بیٹی کی پیدائش اللہ کی عظیم نعمت

بیٹی کی پیدائش اللہ کی عظیم نعمت

بیٹی کی پیدائش اور زمانہ جاہلیت

زمانہ جاہلیت یعنی زمانہ قبل از اسلام میں عورت کو بوجھ سمجھا جاتا تھا ۔جس کے نتیجے میں اس کی پیدائش کو سخت ناپسند کیا جاتا تھا ۔قرآن کریم کی رو سے جس انسان کو یہ بتادیا جاتا کہ تمہارے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔ تو اس کا منہ کالا ہوجاتا۔ اور وہ لوگوں سے چھپ چھپا کر پھررہا ہوتا تھا ۔قرآن کریم  نے کی منظر کشی یوں کی ہے: ”جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر ملتی ہے۔ تو اس کا چہرہ غم کے مارے کالا پڑجاتا ہے۔ اور وہ اپنی قوم سے چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔

زمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹی کی پیدائش کو اپنے لئے بدشگون خیال کرتے تھے۔ اسے بیٹے کے مقابلے میں زندگی بھر نظر انداز کرتےاور  میراث سے  بھی اسے محروم کردیتے تھے۔ عرب کے بعض قبائل کے ہاں بیٹی کی پیدائش   پراسے قتل کردیاجاتا یا زندہ زمین میں گاڑھ دیاجاتاتھا۔ بیٹی کی پیدائش پر کچھ اس سے ملتی جلتی روش آج بھی ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے۔

لوگ بیٹی کی پیدائش کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس کو اپنے لئے اضافی بوجھ تصور کرتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ایک علاقے میں جب عورت نے غالبا چوتھی بیٹی کو جنم دیا ۔تو باپ نے بار بار بیٹی کی پیدائش پر غصہ میں آکر بیوی کو ہی قتل کردیا۔آ ج کی صورت حال یہ ہے کہ والدین بچی کے قتل کا اقدام نہ بھی کرتے ہوں۔ بہرحال عام رویہ یہی ہے کہ بیٹی کی پیدائش کو اب بھی بہت سارے لوگ ناپسند کرتے ہے حالانکہ یہ جاہلی رویہ ہے۔

:بیٹی کو ناپسند کرنا جاہلی تصورہے

اگر ہم تجزیہ کریں کہ بیٹے کو پہلے زمانے میں کیوں پسند کیا جاتا تھا ؟اور بیٹی کو کیوں ناپسند کیا جاتا تھا؟ تو کچھ وجوہات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔مثلا وہ قبائلی دور تھا اور قبیلے یا خاندان کے تحفظ کی ذمہ داری مردوں پر ہوتی تھی۔ اس لئے مردوں کو پسند کیا جاتا تھا ۔دوسری طرف عورت بیچاری یہ ذمہ داری نبھانہیں سکتی تھی۔ بیٹے کو پسند کرنے کی ایک بڑی وجہ معاشی سپورٹ بھی تھی۔ لڑکے جتنے زیادہ ہوتے وہ باپ کے ساتھ زمینوں اور کھیتوں میں کام کرتے۔ یا تجارتی اسفار کے لئے نکلاکرتے تھے جبکہ عورتیں یہ کام نہیں کرسکتی تھیں۔

بلکہ ان کو پال پوس کربڑا کرکے کسی اور کے ساتھ نکاح کرانا پڑتا تھا۔ بعض اوقات جاہلی تعصب کی وجہ سے اس عمل کو ناپسند کیا جاتاتھا ۔کہ کوئی دوسرا مرد داماد بن کر ان کے گھر آئے۔ وہ اس عمل کو ناپسند کرتے تھے۔ حالانکہ خود دوسروں کی بیٹیوں کو نکاح کرکے اپنے گھرلاتے تھے۔ اسلام نے  اس تصور کو بڑی شدت سے رد کردیا ۔ اوربیٹے کو بیٹی پر ترجیح دینے سے منع کیا۔ یہی نہیں  بلکہ بیٹی کو بیٹے کے برابر کا حق دیا تھا ۔چنانچہ اسلام نے بیٹی کو گھر اور خاندان کے لئے رحمت قراردیا ۔اس کی جان، مال اور عزت وآبرو کوتحفظ عطا کیا۔ا س کو چادر اور چاردیواری میں رکھ کر علم وشعور کی بلندیاں عطاکیں۔

نبی کریم ﷺ کی اولاد

نبی کریم ﷺ کا کوئی بیٹا زندہ نہیں رہ سکا تھا ۔تین بیٹے طیب، طاہر اور ابراہیم نام کے پیدا ہوئے۔ لیکن بچپن میں ہی ان سب  کاانتقال ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ کی اولاد میں چار بیٹیاں تھیں۔ ان میں آپ ﷺ کی چہیتی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ تھیں۔ آپ اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ ؓسے بے انتہا محبت فرماتے۔ جب کسی سفر میں جاتے سب سے آخر میں ان کے پاس سے رخصت ہوجاتے۔ اور جب سفر سے واپسی ہوتی تو سب سے پہلے انہی کے ہاں تشریف لے جاتے۔ جب کبھی حضرت فاطمہ ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہوکر ان کا استقبال فرماتے۔ اور ان کے لئے اپنی چادر مبارک بچھادیتے۔

حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کواللہ کی طرف سے دو یاتین بیٹیاں عطا کی گئی ہوں ۔ اور اس نے بوجھ سمجھے بغیر ان کی اچھی پرورش اور اچھی تعلیم وتربیت کی ہو۔ تو قیامت کے دن میں اور وہ  شخص جنت میں اس طرح  ساتھ کھڑے ہونگے ۔یہ جملہ ارشادفرما کر آپ ﷺ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کو ایک ساتھ جوڑ کر اشارہ فرمایا۔ قرآن کریم نے بیٹی کو بیٹے کی طرح میراث میں حق دار بنایا ۔ورنہ اسلام سے پہلے عورت کے لئے میراث کا کوئی تصور معاشرے میں نہیں پایاجاتا تھا۔

دورحاضر میں ترجیحات کی تبدیلی

زمانہ قدیم میں بیٹے کو پسند کرنے اور بیٹی کو ناپسند کرنے کی جو وجوہات ہم نے اوپر ذکر کی ہیں۔ اگر اس کا تجزیہ آج کے دور کے تناظر میں کیا جائے۔ جبکہ معاشرے کی ضروریات اور ترجیحا ت ہی بدل گئی ہیں۔ تو بیٹی پر بیٹے کو ترجیح دینے کی کوئی منطقی او رعقلی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ دیکھئے آج معاشرہ قبائلی طرزمعاشرت سے آگے بڑھ کر شہری ،قومی بلکہ بین الاقوامی سطح اختیار کرچکا ہے ۔اور بہت ممکن ہے کہ آگے بڑھ کر اس کی مزید ایکسٹیشن ہوجائے۔  ملکوں کی سرحدات ختم کردی جائیں اور گلوبل معاشرہ قائم کردیا جائے۔ یعنی معاشرے کا حجم بڑھا کر اس کو عالمی سطح کا کردیا جائے۔

چنانچہ اب سیکورٹی اور تحفظ کی ذمہ داری خاندان، قبیلے اور بیٹوں کے بجائے اسٹیٹ کے پاس آگئی ہے۔ آپ کے دس بیٹے ہوں۔ یا صرف بیٹیاں ہوں  ایک بیٹا بھی نہ ہو۔ آپ کے تحفظ کی ذمہ داری اسٹیٹ کے پاس ہے۔ آپ کو اس حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں۔ معاش کی بات کریں تو آج کا معاشرہ زرعی اور شکاری طرز سے آگے بڑھ کر انڈسٹریلائز ہوچکا ہے۔ ہرانسان اپنے علم وشعور کی بنیاد پر اپنی معاش کا انتظام خود کررہا ہوتا ہے۔

اولادکی معاشی خودکفالت

بسااوقات بیٹے اپنا کمارہے ہوتے ہیں۔بیٹیاں اپنا کمارہی ہوتی ہیں ۔اور باپ اپنا کما رہا ہوتا ہے۔ کئی والدین بیٹوں کی کمائی سے کھانے کو معیوب سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ بہترین کمائی وہ ہے جو تم اپنے ہاتھوں سے کما کر حاصل کرو۔بہرحال اس سے یہ معلوم ہوا کہ بیٹے کو ترجیح دینے کی یہ دوسری وجہ بھی اب باقی نہیں رہی۔ہوسکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ بات آئے کہ بیٹی کو پال پوس کر اس کی تعلیم وتربیت کرکے کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی کرانی پڑتی ہے۔ اور جہیز وغیرہ کے اخراجات بھی آتے ہیں۔

تو اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے۔ کہ یہ سارے اخراجات بیٹے پر بھی تو کرنے پڑتے ہیں ۔اور آج کے زمانے میں تو بیٹیاں کما کرنہ صرف اپنا جہیز کاسامان تیار کرتی ہیں۔ بلکہ ماں باپ کے ساتھ معاونت الگ کررہی ہوتی ہیں۔ ان سب کو ایک طرف رکھ کر ماں باپ کے ساتھ بیٹی کے پیار اور خلوص کے رشتے کو ہی دیکھا جائے۔ تو بیٹی کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ لہذا اس زمانے میں بیٹے کو بیٹی پر ترجیح کی کوئی خاص وجہ نہیں بنتی۔ جبکہ ہمارے دین نے تو بیٹی کی اہمیت کو چودہ سوسال پہلے ہی اجاگر کیا تھا۔

:بیٹا یا بیٹی کی پیدائش کاسبب مرد ہوتا ہے عورت نہیں

ہمارے معاشرے کا ایک ظالمانہ رخ یہ بھی ہے۔ کہ جس گھر میں بیٹی کی پیدائش کو پسند نہیں کیا جاتا  اوروہاں بیٹی کی پیدائش ہوجائے۔ تو عور ت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایاجاتاہے۔ اورجس عورت کے ہاں بچی پیدا ہو ئی ہو، اس عورت کوطلاق دی جاتی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق 2013ء میں پاکستان میں 65 عورتوں کو اس بنا پر قتل کیا گیا تھا ۔کہ ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔حالانکہ یہ بہت بڑی جہالت ہے۔میڈیکل کی بنیاد پر دیکھا جائے تو نومولود کے بیٹا یا بیٹی ہونے میں عورت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔بلکہ یہ کردار توصرف مردکا ہوتا ہے۔

میڈیکل ریسرچ کے مطابق مردوعورت کے ملاپ سے جو اسپرم(منی) خارج ہوتا ہے۔ عورت کے اسپرم میں ایکس ایکس کروموسومز ہوتے ہیں ۔اور مرد کے اسپرم میں ایکس وائی کروموسومز ہوتے ہیں۔ مرد کے تولیدی کروموسومز میں سے وائی، عورت کے تولیدی کروموسومز ایکس سے مل جائے۔ تو بیٹا پیداہوتا ہے۔ لیکن مرد کی طرف سے ایکس کروموسومز عورت کے ایکس کروموسو مز سے مل جائے ۔تو بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہو اکہ مرد کے وائی کروموسومز کتنے ایکٹیو ہیں۔ اسی پر نومولود کے لڑکا یا لڑکی ہونے کا انحصار ہوتا ہے۔اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہوتا ۔قصور خود مرد کا ہوتاہے جو جہالت کی وجہ سے عورت کے سر تھونپ دیاجاتا ہے۔ اور قتل تک کا اقدام کیا جاتاہے۔

بیٹا یا بیٹی کی پیدائش اللہ کی مشیت 

میڈیکل ریسرچ تو آج کی دریافت ہے اور اس سے اللہ تعالی کے مربوط نظام کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔ کہ اللہ تعالی نے کس طرح سے بیٹا اور بیٹی دینے کا سلسلہ تولیدی کروموسومز کے ذریعہ مربوط طریقے سے قائم فرمایا ہے۔ درحقیقت بیٹا یا بیٹی دینا اللہ کی مشیت اور ارادے کا نام ہے۔ اس میں نہ باپ کا کمال ہے نہ ماں کا کوئی قصور۔ اس میں صرف اللہ کے ارادے اور فیصلے کا عمل دخل ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: یھب لمن یشاء اناثا ویھب لمن یشاء الذکور۔ اویزوجھم ذکرانا واناثا ویجعل من یشاء عقیما انہ علیم قدیر (القرآن )”اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین پر۔وہ جوچاہتا ہے پیدا کرتاہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتاہے۔ اور جسے چاہتاہے لڑکے عطاکرتاہے۔وہ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کے دیتاہے۔ اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔بے شک وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والاہے۔

اللہ تعالی سے نیک نرینہ اولاد مانگنا کوئی بری بات نہیں ۔بلکہ قرآن کریم کے مطابق یہ پیغمبری سنت بھی  ہے۔ کہ نیک اور نرینہ اولا د کی خواہش کی جائے۔ اور اس کے لئے اللہ سے دعامانگی جائے۔ اگر اس سلسلے میں علاج معالجے کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے تو  بھی برانہیں۔ لیکن جب ایک مرتبہ اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے۔ اور بیٹی کی پیدائش ہوجائے۔ تو اس کو اللہ کی رحمت سمجھ کر بسروچشم قبول کرنا، اس پردلی خوشی کا اظہارکرنا،اس کی اچھی پرورش اور تعلیم وتربیت میں کسر نہ چھوڑنا یہ ایک مومن بندے کا شیوہ ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*