مزاج کیاہے؟کیااسے بہتر بنایاجاسکتاہے؟(حصہ اول)

مزاج کیا ہے؟

مزاج کیاہے؟ مزاج کے لفظی معنی آمیزش، فطرت اور خصلت  کے ہیں ۔ طب کی اصطلاح میں مزاج اس کیفیت کا نام ہے، جودو یا زیادہ چیزوں کے آپس میں ملنے سے پیداہوجاتی ہے۔ یعنی انسان کا وجودجن چار عناصر سے مل کربنا ہے۔ ان عناصر اربعہ آگ ،ہوا، مٹی اور پانی یا  دوسرے عنوان سے خون، بلغم، سودااور صفرا کے باہم ملنے سے جو کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اسے حکمت کی اصلاح میں مزاج کہا جاتاہے۔ان عناصر کی آمیزش سے کل چار مزاج گرم خشک۔ گرم تر۔ سردخشک اور سرد تروجود میں آتے ہیں ۔زیرمطالعہ مزاجوں کا تعلق حیاتیات اور طب یونانی سے ہے۔ تاہم ان مزاجوں کے اثرات انسان کے جذبات اور اس کی نفسیات پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

علم نفسیات/سائیکالوجی کی اصلاح میں مزاج انسان کی فطرت یا اس کی پیدائشی خصلت کا نام ہے۔ جودنیا کوکسی بھی طرح کا ردعمل دیتے ہوئے یا رویہ اپناتے ہوئے مستقل طورپراس کے کام آتاہے۔ دوسرے الفاظ میں مزاج لوگوں سے برتاو میں ہمارا وہ مستقل رویہ ہوتا ہے، جس کے لئے ہمیں سوچنا نہیں پڑتا۔بلکہ وہ ازخود محرک کے طورپر  وجود میں آتا ہے۔ مزاج کا ابتدائی خاکہ موروثی طور پر پیدائش کے وقت اور شیرخوارگی کے زمانے میں ہی متعین ہوجاتاہے۔ جو بعد کے زمانے میں بہت زیادہ نہیں  بدلتانہیں ۔البتہ وقت گزرنے اور پیش آنے والے حالات وواقعات کے نتیجے میں وہ پروان چڑھتارہتاہے۔ہاں شعور کی سطح  ارادتا اپنے مزاج کو بہتربنانے پر کام کیا جائے، تواپنے مزاج  کو بہتر بناکر اس کے برے اثرات سے دوسروں کو بچایا جاسکتاہے۔بلکہ کسی حد تک اس کو خوشگوار اور بہتربنانے میں کامیابی بھی مل سکتی ہے۔

مزاج کیا ہے؟  

جیساکہ ذکر ہواکہ مزاج  انسان کے مستقل رویے کا نام ہے۔ جو کسی بھی طرح کے ردعمل میں کلیدی کردار ادا کرتاہے۔ اس کو سائیکالوجی کی اصطلاح میں ٹمپرامنٹ کہا جاتاہے۔ علم  نفسیات کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتاہے۔ کہ مزاج کے قریب ترین کچھ اور بھی ایسے رویے ہیں۔ جو اس سے ملتے جلتے ہیں ، مثلا رویہ، موڈ اور  طرزعمل اس میں شامل ہیں۔ 

تاہم مزاج جس کو انگریزی میں  ٹمپرامنٹ کہا جاتاہے اور موڈ میں فرق یہ ہے، کہ  موڈ وقتی اور عارضی رویے کا نام ہے جو مصنوعی بھی ہوسکتاہے اور اس کو اختیار کرنے کے لئے انسان کو سوچنا اور تکلف کرنا پڑسکتا ہے۔ جبکہ مزاج اس مستقل اوراز خود انسان پر  طاری ہونے والے رویے کا نام ہے جس کے لئے اسے سوچنا نہیں پڑتا۔

:مزاج کی چار قسمیں

جس طرح طب یونانی میں انسان کے مزاج کی چار قسمیں بتائی گئیں۔ اسی طرح جذباتی اور  نفسیاتی طور پر بھی انسانی مزاج کی چار قسمیں ہوتی ہیں۔ جو سینگوئن، کالرک، میلن کالک اورفلیگ میٹک کے نام سے علم نفسیات میں مشہور ہیں۔ ذیل میں ان چاروں قسموں کی مختصر تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ 

:سینگوئن

اس مزاج کے لوگوں کی پہچان یہ ہوتی ہے۔ کہ  وہ زندگی کے ہر معاملے میں پرجوش نظر آتے ہیں۔ خوب باتیں کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور سماجی طورپربھی  بہت زیادہ متحرک نظرآتے ہیں۔ان کی زندگی میں دلکشی ہوتی ہے جس کی طرف لوگ کھنچتے ہیں۔ وہ زیادہ تر لوگوں میں رہنا اور لوگوں سے تعلقات بنانا اور لوگوں کےکام آنا پسند کرتے ہیں۔ یہ الگ تھلگ نہیں رہ سکتے ، بلکہ زندگی میں رسک لینا اور آگے بڑھ کر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔

 :کالرک

اس مزاج کے لوگ بھی ہمیشہ باہر رہنا اور لوگوں سے میل جول میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔خود مختار رہنا، مقصد کی زندگی جینا اور ہر وقت پرجوش رہنا ان کو پسند ہوتاہے۔  یہ خصوصیات اس مزاج کے لوگوں کو قدرتی طورپر لیڈر کا رول عطاکرتی ہیں۔ کالر ک مزاج کے لوگ فطری طورپر  سخت مزاج، پرتشدد اور انتقام لینے والے ہوتے ہیں۔ مزید پڑھنے کے لئے کلک کیجئے۔

 :میلن کالک  

میلن کالک مزاج کے حامل افراد عموما تجزیاتی فکر کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز میں تفصیل چاہتے ہیں اور چیزوں کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ گہری سوچ کے مالک اور بڑےحساس ہوتے ہیں۔یہ تنہارہنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور مجمع  سے تھوڑا کتراتے ہیں۔  میلن کالک مزاج کے مالک لوگ خودانحصار اور گہری سوچوں کے مالک ہوتے ہیں ۔ یہ کچھ شرمیلے سے اور فکرمندی  سے بھرپورہوتے ہیں۔یہ اپنی ذات،  اپنے کاموں اور  ماحول میں پرفیکشن کو پسند کرتے ہیں۔ جو ان کو نفاست پسندی اور تفصیل سے چیزوں کو سمجھنے کا ذوق عطا کرتی ہے۔

:فلیگ میٹک

اس مزاج کے حامل افراد ہمیشہ پرسکون، خاموش اور آرام سے رہنا پسند کرتے ہیں۔وہ دوسروں کے ہمدرد ہوتے ہیں اور دوسروں کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے ہوتے ہیں۔  اس مزاج کے لوگ اپنے جذبات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیز یہ لوگ عام طور پرنئے آیڈیازپرکام کرتے ہیں۔

اچھا مزاج کیاہوتاہے؟

 مزاج کی بنیادی قسمیں اور ہرمزاج کے حامل لوگوں کی علامات وخصوصیات ذکرکرنے کے بعد  ضروری ہے کہ ہمیں یہ بھی  معلوم ہو کہ اچھا مزاج کیساہوتاہے؟ اور اس کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں؟تاکہ ہم میں سے ہرایک شعوری سطح پر اپنے مزاج کی بہتری پر کام کرسکے۔ اور اسے اچھا بنانے کی شعوری  کوشش کرسکے۔ اچھے مزاج کی کیفیت   کو خوش مزاجی کانام دیا جاتاہے۔ 

خوش مزاج لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو مائنڈ نہیں کرتے۔ اپنے غصہ پر کنٹرول رکھنا اور ہر حال میں خوش رہنا اور زندگی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے ہینڈل کرنا جانتے ہیں۔ وہ سلیقہ مند ہوتے ہیں اور چڑچڑاپن سے دوررہتے ہیں۔ ان کی زندگی میں کوئی مشکل بھی پیش آجائے  تواسے اپنی خوش مزاجی کے پردے میں چھپا دیتے ہیں۔ ذیل میں خوش مزاجی کی کچھ علامات لکھی جاتی ہیں۔ جن کو پیش نظر رکھ کر ہم اپنے مزاج کو خود  چیک کرسکتے ہیں یا کسی سے چیک کرواسکتے ہیں کہ میرامزاج اچھا ہے یا نہیں؟

:اچھے مزاج کی پہچان

۔   اچھے مزاج کی پہلی علامت یہ ہے کہ انسان خوش طبع ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو برانہیں مناتا،بلکہ  نظرانداز کرکے بڑے مقصد کی طرف آگے بڑھتا رہتاہے۔وہ  صبر وشکر کے ساتھ ہرحال میں خوش رہنے کا گر جانتاہے اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہر وقت سجی رہتی ہے۔

۔ اچھے مزاج کی دوسری علامت یہ ہے کہ خوش مزاج آدمی  اپنے غصے پر کنٹرول رکھتاہے۔ اور اسے چینلائز کرتاہے۔ غصہ آنا فطری بات ہے ہرانسان کو غصہ آتا ہی ہے۔ لیکن اپنے غصے کی سزا سے دوسروں کو محفوظ بنانا بلکہ غصے کی کیفیت کو ہلکی پھلکی مسکراہٹ کے لبادے میں چھپادینا اچھے مزاج  کا کمال ہوتاہے۔

۔ خوش مزاج آدمی حال میں جینے کا سلیقہ جانتاہے۔ وہ ماضی کے واقعات سے ڈپریشن لینے اور مستقبل کے اندیشوں اور فکرمندیوں سے نجات پالیتاہے۔ وہ  ہرحال میں اپنے آپ کو اللہ کی بے شمار نعمتوں میں محسوس کرتاہے۔ان نعمتوں کااحساس وادراک  قلبی کیفیات کے ساتھ کرتاہے، اور اظہار تشکر کرتے ہوئے اپنے مزاج کو نکھارتا رہتاہے۔ 

۔  خوش مزاج  آدمی کے ساتھ رہتے ہوئے دوسرے لوگ بھی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس کی کمپنی میں وہ پرجوش ہوتے ہیں۔ اور خوش مزاج آدمی کے دیئے ہوئے  احترم سے دوسرے لوگ  لطف اندوز ہونے کے ساتھ اپنے آپ کو جذباتی طور پربھی محفوظ تصور کرتے ہیں۔

اپنے مزاج کو بہتر بنانا کیوں ضروری ہے؟

اپنے مزاج کو بہتر بنانے پر کام کرنا  اور اس کی بھرپور کوشش کرنابڑے انسان کا کام ہے۔ پیدائشی طور پر ملنے والا مزاج یا بچپن کے بے اختیار زمانے اور حالات وواقعات سے ملنے والا مزاج کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہوسکتاہے ایک انسان شعور کی سطح پر کھڑے ہوکر اپنے مزاج کو ٹٹولے تو اس میں سختی، تلخی، تندی اور اکھڑپن محسوس ہو۔ اس کو لگے کہ شاید میرے مزاج کی یہ تلخی اور شدت ہی ہے جو مجھے اپنے سے جڑے لوگوں  سے خوب صورت تعلق بنانے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

مزاج کی یہ تلخی ہے جو بہتر بیوی ، بہتر شوہر، بہترماں، بہترباپ ، بہتر دوست، بہترباس اور بہتر آفس میٹ وغیرہ بننے میں رکاوٹ  بنتی ہے۔مزاج کی یہ شدت ہی ہوتی ہے جوانسان  کیلیے صبر کے ساتھ شکرگزار بندہ بننے میں رکاوٹ بنتی  ہے۔ یا مزاج کا  اکھڑپن ہی توتا ہے جو انسان کیلئے اپنے بچوں اور فیملی سے اچھا تعلق بنانے میں مخل بنتا ہے۔اوربد مزاج انسان  سے تو خلق خدا پناہ مانگتی ہے۔ ذیل میں ہم  چار اہم ترین وجوہات ذکرکریں گے جن کو پیش نظر رکھ کر ہمیں اپنے مزاج کو بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔

:۔اللہ کا شکرگزار بندہ بننے کے لئے

قرآن کریم کی رو سے انسان کی تخلیق کا  بنیادی مقصد اللہ کی بندگی ہے۔ کہ انسان اپنی زندگی کے ہرلمحے میں یہ احساس اپنے اندر تازہ کرلے، کہ مجھے اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن کررہناہے۔ دنیا کے حالات موافق ہوں یا مخالف، لیکن مجھے اپنی بندگی کا فریضہ ہرحال میں ادا کرنا ہے۔ اس جذبے کی دائمی نشوونما اسی وقت ممکن ہے ،جب بندے کے مزاج میں ٹھہراو   اور اعتدل ہو۔ اوروہ صبروشکر کی کیفیات میں رہ سکتا ہو۔ لیکن خدانخواستہ اگر اس کے مزاج میں اکھڑپن، جذباتیت، بے صبری ہو۔ تو وہ ذرا سی تکلیف پر بھی شکرگزاربندہ  نہیں رہ سکتا۔

ایسے بھی لوگ دیکھے گئے ہیں جو بڑے نیک اور دیندار تھے۔ لیکن ذراسی آزمائش آئی تو مزاج کی تندی اور سختی کی وجہ سے وہ ٹھہرنہیں سکے۔ بے صبری کا مظاہر ہ کیا اوردین سے ہی بیزار ہوکررہ گئے۔ اللہ کی ذات  سے شکوہ شکایات پر اترآئے ۔ خلاصہ یہ کہ اللہ کا شکرگزار بندہ بننے کے لئے اور اپنے اعتدال اور ٹھہراو کی کیفیت کو بڑھانے کے لئے مزاج کو بہتر بنانے پر کام کرنا ضروری ہے۔

 :۔خلق خدا کو ایذا سے بچانے کے لئے

مزاج کو بہتربنانے پرکام کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے۔ کہ ہمیں یہ احساس ہو نے لگے کہ میرے مزاجی اکھڑپن کی وجہ سے مجھ سے جڑے لوگ اذیت کا شکار ہیں۔ مجھے خلق خداکو اذیت سے بچانے کے لئے اپنے مزاج کو بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔ تاکہ میری ذات سے دوسروں کو اذیت نہ پہنچے۔

:۔اپنے بچوں کی تربیہ پرکام کرنے  کے لئے

مزاج کو بہتر بنانے پر کام کرنے کی تیسری اہم اور بڑی  وجہ یہ ہوسکتی ہے۔ کہ مجھے  یہ احساس ہو جائےکہ خدانے مجھے بچے دے  کربحیثیت ماں یا باپ ان کی تربیہ کا اہم فریضہ سونپ دیا ہے۔ اس اہم فریضے کی ادائیگی  اس کے بغیر ممکن ہی  نہیں کہ پہلے اپنے بچوں سے اچھا اور مضبوط تعلق استوار کیا جائے ۔اور مضبوط تعلق اچھے مزاج کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا بچوں کی تربیہ جیسے اہم  فریضے کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے مزاج کو بہتر بنانے پر کام کیا جائے۔ 

:۔ کامیاب تعلقات  کی استواری کیلئے

 جب انسان دنیا میں آتاہے تو بے شمار لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے اور  تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اگر زندگی کا بنیادی مقصد معلوم کرنے کی کوشش جائےتو معلوم ہوگا ،کہ انسان کی زندگی کا اہم مقصد اچھے تعلقات کی استواری ہے۔  ان تعلقات میں خالق سے تعلق ، مخلو ق سے تعلق، انسانوں سے تعلق اور کائنات سے تعلق اہم ترین ہیں۔اب ان میں سے کوئی بھی تعلق اس وقت تک کامیاب طور پر استوار نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اپنے مزاج کو نارمل بنانے پر کام نہ کیا جائے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں جب انسان کا مزاج ابنارمل ہوجاتاہے،  تو وہ بسا اوقات اپنی جان کا بھی دشمن بن جاتاہے۔ اور بعض اوقات وہ دوسرے کی جان کا دشمن بن جاتاہے۔

کامیاب تعلق بنانے کے لئے چاہے رب سے تعلق جوڑنا ہو، مخلو ق سے تعلق استوار کرنا ہو، یا نیچر اور فطرت سے تعلق قائم کرنا ہو۔ سب کے لئے متوازن مزاج کا ہونا ضروری ہے۔  لہذا اس وجہ سے بھی اپنے مزاج کو بہتر بنانے پر کام کرنا ضروری ہے۔

حصہ دوم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 

1 Trackback / Pingback

  1. مزاج کیاہے اورکیا اسے بہتر بنایاجاسکتاہے؟ | Al-Rashad Tarbiyah

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*