بلوغت کے دوران بچوں کی تربیت کے مسائل کا حل

بلوغت کے دوران مسائل
Teenage parenting

بچوں کی تربیت بذات خود دنیا کا مشکل ترین اور صبر آزما کام ہے۔ جس کے لئے والدین کو نہایت صبروتحمل، حکمت ودانائی، علم نافع  اورمزاج موزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن  بچے اپنے بچپن سے جب ٹین ایج یا بلوغت کے ایام میں داخل ہوجاتے ہیں ۔تو ان کی تربیت کے مسائل میں نہ صرف اضافہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ  دورحاضر میں توان مسائل کی نوعیت ہی بدل کررہ جاتی ہے۔ آج سے ڈیڑھ دوسوسال پہلے انسانی شخصیت کی نشوونما کے تین بنیادی مراحل سمجھے جاتے  تھے۔بچپن، جوانی اوربڑھاپا ۔

  یعنی بچہ جنسی طور پرجب بلوغت کو پہنچتا یا اس کی عمر کے پندرہ سال پورے ہوجاتے  تو اس کو  جوان اور باشعور فرد تصور کیا جاتا تھا۔بلوغت کے ساتھ ہی ا س سے ایک با شعورانسان کے رویوں کی توقع رکھی جاتی تھی ۔ دین اسلام نے بھی ایسا ہی کیا کہ جنسی طور پر بالغ ہونے والے فرد کو ذمہ  دارشخص تصور کیا۔ اور اس پر عبادات  کے علاوہ دیگر تمام دینی فرائض  واجبات کو لازم قراردیا۔

اپنے بچوں سے اچھی توقع ہی رکھیے۔

یہ نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان کے بارے میں جوتصور قائم کیا جائے یا جو توقعات اس سے وابستہ کی جائیں۔ وہ ان پر پورا اترنے کی کوشش کرتا ہے، بلکہ  وہ ان توقعات پر پورا اترکر بھی  دکھاتاہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ہمیں ملتی ہیں، کہ ٹین ایج کے دوران ہی انہوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دئیے۔ مثلا محمدبن قاسمؒ کے بارے میں یہ بات تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ جب وہ لاکھوں کی تعداد میں لشکرکی قیادت کرتے ہوئے ایک سپہ سالار کے طور پر سندھ فتح کرنے آرہے تھے ،اس وقت ان کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ یعنی وہ آج کی اصطلاح کے مطابق ایک  ٹین ایجرتھے۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص اور فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ پر ان کے ساتھ سوار تھے۔ ان کی پیدائش ہجرت سے سات سال پہلے  مکہ میں ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں جو آخری سریہ (فوجی دستہ) کفار کے خلاف لڑنے کے لئے روانہ فرمایا ۔اس لشکر کے سپہ سالار حضر ت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سپہ سالار بنایا اس وقت ان کی عمر بھی سترہ سال تھی یعنی وہ بھی ایک ٹین ایجر تھے۔

ایسی بے شمار مثالیں ہمیں تاریخ کے اوراق سے مل سکتی  ہیں۔یہاں ان دومثالوں سےصرف اتنا بتانامقصود ہے۔ کہ کسی انسان کو بالغ اور میچیور تصور کرکے جب اس پر ذمہ داریاں دالی جاتی ہیں۔ اور اس سے اس کی توقع بھی رکھی جاتی ہے۔ تو  وہ نفسیاتی طورپر اپنے آپ کو نہ صرف اس  کے قابل سمجھتا ہےبلکہ اس توقع   پرپورا اترنے کی وہ پوری کوشش بھی کرتاہے۔ لیکن جب ہم اسےبچہ ، کم شعور والا   اور ٹین ایجرتصورکرتے ہیں تو وہ بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔

ٹین ایج کی اصطلاح جب متعارف ہوئی۔

اس نفسیاتی اصول کو ذہن میں رکھ کر سوچئے،جب سے نفسیات کے مضمون میں  بچپن اور جوانی کے درمیان ٹین ایج کی اصطلاح داخل ہوئی۔ تب سے واقعی انسانوں کی ایک  ایسی کیٹیگری بھی وجود میں آئی  ،جو نہ مکمل طور پر بچوں سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی  وہ پورے طورپر باشعور،بالغ افراد سے تعلق رکھتی ہے۔ چنانچہ تیرہ سے انیس سال کی  عمرکے اس دورانیے کوجدید اصطلاح میں ٹین ایج یا اردومیں عنفوان شباب کا دورکہا جاسکتاہے۔بہرحال ہم یہاں پرفی الحال ٹین ایجرز کو بچوں  کی ایک ایڈوانس کیٹیگری  شمارکررہے ہیں۔  

علم نفسیات کے ماہرین نے دوران بلوغت  یا ٹین ایجر بچوں پر کافی ریسرچ کی ہیں۔ اور ثابت کیا ہے کہ اس عمر کے بچوں کے جذبات میں بہت زیادہ ہیجان اور طلاطم رہتا ہے۔عمر کے اس دور میں بچوں پر جذبات کا شدید دباواور غلبہ رہتا ہے ۔جبکہ جذبات کو کنٹرول کرنے والے عقلی اور شعور ی سنسز ابھی مکمل طورپر موثراور متحرک نہیں ہوچکےہوتے ۔جس کی وجہ سے اس عمر کے بچے عقل وشعور سے زیادہ جذبات کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔

اس دوران چونکہ بچوں کے جنسی غدود متحرک ہونے کی وجہ سے بچے مختلف جنسی اور جذباتی تبدیلیوں سے گزررہے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ نہ تو کمسن بچوں کی طرح اپنے والدین کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اور نہ ہی باشعور افراد کی طرح اپنے رویوں پر خودمکمل  کنٹرول کرپاتے ہیں۔ چنانچہ یہ دورتربیت کرنے والے والدین، اساتذہ اور خودان بچوں کے لئےبھی  آزمائش کا دور ہوتاہے۔

:ٹین ایج کی چند علامات

اس دوران بچے خاص کرلڑکے والدین سے ذرا دور  جبکہ دوستوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں بلکہ ہروقت دوستوں میں رہنا ان کا پسندید مشغلہ بن جاتا ہے۔ان کے رویوں میں روکھاپن زیادہ ہوتاہے۔ ان میں ضداور ہٹ دھرمی بھی  پیداہوجاتی ہے۔وہ اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔  او ربسااوقات وہ  اپنے والدین اور اساتذہ کی بات بھی ماننے کو تیارنہیں ہوتے ۔ وہ جھگڑالو اور غصے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اور اکثر اپنی انا کی تسکین میں لگے  رہتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم پہلے  ٹین ایجر بچوں کے چندمسائل بیان کریں گے جو عموما ٹین ایج یا بلوغت کے دوران ہی پیش آتے ہیں۔ اس کے بعد ان مسائل سے اچھے طریقے سے نمٹنے کے طریقے بھی بتائیں گے۔ان شااللہ

:ٹین ایج  بچوں کے مسائل

جس طرح ٹین ایجربچے اپنی عمر کے اس مرحلے میں آئندہ آنے والی بلوغت کی زندگی کے بارے میں سیکھنا اور خودانحصاری کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح والدین اور اساتذہ کو بھی اپنےٹین ایجربچوں کی موثر پیرنٹنگ اور تربیت کے حوالے  سے  بہت کچھ  نیاسیکھنے کی ضرورت  ہوتی  ہے۔اس عمرمیں اگرچہ  بچے بظاہر اپنے والدین سے ذرا دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور اپنے ہم عمر بچوں کے زیادہ قریب نظرآتےہیں جوایک فطری امر ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس دوران ان بچوں کو متحرک، پرجوش اور باخبر والدین کی نہایت ضرورت ہوتی ہے۔ ٹین ایج کے دوران  والدین کی بھرپور محبت وشفقت اور ہمدردی کا اظہار ہی بچوں کی اچھی تربیت کی بنیاد  ہوتی ہے۔چاہے بچے جس طرح کے رویے کابھی اظہار کرتے ہوں۔ ذیل میں ٹین ایجربچوں کے چند مسائل ملاحظہ کیجئے۔

 :سیلف اسٹیم کی کمی یا زیادتی کا مسئلہ

سیلف اسٹیم کی کمی یا زیادتی دونوں بچے کی نفسیات کے لئے نقصان دہ ہیں۔سیلف اسٹیم  کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو کتنا قابل قدر ، قابل اعتباریا قیمتی سمجھتا ہے ۔ یعنی اس کی ذات اس کی اپنی نظر میں کتنی اہم ہے؟ کہیں وہ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر تو نہیں سمجھتا جس کے نتیجے میں وہ اپنی ذات اور اپنے کاموں یا فیصلوں کو غیر اہم سمجھنے لگے۔ تصور ذات کی بنیادپر انسان میں خوداعتمادی آتی ہے۔ جوایک کامیاب زندگی کی بنیادہوتی  ہے۔

بچے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں سلیف اسٹیم کا لیول متوازن ہو۔ اگر مطلوبہ مقدار سے کم ہے تو اس کانقصان یہ  ہے کہ وہ زندگی  کے فیصلوں میں پر اعتماد نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنی ذات ، اپنے کاموں ، اپنی صلاحیتوں کو دوسرے لوگوں سے کمتر تصور کرے گا۔ جس کی وجہ سے وہ لوگوں سے ملنا جلنا، آزادانہ فیصلے کرنا اور اپنے اختیار کو استعمال کرنے کی جرات سے محروم ہوگا۔ اس کا نقصان یہ بھی ہوگا کہ وہ زندگی میں مقاصد اور اہداف نہیں بناسکے گا ۔اور نہ  ہی کسی مقصد کو حاصل کرنے  کی جرات اور کوشش اپنے اندرپائے گا۔

سیلف اسٹیم کی کمی کی وجہ 

سیلف اسٹیم یا تصور ذات کی کمی کا تعلق انسا ن کے بچپن سے ہوتا ہے۔ کہ جس ماحول میں اس کی پرورش ہوئی ہے اگر اس میں تنقید اور ہر کام میں کیڑے نکالنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہو۔ تو وہ بچے سیلف اسٹیم اور تصور ذات سے محروم ہوکر  زندگی کے بڑے مقاصد کی طرف بڑھنے سے بھی رک جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بچے کو ابتدا میں ہی اگر ایسا ماحول ملا ہوجس میں حوصلہ افزائی اور تعریف کی روایت عام رہی ہو۔تو بچہ کی سیلف اسٹیم ہائی ہوجاتی ہے ۔یہ بچہ بعد کی زندگی میں خوداعتماد ہو جاتا ہے۔ اور زندگی کے مسائل کو آسانی سے حل کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔   

ٹین ایج کے دوران بچوں میں سلیف اسٹیم کی کمی یا زیادتی کا مسئلہ عام ہے۔ زیادہ تربچے اس کی کمی شکار رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سستی ،کاہلی اور بے مقصدیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی مقصدی ہدف واضح نہیں ہوتا ۔اگر ہدف بنابھی دیں سلیف اسٹیم کی کمی کی وجہ سے اس طرف موٹیویٹ نہیں ہوپاتے۔ اور بعض بچے سلیف اسٹیم میں بے تحاشااضافے کی وجہ سے غیر ضروری ایکشن اور ریکشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان میں انا ، اکھڑپن اور ضدی مزاج پیداہوجاتاہے ۔ لہذاوالدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سلیف اسٹیم میں توازن پیداکرنے کی کوشش کریں۔

 :اسٹریس اور ڈپریشن

دوران بلوغت بچے تعلیمی ذمہ داریوں کے بوجھ، جنسی طور پر ہونے والی تبدیلیوں، ہم جھولیوں کے دباواور جنس مخالف کی طرف میلان یادیگر  وجوہات سے  ڈپریشن کا شکارہوجاتے ہیں۔اس اسٹریس کی وجہ سے وہ شدید غصے اور چڑچڑے پن کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ اس دوران وہ الگ تھلک رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور اسٹریس سے نکلنے کے لئے وہ اسکرین او رسوشل میڈیا کو بہت زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں۔  جس سے ان کے مزاج کی تندی میں مزید اضافہ ہونےلگتا ہے۔

اس دوران والدین کو بہت زیادہ صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ  اس دوران بچے والدین کو نظرانداز کرکے دوستوں کے ساتھ یا  الگ تھلک رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ایک عارضی دورانیہ ہوتا ہے جس میں والدین کے لئے ضروری ہے۔ کہ وہ اپنے بچوں کی ان کیفیات کو نہ صرف برداشت کریں، بلکہ ان کا ہاتھ تھام کررکھیں۔ ان سے اچھے تعلقات بناکررکھیں۔ ان سے گفتگو کریں اور ان کے مسائل کو زیادہ سے زیادہ سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس دوران والدین  کو سمجھانے کا کام بہت کم اور اپنے بچوں کے مسائل اور پریشانیوں کو سمجھنے کا کام بہت زیادہ کرنا چاہیے۔ان بچوں سے مکالمہ اور گفتگو زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔تاکہ ان سے تعلقات اچھے ہوں اور مکالمہ کے ذریعے تفریح وتفنن کے علاوہ ہر ضروری بات بھی زیر بحث آسکے اور ان کو سمجھایا بھی جاسکے۔

ان بچوں کے ڈپریشن  کی وجوہات کو تہہ تک پہنچ کر سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔بالغ ہوتے اور جنسی نظام  میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ جن پریشانیوں یا مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ ان میں والدین کو نہ صرف ان  کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ بلکہ مناسب انداز میں ان سے گفتگو کرکے ان مسائل کا حل بھی ان کو بتادینا چاہیے۔ اگروالدین یہ کام خود نہیں کریں گے تو وہ اپنے ہم جھولیوں اور دوستوں  سے اس حوالے سے معلومات لینا شروع کریں گے۔ جس سے کسی بڑی غلطی میں پڑنے کا امکان ہوسکتا ہے۔

 :تعلیمی مسائل

ٹین ایج  میں بعض بچے تعلیمی  مسائل کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔ مثلا اسکول کی تعلیم اچھی خاصی ہورہی ہوتی ہے۔ جیسے ہی بچے  ٹین میں بچے دا خل ہوتے ہیں تو اکثر تعلیم میں عدم دلچسپی  کا شکار ہوجاتے ہیں۔اول اسکول جانا نہیں چاہتے اگر چلے بھی جائیں تو پڑھائی پر دھیان نہیں دے پاتے۔  جس سے آہستہ آہستہ ان کی تعلیمی کارکردگی کا گراف نیجے گرجاتا ہے ۔اس صورت حال  سے والدین اور اساتذہ انتہائی پریشان ہوجاتے ہیںَ ۔ اچانک اسکول سے عدم دلچسپی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں۔

مثلااے ڈی ایچ ڈی کا شکار ہونا جس میں بچے کی سیکھنے اور یادداشت کی صلاحیت بہت کمزور ہو جاتی ہے۔ سماجی پریشانیوں کا سامناکرنا ،یعنی کسی کی ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے وہ بے عزتی محسوس کرتا ہے۔ یا ہم جھولی لڑکے اسے کم عقل اور بے وقوف سمجھ رہے ہوتے ہیں۔یا کسی کی طرف سے بہت زیادہ اس کی نگرانی کی جارہی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اسکول جانے سے کتراتا ہے اور پڑھائی چھوڑدیتاہے۔ اس کی ایک وجہ دماغی عدم صحت، دماغی کمزوری یا دوستوں کا دباو اور کسی کلاس فیلو کی بدمعاشی بھی ہوسکتی ہے۔ بہرحال اکیڈمک مسائل کو سوچ سمجھ کر حل کرنا چاہیے محض دباو یا لالچ سے مسئلے کا حل  ممکن نہیں۔ بلکہ اس کے پیچھے جو بھی محرکات ہوں ان کوشناخت کرکے ان کو حل کرنا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ تاکہ ٹین ایجر بچوں کے تعلیمی مسائل حل ہوسکیں۔  

اسکرین اور سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال

نئی نسل اور خاص کر ٹین ایجرز کا یہ بڑااہم مسئلہ ہے کہ وہ اسکرین ایڈکشن یا اسکرین کی لت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ایک ریسرچ کے مطابق نئی نسل کے لوگ اوسطا دن میں دس گھنٹے  موبائل اسکرین سے چپک کررہتے ہیں۔اور اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر بتاتے ہیں، جس میں ویڈیوز او ر تصاویر شیئر کرنا اور ایک دوسرے کی چیزوں پر کمنٹس دینا ان کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا میں ہرطرح کا موادموجود ہوتا ہےجو زیادہ تر بچوں کی نفسیات ، جذبات  اور اخلاقی ومذہبی اقدار پر برے اثرات مرتب کرتاہے۔

اوراگر مواد خراب نہ بھی ہو تب بھی اسکرین ایڈکشن کی وجہ سے بچے بدمزاجی اور چڑچڑے پن کا شکار ہوہی جاتے ہیں۔جو جذباتی عدم توازن کی علامت ہے۔  اوریہی اسکرین ہے جس کی وجہ سے بچوں کا رجحان اپنی تعلیم وتربیت کی طرف  سے بالکل ہٹ جاتاہے۔ ان کو دنیا کے کسی مثبت کام میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔نہ کھانا ٹائم پر نہ نیند وقت پر اور نہ جسمانی ورزش ۔ بس ان بچوں کا ایک ہی کام ہوتا ہے کہ وہ  موبائل ، واٹس ایپ،انسٹاگرام، ٹوئٹر ،فیس بک پر   مختلف گیمز کھیلتے ہوئے اپنا سارا وقت صرف کرتے ہیں۔

اس حوالے سے والدین کے لئے ضروری ہے کہ گھر میں موبائل کے استعمال کا کوئی ٹائم ٹیبل مقررکردیں۔ کوئی پالیسی بنائیں اور یہ ٹائم ٹیبل بچوں کی رائے سے ترتیب دیں تاکہ بچوں سے عمل کروانا آسان بھی  ہو۔ اور یہ بھی طے ہو کہ بچے مقررہ وقت میں کہاں بیٹھیں گے اور کونسی ایپلی کیشن استعمال کریں گے؟ اگر چہ یہ  عمل مشکل  ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔  بلکہ والدین کے عز م مصمم سے اس پر عمل کروانا اور اسکرین ایڈکشن کوروکنا آسان ہوجاتا ہے۔ بے شمار ذمہ دار والدین اپنے بچوں کے لئے اسکرین پالیسی بناکر کامیابی سے اس پر عمل درآمد کروارہے ہیں۔بس اس کے لئے ہمت اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔

: نشہ آور چیزوں کے استعمال کا رجحان

جدید نسل میں نشہ آور چیزوں کےاستعمال کا رجحان بھی کافی بڑھتا جارہا ہے۔ مثلا شراب ،چرس،افیم، شیشہ، تمباکو،  سیگریٹ نوشی اور پاوڈر وغیرہ کا استعمال روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ان چیزوں کا استعمال خاص کر ایلیٹ طبقے کے بچوں میں بہت زیادہ ہے۔ نسوار ،پان، بیڑی اور مین پوری وغیرہ تو الا ماشااللہ ہر بچہ استعمال کررہا ہوتاہے۔ان نشہ آور چیزوں کے استعمال کا جو نقصان ہے وہ سب جانتے  ہیں لیکن ان نشہ آورچیزوں کے سپلائرز گروپ  کی طرف سےبچوں کی  جو بلیک میلنگ ہوتی ہے اس کا نقصان الگ ہے۔بہرحال  ڈرگز استعمال کی شروعات تو ٹین ایج سے ہی ہوتی ہے۔ اور والدین یا سرپرست حضرات وقت پر توجہ نہ دیں تویہ زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے۔

اس حوالے سے والدین کو چاہیے کہ خصوصا اس ایج میں اپنے بچوں کے دوست بن جائیں۔ اور ان کی ہرسرگرمی میں شریک ہونے کی کوشش کریں  ان سے خوب گفتگو کریں۔ اس عمر میں والدین ہونے کا اسٹیٹس ذراکم رکھیں دوست ہونے کا تاثر زیادہ ہو۔ تاکہ ان کو باہر سے دوستوں کی زیادہ ضرورت نہ ہو۔ اور وہ ہر بات آپ سے شئیر کرنے پر آمادہ ہوں۔ اور دوسری بات یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے  کہ ان بچوں کو پیسے دیتے ہوئے بہت زیادہ احتیاط سے کام لیناچاہیے۔

:ہم عمربچوں کا دباو اور مقابلہ بازی کا رجحان

ٹین ایج بچوں کے لئے یہ بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ کہ جب ہم رتبہ اور ہم عمر بچوں میں مقابلہ بازی کا  رجحان شروع ہوجائے۔مقابلہ بازی کا یہ رجحان پرائمری اسکول کے فورا بعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ جب بچے دوست بنانا اور دوستوں میں اپنا مقام پیداکرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ہم مرتبہ بچوں میں یہ مقابلہ بازی دوست بنانے، تعلیمی کارکردگی ، اچھے گریڈز کے حصول، کھیلوں اور جسمانی کرتب  دکھانے کے علاوہ سوشل اسٹیٹس ظاہرکرنے، مختلف گیجٹس اور برینڈز کے استعمال کرنے میں بھی ہوتا ہے۔یوں ان ہم مرتبہ بچوں میں ایک دوسرے کو دیکھ کرمختلف چیزوں میں مقابلہ بازی کا رجحان بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بچے شدید پریشرکا شکار ہوجاتے ہیں۔

ہم رتبہ بچوں میں مقابلے کا یہ دباو کئی قسم کا ہوتا ہے۔ بعض اوقات براہ راست الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے۔ مثلا دو بچے اوپر ذکرکردہ کسی بھی چیز میں مقابلے  کے لئے آمنے سامنے آجاتے ہیں۔  مقابلہ بازی کا یہ  طریقہ براہ راست اور شدید ہوتاہے۔ بعض  اوقات  بچوں کے دو گروپوں کا آپس میں مقابلے کا رجحان پیداہوجاتا ہے۔ اور ان میں کشیدگی شروع ہوجاتی ہے۔  مقابلے کا یہ رجحان بعض اوقات مثبت بھی ہوسکتا ہے مثلا دوبچے یا دو گروپ اچھی تعلیمی کارکردگی یا اچھے نمبروں کے حصول کے لئے باہم مقابلہ کریں۔ اور بعض اوقات یہ منفی ہوسکتا ہے مثلابرینڈز ، گیجٹس یا دیگر منفی سرگرمیوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں لگیں۔

نیز ہم مرتبہ بچوں کا یہ دباو رنگ ونسل میں فرق ، زبان وتمدن کے امتیاز، جسمانی خدوخال کے فرق کے علاوہ مذہب ومسلک کے الگ ہونے سے بھی ہوسکتا ہے ۔نیزکسی جسمانی عارضے یا کمزوری کی وجہ سے بھی یہ دباو آسکتا ہے۔کہ ان چیزوں میں فرق ہونے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بچے پر دوسروں کی طرف سے دباو بڑھ سکتا ہے۔

:ہم جھولیوں کے پریشر سے بچے کو کیسے محفوظ بنائیں

ہم جھولیوں کا پریشر فطری ہے۔ جس کا سامنا ٹین ایج میں اور اس سے آگے پیچھے تقریبا ہر بچہ کو  کرناپڑتا ہے۔ اس کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ پہلے بچے کے اس پریشرکو خود محسوس کریں۔ اپنے بچے سے دوستی کریں اس سے بات چیت کریں اور اس پریشر کو بات چیت کے موضوع میں شامل کریں۔ اس کیفیت  سے بچانے کے لئے والدین اپنے بچوں میں خوداعتمادی پیداکریں ۔ اپنے بچے کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ وہ احساس کمتری کاشکار ہرگز نہ ہو۔

بچہ جس پوزیشن میں بھی ہو اس کے بہتر ہونے کی وجوہات بچے کو بتائیں۔ اور بچے کو یہ تلقین کریں کہ وہ خوداعتمادی کے ساتھ اپنی پوزیشن کو برقرار رکھیں۔  جس بچے میں خوداعتمادی ہو اور اس کا سلیف اسٹیم ہائی ہو وہ کبھی بھی اس پریشر سے متاثر نہیں ہوگا۔

ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ دوران بلوغت (ٹین ایج) کے جتنے مسائل ہم نے اوپر ذکر کئے ہیں وہ سب تقریبا اس مسئلے یعنی ہم جھولیوں کے پریشر والے مسئلے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ مثلااسی پریشر کے نتیجے میں بچے غلط کاموں کے عادی ہوجاتے ہیں۔ وہ نشہ کرنے لگتے ہیں۔جنسی بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔بغاوت پر اتر آتے ہیں اور ان کی تعلیم میں حرج بھی اسی پریشر کی وجہ سے آتا ہے۔ اور تقریبا یہی پریشر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اسٹریس اور ڈپریشن کا شکارہوجاتے ہیں۔ اور بعض اوقات وہ خودکشی کرنے پر آمادہ بھی ہوجاتے ہیں۔ لہذا والدین کو یہ مسئلہ بڑی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔  اس کو قطعا ہلکا نہیں سمجھناچاہیے۔

  :عبادات اور دینی فرائض میں کوتاہی

یہ بہت اہم مسئلہ  ہے کہ بلوغت کی عمر یعنی ٹین ایج تک پہنچتے پہنچتے بچے دینی مراسم اور عبادات میں کوتاہی اور سستی کرنے لگتے ہیں۔ ورنہ عام مشاہدہ ہے کہ  بچے بچپن میں بڑے شوق سے خود ہی مسجد جاتے ہیں  ۔ والدین سے چھین کر مصلی بچھانے اور نماز پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچپن میں قرآن کریم بھی شوق سے  پڑھتے ہیں ۔دیگر عبادات کو بھی بڑے شوق سے انجام دینے لگتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی بلوغت کے مرحلے میں پہنچتے ہیں۔ تو شیطان اور نفس کے بہکاوے میں آجاتے ہیں ۔اور  عبادات ودینی فرائض میں کوتاہی کرنے لگتے ہیں۔

اس کوتاہی کی اہم وجہ والدین کی تربیت کی کمزوری ہوتی ہے۔ کہ اس تربیت سے  دینی شعور ان کے مزاج کا حصہ نہیں بن پاتا  ۔جیسے ہی ان بچوں کو باہرنکلنے اور دوستوں کا سرکل بڑا کرنے اور معاشرے کے ساتھ آزادی کے ساتھ معاملات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تو نفس ، شیطان اور معاشرے کے بے دین عناصر سے متاثر ہوکر فورا عبادات اور دینی فرائض میں کوتاہی کرنے لگتے ہیں۔ والدین کی طرف سے اس کا درست حل یہ ہے کہ بچپن سے اپنے بچوں کی تربیت اس طرح سے کریں کہ دین ان کے مزاج کا حصہ بن جائے۔

:ٹین ایجر بچوں کے مسائل سے نمٹنے کے موثر طریقے

اوپر ہم نے وہ چند عمومی مسائل ذکر کئے ہیں جو دوران بلوغت (ٹین ایج ) میں عام طور پربچوں کو پیش آسکتے ہیں۔ پھر یہ ضروری نہیں کہ ہرمسئلہ ہر بچے کے ساتھ لازمی پیش آئے۔  یہ ممکن ہے کہ بعض بچوں کو ان میں سے کچھ مسائل پیش آجائیں   جبکہ دوسرے بعض کو دوسری قسم کے مسائل کاسامنا کرنا پڑے۔

بعض اوقات یہ مسائل وقت کے ساتھ بدلتے بھی ہیں۔  مثلا ایک ہی بچے کی جوانی کے ابتدائی ایام میں کچھ مسائل درپیش ہوں اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ بدل کرکچھ اور نئےمسائل شروع ہوں۔ ٹین ایج کے دوران ان مسائل سے دوچار بچے قابل رحم  ہوتےہیں۔ ان کے والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور درست طریقے سیکھ کر ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کریں۔ ورنہ والدین کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے یہ مسائل مزید بگڑ سکتے ہیں۔ذیل میں ہم والدین اور اساتذہ  کی آسانی کے لئے ان مسائل سے نمٹنے کی چند ٹپس پیش کررہے ہیں۔

 :دوران بلوغت بچوں سے تعلق مضبوط بنائیں

مضبو ط تعلق ہی وہ  واحدراستہ ہے جس کے ذریعے بچے کو اپنے قریب کیا جاسکتا ہے۔اور ان مسائل کے حل کے بارے میں سوچاجاسکتا ہے۔ ان بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے تعلق بگاڑنے کے بعد باقی تمام راستے بھی مسدود ہوسکتے ہیں۔

:ان کے مسائل کو سنیں اور انہیں تسلیم کریں

بعض اوقات بچے ذہنی ، جذباتی یا سماجی مسائل کا شکارہوتے ہیں۔ لیکن ان کے مسائل کو سننے والا ،سمجھنے والا اور تسلیم کرنے والا  کوئی نہیں ہوتا ۔ جس کی وجہ سے وہ مزید ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ والدین اور اساتذ ہ  کوچاہیے کہ وہ ان بچوں کے مسائل کو ضرور سنیں ۔ انہیں تسلیم کریں اور حل نکالنے میں ان کی مدد کریں۔

 :ان کے ساتھ بڑوں جیسا رویہ رکھیں

یہ ایک نفسیاتی معاملہ ہے کہ ٹین ایجر بچے اپنے آپ کو بڑا کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو بچہ نہ سمجھے بلکہ بڑا تسلیم کرے۔ اب یہ والدین اور اساتذہ کا کام ہے کہ وہ ان کی نفسیات کو سمجھیں۔ ان سے بڑوں جیسا سلوک کریں  اور ان کی عزت میں کوئی کمی نہ کریں۔اس رویے سے بھی کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

 :ان کو اہمیت دے کر مشورے میں شامل کریں

چونکہ وہ بڑاکہلوانا پسند کرتے ہیں لہذا آپ ان کو اہمیت دیں، اور اپنے  مشوروں میں ان کو شامل کریں۔ان کی پرائیویسی کا احترام کریں۔جتنی عزت واحترام آپ ان کو دیں گے وہ بھی اسی طرح آپ کو عزت واحترام دیں گے۔ اور باتیں نہ سننے کا جو شکوہ  ان کو ہوتا ہے وہ دورہوجائے گا۔

:گھرکے بعض فیصلے ان سے کروائیں

گھر کے بعض فیصلے ان  سے کروانے سے ان میں خوداعتمادی پیدا ہوگی۔ مثلا عید کی شاپنگ ان سے کروائیں ، کچھ غلطیاں اس دوران ان سےضرور سرزد ہوں ہونگی، انہیں نظرانداز کردیں۔ فیصلہ سازی کے  حوالے سے ان پر مسلط ہوئے بغیر ان کو رہنمائی دیں۔ لیکن ان کے فیصلے کو تسلیم کریں۔  کم از کم ان کی ذاتی شاپنگ کے فیصلے والدین خود سے بالکل نہ کریں۔بلکہ یہ اختیار انہی کو دیں تو بہترہے۔

:حوصلہ افزائی کریں تنقید نہ کریں

یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ ان بچوں کی حوصلہ افزائی کا موقع ہاتھ  سےبالکل جانے نہ دیں۔ تنقید سے حتی الامکان اجتناب کریں۔اور ان کے دوستوں کو کبھی برا بھلا نہ کہیں۔ کبھی ان کی نیتوں اور صلاحیتوں پر بھی شک نہ کریں ۔ ان تمام ٹپس پر عمل کرنے سے ان شااللہ ٹین ایج کے قابل اعتراض رویوں میں بہت جلد مثبت تبدیلی آئے گی۔اس حوالے سے جلد بازی کی قطعا گنجائش نہیں ورنہ نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔     

  

Be the first to comment

Leave a Reply