تعلیم اور تربیت کے درمیان بنیادی فرق

تعلیم وتربیت میں فرق

عام طور پر تعلیم وتربیت کا لفظ ایک ساتھ استعمال ہوتاہے۔ جس سےعموما  ان دونوں میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔بلکہ دونوں کو شاید باہم مترادف سمجھاجاتاہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ تعلیم اور تربیت دو الگ الفاظ ہیں اور دونوں الگ الگ معانی رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم بھی  ہیں۔ یعنی تعلیم، تربیت کے بغیر کامل نہیں ہوسکتی جبکہ تربیت تعلیم کے بغیر ممکن ہی  نہیں ۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں رائج جدیدتعلیمی نظام میں تربیت کوسرے سے نظرانداز  کیا گیا ہے۔یعنی ہمارے جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نام سے جو سرگرمی سر انجام دی جاتی ہے، اس میں سے تربیت  کےعمل کو تقریبا ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔شاید تعلیمی سرگرمی انجام دے کر یہ سمجھاجاتا ہے کہ اس سے تربیت خودبخود حاصل ہوجائے گی۔ اس کے لئے الگ اور باقاعدہ کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط تصورہے۔

 آج تربیت کے عمل  کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے ،کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے تعلیم یافتہ افراد کو بعد میں الگ سے تربیت کی شدیدضرورت ہوتی ہے۔بدقسمتی سے موجود تعلیمی اداروں سے  ڈگری تو حاصل ہوجاتی ہے لیکن اخلاق و کردارکا معیار نہایت پست رہ جاتا ہے۔ یہاں ہم اپنے  قارئین کے لئے دونوں میں فرق کو ذرااورواضح کرنے کوشش کرتے ہیں۔

تعلیم کیا ہے؟

اگرہم تعلیم کو سمجھنے کی کوشش کریں توتعلیم دراصل سیکھنے کی سہولت فراہم کرنے والا ایک عمل  ہے۔ جس سے بچے علم، ہنر، اقدار، عقائد اور عادا ت کو سیکھ سکتے ہیں۔یعنی تعلیم  کا تعلق براہ راست انسانی شعور اور فہم سے ہے ۔ کہ شعور کی بہتری اور فہم کی درستگی کے لئے تعلیم کا عمل انجام دیا جاتاہے۔ مشہورماہرتعلیم مارک کے اسمتھ  نےتعلیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ،کہ یہ سچائی اور امکان کو مدعو کرنے کا عمل ہے۔جس میں حق، سچائی اور امکان کو مدعو کرنے ، ان خصوصیات کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ان کی دریافت کو فروغ دیا جاتا ہے۔

تعلیم کے مقاصد پر غور کرنے سےدو طرح کے مقاصد ہمارے  سامنے آتے ہیں۔ ایک مغربی پیراڈائم میں تشکیل پانے والا مقصدجبکہ دوسری طرف اسلامی تناظر میں تشکیل پانے والامقصد ۔ ہم یہاں پر دونوں کو مختصرااپنے قارئین کے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے ہم مغربی پیراڈائم میں تشکیل پانے والے مقاصدکو ذکر کرتے ہیں۔جو مختلف ماہرین کی طرف سے  پیش کئے گئے ہیں۔مزیدپڑھیے

تعلیم کے بارے میں ماہرین کی آرا

چنانچہ بعض ماہرین تعلیم کی نظر میں تعلیم کا مقصد یہ ہے، کہ بچے میں تجسس اور سیکھنے کی رغبت پیدا کرنے میں اس کی  مدد کی جائے ۔ تاکہ وہ ایسے بالغ فردکے طورپر نشوونماپاسکے جو انسانیت کی فلاح وبہبود میں اپنا حصہ ڈال سکے۔نیز وہ خوداعتمادی  کے ساتھ زندگی میں اپنی صلاحتیوں کے مطابق اپنا کردار اداکرنے کے قابل  ہو۔

 دوسرے ماہرین تعلیم کے مطابق تعلیم کے بنیادی مقاصد میں عقل وشعور کی نشوونما اور معاشرتی ضروریات کی تکمیل کے علاوہ معاشی سرگرمیوں میں شراکت کے قابل بنانا  ہے۔اس کے علاوہ طلبا کو ملازمت ،معاشرتی، معاشی اورسیاسی کردار کے لئے تیار کرنا بھی شامل ہے۔جبکہ ایک اور مفہوم کے مطابق اس سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنا مجموعی علم، ہنر، روایات اور اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتا ہے۔

دینی تناظر میں تعلیم کا مقصد

جب ہم دینی تناظر میں تعلیم کا مقصد جاننے کی کوشش کرتے ہیں  توہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دین میں تعلیم کا اولین اور بنیادی مقصد خداکی معرفت اور تہذیب نفس ہے۔دوسرے الفاظ میں بچے کو بامعنی اور بامقصد زندگی گزارنے کے قابل ہونا ہے۔دین  یہ کہتاہے کہ تم تعلیم اس لئے حاصل کرو تاکہ تم اللہ کو پہچانو ۔اس کی ذات اور صفات کو نہ صرف پہچانو بلکہ اس پر ایمان بھی اس انداز سے  لے آو جو اس کا حق ہے۔

اس کے ساتھ تعلیم کاایک اور بنیادی مقصد اپنے نفس کی حقیقت، اسکے خصائل اور رذائل کو پہچان کراسے کنٹرول کرنے کے قابل ہونا ہے۔یعنی یہ جاننا کہ میری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟اور میرے اندرجو نفس ہے اس کی اچھی باتیں کیا ہیں؟ اور بری باتیں کیا ہیں؟ پھر اس علم کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ نفس کا تزکیہ کرکے نفس کو شرور سے پاک کرنے  اور تقوی سے اسے  مزین کرنے  کی کوشش ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے۔

باقی ثانوی مقاصد کئی ہوسکتے ہیں مثلا یہ کہ ہمیں دنیا میں رہنا ہےتو تعلیم کے ذریعے اس کے تقاضوں کو سمجھنا ہے ۔ یہاں کی معاشرت کے کیاتقاضے ہیں؟ اس کی معیشت کے کیا تقاضے ہیں؟یہاں رہتے ہوئے خالق اور مخلوق سے تعلقات میں کیسے توازن رکھنا ہے؟ خالق اور  مخلوق کے حقو ق کیسے اداکرنے ہیں؟ دنیا میں رہتے ہوئے رزق کمانے کے کونسے ذرائع ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ذیل میں تعلیم کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔

فارمل ایجوکیشن

فارمل ایجوکیشن وہ  رسمی تعلیم  ہے جو انسٹیٹیوشنز  اورتعلیمی اداروں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ اسکول و کالج ،یونیورسٹی اور مدارس وغیرہ میں دی جانی والی تعلیم اس کی مثال ہے ۔ان اداروں کے تعلیمی ماحول میں مخصوص اور منظم ہدایات کی فراہمی  کے ذریعے  یہ تعلیم دی جاتی ہے جسے  فارمل ایجوکیشن کانام دیا جاتاہے۔

نان فارمل ایجوکیشن

جسے غیر رسمی تعلیم بھی کہتے ہیں۔ یعنی وہ تعلیم جو غیررسمی انداز سے حاصل کی جاتی  ہو۔ مثلا  گھرکے ماحول سے ،نشریاتی اداروں  کے ذریعے، انٹرنیٹ، ٹی وی ، اخبارات اور جرائدورسائل کے ذریعے حاصل ہونے والاعلم  ۔ اس کے علاوہ مساجد ودیگر اجتماعات کے بیانات ، سیاسی جلسوں اور معاشرتی میل جول سے جو علم حاصل ہو اسے بھی نان فارمل ایجوکیشن یا غیر رسمی تعلیم  کہتے ہیں۔

  تربیت کیا ہے؟

تربیت کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے جس کا مادہ (ر ب ی)ہے۔ عربی میں ربی یربی اور مصدر تربیۃ کے معنی بچہ کو پرورش کرنا، پالنا اورمہذب بنانے کے آتے ہیں ۔ تربیت درحقیقت وہ فن ہے جسے انسان سازی کا فن بھی کہا جاتا ہے۔انسان دوعناصر کا مجموعہ ہے ایک ظاہری جسم جو انسان کے علاوہ ہرمخلوق کے پاس موجودہے۔ جبکہ انسانی ترکیب کےدوسرےاہم عناصر  میں اس کے اخلاق وعادات، مہارتیں،اعمال وکردار، اس کی سوچ   اور   اس کےمجموعی رویے ہوتے ہیں۔ جو اسے اخلاقی وجود عطا کرتے ہیں۔انسانی ترکیب کا یہ دوسرا حصہ ہی ہے جو اسے دنیا کی دیگر مخلوقات سے ممتاز کردیتا ہے۔

بلکہ انسان کی اصل شناخت اس کے کرداری واخلاقی وجود سے ہی ہوتی ہے۔اسی سے انداز لگایا جاتا ہے ،کہ وہ اپنے لئے اور معاشرے کے لئے کتنا مفید ہے؟ یا اپنے منفی کردار واخلاق کی وجہ سے معاشرے کے لئے کتنا مضر یا مہلک ہے؟ ایک اور تعریف کے مطابق انسان کے بالقوہ فطری رجحانات کو پروان چڑھا کرغیر فطری رجحانات کو ختم کرنے کے عمل کو تربیت کہا جاتا ہے۔ یوں تربیت کا ہدف جسمانی توازن، پرورش عقل وشعور،تجربات ومہارت  کے علاوہ خصائل میں اضافہ اور رذائل کو ختم کرکے انسان کو  کمال درجے تک پہنچانے کی  کوشش کرنا ہے۔

حق کی پہچان انسا ن کا فطری داعیہ

انسان کی فطرت میں حق کی پہچان قدرت کی طرف سے پیدائش کے وقت سے ہی ودیعت کی جاتی ہے۔ بلکہ اس سے بھی پیچھے جائیں توقرآن کریم کی رو سے عہدالست میں اسی فطری رجحان کی موجودگی کی طرف نہ صرف اشارہ کیا گیا بلکہ اس کا عہد بھی لیا گیا تھا۔ اگر ا نسان کو فطری ماحول مہیاکیا جائے جس میں فطرت کی پہچان تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ تو اس کے لئے حق کو پہچاننا اور اس پر قائم رہنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔

لیکن اگر فطری ماحول کو والدین یا معاشرے کی طرف سے مکدر بنادیا جائے۔ فطرت کی پہچان کے آگے بند باندھ دیا جائے یا اس سے پیٹھ پھیرنے پر مجبور کردیا جائے۔ تو پھر بچے کے لئے حق کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔

چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کل مولودیولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ (۲) ۔ہر بچہ اللہ کی طرف سے فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے،لیکن اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی بنادیتے ہیں نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت میں بذات خود کوئی برائی یا بغاوت غالب نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ والدین، گھریا ماحول ہی کاعنصر ہوتا ہے جو انسان کو حق سے منہ موڑنے اور حق سے انحراف کرنے پر مجبور کرتاہے۔۔

نیکی اوربدی انسان کا اختیار

دوسری طرف انسان اپنی پیدائش کے وقت قدرت کی طرف سے اچھائی اور برائی دونوں کی فطری استعداد لے کر پیدا ہوتا ہے۔  قرآن کریم نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  فالھمھا فجورھا وتقواھا (سورۃ الشمس)۔ پس انسان کے نفس میں گناہ اور نیکی کی استعداد کو القاء کیا گیا۔یعنی انسان کواستطاعت دی گئی اور اختیار عطا کیا گیاکہ وہ چاہے تو گناہ بھی کرسکتا ہے اورچاہے تو نیکی کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے۔

اب جب بات یہ ہے تو تربیت کا مقصدیہ ہوا کہ بچے کی پرورش اس انداز سے کی جائے کہ اس میں نیکی اور اچھائیوں کی حس کو مضبوط اور توانا کیا جائے۔  اس کے کردار واخلاق کو پالش کرکے اسے معاشرے کے لئے امکانی حد تک مفید اور بارآور بنادیا جائے۔ اس میں ضروری مہارتیں پیدا کر کے اسے ہنرمند بنا نے کی کوشش کی جائے۔

اس کے ساتھ ہی اس کے نفس میں موجود برائی اور فجور کی حس کو کمزور کیا جائے ۔نفسانی خواہشات پر کنٹرول کی عادت ڈالوائی جائے ۔نیزاس بچے میں موجود ہر قسم کے نقائص اور عیوب کو ختم یا کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ یوں تربیت انسانی شخصیت میں موجود اچھائیوں کو اجاگر کرنے اورمفید مہارتو ں کو جلابخشنے کے علاوہ شخصیت میں موجود برائیوں کے رجحان کو کم کرنے یا ختم کرنے کی مربوط کوشش کانام ہے۔ تاکہ انسان اپنے لئے اور معاشرے کے لئے امکانی حد تک مفید بن سکے۔ اور تمام ضرر رساں اعمال وافعال اور رویوں سے اجتناب کرے تاکہ معاشرہ اس کے ضرر سے محفوظ رہ سکے۔

علم بڑھ رہا ہے اورانسان مررہا ہے

تعلیم وتربیت میں  فرق کا حاصل یہ ہوا کہ تعلیم انسانی فہم اورشعور کی سطح کی چیز ہے۔  جس سے انسان اچھائی کو اچھا اور برائی کو برا جان سکتاہے۔ یعنی اس چیزکی اچھائی یابرائی محض اس کے علم میں آتی ہے۔ جبکہ تربیت اس سے آگے کی سطح کی چیز ہے۔ جس میں شعوری علم اس کے مزاج کاحصہ بن جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں  اچھائی اس کو اچھی  لگنے لگتی ہے اور برائی اسے بری لگنے لگتی ہے۔یعنی  اس کامزاج اور طبیعت اس علم کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔

اگر ہم اس کا انطباق آج کے دور کی علمی سرگرمیوں پر کرنے کوشش کریں تو واضح طور پر پتہ چلے گا۔ کہ آج علمی سرگرمیاں تو بہت ہیں لیکن تربیت کے فقدان کی وجہ سے وہ شعوری علم ہمارے مزاج اور طبیعت کا حصہ نہیں بن پاتا ۔ جس کی وجہ سے دنیا میں علم کی بہتا ت کے باجوداعلی انسانی اقدار میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔

 تعلیم اور تربیت میں فرق کا خلاصہ۔

پہلافرق

تعلیم کے ذریعے چیزوں کے حقائق، نظریات اور معلومات کو بہم پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہیں۔ جبکہ تربیت کے ذریعے ان معلومات کو عملی شکل میں ڈھالناسکھایاجاتاہے۔ تاہم تربیت کے ذریعے عملی شکل میں ڈھالنے سے پہلے اس چیز کے بارے میں معلومات کا ہونا ضروری ہے لہذا تعلیم کے بغیر تربیت ممکن نہیں ہے۔ 

دوسرافرق

تعلیم  معلومات کے منظم سلیبس، اساتذہ اور ہدایات ولیکچرز کے منظم سسٹم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ تربیت عملی مشق کرنے، مہارت حاصل کرنے اورعملی طورپر سیکھنے  سکھانے کے عمل کا نام ہے۔

تیسرافرق

تعلیم سے آپ نظریات اور تھیوریز سیکھ سکتے ہیں اور تربیت سے پیشہ ورانہ عملی کام سیکھ سکتے ہیں۔

چوتھا فرق

تعلیم کے اسٹرکچرسے ہم مختلف مراحل طے کرکے ڈگری حاصل کرسکتے ہیں جبکہ تربیت کے ذریعے ہم اعلی انسانی اخلاق وکردار سیکھ سکتے ہیں۔

پانچواں فرق

  تعلیم حقائق کو جاننے کا نظریاتی پہلو ہے جبکہ تربیت اس کا عملی پہلو ہے۔

چھٹافرق

تعلیم وتربیت ایک ساتھ کا مل شخصیت بننے کے سفر کا  مکمل پیکیج ہیں اس سفر کا پہلاآدھا حصہ تعلیم جب دوسرا آدھاحصہ تربیت ہے۔

ساتواں فرق

تعلیم اسا تذہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔ جو اپنے طلبا کو معلومات کی فراہمی کے ذریعے اسے ممکن بناتے ہیں۔ جبکہ تربیت منٹور/مربی یا مرشد کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔ جو اپنے زیر تربیت فرد کے ساتھ نہایت قریبی تعلق بناتاہے۔ اورپھر اس کی جذباتی سطح میں داخل ہوکر اس کی  تربیت کرتاہے۔

بعض اوقات استاد بھی اپنی خاص خصوصیات کی بناپر منٹور کا درجہ حاصل کرسکتاہے۔  تربیت کی اولین ذمہ داری والدین پر ہے۔ ان کوچاہیے کہ اس کی باقاعدہ صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم بعض اوقات اساتذہ، مربی، مرشد اور سرپرست حضرات کے ذریعے بھی تربیت کا عمل انجام پاتاہے۔

1 Trackback / Pingback

  1. آئیڈیل تربیت اولادپلاننگ | Al-Rashad Tarbiyah Institute

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*