عرب اسرائیل جنگوں کی مکمل تاریخ اور حماس کا قیام

عرب اسرائیل جنگ

اس آرٹیکل میں آپ عرب اسرائیل جنگوں کی مکمل تاریخ کا مطالعہ کر سکیں گے اور حماس کے قیام اور مقاصد سے بھی مکمل آگاہی کر سکیں گے۔

پہلی عرب اسرائیل جنگ

14 مئی 1948 کو یہودیوں نے یکطرفہ اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا اور 15 مئی کی صبح مصر ، اردن اور عراق کی مشترکہ افواج نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے اپنی افواج فلسطین میں بھیج دیں۔

یہودیوں کا خواب تھا ایک گریٹر اسرائیل کا قیام اور عربوں کا ارادہ تھا یروشلم پر قبضہ کر کے اس نوزائیدہ ریاست کا قصہ ہی ختم کر دیا جائے۔

اسرائیلی افواج اگرچہ تعداد میں کم تھیں مگر وہ امریکی جدید ہتھیاروں سے لیس تھیں اور بہت سارے فوجی ورلڈ وار دوم لڑ چکے تھے اس لئے انھوں نے کامیاب مزاحمت کی۔ یہ جنگ چھ روز جاری رہی ، عرب افواج نے جن میں سعودی عرب کا دستہ بھی اب شامل تھا نے بیت المقدس ، غزہ اور وسطی فلسطین کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تاہم باقی سارے فلسطینی علاقے اسرائیلی قبضے میں چلے گے۔

عرب اسرائیل جنگ
پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیلی اپنے پرچم کو بلند کرتے ہوئ

اقوام متحدہ نے اسرائیل کو 56 فیصد رقبہ دیا تھا مگر پہلی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اسرائیلیوں کے پاس 80 فیصد رقبہ آ گیا اور انھوں نے 8 لاکھ فلسطینیوں کو جلا وطن کر کے ان کی املاک پر قبضہ کر لیا۔

سلامتی کونسل کے حکم پر 11 جون 1948 کو جنگ بندی کی گئی اور 1949 میں پہلا عرب اسرائیل امن معاہدہ ہوا ، 11 مئی 1949 کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بنا دیا گیا مگر خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی نہ بنایا گیا۔

1950 کی دہائی میں مصر میں جمال عبدالناصر نے فوجی حکومت قائم کی۔ مصر پہلی عرب اسرائیل جنگ کا شکست خوردہ تھا اور وہ اب اس کا انتقام لینا چاہتا تھا۔ اسرائیل کے قیام کے بعد عربوں میں عرب پان ازم کی تحریک چلی اور ان میں فوجی و سیاسی اتحاد تشکیل ہوئے۔ ان کا مشترکہ نشانہ اسرائیل تھا مگر امریکی و یورپی پشت پناہی کی وجہ سے وہ اس میں ناکام ہو رہے تھے۔

سوئز کنال پر جھگڑا دوسری عرب اسرائیل جنگ کی وجہ بنا :

سوئز کنال یورپ کو ایشیا سے ملانے والی کی اہم ترین آبی تجارتی راہداری ہے ، ناصر کے زمانے میں اس پر فرانسیسی و برطانوی کمپنیوں کی اجارہ داری تھی۔

ناصر نے برطانیہ سے اصرار کیا کہ وہ سوئز کنال پر سے برطانوی فوج کو ہٹا دے اور اسے مصر کی زیر سرپرستی میں دیا جائے۔ ناصر نے اسوان ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہوا تھا اور اسرائیلیوں کو اس ڈیم پر بھی شدید تحفظات تھے۔

برطانیہ نے فرانس اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک فوجی اتحاد بنایا۔ فرانس اس اتحاد میں اس لئے شامل ہوا کہ مصر الجیریا جو کہ ابھی فرنچ کالونی تھا وہاں کے باغیوں کی مدد کرتا تھا جبکہ اسرائیلی اسوان ڈیم کی تعمیر روکنا چاہتے تھے اور برطانیہ والے سوئز کنال پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

جولائی 1956 میں جمال عبدالناصر نے سوئز کنال کو قومی ملکیت کا اعلان کر دیا اور یورپی کمپینوں کو بے دخل کر دیا یہیں سے ایک اور جنگ کا آغاز ہوا ہے۔

دوسری عرب اسرائیل جنگ:

29 اکتوبر 1956 کو اسرائیل نے اس جنگ کا آغاز کیا اور بیک وقت مصر کے قبضے میں غزہ اور صحرائے سینا پر حملہ کر کے اپنا تسلط جما لیا۔ دو دن بعد برطانیہ اور فرانس کے فوجی دستے بھی متحرک ہوئے اور انھوں نے مصر کی پورٹ سعید اور پورٹ فہد پر قبضہ کر لیا۔ ممکن تھا اتحادی سارے مصر پر قبضہ کر لیں تاہم سویت یونین جو کہ مصر کا اتحادی تھا اس کی دھمکی کی وجہ سے وہ اس منصوبے سے باز رہے۔

امریکی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی ، اس شرط پر سوئز کنال مصر کے حوالے کی گئی کہ وہ اس کو کبھی بند نہیں کرے گا اور اسرائیلی جہاز وہاں سے گزر سکیں گے۔ نہر سوئز ، صحرائے سینا اور غزہ اسرائیل سے واگزار کروا لئے گے۔

کیا مصری افواج بہادری سے نہ لڑی؟ مصری افواج نے بھرپور مذمت کی اور تابڑ توڑ جواب دیا تاہم مصر کی فضائیہ صرف 45 منٹ میں اسرائیلی فضائیہ کے آگے ناکام ہو گئی جس سے اتحادی افواج کو فضائی برتری ملی اور ان کی زمینی افواج ہر سٹریٹجک لوکیشن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوتی گئیں۔

جمال عبدالناصر کی ساکھ جنگ ہارنے سے خراب نہ ہوئی بلکہ وہ مرد بحران بن کر ابھرے کیوں کہ امریکہ نے پہلی بار تاریخ میں برطانیہ کے اس حملے کی مذمت کی اور ان کا ساتھ نہیں دیا نیز سوئز کنال بھی جنگ بندی کے بعد ان کے کنٹرول میں آ گئی تھی۔ جمال جو جنگ میدان میں ہار گے وہ کسی حد تک مذاکرات کی میز پر جیت گے۔

فلسطین لبریشن فرنٹ کا قیام : PLO

 انیس سو چونسٹھ میں پہلے عرب سمٹ قاہرہ میں ہوئی جس میں فلسطین لبریشن فرنٹ آرگنائزیشن (پی ایل او) کو قائم کیا گیا۔ یہ تنظیم فلسطین کے پناہ گزین رہنماؤں پر مشتمل تھی جو فلسطین کی آزادی کےلئے سرگرم تھے۔ اس تنظیم کو 13 عرب ملکوں کے سربراہان نے ملکر فلسطین کی نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

اس تنظیم سے پہلے فلسطین کی آزادی کےلئے 06 فلسطینی گروہ سرگرم تھے ، ان سب کو ضم کر کے یاسرعرفات  کو سربراہ تنظیم بنایا گیا۔

یاسر عرفات : فلسطین لبریشن فرنٹ کے صدر

یاسر عرفات
فلسطینی صدر یاسر عرفات اقوام متحدہ سے 1974 میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے

  انیس سواڑسٹھ میں یاسر عرفات فلسطین لبریشن فرنٹ  کے صدر منتخب ہوئے اور ان کا گروہ الفتح فلسطین لبریشن فرنٹ کا سب سے متحرک گروہ بن گیا۔

فلسطین لبریشن فرنٹ (پی ایل او)  نے یاسر عرفات کی سربراہی میں 33 آرٹیکل پر مشتمل ایک آئین بنایا تھا جس میں اس کے قیام کے اغراض و مقاصد واضح تھے کہ وہ اسرائیل کو نیست و نابود کریں گے اور ماضی کے فلسطین کا احیاء کریں گے۔

فلسطین لبریشن فرنٹ  نے سب سے پہلے اردن میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا مگر جلد ہی شاہ اردن اور ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور انھیں وہاں سے جلاوطن کیا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے یاسر عرفات نے لبنان میں اپنا ہیڈکوارٹر منتقل کیا مگر ان کی وجہ سے وہاں مسلکی نفرت پر مبنی سول وار چھڑ گئی۔

بعدازاں فلسطین لبریشن فرنٹ  اپنی جارحانہ کاروائیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ 1972 میں میونخ اولمپک میں  کی کاروائی سے 12 اسرائیلی اتھلیٹ مارے گے۔ پی ایل او نے مختلف اوقات میں اسرائیل کے پانچ ہوائی جہاز ہائی جیک کئے اور ہائی پروفائل فلسطینی قیدیوں کو آزاد کروایا۔

  انیس سور چوہتر میں پی ایل او  کو عرب لیگ میں ممبر شپ دی گئی مگر مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد ان کی ممبر شپ منسوخ کر دی گئی۔

  انیس سو بیاسی میں اسرائیل نے لبنان کے دارلحکومت بیروت کا محاصرہ کر لیا کیوں کہ اب وہاں پی ایل او  کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ ایک معائدے کے بعد پی ایل او نے اپنا ہیڈ کوارٹر وہاں سے تیونس منتقل کر دیا اور اسرائیلی لبنان سے واپس چلے گے۔

یہاں سے یاسر عرفات کی کرشماتی شخصیت اور ان کی امن کوششوں کا آغاز ہوتا ہے تاہم اس سے پہلے ہم واپس 60 اور 70 کی دہائی میں چلتے ہیں جہاں ابھی دو جنگیں ہونا باقی ہیں۔

تیسری عرب اسرائیل جنگ : چھ روزہ لڑائی

دوسری عرب اسرائیل جنگ کے بعد مصر کے جمال عبدالناصر مرد بحران بھر کر ابھرے تھے ۔ 1958 میں مصر اور شام نے ایک گرینڈ الائنس بنام یونائٹڈ عرب ری پبلک قائم کیا تاہم یہ الائنس شام نے 1961 میں توڑ دیا کیونکہ مصری فیصلہ سازی میں یکطرفہ کردار ادا کرتے تھے۔

1960 کی دہائی میں سویت یونین نے مصر کی وسیع فوجی مدد کی ، ان کی فضائیہ جو دوسری جنگ میں تباہ ہو چکی تھی انھیں از سر نو تعمیر کیا۔ 1966 تک فلسطینی مزاحمت کار بھی اسرائیل کےلئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکے تھے۔ انھیں جب بھی موقع ملتا وہ اسرائیلی افواج پر حملے کر دیتے تھے۔

تیسری عرب اسرائیل جنگ کیسے شروع ہوئی ؟

اسرائیل نے نومبر 1966 میں اردن کے زیر انتظام ایک فلسطینی گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا جس میں اٹھارہ شہادتیں ہوئیں اور عرب دنیا میں اسرائیل کے خلاف غم و غصہ کی نئی لہر اٹھی۔

1967 میں سویت یونین نے مشتبہ رپورٹ دی کہ اسرائیل شام کے خلاف ایک بڑی فوجی کاروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ اپریل 1967 میں اسرائیلی اور شامی فضائیہ کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس میں شام کے چھ طیارے گرا دیے گے۔

مصر نے شام کی کوئی مدد نہ کی حالانکہ مصر کے صدر جمال عبدالناصر اعلان کر چکے تھے وہ اپنے ہر عرب بھائی کی مدد کریں گے۔ جب تنقید بڑھنے لگی تو مئی 1967 میں جمال عبدالناصر نے صحرائے سینا میں فوج کی پیش قدمی شروع کروا دی۔ 18 مئی کو جمال عبدالناصر نے اقوام متحدہ کی امن فوج جو صحرائے سینا میں تعینات تھی ان کو راستے سے ہٹنے کی درخواست دی اور 22 مئی کو اسرائیلی بحری جہازوں کےلئے خلیج عقبہ بند کر دیا۔

30 مئی 1967 کو مصر ، شام ، اردن اور عراق نے نیا فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

پانچ جون کو اسرائیل نے جنگ کا آغاز خود ہی کیا اور مصر کے ائیر بیس پر حملے کر کے ان کے 90 فیصد طیارے تباہ کر دیے۔

تین دن کے اندر اسرائیل نے غزہ اور نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے تک جزیرہ نما سینا کا سارا علاقہ فتح کر لیا۔

اردن نے جب مغربی یروشلم پر شیلنگ کا آغاز کیا تو اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن کے زیر انتظام فلسطینی علاقے بمعہ بیت المقدس بھی ان سے چھین لیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 7 مئی کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی جسے عرب دنیا نے فوراً تسلیم کر لیا کیوں کہ وہ اس جنگ میں بری طریقے سے شکست کھا چکے تھے۔

اس جنگ میں مصر میں تقریباً 11 ہزار، اردن میں چھ ہزار اور شام میں ایک ہزار اموات ہوئیں اور اسرائیل میں 700 لوگ مارے گئے۔

پاکستانی فائٹر پائلٹ سیف الاعظم اور ان کے ساتھی عرب اسرائیل جنگ میں :

پاکستانی پائلٹ جنہوں نے یوم کپور جنگ میں حصہ لیا
پاکستانی پائلٹ جنہوں نے یوم کپور جنگ میں حصہ لیا

اس جنگ میں پاکستانی فضائیہ کے جانبازوں نے بھی شرکت کی۔ اسرائیل نے مصر کی فضائیہ تو مکمل تباہ کر دی مگر عراق اور اردن کی فضائیہ پاکستانی فائٹر پائلٹ نے ہی بچائی۔ پاکستانی ہوا بازوں نے مجموعی طور پر پانچ اسرائیلی جہازوں کو مار گرایا اور اسرائیل کی جارحانہ فضائی کارروائی میں شدید مشکلات کھڑی کی تھیں۔ ان کے کئی جارحانہ حملوں کو پاکستانی جانبازوں نے پسپا کیا تھا۔

چوتھی عرب اسرائیل جنگ : یوم کپور کی لڑائی

یوم کپور جنگ
یوم کپور جنگ ، جب مصری توپوں ے زبردست گولہ باری کی۔

تیسری عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے مصر ، اردن اور شام کے اکثریتی علاقے مثلاً صحرائے سینا ، بیت المقدس ، بولان کی پہاڑیاں اور مغربی کنارہ پر بھی اپنا تسلط کر لیا تھا۔ درحقیقت اب فلسطین کے قیام کےلئے کوئی رقبہ ہے نہیں بچا تھا۔

عربوں کو چھ روزہ جنگ کی ذلت آمیز شکست کا بدلہ بھی لینا تھا لہذا انھوں نے خفیہ طور پر وسیع پیمانے پر جنگی تیاریاں کیں دوسری جانب اسرائیلی عربوں کو تین جنگوں میں شکست دینے کے بعد قدرے مغرور ہو چکے تھے اور انھوں نے امریکہ کی اینٹی ٹینک ٹیکنالوجی کی پیش کش کو بھی رد کر دیا تھا۔ اسرائیلیوں کو لگتا تھا مصر جو سب سے بڑا دشمن ہے ، اس کی فضائیہ اگلے دس سالوں تک مستحکم نہ ہو سکے گی۔

مصر میں اب انور سادات کی حکومت تھی اور انھوں نے اسرائیل سے بدلہ لینے کےلئے وسیع پیمانے پر خفیہ تیاری کر رکھی تھی۔ اس جنگ کےلئے یہودیوں کا مقدس دن یوم کپور منتحب کیا گیا تھا۔

چوتھی عرب اسرائیل جنگ کا آغاز:

چھ اکتوبر 1973 کو جب یہودی یوم کپور کا جشن منا رہے تھے دوپہر دو بجے مصر نے اسرائیل پر پہلا فضائی حملہ 240 طیاروں کے ساتھ کیا۔ اسی کے ساتھ 2000 ٹینک اور 1000 توپیں بھی اسرائیل کی طرف گولہ باری کرنے لگے تھے۔

مصر نے سب سے پہلے اسرائیل کے زیر تسلط صحرائے سینا پر حملہ کیا اور محض دس گھٹنوں میں یہ صحرا فتح کر لیا ۔ مصریوں کا یہ جارحانہ روپ اسرائیلیوں کےلئے بےحد بھیانک تھا۔

اسرائیل نے صحرائے سینا میں جوابی حملہ کیا مگر وہ ناکام ہوئے ، اب کی بار پاکستانی فضائیہ جہانبازوں کی مدد سے مصری افواج کا فضائی دفاع ناقابل تسخیر تھا اور یہ اسرائیلیوں کےلئے مزید ذلت کا سبب بنا۔

آٹھ اکتوبر کو اسرائیل کا دوسرا جارحانہ حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے مصر نے جو مضبوط حملہ کیا ، اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مئیر خودکشی کرنے کا سوچنے لگیں اور موشے دایان وزیر جنگ استعفیٰ دینے لگے تھے کیوں کہ ان کے سب مفروضے غلط ثابت ہوئے تھے۔

14 اکتوبر کو اس وقت اسرائیلیوں کی جان میں جان آئی جب بار لیو لائن کی لڑائ میں انھیں جیت ہوئی اور مصر دفاعی پوزیشن پر چلا گیا۔ اسرائیلیوں نے مصر پر اب بڑا مضبوط حملہ کیا اور وہ قاہرہ کے گردونواح میں لڑائی کو لے گے تھے مگر 22 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی کا اعلان کروایا گیا تھا۔

یہ ان چار جنگوں میں پہلی جنگ تھی جب اسرائیل کے چھکے چھوٹے اور ان کو معلوم ہوا عرب اتحاد ان کی سالمیت کےلئے عزرائیل ثابت ہو سکتا ہے۔

اب یہاں سے مصر اور اسرائیل کی امن کوششوں کا آغاز ہوتا ہے جو 1982 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی شکل میں ظاہر ہوا اور فلسطینی مزاحمت کار اپنی جنگ لڑنے کےلئے اکیلے رہ گے تھے۔

چوتھی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کو یہ احساس ہوا کہ مسلہ فلسطین جب تک حل نہیں ہو گا اسرائیل کے خلاف عرب جنگی کاروائیاں کرتے رہیں گے لہذا انھوں نے عربوں اور اسرائیل کے درمیان طویل مذاکراتی دور شروع کروا دیا۔ امریکہ عربوں کے تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا ۔

مصر اسرائیل امن معاہدہ:

عرب اسرائیل جنگ
مصری افواج اسرائیل سے اپنی سرزمین کا قبضہ واپس لیتے ہوئے۔

1977 میں مصر کے صدر انور السادات نے اسرائیل کا دورہ کیا ، 1978 میں کیمپ ڈیوڈ میں مذاکرات ہوئے ، 1989 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدہ ہوا ۔ 1982 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت مصر نے اسرائیل کو ایک خودمختار ملک تسلیم کر لیا اور اسرائیل کے زیر تسلط صحرائے سینا کا قبضہ واپس پایا۔ یہ اور بات کہ ان مذاکرات کےلئے انور السادات کو اپنی جان دینی پڑی ، وہ 1981 کو قتل کر دیے گے تھے۔

یاسر عرفات جنہیں امن نوبل ایوارڈ سے نوازا گیا :

انور السادات کے بعد یاسر عرفات دوسرے رہنما تھے جو اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کا پرامن حل چاہتے تھے۔

1974 میں یاسر عرفات نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سربراہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں تاریخی خطاب کیا اور کہا “میرے ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ ہے اور دوسرے ہاتھ میں آزادی کےلئے پستول” ۔ یعنی امن یا جنگ ہم دونوں کےلئے تیار ہیں۔

اگلے دس سالوں میں یاسر عرفات نے PlO کو ایک پرامن تنظیم بنایا اور اسے فلسطین کی حقیقی نمائندہ تنظیم بنایا جسے اقوام متحدہ ، عرب دنیا اور یہاں تک کہ اسرائیل نے بھی تسلیم کر لیا تھا۔

نومبر 1988 میں یاسر عرفات کو اس وقت بڑی ڈپلومیٹک کامیابی ملی جب اقوام متحدہ کی جزل اسمبلی نے قرارداد نمبر 181 کو پاس کیا جس میں اسرائیل فلسطین کی تقسیم پلان 1947 کا احیا کیا گیا۔ یاسر عرفات نے فلسطین ریاست کے قیام کا اعلان کیا جس کے ابھی تک سرحدیں واضح نہیں تھیں تاہم اس نئی ریاست کو چند ہی دنوں میں 25 ملکوں نے تسلیم کر لیا تھا۔

1991 میں میڈرڈ امن مزاکرات فلسطینی سربراہ یاسر عرفات ، اردن اور اسرائیل کے درمیان ہوئے جو اسرائیل فلسطین کی سرحد کی نشاندھی کےلئے رکھے گے تھے مگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے۔

جنوری 1993 میں امریکہ کی زیر سرپرستی فلسطینی تنظیم PLO اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدہ طے ہوا۔ PLO نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا جبکہ اسرائیل نے PLO کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ پر PLO کی حکومت تشکیل دی گئی جس کے صدر یاسر عرفات منتخب ہوئے۔ یاسر عرفات کو فلسطین اتھارٹی کا پہلا صدر منتخب ہونے کا اعزاز ہے۔

1995 میں فلسطین کے یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر خارجہ شیمن پیری کو امن کے نوبل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 1995 میں ہی ایک اور معائدہ ہوا تھا کہ اسرائیل وہ تمام فلسطینی بستیاں خالی کرے گا جہاں اس کا غاصبانہ قبضہ ہے ، مہاجر فلسطینیوں کی آباد کاری کی جائے گی۔ 1994 میں فلسطین اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا جو ایک طرح سے نیم خودمختار فلسطینی حکومت تھی۔

1996 میں فلسطین اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں پہلے فلسطینی جمہوری الیکشن ہوئے جن میں یاسر عرفات نے واضح اکثریت حاصل کی اور وہ فلسطین اتھارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔

اسرائیلی وزیراعظم رابن نے فلسطین کے قیام کےلئے کافی لچک دکھائی تھی اور عنقریب مسلہ فلسطین مکمل طور پر حل بھی ہو جاتا تاہم 1996 میں ہی انھیں مذہبی دہشت گرد نے ہلاک کر دیا اور بنجمن نیتن یاہو نیا وزیراعظم منتخب ہو گیا جو اس سارے عمل کا مخالف تھا لہذا وہ رابن کے عرفات کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور معاہدوں سے مکرتا گیا۔

حماس فلسطین کی ایک بےمثال حریت تنظیم:

حماس کا قیام :

حماس 1987 میں شیخ احمد یاسین نے اس وقت قائم کی گئی جب فلسطین لبریشن فرنٹ PLO نے مزاحمت کا راستہ ترک کے امن مزاکرات کے دور شروع کر دیے تھے۔ حماس نے PLO کی سیکولر خیالات کی مذمت کی اور اسرائیل کے خلاف وہ جنگی کاروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا جسے PLO نے یاسر عرفات کی سربراہی میں ترک کر دیا تھا۔

حماس کا تنظیمی ڈھانچہ :

حماس نے اپنے تنظیمی ڈھانچہ کو بہت موثر تشکیل دیا تھا۔ انھوں نے اپنے لیڈرز اسرائیل کی پہنچ سے دور رکھے ، حماس کا پہلا سیاسی دفتر اردن میں قائم کیا گیا اور ملٹری ونگ “قاسم فورس” کے نام سے تشکیل دیا۔

1999 میں حماس کو اردن سے سیاسی بنیادوں پر نکال دیا گیا تو وہ شام منتقل ہوئے اور اب 2012 سے وہ قطر سے اپنا سیاسی معاملات چلا رہے ہیں۔

بیت المقدس پر قبضہ:

اسرائیلی فوج کے ناپاک عزائم

بیت المقدس مسلمانوں کےلئے ایک مقدس مسجد ہے۔ اسرائیل نے بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے تقسیم فلسطین پلان کے مطابق بیت المقدس ( یروشلم سٹی ) کو ایک بین الاقوامی شہر کا درجہ حاصل تھا اور اسرائیل بیت المقدس پر اپنا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا مگر اب عملاً بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔

2000 میں اسرائیلی افواج نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جسے حماس کے مجاہدین نے ناکام بنا دیا۔ 2005 تک حماس نے اسرائیلی افواج کو ہر جگہ نشانہ بنایا ، وہ اس مقصد کےلئے خودکش حملوں کو بھی ترجیح دیتے رہے ہیں۔

2005 میں حماس اور اسرائیل کے براہ راست مذاکرات ہوئے اور اسرائیل نے کچھ فلسطینی علاقے خالی کر دیے اور غزہ سے بھی اپنی فوج ہٹا دی جس کے بعد حماس نے سیز فائر کیا۔

2006 میں فلسطین لیجسلیٹو کونسل کےلئے الیکشن ہوئے اور حماس نے ناقابل یقین طور پر

الفتح کے مقابلے پر کامیابی حاصل کی۔ حماس اور الفتح نے اتحادی حکومت قائم کی مگر جلد ہی دونوں میں تنازعہ پیدا ہو گیا۔ جون 2007 میں حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنا کنٹرول قائم کر کیا اور الفتح نے مغربی کنارہ پر اپنی حکومت قائم کر لی ۔ یعنی ابھی فلسطین بھی دو نیم خودمختار حکومتوں میں تقسیم ہے۔

فلسطین کا موجودہ مزاحمتی گروپ حماس ہے جسے ایران کی مدد بھی حاصل ہے ، ایران سالانہ 200 ملین ڈالر تک حماس کو مدد فراہم کرتا ہے ۔ محمود عباس 2012 میں حماس اور الفتح نے مل کر فلسطین اتھارٹی کے صدر تو بنائے تھے لیکن ان کا اصل اقتدار صرف مغربی کنارہ تک محدود ہے ۔ غزہ کے تمام معمالات حماس کنٹرول کر رہی ہے۔

حماس اسرائیل جھڑپیں:

2007 میں جب حماس نے غزہ کی پٹی پر اپنا قبضہ قائم کیا تو اسرائیل نے اسے تسلیم نہیں کیا اور اس علاقے کو hostile territory قرار دے دیا۔ اسرائیل نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی بجلی ، فوڈ سپلائی چین اور بارڈر بند کر دیے اور حماس نے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ برسانے شروع کر دیے۔ 2008 میں ایک امن معاہدہ پر دستخط بھی ہوئے لیکن یہ معاہدہ کامیاب نہ ہوا۔ اسی سال اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملہ کیا اور ایک ہزار فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔

14 نومبر 2012 کو بھی اسرائیل نے غزہ پر پھر سے فضائی حملہ کیا جو 21 نومبر کو حماس اسرائیل سیز فائر کے بعد ختم ہوا۔

جون 2014 میں دو اسرائیلی باشندے مغربی کنارے میں گھومتے ہوئے غائب ہوئے ، اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے حماس پر اغوا کا الزام لگایا اور مغربی کنارہ میں بھرپور آپریشن کر کے ہزاروں فلسطینوں پر ظلم ڈھایا ۔ یہ لڑکے بعد ازاں مردہ پائے گے تھے۔ 30 جون 2014 کو حماس نے مغربی کنارے پر ظلم کے بدلے سیز فائر معاہدے کو توڑا اور اسرائیل پر راکٹ برسائے۔ 8 جولائی کو اسرائیل نے غزہ پر فضائی اور زمینی حملہ کر کے ہزاروں فلسطینوں کو بےگھر کر دیا تھا۔

حماس نے جب پانچ ہزار راکٹ ایک ساتھ برسائے:

حماس اور اسرائیل کے درمیان کئی مرتبہ کشیدگی ہوئی ہے جس میں سب سے خطرناک حملہ حماس نے 8 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیا ہے۔ حماس نے صبح 6:30 پر پانچ ہزار راکٹ ایک ساتھ اسرائیل پر برسائے، ان کا ائیر ڈیفنس سسٹم ناکارہ ہو گیا اور تقریباً 700 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ جواباً اسرائیل نے غزہ پر ایک جنگی فضائی حملہ کیا ہے اور غزہ کی تمام علاقوں بشمول ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور یہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ صرف ایک ماہ میں 8 ہزار فلسطینی شہید کر دیے گے ہیں جن میں 3 ہزار کے قریب بچے ہیں۔ تقریباً 1400 اسرائیلی بھی اس جنگ میں مارے گے ہیں اور یہ لڑائی ابھی تک جاری ہے۔

فلسطین اسرائیل تنازعہ کا ممکنہ حل:

سب سے پہلے تو اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی کرنی چاہیے اور غزہ کے بند بارڈرز کھولنے چاہیے تاکہ انسانی امداد غزہ میں پہنچائی جا سکے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ 1947 کا اقوام متحدہ کا تقسیم پلان کے مطابق اپنی حدود متعین کرے اور فلسطین اتھارٹی کو وہ ساری فلسطینی گاؤں اور قصبے واپس کرے جہاں اس کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ اس تاریخی تنازعہ میں اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک واضح سرحد ہونی چاہیے اور فلسطین کو خودمختار آزاد ریاست تسلیم کرنا چاہیے۔

فلسطین کی پرانی تاریخ پڑھیے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*