رزق میں برکت کے اسباب

رزق میں برکت کے اسباب
رزق میں برکت کے اسباب

رزق میں برکت کے اسباب

خالق الارض وسماء نے جب کائنات کو تخلیق فرمایا تو رزق کی تقسیم کا ذمہ دار بھی خود اپنے آپ ٹہرایا ۔ اور فرمایا:  وما من دابۃ فی الارض علی اللہ رزقھا (سورۃ ھود:6) زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق ہما رے ذمے نہ ہو۔

 وہ ایسا رازق ہے ایسا رزق پہنچانے والا ہے جو شکم مادر میں رزق پہنچانے سے لے کر اسپتالوں میں پڑے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا کومے کے مریضوں کو بھی ڈاکٹروں اور نلکیوں کے ذریعے ان کے رزق کا آخری ذرہ بھی بہم پہنچاتا ہے۔ اب یہ حضرت انسان کی نادانی نہیں تو اور کیا ہے  کہ جس کا ذمہ خود خالق کائنات نے لیا ہےانسان رات دن اس کی تگ ودو میں ہے۔   اور جس چیز یعنی بخشش اور نجات کو عمل سے مشروط کیا گیا ہے ،اس کے لئے اسے کوئی فکر نہیں ۔ بلکہ اسے  توحضرت انسان بھلائے بیٹھا ہے۔

رزق کسے کہتے ہیں؟

قبل اس کے کہ یہ بات کی جائے کہ رزق  میں اضافے کے اسباب کیا ہیں پہلے یہ جا ننا ضروری ہے کہ درحقیقت رزق کیا ہے؟  جب  لفظ رزق بولا جا تا ہے تو عوام الناس کی  مراد  روزی، روٹی ،روپیہ، پیسہ ہوا کرتی ہے۔ جبکہ لفظ رزق کا اطلاق ایک درجن سے زائد چیزوں پر ہوتاہے۔

 مثلا مال و دولت، عزت، اولاد ،صحت ،سکوں واطمینان ،علم و عمل ،اچھی عادات ،کھانے پینے کی عمدہ اشیاء وغیرہ ۔ یہ تمام چیزیں بھی رزق کا درجہ رکھتی ہیں۔

حصول رزق  کےاسباب:

حصول رزق کے اسباب دو قسم کے ہیں۔ظاہری اسباب رزق اور غیبی اسباب رزق

 رزق کے ظاہری اسباب رزق:

 یہ وہ اسباب رزق ہیں  جو انسان خود اختیار کرتاہے۔ مثلا صنعت و تجارت، ملازمت  ونوکری وغیرہ یہ وہ اسباب ہوا کرتے ہیں جو غیر یقینی ہوتے ہیں ۔مثلا نوکری تھی چلی گئی۔تجارت یا کاروبار تھا لیکن اس میں نقصاں ہو گیا۔  اے ٹی ایم   سے نکل رہے تھے  کسی نے لوٹ لیا ۔تو یہ وہ تمام اسباب رزق ہیں جو ظاہری اور غیر یقینی ہوا کرتے ہیں۔ اور ان کے چھن جانے کا خطرہ انسان کو ہر   لمحہ رہتا ہے۔

غیبی اسباب رزق

یہ وہ اسباب رزق ہوتے ہیں جو یقینی اور نفع بخش ہوا کرتے ہیں ۔ان میں تھوڑے سے رزق میں برکت ہو جانا ،دعا یا وظیفے کے نتیجے میں رزق بڑھا دیا  جانا۔کسی مخصوص عمل کے کرنے یا چھوڑ دینے پر رزق کا بڑھا دیا جانا ۔وباء وغیرہ سے بندے کا  محفوظ رہنا  ۔یہ سب  اسباب  رزق  کے غیبی اسباب ہوا کرتے ہیں۔

کیا ہمارا مسئلہ اسباب رزق ہیں؟

فی زمانہ اگر دیکھا جائے تو ہر شخص پریشان ہے۔ کہ رزق کی تنگی ہے۔ رزق میں برکت نہیں ۔  فراوانی رزق نہیں۔ وسعت رزق نہیں  ۔حالانکہ وسائل بہت ہیں۔ کرایہ بھی آرہا ہے  جاب بھی چل رہی ہے۔ دوستوں کے ساتھ پارٹنر شپ  پر کوئ کام کر رکھا ہے ،وہاں سے بھی مستقل فائدہ مل رہا ہے  ۔لیکن پیسہ ہے کہ جتنا کمائے چلے جاو  وہ ہاتھ میں رک کر نہیں  دیتا۔  ہر ماہ پریشانی ہو تی ہے۔

 حالانکہ ایک وقت تھا جب ایک کما تا  تھا ۔ اوردس کو کھلا تا تھا ۔اور آج ایک بھی گھر بیٹھ جائے  تو کھلنے لگتا ہے۔  ایک چھوٹی سی مثال لیتے ہیں۔ ہمارٍے پاس ایک رزق کا پیالہ  ہے  ۔جس میں خالق کائنات ہمارا روز کا رزق ڈال دیتے ہیں ۔ جو کہ دن بھر کی محنت مزدوری اسکے بعد  پارٹ  ٹائم کیے جانے والے کاموں سے ملنے والا پیسہ اور روزانہ آمدنی وجاب۔

 یہ سب خالق کائنات رزق کی شکل میں ہمارے اس پیالے میں ڈال دیتے ہیں ۔کیونکہ رزق کا ذمہ بہر حال مالک نے لے رکھا ہے۔ وہ تو دے رہا ہے  لیکن اس پیالے کے پیندے میں ہم نے جا  بجا ایسے سوراخ کر رکھے ہیں۔ کہ جن سے ہمارے  نصیب  میں آنے والا رزق  روزانہ ضائع ہو رہا ہے۔

  مثلا  ہم نے نماز چھوڑ رکھی ہے ۔ماں باپ کی نافرمانی جاری ہے۔ بد نظری ،غیبت، جھوٹ ،بہتان ،ظلم اور قطع رحمی وغیرہ۔ یہ وہ تمام ذرائع ہیں جن  سے ہمارا رزق ضائع ہو جا تا ہے۔ رزق تو آرہا ہے برکت نہیں وسعت رزق نہیں۔

 یہ وہ وجوہات ہیں جو بے برکتی رزق کا سبب بنی ہو تی ہیں ۔اور ہم رزق کے حوالے سے پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم رزق  میں وسعت کے لئے وظائف تو بہت کرتے ہیں۔ لیکن ان  سوراخوں کو بند نہیں کرتے  جو کہ ہمارے رزق کے پیالے میں ہوتے ہیں ۔اور جہاں سے ہما را رزق ضائع  ہوتا رہتا ہے۔

 کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

جو لوگ اپنے رزق سے دوسروں کے لئے حصہ نکالتے ہیں۔  خدا ان کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ یہ اللہ نے گندم کے دانے میں لکیر کیوں لگائی ہے؟  تو فرمایا کہ  کہیں تو سارا اپنا سمجھ کر کھا نا جائے اس میں دوسروں کا بھی آدھا حصہ ہے۔

مخلوق خدا پر خرچ کر نا رزق میں وسعت کا باعث بنتا ہے۔  ایک شخص اپنے گھر کے دس افراد کی کفالت کر رہا ہے تو اللہ سب سے زیادہ رزق بھی اسے دیتے ہیں  ۔جو کفالت کرنےوالا یعنی دوسروں کو کھلا رہا ہوتا ہے۔  لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے رزق میں برکت ہو،  فراوانی ہو ،تو دوسروں  پر خر چ کرنا شروع کریں۔

 ہمارا مزاج  ہی الٹا ہے۔ آج ہم بچوں کو بھی سکھاتے ہیں ۔سیونگ کرو سیونگ کرو ۔کاش ہم بچوں کو لگانے کی طرف ترغیب دیتے۔ جس دن ہمارے معاشرے نے دوسروں پر خرچ کر نے کا مزہ چکھ لیا، تو اس دن یقینا یہ معاشرہ پیسے کو جوڑنا بھول جائے گا ۔

پھر ایک کے سات، ستر اور پھر سات سو سے ضربیں( ذلک فضل اللہ یوتہ من یشاء )تو خرچ کرنا سیکھیں۔ اللہ آپ کے رزق  میں برکتیں عطا فرمائے گا۔

 اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں

ہے زندگی کا مقصد اووروں کے کام آنا

شکر گزاری اور رزق

رزق میں برکت  کے اسباب میں سے ایک شکر گزاری ہے۔ اور یہ  وہ وصف ہے جو رزق میں وسعت کا باعث بنتی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے :لئن شکرتم لا ازیدنکم۔ اگر تم شکر کروگے تو میں تمھیں وسعتیں عطا کرونگا ۔

کسی اللہ والے کا قول ہے کہ رزق میں برکت  کا یہ مطلب نہیں کہ دولت کے انبار لگ جائیں۔ بلکہ جو مل جائے اس رزق میں گزارہ ہو جانا ،اور شکر گزار رہنا بھی  بہت بڑی برکت ہوا کرتی ہے۔ لہذا دامن شکر گزاری ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اللہ رزق میں فراوانی عطا فرمائیں گے۔

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔

شاعر مشرق مصور پا کستان علامہ محمد اقبال اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ۔

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

دنیا میں ایسے بہت سے لوگ  ہیں جنہیں اللہ تعالی نے رزق کی فراوانی عطا فرمائی ۔لیکن وہ اس رزق کا لطف نہیں لے پاتے۔ مجھے شوگر ہے میں یہ نہیں کھا سکتا۔ بلڈ پریشر ہے یہ چیزیں میرے لئے منع ہیں ۔رزق اتنا ہے کہ کوئی حد نہیں ۔لیکن حال یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی زندگی  میں سکون وآرام نہیں۔

 آپس کے تعلقات انتہائی درجے تک خراب ہیں۔ رزق کی وسعت ہے ،رزق کی فراوانی ہے۔ جناب روٹی کھا لیں، میں نہیں کھا سکتا ۔میں نے گولی کھا لی ہے۔  ڈاکٹروں نے کہا ہے  گندم سے بنی چیزیں نہیں کھانی ، ورنہ مر جائو گے۔

 ذرا سو چیں کہ ایسا رزق انسان کے کس کام کا ۔قرآن کریم نے فر ما یا: انما اموالکم واولادکم فتنہ مال اور اولاد تمھارے لئے آزمائش ہیں۔ لہذا ایسی وسعت رزق سے بھی اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے، جو انسان کو آزمائشوں میں ڈال کراللہ سے دور کر ڈالے۔

 حضرت حسن بصری سے کسی نے پوچھا کہ طاغوت کیا ہے؟ فرمایا جو چیز تجھے تیرے رب سے دور کر دے وہ تیرے لئے  طاغوت ہے۔ لہذا اللہ تعالی سے رزق میں برکت، رزق میں فراوانی ضرور مانگیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ  یہ دعا بھی ضرور مانگیں ۔کہ اے اللہ ان سب کو میرے لیے  آزمائش وامتحان کا ذریعہ نہ بنانا بلکہ سکون واطمینان کا ذریعہ بنانا۔

رزق میں بر کت کے اسباب

رزق میں برکت کے اسباب کے طور پر مندرجہ ذیل کام کئے جاسکتے ہیں۔ ان کا ضرور اہتمام کیجئے۔

1.طہارت وپاکیز گی کا اہتمام رکھیں۔ باوضو رہیں کیونکہ یہ برکت رزق کا باعث ہوا کرتا ہے۔

2.گھر میں مسکرا کر داخل  ہو نا  ۔سلام کر نا اور سورہ اخلاص پڑھنا رزق میں اضافےکا باعث ہے۔

3.پلیٹ جس میں کھا ئیں اسے انگلیوں سے صاف کرنا انگلیاں کھانے کے بعد چاٹنا۔

  1. مجلس یا محفل میں دوسروں کے لئے جگہ کشادہ کرنا بھی رزق میں کشادگی کا باعث ہوتا ہے۔

5.گھرمیں قرآن کریم کی تلا وت رزق میں اضافے  کا سبب بنتی ہے۔

6.فجر کی سنتیں اور عشاء کے وتر گھر پر پڑھنا۔

7.لا حولا ولا قوۃ کا ورد یہ 99 بیماریوں کی دوا ہ ے۔فقر فاقہ سے بچاتا ہے۔ اور  رزق میں وسعت ہو تی ہے۔

8.جمعرات اور جمعے کے دن ناخن کاٹنا۔

9.مسلمان کی مدد کرنا یا اس کی ضرورت پوری کرنے کی کو شش کر نا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا کر نا کہ ربی انی لما انزلت الیہ من خیر ۔ یہ بہت پاور فل کام ہے۔ فوراً امداد غیبی شامل حال ہو کر اس بندے کے رزق میں اضافے کا  سبب بنتی ہے۔

10.درود پاک کا ورد کر نا روزانہ 100مرتبہ یہ بھی رزق میں اضافے  کا باعث ہے۔

11.صد قہ کر نا پانچ شرائط کے ساتھ

حلال مال سے کیجئے۔اچھی نیت کے ساتھ کیجئے۔اچھی جگہ کیجئے۔عمدہ مال سے کیجئے۔نیکی اور احسان جتلائے بغیر کیجئے۔

12.صبر کے ساتھ اللہ کی جانب سے کشادگی کا انتظار کرنا

13.رزق میں کشادگی کے لئے اللہ سے دعا کرتے رہنا

وہ لو گ جو رزق سے محروم نہیں کئے جاتے

حدیث کا مفہوم ہے کہ دو لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی رزق سے محروم نہیں کرتے۔ ایک وہ جو ہمیشہ استغفار کرتا رہے۔ اور دوسرا وہ کہ جس کے دل میں یہ خواہش ہو کہ میں نے ایک اچھا انسان بننا ہے۔ مخلوق کے لئے فائدہ مند بننا ہے۔

  نبی اکرمﷺ نے فر مایا جو لوگوں رشتے داروں اور غریبوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئے۔ اللہ تعالی اس بندے  کی عمر میں برکت عطا فرماتے ہیں۔  اسے بری موت سے بچاتے ہیں۔ اسکے رزق میں برکت عطا فرماتے ہیں۔ اور اسے دولت سے محروم بھی نہیں کرتے۔

رزق میں برکت کے لئے اوراد وظائف

رزق میں وسعت کے لئے اوراد وظائف سے بھی مدد ضرور لینی چاہے۔ ہمارا مزاج ہی الٹا ہے بیمار ہوتے ہیں تو  پہلے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ آرام نہ ہو تو آپریشن تک کروا لیتے  ہیں ۔پھر آخر میں ڈاکٹر کہتا ہے اب اللہ سے دعا کریں۔

 حالانکہ دعا سب سے پہلے کرنے  کی چیز تھی لیکن اس وقت تک ہم بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں ۔سب سے پہلے اوراد وظائف کرنے چاہئیں ۔وہ بھی سچی زبان اور صدق دل کے ساتھ۔ اسکے لئے اول  وآخر درود شریف تین بار اور درمیان میں سو مرتبہ۔ ہر فرض نماز کےبعد یا غنی کا ورد رزق میں فراوانی اور رزق میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

رزق میں  کشادگی کے لئے

رزق میں برکت کے اسباب کے طور پر  حضور ﷺ کا بتا یا ہوا  یہ عمل بڑا موثر اور مجرب ہے۔ ایک صحابی  نے عرض کی یا رسولاللہﷺ دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی ہے۔ تو نبیﷺ نے فر ما یا کہ کیا تمہیں وہ تسبیح یاد نہیں۔ جس سے فرشتوں اور مخلوق کو  رزق اور برکت دی جاتی ہے؟

 جب صبح صادق طلوع ہو تو یہ تسبیح مرتبہ پڑھا کرو۔سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم استغفراللہ ۔تو دنیا تیرے پاس ذلیل ہو کر آئیگی ۔وہ شخص چلا گیا کچھ عرصے بعد لوٹا تو کہا یا رسول اللہﷺ دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی کہ میں حیران ہوں۔ کہ کہاں سے اٹھائوں اور کہاں رکھوں

حرف آخر

تمام احباب سے گزارش ہے کہ  یہ آرٹیکل رزق میں برکت کے اسباب پر ہے۔ اس میں بتائے گئے رزق میں فراوانی یا وسعت رزق کے تمام اوراد وظائف کوضرور اختیار فرمائیں۔ ضرور فائدہ ہو گا انشا اللہ ۔لیکن صرف ایک خال رکھیں ۔کہ کہیں  ہمارے رزق کے پیا لے کے پیندے  میں وہ سوراخ تو نہیں جو ہمارے رزق کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔

 اور نتیجے میں ہم محرومی رزق کا شکار رہتے ہیں۔  پہلے برائے مہربانی ان سوراخوں کو بند کر لیجئے۔  پھر کسی مظلوم کی  ہمارے لئے کی گئی بد دعا تو ہمارے رزق میں رکا وٹ کا باعث تو نہیں۔ کیونکہ حدیث کا مفہوم ہے کہ مظلوم کی بد دعا  سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیں کوئی پردہ نہیں ہوتا ۔

لہذا پہلے حقوق اللہ پورے کریں اور پھر حقوق العباد ۔پھر سچی زبان اور صدق دل کے ساتھ اللہ کریم سے دعا کریں ۔انشااللہ پھر آپ رزق کی حقیقی برکت  وسعت رزق کی لذت کشادگی رزق سے حقیقی طور پر  لطف واندوز ہو سکیں گے۔آخر میں درخواست ہے کہ بندہ نا چیز کو بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں ۔ کہ  اللہ تعالی عمل کی تو فیق عطا فر ما ئے۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.