بچوں میں موبائل استعمال کا رجحان۔ والدین کیا کریں؟

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

اس وقت بچوں میں موبائل  اور دیگر اسکرینوں مثلا کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹی وی اور ٹیبلٹ وغیرہ کے استعمال   کارجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اور مزید بڑھتا جارہا ہے۔ خاص کر” کوڈ19 لاک ڈاون” کے بعد تو صورتحال یہ ہوگئی ہے۔ کہ بچے  اسکرین اور موبائل   کے بغیر رہناہی نہیں چاہتے۔   کسی زمانے میں ٹین ایجر کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ اب تو بچے اسکرین ایجر ہوچکے ہیں۔ بچوں کے اس طرح اسکرین ایڈکٹد ہونے یا اسکرین کی لت میں مبتلا کی وجہ سے والدین اور سرپرست حضرات بہت زیادہ پریشان نظرآتے ہیں۔اسکرین کے اس طرح بے جااستعمال سے بچوں کی عمومی زندگی بھی  عدم توازن کا شکار ہوکررہ گئی ہے۔

یہاں ایک بات بتانا بہت اہم ہے کہ موبائل بذات خود کوئی بری چیز ہے نہ اچھی چیز ۔ بلکہ اس کا استعمال اس کو اچھا یا برابناتا ہے۔ اس کی مثال ہم چھری اور اس کے استعمال سے دے سکتے ہیں۔  کہ چھری سے ہم سبزی کاٹ کر اپنے فائدے کاکام کرسکتے ہیں اور دوسری طرف اسی چھری سے کسی کا کان یا ناک کاٹ کر خدانخواستہ  کسی کا نقصان بھی کیا جاسکتا ہے ۔ بلکل اسی طرح  اسمارٹ موبائل فون بھی ہے۔کہ اس کا اچھا اور برادونوں طرح سے استعمال کیا جاسکتاہے۔

اس مضمون میں پہلے ہم اسکرین، خاص کر موبائل اسکرین کے بے جااور غیر ضروری استعمال کے نقصانات بتائیں گے ۔اس کے بعد والدین اور سرپرست حضرات کی آسانی کے لئے چند ٹپس دیں گے۔ جن کو استعمال کرکے وہ اپنے بچوں کو موبائل استعمال کے حوالے سے ڈسپلن کرسکتے ہیں۔ موبائل کے بے جا استعمال کےچند نقصانات مندرجہ ذیل ہیں۔ 

:بچوں کے رویوں میں عدم توازن پیداہوجاتا ہے

انسان اپنی عادات اور رویوں سے ہی پہچانا جاتا ہے، اگر عادات اچھی اوررویے خوبصورت ہوں تو زندگی میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور وہ اچھا انسا ن کہلانے کا حق دار ہوتا ہے ورنہ نہیں۔ ایک کامیاب انسان اپنی عادات اور رویوں کو بہتر بنانے پر بہت زیاد ہ کام کرتاہے۔ بچے اگر بہت زیادہ اسکرین استعمال کریں تو ان کے رویوں میں عدم توازن پیدا ہوناشروع ہوجاتاہے۔ لہذا بچوں کے رویوں میں توازن پیداکرنے کے لئے موبائل اسکرین کے بے جااستعمال پر روک لگانا ضروری ہے۔  

  • :معاشرتی زندگی میں عدم توازن

موبائل کے بے جا استعمال کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ بچہ معاشرتی تعلقات کے حوالے سے عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے۔ زندگی میں جن لوگوں سےتعلقات مضبوط ہونا ضروری ہےوہ کمزوری کا شکارہوجاتے ہیں ، بسااوقات بچہ معاشرے سے کٹ کررہ جاتاہے اور تنہاتنہا رہنے لگتاہے۔ جو اسکی عملی زندگی کے لئے  انتہائی نقصان دہ  ہوسکتاہے۔

:غصے اور چڑچڑاپن کا شکار ہونا

اسکرین کے بے تحاشا استعمال سے انسان کادماغ بالکل ایک ہی جگہ بہت دیر تک مرتکز رہتا ہے جس سے دما غ انتہائی بوجھ تلے دب جاتا ہے اور انسان غصے اور چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتاہے۔خاص کر بعض لڑائی بھڑائی پر مشتمل ایسی  ویڈیو گیمز  ہوتی ہیں جنہیں کھیل کریا دیکھ کر بچہ ان سے برااثر لیتاہے۔اور وہ بھی لڑاکو مزاج کا بن جاتاہے۔

:نیند کی کمی اور پڑھائی سے بھاگنا

اسکرین ایڈکشن کا ایک  بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ  اسکرین کی لت میں مبتلا انسان کی نیند کم ہوجاتی ہے اس کے دماغ میں ہروقت کوئی نہ کوئی ویڈیو یا کوئی گیم چل رہی ہوتی ہےحتی کہ نیند سے پہلے اور نیند کی حالت میں بھی اس کیفیت میں ہونے کی وجہ سے اس کی نیند اڑجاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ نیند پوری نہ ہونے سے   وہ دنیا کے ہر کام سے جی چراتا ہے بچہ ہوتو پڑھائی سے دور بھاگتاہے۔ بھوک ختم ہوجاتی ہے اور سستی وتکا ن بڑھ جاتی ہے۔ نیز اسکرین میں مست ہوکر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے سے اس کی کمر بھی ٹیڑھی ہونے لگتی ہے۔

:جسمانی ورزش ختم ہوجاتی ہے

انسان کی  جسمانی اور نفسیاتی صحت کے لئے  ورزش بہت  ضروری چیز ہے کہ جس میں خوب پسینہ نکلے اور ڈپریشن ریلیز ہوجائے۔ لیکن موبائل اسکرین کی لت میں مبتلا بچے کی  جسمانی ورزش بھی ختم ہوجاتی  ہے جس کی وجہ سے بچہ جسمانی اور نفسیاتی طورپر عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے۔

:تعلیم سے بے رغبتی اور تعلیمی نتائج پر برے اثرات پڑتے ہیں

یہ عام مشاہد ہ ہے اور سائنٹفک ریسرچ بھی کہ ایک وقت میں انسانی دماغ کسی ایک چیز پر ہی فوکس کرسکتا ہے۔ جب بچہ اپنی مصروفیت کے لئے اسمارٹ فون کو منتخب کرلیتاہے اور اسی میں گم سم رہتاہے،تو تعلیم سے بے رغبتی اور نتائج پر برے اثرات پڑنا لازمی امرہے۔

  :انٹرنیٹ سے فحش مواد تک رسائی ہوتی ہے

بچے کے پاس اسمارٹ فون ہواور وہ بھی انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہو تو فحش مواد تک رسائی ہونا لازمی امر ہے۔والدین اپنے بچوں کو معصوم سمجھ کر یہ انتہائی حساس معاملہ نظرانداز کردیتے ہیںَ  جوخطرناک ہوسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے  کہ ابتدا شاید بچہ گیم اور ویڈیوز کے چکر میں ان چیزوں کی طرف رجحان نہیں دیتا لیکن باربار ایسی فحش چیزوں کے سامنے آنے پر بچے کا تجسس بڑھ جاتا ہے اور وہ اس پر ایک کلک کرلیتا ہے۔ اب انٹرنیٹ الگوریتھم اپنے اصول کے مطابق اس بچے کے سامنے اور بھی فحش مواد کھول کررکھنا شروع کر دیتاہے۔

یہ فحش مواد اس بچے کی معصومیت  کے لئے زہر قاتل بن جاتاہے۔  وقت گزرنے کے ساتھ بچہ ان غلط چیزوں میں پوری طرح دلچسپی لینے لگتا ہے۔ وہ ایسی چیزوں میں پڑجاتا ہے جو فحش اوراخلاق باختہ ہونے کے ساتھ طبعی عمر سے پہلے ہی اس میں جنسی ہیجان پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔ یوں بچہ پختگی سے پہلے بالغ ہوجاتا ہے اور زندگی میں مقصدیت کی تلاش چھوڑ کر تسکین نفس کے غلط راستے ڈھونڈنا شروع کردیتا ہے۔   

 :اسمارٹ فون سے دین بیزاری کا رجحان

بچے ہمارا نسلی تسلسل ہیں مسلمان والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کوایمان سکھائیں، دین سکھائیں۔ اللہ ، رسول ، قرآن  ودیگر دینی شعائر  کے ساتھ ساتھ  اسلامی اقدارکی محبت ان کے دلوں میں پیوست کریں۔ان کی زندگی میں دینی ویلیوز کو پروان چڑھائیں۔ یہی وہ چیز ہے جو مسلمان والدین کرناچاہتے  ہیں۔  لیکن بدقسمتی سےان تمام چیزوں کے سامنے بدترین رکاوٹ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ پر موجود دین بیزار مواد اوروہ ویڈیوگیمز ہیں جن میں دینی شعائر کی  توہین کی جاتی ہے اور ان کی محبت واہمیت کو غیر محسوس طریقے سے بچوں اور نئی نسل  کے دلوں سے اتارنے کی  باضابطہ کوشش کی جاتی ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک مثال میں یہاں پیش کرناچاہوں گا مثلا ویڈیوگیمز میں کسی برے کردار کو یا دشمن کو تلاش  کرنا ہوتا ہے اس تلاش کے دوران ایسا سین پیش کیا جاتا ہے کہ اس  دشمن کو یا شیطان کونعوذباللہ مسجد نبوی یا خانہ کعبہ کے دروازنے نکلنے ہوئے دکھایا جاتاہے۔ یا دوسری مثال میں تلاش کے دوران واش روم میں نعوذباللہ قرآن کریم کے نسخے دکھائے جاتے ہیں۔

اب بچوں میں اچھی بری چیز میں تمیز کے فلٹرنشوونما نہیں پاچکے ہوتے توایسی سین دیکھنے سے بچوں کے دلوں سے غیر محسوس طریقے سےان مقدسات کی اہمیت ختم ہوتی جاتی ہےان مقدسات کے ساتھ نئی نسل کا جذباتی تعلق کم ہوتا جاتاہے۔ جس کا نتیجہ تو بعد میں ہی ظاہر ہوگا لیکن یہ سم قاتل موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہماری نسل کے ذہنوں میں اتارا جاتا ہے ۔ جب کہ والدین یہ کہہ کرمطمئن ہوجاتے ہیں کہ بچہ موبائل پر گیم کھیل رہا ہے کوئی بات نہیں۔ اس حوالے سے والدین کو بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔   

والدین اپنے بچوں کو موبائل اسکرین کی لت سے کیسے بچائیں؟

والدین ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت ہم بچوں سے موبائل فون مکمل طور پر چھین نہیں سکتے ہیں۔ ورنہ بچے آپ کو اپنا دشمن تصور کریں گے اور خدانخواستہ ا س کے حصول کے لئے کوئی غلط راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے اسکولوں اوردیگرتعلیمی اداروں کی تعلیمی سرگرمیاں آن لائن ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے ہاتھوں میں وقت سے بہت پہلےاسمارٹ موبائل فون آچکا ہے۔

اس وقت والدین کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینے کے حوالے سے محتاط ہوجائیں۔ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اس حوالے سے ڈسپلن کریں حتی الامکان اس کا استعمال کم کریں اور جب استعمال کرنا ضروری ہو تو اس کے لئے باقاعدہ وقت مقرر ہو۔ اور جس وقت استعمال ہو اس وقت والدین بچوں کے موبائل پر چیک اور کنٹرول ضرور رکھیں۔

اب یہ سب کچھ کیسے ممکن  ہوسکتا ہے اس کے لئے ہم ذیل میں چند ٹپس والدین سے شئیر کرتے ہیں ان پر عمل کرتے  ہوئے والدین اپن اور اپنے بچوں کا یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

 :والدین گڈرول موڈلنگ پیش کریں

والدین کی اچھی پیرنٹنگ یا اچھی تربیت کا راز اس میں ہے کہ والدین اپنے بچوں کے سامنے اچھی رول ماڈلنگ پیش کریں۔ والدین بچوں کےحقیقی استاد اور مربی ہوتے ہیں۔ بچے اپنے  والدین کو جو کچھ کرتے ہوے دیکھتے ہیں  اس کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا موبائل کے حوالے سے بچوں کو ڈسپلن کرنا ہو تو بھی والدین آغاز خود اپنے آپ سے کریں گے۔ان کو چاہئے کہ سب سے پہلے اپنے اوپر چیک اینڈبیلنس رکھیں۔ ضرورت کے علاوہ خود بھی  استعمال نہ کریں اور موبائل کے غیر ضروری استعمال کے جو نقصانات وخدشات اوپر بتائے گیے ہیں،  ان کے بارے میں گھر میں بچوں سے گفتگو کریں۔ اچھی رول ماڈلنگ سے ان شااللہ پچاس فیصد مسئلہ ویسے ہی درست ہوجائے گا۔

:بچوں سے موبائل کے فوائد ونقصانات پر مکالمہ کریں

والدین خودپرکنٹرول کے بعد دوسراکام یہ کریں کہ بچوں کواس کے نفع ونقصان سے آگاہ کریں۔ اچھے استعمال کے فوائد پر ان سے کوئی مضمون لکھوائیں۔ غلط استعمال کے نقصانات کے بارے میں بھی کوئی مضمون لکھوائیں جس سے بچوں اس موضوع پر سوچنے کا موقع ملے گا۔ بچوں سے اس موضوع پر کچھ لکھواتے ہوئے ان کی مدد کریں کہ اوپر بتائیے گئے نقصانات کے علاوہ اور بھی جو اس کے نقصانات ہیں وہ اپنے ذہن سے تلاش کریں۔

جب بچے اس موضوع پر لکھ چکیں تو اس کا خلاصہ تیار کروائیں اور  خلاصے یاسمری کو سامنے رکھ کر اس پر گفتگو کریں اور مکالمہ کریں۔ مکالمے  میں والدین خود بتانے سے زیادہ  بچوں سے زیادہ سننے کی کوشش کریں۔ اس طرح سے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے فوائد ونقصانات بچوں کو ریلائزکروائیں۔ اور ان کے دل ودماغ میں یہ باتیں بٹھاکر ان سے بھی محتاط رہنے کا تقاضہ کرسکتے ہیں۔   

 :گھریلوتمام مصروفیات اور روٹین کاموں کے لئے رولز ریگولیش بنائیں

جب تک گھرکی چوبیس گھنٹے کی  تمام مصروفیات کے لئے رولز نہ بنائے جائیں اس وقت تک گھر کے لئے پریشانی بہرحال رہے گی۔والدین ہر گھر میں اپنی چوبیس گھنٹے کی تمام مصروفیات کو ایک ٹائم ٹیبل کی شکل دے سکتے ہیں۔ مثلاسونے جانگنے کے اوقات کیا ہونگے؟ کھانے پینے ، نمازوں اور تلاوت کے اوقات کیاہونگے؟ اس کے علاوہ کھاناپکانے ، گھرکی صفائی نیز دیگر کاموں کے علاوہ موبائل فون یا دیگر اسکرین کے استعمال کو ریگولرائز کرنے کے لئے گھر کے سب افراد مل کر رولز بنائیں اور پھر ان رولز کو فالو کرنا شروع کریں ان شااللہ یہ مسئلہ بہت حد تک حل ہوجائے گا۔  

 :بچوں کے لئے بہتر مشغولیت اور ہوبی  سیٹ کریں

اسمارٹ فون اور دیگر اسکرینوں کی لت سے بچوں کو نکالنے کا ایک بہترین حل یہ بھی ہے کہ والدین بچوں کے لئے موبائل استعمال کے علاوہ کوئی اور ہوبی یا مشغولیت تلاش کریں۔جس میں مشغول رہنے سے موبائل کا رجحان  بچے کے  دل سے نکل جائے یا کم ہوجائے۔  مثلا گھر میں پودے اگانے اور ان کا خیال رکھنے کی ذمہ داری بچوں کو دے سکتے ہیں۔ یا گھر میں کوئی پالتو جانور رکھ کربچے کے لئے مشغولیت کا راستہ دے سکتے ہیں۔ یا  جسمانی ورزش اور فزیکل گیم  کی کوئی   ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔  جس میں مشغول رہ کر بچہ اپنے آپ کو مصروف رکھ سکتا ہے۔ اس طرح وہ بہت حد تک موبائل اسکرین اور انٹرنیٹ کی خرابیوں سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ 

:چندمددگار موبائل ایپس

یہ ٹیکنالوجی کادور ہے جس کے کچھ فوائد اور کچھ  نقصانات کاہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔  موبائل فون کے فوائد یہاں بیان کرنا مقصودنہیں وہ سبھی لوگ جانتے ہیں۔ لیکن اس کے بے شمار سائدافیکٹس یا نقصانات ہیں جن سے بچنے کے راستے تلاش کرنا  اس آرٹیکل کا موضوع ہے۔ اسکرین ایڈکشن بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے نقصان دہ ہے لیکن اگربچے اس لت میں مبتلا ہوں تو ان کے والدین اور سرپرست حضرات نہ صرف اس کے ذمہ دار ہیں بلکہ اس کی روک تھام کے لئے کوشش کرنا بھی ان کا فرض ہے۔

موبائل کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے بے شمار ایپس بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے والدین اور سرپرست حضرات اپنے بچوں کو موبائل کے غلط استعمال سے بچاسکتے ہیں۔ یہ ایپس موبائل کے پلے اسٹور سے اپنے موبائل میں ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں۔  اورپھر ان کی مدد سے اپنے بچے کی کسی بھی موبائل سرگرمی سے باخبر رہتے ہوئے اس کی روک کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ان میں چندموبائل ایپس ذیل میں دئیےجاتے ہیں ، یہ اپنے موبائل میں ڈاون لوڈ کیجئے اور اپنے بچوں کی ہر سرگرمی سے چوبیس گھنٹے باخبررہیے۔

اسپائزی ایپ (Spyzie app)

ٹریک اِٹ ایپ (Trackit app)

ایم اسپائے ایپ ( mSpy app)

اور آخر میں سب سے اہم بات اللہ کی طرف رجوع ہے اپنے بچوں کے لئے والدین اللہ سے خوب دعامانگیں۔ فتنوں کے اس زمانے دعاہی ایک مسلمان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی چیز گمراہ نہیں کرسکتی اور جسے اللہ ہدایت نہ دے تو ابوجہل خانہ کعبہ میں  پیداہو کربھی بدنصیب رہا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس  کام ہم سے کے لئے آسان بنادے اور ہماری نسل کو ہدایت کے نور سے نوازے ۔ آمین   

1 Trackback / Pingback

  1. بلوغت کے دوران بچوں کی تربیت کے مسائل اور ان کا حل | Al-Rashad Tarbiyah

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*