ٹین ایج بچوں سے مفید تبادلہ خیال کی اہمیت

ٹین ایج بچوں سے مفید تبادلہ خیال کی اہمیت

ٹین ایجربچے اپنے والدین سے گفتگو تو کرنا چاہتے ہیں لیکن ہروقت نہیں ۔ وہ اپنی زندگی کی ہربات والدین سے شئیر کرنا بھی نہیں چاہتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی بلوغت کے مرحلے میں ہوتے ہیں جس میں وہ پرائیویسی اور خود انحصاری کوزیادہ ترجیح دیتے ہیں۔.یہ عمر ان کے لئے ٹرننگ پوائنٹ  کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وہ پوائنٹ ہے جہاں  وہ ایک بچے سے تبدیل ہوکر  کامل فرد بننے  والے ہوتے  ہیں۔  ایک بات ذہن میں رہنی چاہیے ۔کہ بچے  اگراپنے والدین سے  زندگی کی ہربات شئیر نہ کریں، تو اس کا مطلب قطعایہ نہیں کہ وہ ان سے کچھ چھپانا چاہتے ہیں ۔ بلکہ یہ فطری امر ہوتاہے۔

 یہ بلوغت کے سفر کا تقاضا بھی ہے۔ یہاں والدین کو چاہیے کہ ان بچوں سے بامقصد گفتگو کے طریقے سیکھیں ۔  گفتگو کے دوران ان سے ہربات اگلوانے کے بجائے کچھ  بین السطورکو خود بھی سمجھنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کریں۔ یعنی ان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ بچہ کیا بتانا اور کیا چھپانا چاہ رہا ہے۔ سب کچھ بتانے کے لئےبچے پردباوکے بجائے والدین کو چاہیے کہ  بین السطور کو خود سمجھنے پر قادرہوں۔ ذیل میں کچھ ٹپس دی جاتی ہیں جنکی مدد سے والدین اپنے ٹین ایجر بچوں سے بامعنی گفتگو کے قابل ہوسکیں گے۔

:ہمدردی اورغورسے بچے کو سننا

بچوں کوہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ ان کی بات  سننے والا کوئی نہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کا یہ تاثرختم کریں۔ ان کی بات یا شکایت کو غور سے سنیں۔ سننے کا طریقہ یہ ہو کہ والدین اور بچوں میں بامعنی مکالمہ شروع ہو جائے۔جس کا موضوع بچوں کا وہ مسئلہ  ہو جووہ اٹھاناچاہتے ہوں۔ جب بچہ کوئی مسئلہ اٹھائے یا کسی چیز کی شکایت کرنے لگے تو والدین  بغور وہ شکایت سنیں۔ بچے کو پوری بابتانے دیں، بیچ میں مداخلت نہ کریں۔ اس کے بعد اس  شکایت کو تسلیم  بھی کریں کہ ہاں وہ بجاہے۔ اور اپنے الفاظ میں اسے ایک مرتبہ دہرابھی دیں۔ ساتھ ہی بچے کو اپنے الفاظ میں  بتائیں کہ شاید تم یہ اور یہ کہنا چاہ رہے ہویاچاہ رہی ہو۔بلکہ یہ بھی کھل کرکہہ دیں کہ مجھے تمہاری پریشانی کاپوری طرح اندازہ ہے۔

اس سے ایک تو بچے کے خیالات اور بین السطور کا ادراک کرنا والدین کے لئے آسان ہوجائےگا۔دوسرا بچے کو یہ احساس بھی منتقل ہوگاکہ اس کی بات کو سننے والا  کوئی ہے۔یا سمجھنے اور احساس کرنےکے لئے کوئی موجودہے۔اس کو اپنے سامنے کے راستے کھلے نظر آئیں گے بندنہیں لگیں گے،یوں مکالمہ کا دروازہ کھلے گا۔یہ بات ذہن میں رہے کہ بچےا وروالدین کے درمیان رابطہ کا بہترین راستہ بامعنی گفتگو یا بامقصد مکالمہ کے سوا کچھ نہیں۔

:اپنے ٹین ایجر بچے کے ساتھ جذباتی ہمدردی کا اظہارکریں

ہرانسا ن کو چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا ہمدرددل ، تسلی سے دکھ کوسننے والے کان اور احساسات کا ادراک کرنے والے جذبات کی تلاش ہوتی ہے۔ آپ اپنے بچوں کے دکھ ، پریشانی کوکسی قسم کا پہلے سے فیصلہ صادرکئے بغیر جذباتی سطح پر جاکر توجہ ،تسلی اور اطمینان سے سنئے ۔اور اس کے دکھ میں شریک ہونے کی کوشش کیجئے۔ مثلا بچے کو ٹیچر کی کسی بات پر شکایت ہے او ر والدین کوبتاناچاہ رہا ہے۔ تو بچے کو سنے بغیر ایک دم سے اسے سمجھانابتانا شروع مت کیجئے۔ کہ نہیں بیٹا ٹیچر کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کرتے اور یوں اوریوں۔

بلکہ اس کا دکھڑا پہلے غور سے سنئے، تمام بین السطورکو سمجھنےکی کوشش کیجئے۔ اور بچے کو یہ احساس منتقل کیجئے کہ اس کی بات پوری طرح سنی گئی ہے۔ اس کے بعد ضرورت پڑنے پر اس کی مددبھی کی جاسکتی ہے۔ اسکی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ اگرآپ کے آفس میں کسی سے آپ کی ان بن ہوجاتی ہے۔ توآپ اپنا دکھڑا کسی ایسے انسان کو سنانا پسند کریں گے۔ جو آپ کی بات غور سے توجہ اورہمدردی کے ساتھ سن سکے۔

بات کو اہمیت نہ دینے والے یا فورا فیصلہ صادرکرنے والے انسان کو کبھی نہیں سنائیں گے ۔ اسی طرح بچے کا اصول سمجھ لیں اور بحیثیت والدین اس کا ہمدرد وغمگساربننے کی کوشش کریں۔ اپنے بچے سے بامعنی گفتگو والدین اور بچے کے تعلقات کے لئے نئے  راستے کھول دیتی ہے۔ جب دونوں کے درمیان بامعنی گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ تو والدین اور بچے میں خیالات ، آیڈیاز اور مختلف قسم کے افکارو نظریات کا باہمی تبادلہ ہوتا ہے۔

:بچوں کو زیادہ لیکچر نہ دیں

ٹین ایجربچے والدین کا باربار لیکچر سننابالکل پسند نہیں کرتے ۔کہ اس وقت کیا ہورہا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔اس طرح کےلیکچردینے سے بچے آپ کو سننا بالکل چھوڑدیں گے۔یہ تاثر بھی مت دیجئے کہ ہرسوال کا جواب آپ ہی کے پاس ہے۔ بلکہ سوالات کاجواب ڈھونڈنے کے لئے بچے کو موقع دیں۔ اس سے بچے کو یہ تاثر منتقل ہوگا کہ آپ اس کی صلاحیتوں پر اعتمادکررہے ہیں۔کوئی جذباتی خیال آجائے تو اسے اپنے پاس روک کررکھئے۔

جب بچہ بات کرنا چاہ رہا ہو تواپنی بات پوری کرنے تک اسے موقع دیجئے۔ اس سے اپنے خیال کوپوری طرح پیش کرنے اور جوکچھ اس کے دل ودماغ میں ہے اسے ظاہر کرنے کاموقع ملے گا۔اپنے بچے کے نکتہ نظر کا مذاق بالکل مٹ اڑائیے۔ بلکہ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھئے۔ چاہے آپ کو اس سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔باہمی دلچسپی کی چیزوں کو بڑھانے کی کوشش کیجئے۔ مثلا مل کر کوئی گیم کھیلیں یا مل کر کوئی پروگرام دیکھیں۔ اس سے مکالمہ اور تبادلہ خیال کو بڑھانے میں بہت مدد ملے گی۔

:باہمی مکالمہ اور تبادلہ خیال کے مواقع کو فروغ دینا

مصروفیات اور ذمہ داریوں کے انبارتلے دبے ہوئے بعض خاندانوں میں افراد خانہ کے لئے مکالمہ اور باہمی دلچسپی کی باتوں کے لئے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اپنے بچوں کو یہ تاثر دینا بہت ضروری ہے۔ کہ والدین ان کے ساتھ ہرلمحے شریک ہیں۔ اس کے لئے اپنے شیڈول میں فیملی کوالٹی ٹائم رکھا جاسکتاہے۔

یہ ٹائم کسی بھی  کھانے کے بعد ایک گھنٹہ کے لئے مقررکیا جاسکتا ہے۔ جس میں خاندان کے تمام افراد شریک ہوں۔ اور روزانہ کی روٹین کے علاوہ باہمی دلچسپی کے موضوعات پر ہلکی پھلکی گفتگو ہو۔اس کے علاوہ  کچھ ہنسی مذاق  اورکچھ تفریح کی جھلک بھی ہو۔باہمی مکالمے کی یہ محفل فیملی کی جذباتی صحت کے لئے نہایت ضروری ہے۔

:رکاوٹوں کوہٹاکرباہمی گفتگو کو فروغ دینا

آپ کو جب بھی موقع ملے اپنے بچوں کو وقت دیں۔ مثلا آپ کار میں اپنے بچے کے ساتھ سفر کررہے ہیں ۔یا واک کے لئے بچے کے ساتھ باہر نکلے  ہوئےہیں۔ یا کہیں اچھی جگہ ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے کے لئے بیٹھے ہیں۔ تو یہ بچوں سے اچھے تعلق کو فروغ دینے کا بہترین موقع ہوسکتاہے۔ بچوں سےمکالمہ کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہوسکتی ہیں جن کو دور کرن والدین کے لئے ضروری ہے۔ مثلا  والدین یا بچوں کابہت زیادہ موبائل میں مصروف رہنا۔ کہ ہروقت سوشل  میڈیا میں  ہی  مشغولیت  رہے۔ یا  والدین کو ہروقت کتابوں کے ڈھیر میں اپنے لمحات بتانے کی عادت ہو۔ جس کی وجہ  سے بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنے یا مکالمہ کے لئے وقت نہ ملتا ہو۔ ان رکاوٹوں کو دور کرکے کوالٹی ٹائم نکالاجاسکتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*