ٹین ایجر بچے اور والدین کے باہمی تعلقات

ٹین ایجر بچے اور والدین کے باہمی تعلقات

ٹین ایجر بچے اور والدین کے باہمی تعلقات

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

ٹین ایجر بچوں اوران کے والدین کے آپس کے تعلقات کی اگرہم بات کریں تو قابل غور نکتہ یہ ہے۔ کہ والدین اپنے ان بچوں کو کتنا وقت دیتے ہیں؟اس عمرمیں لڑکے گھر میں کتنا وقت گزارتے ہیں؟ اور گھر میں ہوتے ہوئے بھی الگ تھلک رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ جس میں وہ  موبائل اورلیپ ٹاپ کے ساتھ زیادہ وقت گزاررہے ہوتے ہیں۔ یہ ایام چونکہ بلوغت کے آثار اور پے درپے تبدیلیوں کے  ہوتے ہیں ۔لہذا ٹین ایجرز بچوں پر ان چیزوں کے گہرےنفسیاتی  اثرت چھائے رہتے ہیں۔

ٹین ایج میں لڑکوں کو گیلے خواب آنے لگتے ہیں۔ اور جنس مخالف کی طرف کی ان کی کشش بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کے بھی ماہواری ایام آناشروع ہوجاتے ہیں ۔یہ سب ان کے لئے نیاتجربہ ہوتا ہے۔ اور بسااوقات ان تجربات کی وجہ سے وہ شدیدذہنی دباو اور شرمندگی کے احساس کا سامنا کرتےہے ۔ جس کی وجہ سے وہ تنہائی کوپسند بن جات ہیں اوروالدین سے ذرادور ہوجاتے ہیں۔اس دور میں یہ بچے دوستوں اور ہمجولیوں سے زیادہ مانوس ہوجاتے ہیں۔

اس عمر میں والدین کواپنے ٹین ایجربچوں کے  حالات اور مسائل سے آگا ہ رہنا چاہیے۔ان کے ساتھ ان تبدیلیوں کے حوالے گفتگو سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ بلکہ بلوغت کے ایام کی تبدیلیوں کواپنے بچوں کے ساتھ زیربحث لاتے ہوئے ہوئے ان کو مناسب رہنمائی فراہم کرنی چاہیے ۔ اگروالدین خودیہ کام نہیں کریں گے۔ تو بچے اپنے ہم عمر اور ناپختہ دوستوں سے یہ باتیں شئیر کرکے ان سے معلومات لینے کی کوشش کریں گے ۔ جس کے کئی نقصانات ہوسکتے ہیں۔

لہذا ماں کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کو اس حوالے سے گائیڈ کر ے۔ اور باپ کوچاہیے کہ بیٹے کو ان تبدیلیوں اور اس دوران کرنے کے کاموں سے آگاہ کرے۔ تاہم یہ اسی وقت ممکن ہوسکے گا۔ جب خود والدین اور بچوں کے درمیان تعلقا ت مضبوط ہونگے۔ ذیل میں ان تعلقات کی مضبوطی کے لئے چندٹپس دی جاتی ہیں۔

والدین بچے کو اپنے مزاج کا خوشگوار پہلودکھائیں۔

ٹین ایج میں بچے خوش مزاجی ، دوستی اور پرجوش ہونے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اس ایج میں محض والدین بننےکے بجائے اس طرح کے والدین بننے کی کوشش کریں۔ کہ آپ کے بچےآپ کی قربت سے خوشی محسوس کریں۔ آپ کی اداوں کو پسند کرنے لگیں ۔آپ کو خوشگوار باپ یاخوشگوار ماں کے طور پر محسوس کریں ۔

ان بچوں کے ساتھ ان کی دلچسپی کے موضوعات پربھی  گفتگوکریں۔ان کے ساتھ تفریحی مشاغل پر گفت وشنید کریں۔ اِن کے ساتھ کوئی میچ کھیلنے یا آوٹنگ کا پروگرام بنائیں۔ ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر ڈھیرساری گفتگو کریں۔ یعنی والدین کو چاہیے کہ وہ  ٹین ایجر بچوں  کے دوست کے روپ میں اپنے آپ کو ڈھالیں۔ اس طرح والدین کی شکل میں  بچوں کو دوست گھرہی  میں میسر آجائیں  گے ۔ باہرسے دوست ڈھونڈنے کی ان کو زیادہ ضرورت نہیں رہے گی۔

:باہمی دلچسپی کے پہلوکو اجاگرکیجئے

اس عمر کے بچوں سے گفتگو کیلئے کامن گراونڈ تلاش کیجئے۔ آپ کا بچہ جس چیز میں دلچسپی لیتاہے اسی کو موضوع سخن بنائیے ۔اور گفتگو شروع کیجئے۔ اگر کوئی پروگرام یا کوئی کھیل اسے پسند ہے۔ اس کو موضوع بنا کراس سے گفتگو کیجئے ۔باہمی دلچسپی جودرحقیقت بچے کی دلچسپی کی چیز کو موضوع بنا کر جب مکالمہ شروع ہوگا ۔تو اسے آگے بڑھاتے ہوئے ذیلی طور پر بہت ساری کام کی باتیں بھی ہونگی۔مثلا آپ کے بچے کو فٹ بال کھیلنا پسند ہے۔ تو اس کے ساتھ فٹ بال کے بارے میں گفتگو کریں۔ اگر وہ کرکٹ شوق سے کھیلتا ہے تو کرکٹ کو موضوع بحث بنائیے۔ اس طرح اس عمر کے بچوں کے ساتھ مکالمہ کا راستہ کھلے گا جسے بعد میں اپنی ترجیحات کے مطابق ڈھالاجاسکتاہے۔

:ٹین ایجر بچے کو موقع فراہم کیجئے

اگرٹین ایجر بچہ بات چیت کرنا نہیں چاہتا یا الگ بیٹھناچاہتا ہے۔ تو اسے زبردستی بولنے پر مجبورنہ کیا جائے۔ اسے موقع دیا جائے کہ وہ اپنے کمرے میں الگ بیٹھ سکے۔ یاحدود میں رہتے ہوئے اپنے دوستوں سے مل سکے۔ اور ان سے بات چیت کرسکے۔ کیونکہ یہ اس کی شخصی آزادی کا تقاضا ہے جس کا احترام کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر اس سے کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہوتو اس کے لئے حدود مقررکئے جاسکتے ہیں۔ اس تحدیدکا فائدہ بھی اسی وقت ہوگا ۔جب والدین کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے ہونگے۔ اس لئے ٹین ایجربچوں کے ساتھ مضبوط تعلقات بنانا نہایت ضروری ہے۔

:یہ بھی پڑھئیے

ٹین ایجر بچوں میں عزت نفس کی افزائش

Be the first to comment

Leave a Reply