ریڈکراس پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی کے ساتھ ایک نشست

ریڈکراس پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی کے ساتھ ایک نشست
ریڈکراس پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی کے ساتھ ایک نشست

ریڈکراس پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹرضیااللہ رحمانی کے ساتھ ایک نشست
تحریر: ڈاکٹر محمدیونس خالد

رابطہ کے ساتھ ہمارا سفر ایک یادگارعلمی وتفریحی سفر تھا۔ اس سفر کا آغاز ہم نے کراچی سے 15جولائی 2022 کوکیا۔ لاہور کی طرف سفر شروع کیا۔ لاہور میں ایک دن مختصر قیام رہا جس میں لاہور اولڈ سٹی کو ہم نے چھان مارا ۔ اس کی روداد ” لاہورکاتعلیمی وتفریحی سفر” کے عنوان سے ایک مضمون میں شائع ہوچکی ہے ۔ اس کے بعد ہم نے اسلام آباد کی طرف شدرحال کیا۔ جہاں کئی تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز اور اہم قومی اداروں کی وزٹ کے علاوہ اہم علمی شخصیات سے خصوصی نشست ہمارے ایجنڈے میں شامل تھی۔
اسی سلسلے میں 19جولائی کو ہماری ایک خصوصی نشست انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس (آئی سی آر سی) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرضیااللہ رحمانی کے ساتھ ریڈکراس ہیڈآفس اسلام آباد میں ہوئی۔ اس نشست میں ڈاکٹرضیااللہ رحمانی نے ریڈکراس اور اس جیسے دیگر مغربی اداروں کی کامیابی اور ان کی اچھی کارکردگی کی بنیادی وجوہات پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹرصاحب کی گفتگو بہت اہم تھی یہ گفتگو اگرچہ مغربی اداروں کی کامیاب کارکردگی کی بنیادی وجوہات واسباب پر کی گئی تھی لیکن اس سے مغربی معاشرے کے بنیادی خدوخال اورساتھ ہی ہمارے معاشرے سے اس کا تقابل بھی واضح ہورہا تھا۔ اس اہم گفتگو کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔

1۔ اعتماد

ڈاکٹر ضیااللہ رحمانی کا کہنا تھا کہ ریڈکراس اور اس جیسے مغربی اداروں کی کامیاب کارکردگی کی ایک اہم وجہ ادارے کے منتظمین وملازمین کا ایک دوسرے پر بھرپور اعتماد ہے۔وہ کہتے ہیں کہ خود ہمارے ریڈکراس میں یہ کیفیت ہے کہ غیرضروری پیپر ورک نہیں کروایاجاتا۔ ہرملازم کو اس کا کام سمجھا دیا جاتاہے اور اس پر اعتماد کیا جاتاہے۔ جس کے نتیجے میں اس کے اندر احساس ذمہ داری پیداہوجاتا ہے۔اور وہ خود رزلٹ دینے کی کوشش کرتا ہے۔

2۔ احترام

اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے اندر ملازمین ومنتظمین میں باہمی احترام کا کلچر پایاجاتاہے۔ ادارے کا سربراہ اپنے چھوٹے ملازمین کا نہ صرف خیال رکھتاہے بلکہ ان کا احترام بھی کرتاہے۔ ادارے کے اندر کام کرنے والوں میں عہدے اور گریڈ سے قطع نظر کلیگ (ساتھی) کی حیثیت سے برابری رکھنے کا کلچر پایا جاتاہے۔
ادارے کا سی ای او ہو یا چائے بنانے والا لڑکا ، دونوں ایک ٹیبل پر کھانا کھاتے ہیں۔ اور دونوں اپنا کھانا ، چائے یا کوئی اور چیز اپنے ہاتھ سے خود نکال کرلائیں گے۔ یعنی ان کے ہاں ادارے کا ہرفرد قابل احترام ہوتاہے۔

3۔ سادگی

مغرب کے لوگوں اور اداروں کی ایک بڑی خصوصیت ان کی سادگی ہے۔ یہ خود بھی سادگی سے رہتے ہیں اور ادارے کے کاموں کو بھی سادہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لمبے چوڑے القابات نہیں ہوتے، کام کی ذمہ داری کے حوالے سے جو عہدہ کسی کو دیاجائے، بس کام کی حدتک اسے استعمال کیا جاتاہے۔

4۔ وقت کی پابندی

ان لوگوں او ر اداروں میں وقت کی پابندی کا بڑاخیال رکھا جاتاہے۔ کوئی میٹنگ ہو تو مقررہ وقت سے پہلے ہی تمام لوگ حاضر ہوجاتے ہیں۔ ہر میٹنگ کا شروع اور اختتام کا وقت مقرر ہوتاہے۔ اسی وقت میں میٹنگ کو مکمل کیا جاتاہے۔ جب وقت مکمل ہو اور شرکا میں سے کوئی بھی اٹھ کرجانے چاہے تو اسے برا نہیں منایاجاتا۔
بلکہ وقت سے زیادہ کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہرکام کو مقرر وقت کے اندر نمٹا کر باقی وقت اپنے آرام اور فیملی کو دینے کیلئے کہہ دیا جاتاہے۔ تاکہ اگلے کام کے وقت تک تازہ دم ہوکر آسکیں۔

5۔ ملازمین کی بہتری پر توجہ

ان اداروں کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے ملازمین کی گرومنگ پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کی ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔مختلف کورسز میں شمولیت کا موقع فراہم کیا جاتاہے۔ تاکہ وہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اپنے ملازمین کو ملک سے باہر بھیجنے کیلئے وقت اور پیسہ دیا جاتاہے تاکہ وہ دنیا دیکھ سکیں اور ان کے تجربات میں اضافہ ہو۔

6۔ تقسیم کار

ان اداروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کاموں کو تقسیم کرتے ہیں اور تقسیم کار کے تحت اپنے کام نمٹاتے ہیں۔ ان کاموں کو چھوٹا یا بڑا نہیں سمجھا جاتا ۔ بس صلاحیتوں کے مطابق کام آپس میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر مل کر اپنے اپنے حصے کا کام کرڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر ضیااللہ رحمانی کی گفتگو کے دوران شرکا کو چائے پیش کی گئی اور ڈاکٹر صاحب کی پرمغز گفتگو سن کر شرکا نے یہ محسوس کیا کہ اداروں کی کامیابی اور بہترین کارکردگی کی بنیادی وجوہات میں جن بنیادی نکات کا ذکر ہوا، وہ سب ہمارے دین کی اہم تعلیمات ہیں۔ اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی سیرت مطہرہ ان سب کا عملی ثبوت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کا مسلم معاشرہ تقریبا ان سے خالی ہے۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو اپنانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

لاہور کی مختصر تاریخ

1 Trackback / Pingback

  1. کامیابی اور کامیاب شخصیت

Leave a Reply