلم عامل بھی استخارہ کرکے دیتے ہیں ،حالانکہ غیر مسلم سے استخارہ کروانا درست نہیں ہے ۔

مختصر استخارہ

اگر کوئی کام ایسا آگیا ہے کہ جسے فوری طور پر انجام دینا ہے ،اور نماز پڑھنے اور لمبی دعاء پڑھنے کا وقت نہیں تو یہ دعاء پڑ ھ لے ۔ اللہم خر لی واختر لی ولا تکلنی إلی اختیاری (مرقاۃ )

استخارہ  کے ساتھ مشورہ اور غور و فکر کا اہتمام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نصیحت کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اپنے امور میں تدبر اختیار کرو ،اگر اس کا انجام اچھا سمجھ آئے تو اسے کر گزرو،اگر اس کا انجام باعث ندامت ہوتو اس سے رک جاؤ۔مصنف عبد الرزاق میں اس حدیث کو استخارہ کے بیان میں ذکر کیا ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استخارہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے فہم وفرست کو استعمال کرتے ہوئے اس کام کے نتائج اور انجام پر غور بھی کرنا چاہیئے ۔نیزاس کام کے بارے میں سمجھدار اور اہل محبت حضرات سے مشورہ بھی کرنا چاہیئے ،چنانچہ احادیث میں مشورہ کی ترغیب مستقل طور پر واردہوئی ہے ۔

نکاح کیلئے استخارہ کی دعاء

اللہم إنک تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغیوب فإن رأیت لی فلانہ(فلانہ کی ج

 جس کا رشتہ آیا ہے اس کانام لے ) خیرا لی فی دینی ودنیای وآخرتی فاقدرہا لی وإن کان غیرہا خیرا لی فی دینی ودنیای وآخرتی فاقدرہا لی۔(بیہقی شریف)(اور اگر لڑکی پڑھے تو خط کشیدہ الفاظ یوں کہے : فاقدرہ لی وإن کان غیرہ خیرا لی فی دینی ودنیای وآخرتی فاقدرہ لی)

 

اچھے استاد کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟

1 Trackback / Pingback

  1. امت مسلمہ کی اصل ضرورت - EduTarbiyah.com

Leave a Reply