دنیا کی پہلی یونیورسٹی جس نے ڈگری کا اجرا کیا

دنیا کی پہلی یونیورسٹی جس نے ڈگری کا اجرا کیا
دنیا کی پہلی یونیورسٹی جس نے ڈگری کا اجرا کیا تحریر: جبران عباسی

دنیا کی پہلی یونیورسٹی جس نے ڈگری کا اجرا کیا

جبران عباسی

کیا آپ یہ جاننے کےلئے پرتجسس ہیں کہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی کب کہاں اور کس نے قائم کی تھی؟ ہو سکتا ہے آپ اس سوال کے جواب کی توقع تکشلا، نندہ یا پھر آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی رکھتے ہوں گے ۔
تاہم آپ کو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہو گی کہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی 859 عیسوی میں مسلمان ملک مراکش کے شہر فاس میں ایک مسلمان بیوہ خاتون فاطمہ بنت محمد الفهرية القرشية‎ نے اپنی ذاتی دولت خرچ کر کے قائم کی تھی۔

فاطمہ بنت محمد کون تھیں؟ ایک بیوہ خاتون نے جمع پونجی یونیورسٹی بنانے کےلئے کیوں خرچ کر دی؟ کیا یہ یونیورسٹی بھی دوسرے عظیم اسلامی اداروں کی طرح اب محض تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہے؟ کیا اس یونیورسٹی نے کوئی قابل قدر سائنس دان، فلکیات دان، دانشور، مذہبی رہنما یا مشائخ پیدا کئے ہیں؟ ان تمام سوالوں کے جواب اس آرٹیکل میں آپ پڑھ سکیں گے۔

مراکش کی اسلامی تاریخ

مراکش شمالی افریقہ کے مغربی خطہ میں واقع ایک شاہی مملکت ہے۔ اپنے محل و وقوع کے اعتبار سے یہ دو سمندروں بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس اور مغربی صحراؤں میں گھرا ہوا ہے۔
680 عیسوی میں یہاں عرب جنگجو عقبة بن نافع کی قیادت میں نمودار ہوئے اور مقامی قیادت کو اقتدار سے الگ کر کے بنو امیہ کا اقتدار قائم کیا۔ تاہم 788 عیسوی میں مراکش میں شیعہ بادشاہت ادریسی کا آغاز ہوا۔ ادریسی سلطنت کا خاتمہ 974 عیسوی کو اندلس کی اموی خلافت کے حمایت یافتہ زناتة قبیلہ کے ہاتھوں ہوا۔
مراکش میں کئی سلطنتیں آباد ہوئیں اور امتداد زمانہ کے ساتھ مٹتی گئیں ۔ گیارھویں صدی میں اقتدار ٱلْمُوَحِّدُونَ سلطنت کے ہاتھوں میں آیا جو 1244 میں المرينيون سلطنت کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ مراکش سعدی سلطنت ، ٹومبٹکو سلطنت اور فرانسیس کی غلام کالونی بھی رہا ہے۔ مراکش کے موجودہ حکم ران شاہ محمد السادس ہیں۔

فاطمہ بنت فھریہ کی فاس آمد اور یونیورسٹی کا قیام

فاطمہ کا سب سے قدیم ترین تحریری تذکرہ ابو الحسن ابن ابی زرع کی کتاب ” روض القرطاس ” میں ملتا ہے۔ یہ کتاب تیرہویں صدی عیسوی میں تحریر و شائع کی گئی تھی۔
تحقیق دانوں اور روایات کے مطابق فاطمہ کا تعلق عرب کے معزز قبیلے قریش سے تھا، یہی قبیلہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آبائی قبیلہ ہے۔
فاطمہ 800 عیسوی میں تیونس کے شہر خیرون میں پیدا ہوئیں۔ فاطمہ کے والد محمد الفہری ایک کامیاب تاجر تھے۔
محمد الفہری بعض وجوہات کے باعث اپنے اہل و عیال کے ساتھ تیونس سے مراکش کے شہر فاس میں آکر رہائش پزیر ہوئے جہاں انھیں کھلے دل سے خوش آمدید کہا گیا اسی وجہ سے فاطمہ نے اس شہر کو شکریہ کے طور پر ایک بڑا تعلیمی ادارہ بطور تحفہ دینے کا فیصلہ کیا ۔

فاطمہ اور ان کی بہن مریم دونوں تعلیم یافتہ خواتین تھیں یہ وہ دور تھا جب قرون وسطی کے مسلمان تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ دونوں بہنوں کی شادیاں بھی ہوئیں تاہم نوجوانی میں ہی وہ بیوہ ہوتی گئیں۔ شوہروں کے بعد والد بھی فوت ہو گے۔ اب دونوں بیوہ بہنیں اپنے والد کے ترکے سے ملنے والی خطیر دولت کی مالک تھیں۔ تاہم وہ اس دولت کو شاہانہ انداز زندگی پر نہیں بلکہ فلاحی کاموں پر خرچ کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے عزم کیا کہ وہ فاس شہر میں مرکزی مسجد اور مدرسہ قائم کریں گی۔
859 عیسوی میں انہوں نے ہواراہ قبیلہ سے فاس کے مرکز میں قطعہ اراضی خریدی اور تعمیرات شروع کر دیں۔ مریم نے فاس کی سب بڑی جامع مسجد الأندلسيين کی بنیاد رکھی جس میں 20 ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی جبکہ فاطمہ نے مسجد کے ساتھ ملحق ایک مدرسہ بنانے کا فیصلہ کیا جسے بعد ازاں دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہونے جا اعزاز حاصل ہونے والا تھا۔
جب مدرسہ تعمیر کیا جا رہا تھا تو فاطمہ فہری روزے رکھ کر اس کی نگرانی کر رہی تھیں۔ 18 سال تک تعمیر کا کام جاری رہا اور بالآخر ایک شاہکار مسجد ، عالیشان مدرسہ ، لائبریری اور طلباء و معلمین کی وسیع رہائش گاہیں مکمل ہوئیں۔
فاطمہ کو اپنی زندگی میں ہی “لڑکوں کی ماں” کہا جانے لگا کیونکہ ان کے مدرسے میں یتیم بچوں کو خصوصی توجہ دی جاتی اور ان کی مکمل نگہداشت کی جاتی تھی۔

مدرسہ یونیورسٹی کیسے بنا؟

1162 سالوں میں ایک دن بھی جامعہ القرویین میں ایسا نہی گزرا ہو جب یہ بند ہوئی ہو۔
تاریخ دان اس مدرسے کو دنیا کی پہلی یونیورسٹی قرار دیتے ہیں جس کی چند وجوہات یہ ہیں ؛
اول یہ کہ اس مدرسے کا نصاب متعین تھا اور یہ نصاب صرف دینی تعلیم جیسے نحو ، صرف اور دینیات پر مشتمل نہ تھا بلکہ فلسفہ ، فلکیات جیسے مضامین بھی یہاں پڑھائے جاتے تھے۔
دوم یہ کہ یہ دنیا کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جس نے باقاعدہ ڈگری کا اجراء کیا ، آج بھی وہاں کے میوزم میں تختی پر لکھی ڈگری کی سند بطور یادگار موجود ہے۔
یہ ڈگری اس وقت اہمیت اختیار کر گئی جب مسلم اندلس کی اموی خلافت اور بغداد کی عباسی خلافت میں چپقلش شروع ہوئی اور مراکش کو بفر زون کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس مدرسے سے فارغ التحصیل طلباء اور مشائخ دونوں مسلم سلطنتوں میں اعلی عہدے حاصل کرتے تھے۔

ابتدائی نصاب و مضامین

ابتدا میں اس مدرسے میں صرف دینیات اور گرائمر جیسے صرف و نحو کی تعلیم دی جاتی تھی تاہم جلد ہی یہاں حساب ، طب ، منطق اور فلکیات کے شعبہ جات بھی قائم کئے گے۔ یہ دنیا کے پہلے ڈیپارٹمنٹ تھے جو کسی یونیورسٹی میں بطور ڈسپلن قائم ہوئے۔

لائبریری آف القرویین

اس لائبریری کی وجہ سے جامع القرویین کی اہمیت چنداں بڑھ جاتی ہے۔ چودہویں صدی تک یہ لائبریری دنیا کی اہم ترین لائبریریوں میں ایک تھی کیونکہ مسلمانوں کی باقی لائبریریاں جیسے ہاؤس آف وزڈم ، قاہرہ کی لائبریری ، ثمرقند و بخارا کی لائبریریاں جلا دی گئی تھیں۔
اس لائبریری میں آج بھی اس دور کے چار ہزار نایاب مخطوطات محفوظ ہیں۔ نویں صدی کا تحریر کردہ قرآن پاک، ابن رشد کی کتاب “فلسفہ” کا اصلی مسودہ بھی یہاں موجود ہے۔ یاد رہے ابن رشد کی کتاب فلسفہ پانچ سو سال تک یورپی یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ رہی ہے۔ اس کے علاؤہ دسویں صدی کی سیرت نبوی پر لکھی گئی کتاب بھی یہاں محفوظ ہے۔ ابن خلدون کی کتاب “مقدمہ ” کا بھی چودہویں صدی کا نسخہ سے یہاں محفوظ ہے۔
حالیہ سالوں میں ایک کینڈین آرکیٹیکٹ نے اس لائبریری کی تزئین نو کی ہے جس کی وجہ سے اس کی خوبصورتی میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

مشہور شخصیات جو اس یونیورسٹی کا حصہ رہیں

مؤسس بن میمون:

اس یونیورسٹی کی سب سے خاص بات یہ تھی یہاں مسلمانوں سمیت دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی داخلہ لے سکتے تھے۔ مؤسس بن میمون جو کہ یہودی فلاسفر تھے اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مؤسس قرطبہ سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے بارہویں صدی میں چودہ جلدوں پر مشتمل یہودی قوانین پر عہد ساز کتاب لکھی ہے ، جامعہ القرویین سے فارغ التحصیل تھے۔

ابن خلدون:

دنیا جسے تاریخ کے بانیوں میں شمار کرتی ہے جامعہ القرویین سے فارغ التحصیل تھے۔ آپ نے اپنی مشہور کتاب مقدمہ بھی یہاں کی لائبریری کے مسودوں سے مستفید ہوتے ہوئے لکھی تھی۔ ابن خلدون کا مقدمہ آج بھی اسلامی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
الوزان الفارسی: جن کا انگریزی نام Leo Africanus ہے بھی جامعہ القرویین سے فارغ التحصیل تھے۔ آپ پوپ لیو دہم کے سفیر تھے۔ آپ کی وجہ شہرت یہ ہے آپ پہلے مہم جو تھے جنہوں نے تمام افریقہ کا سب سے مستند نقشہ تیار کیا۔

ابن رشید:

آپ مشہور قاضی اور محدث گزرے ہیں.

العبدری الفاسی:

اپ تیرہویں صدی کے نظریہ دان گزرے ہیں۔ آپ نے ” المخل” نامی کتاب تحریر کی ہے جس میں وراثت اور پراپرٹی کے اسلامی قوانین واضح کئے گے ہیں۔
ابو عمران الفاسی: آپ مالکی فقہ کے ممتاز سکالرز تھے

ابن عربی:

ارطغرل ڈرامے میں نظر آنے والے ابن عربی بھی جامعہ القرویین سے فیض یافتہ تھے۔ آپ ایک صوفی، شاعر ، ادیب اور روحانی شخصیت تھے ۔ 800 مسودے آپ سے منسوب ہیں۔
ان کے علاؤہ دوسری شخصیات جیسے ابن الخطاب ( شاعر) ، ابو إسحاق البطروجي ( ماہر فلکیات)، علی بن حرزہم ( صوفی استاد)، Nicolas Cleynaerts (یورپین فلاسفر) اور Dutchman Golius ( ڈچ لینڈ کا فلاسفر) بھی یہاں سے فارغ التحصیل مشہور شخصیات میں شامل ہیں ۔

کیا جامعہ القرویین اب محض ماضی کی یادگار ہے؟

جامعہ القرویین آج بھی مراکش کی ریاستی یونیورسٹی ہے۔ موجودہ وقت میں اس یونیورسٹی میں ریگولر طلبا کی تعداد چالیس ہزار کے قریب ہے۔
1963 تک یہ یونیورسٹی دنیا کا منفرد ترین مدرسہ تھی جس میں سائنس ، سوشل سائنسز اور آرٹس کے شعبے موجود تھے۔ تاہم 1963 میں جامعہ القرویین کو مدرسہ سے باضابطہ طور پر ریاستی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ اگرچہ یہ 1963 سے بھی پہلے بطور یونیورسٹی فعال تھی۔
اس یونیورسٹی کے نمایاں شعبے کلاسیک عربی، زبان وادب، گرائمر، فقہ مالکی کے قوانین، انگلش اور فرانسیسی زبان میں گریجویشن ہے۔ ان شعبوں میں گریجویشن کےلئے افریقہ ، مڈل ایسٹ اور عرب ممالک سے طالب علم داخلہ لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ سیاسیات ، جغرافیہ ، میڈیا کمیونیکیشن، میتھمیٹکس ، بزنس ، فنانس ، ٹورزم ، بیالوجی ، ہیلتھ ، میڈیسن ، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں بھی گریجویشن ، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کروائی جاتی ہے۔
ایڈمشن کیسے لیں؟
اگر آپ اس تاریخی یونیورسٹی میں ایڈمیشن بننا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں سے آن لائن ایڈمیشن کےلئے تمام کوائف جمع کر کے اپلائی کریں۔ جامعہ القرویین کی فیسسز یورپین یونیورسٹیوں کے مقابلے میں خاصی کم ہیں۔

قرون وسطیٰ کی عظیم اسلامی لائبریریاں

Be the first to comment

Leave a Reply