کربلا کا اندوہناک سانحہ

امام حسین کی شہادت کربلا کا ندوہناک حادثہ
نینویٰ میں حر کو ابن زیاد کا حکم ملا کہ حسینؓ کو چٹیل میدان میں اتارو جہاں کوئی اونٹ اور پانی وغیرہ نہ ہو، حر نے حضرت حسینؓ کو یہ حکم سنادیا، لیکن اس کی تعمیل پر کوئی اصرار نہیں کیا اور 2 محرم 61 ھ کو حضرت حسینؓ نے کربلا میں یہ قافلہ اتارا، تین محرم کو عمر بن سعد چار ہزار فوج لیکر کربلا پہنچا۔ یہ حضرت حسینؓ کا قریبی عزیز تھا، بڑی کشکمش کے بعد حکومت کی طمع میں اس نے یہ مہم اپنے سر لی تھی، لیکن اس کا ضمیر برابر ملامت کررہا تھا، اس نے کربلا آنے کے بعد مفاہمت کی بڑی کوشش کی،

حضرت امیر معاویہؓ کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا یزید اول 60ءمیں تخت نشین ہوا، ی میسون بنت سجدل کے بطن سے تھا، اس کی پیدائش حضرت امیر معاویہؓ کے دور امارت میں ہوئی تھی، سیرو شکار کا بڑا شائق تھا، لیکن سپہ گری کے جوہر موجود تھے۔ لڑائیوں میں شریک ہوتا تھا، قسطنطنیہ کی مشہور مہم میں بھی تھا اور سپہ سالار تھا۔ حضرت سیدنا  امام حسینؓ، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرؓ وغیرہ نے یزید کی ولی عہدی تسلیم نہیں کی تھی، اس لئے تخت نشینی کے بعد یزید کے سامنے سب سے پہلے ان بزرگوں کی بیعت کا سوال پیدا ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرؓ سے تو کوئی خاص خطرہ نہ تھا، لیکن حضرت حسینؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کی جانب سے دعویٰ خلافت کا یقین تھا، جس کے معنی یہ تھے کہ ساری دنیائے اسلام خصوصاً حجاز اور عراق میں یزید کے خلاف انقلاب برپا ہوجاتا۔

یزید کا حضرت سے بیعت کےلئے رابطہ

یزید نے تخت نشینی کے ساتھ ہی ولید بن عتبہ حاکم مدینہ کو ان دونوں بزرگوں سے بیعت لینے کا تاکیدی حکم بھیجا۔ چنانچہ ولید نے حضرت سیدنا امام حسینؓ اور حضرت ابن زبیرؓ کو بلا بھیجا، ابھی تک حضرت امیر معاویہؓ کے انتقال کی خبر مدینہ نہ پہنچی تھی، لیکن دونوں بزرگوں کو قرائن سے اس کا اندازہ ہو گیا اور وہ اس طلبی کا یہ مقصد سمجھ گئے، تاہم وہ ولید کے بلاوے پر اس کے پاس گئے۔ اس نے حضرت امیر معاویہؓ کی موت کی خبر سنا کر یزید کا حکم سنایا، حضرت سیدنا حسینؓ نے انا للہ پڑھی اور حضرت امیر معاویہؓ کے لئے دعائے خیر کی، پھر فرمایا: میرا جیسا آدمی چھپ کر بیعت نہیں کر سکتا اور نہ میرے لئے یہ زیبا ہے، جب عام لوگوں کو بلاﺅ گے اس وقت میں بھی آجاﺅں گا، ولید نیک فطرت اور امن پسند شخص تھا، راضی ہو گیا اور آپؓ لوٹ گئے، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ ایک دن کی مہلت لیکر راتوں رات نکل گئے، ولید کو خبر ہوئی تو اس نے آدمی دوڑائے، لیکن حضرت ابن زبیرؓ دور جا چکے تھے۔ مکہ پہنچ کر وہ حرم میں پناہ گزین ہوگئے۔

امام حسینؓ کی مدینہ سے مکہ روانگی

سیدنا حسینؓ یزید کی غیر شرعی موروثی بادشاہت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے، لیکن بغیر بیعت کے مفر کی کوئی صورت نہ تھی، عراق کے شیعان علیؓ کا میلان آپ کی طرف تھا، اس لئے آپ بڑی کشمکش میں مبتلا ہوگئے، لیکن مدینہ میں بغیر بیعت کے قیام نا ممکن تھا، اس لئے اپنے بھائی حضرت محمد بن حنفیہؒ کے مشورے سے شعبان 60ھ میں مع اہل وعیال کے مکہ روانہ ہوگئے، راستہ میں ایک محبِ اہل بیت عبد اللہ بن مطیع ملے، انہوں نے پوچھا کہاں کا قصد ہے، فرمایا مکہ جاتا ہوں، ابن مطیع نے عرض کیا، وہاں جانے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن خدا کے لئے کوفہ کا قصد نہ فرمایئے گا، وہاں کے لوگ بڑے غدار ہیں، انہوں نے آپ کے والد بزرگوار اور محترم بھائی دونوں کو دھوکا دیا، آپ اہل حجاز کے سردار ہیں، حرم میں بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ لوگوں کو اپنی دعوت دیجئے، حرم کا گوشہ ہر گز ہر گز نہ چھوڑیئے گا، مکہ پہنچ کر آپ نے شعب ابی طالب میں قیام فرمایا۔

اہل کوفہ کی دعوت پر مسلم بن عقیل کا سفر کوفہ

عراق کے شیعان علی ابتداءسے حضرت امیر معاویہؓ کے خلاف تھے، ان کی وفات کے بعد انہوں نے خلافت کا منصب اہل بیت میں منتقل کرنے کی کوشش کی اور حضرت سیدنا حسینؓ کے مکہ پہنچنے کے بعد آپ کے پاس بلاوے کے خطوط لکھے، بلکہ عمائدین کوفہ نے خود آکر کوفہ چلنے کی درخواست کی، اس درخواست پر آپ نے اپنے چچیرے بھائی حضرت مسلم بن عقیلؒ کو حالت کی تحقیق کے لئے کوفہ بھیجا اور اہل کوفہ کو لکھا۔
”تمہارے خط ملے تمہاری خواہش معلوم ہوئی، میں اپنے بھائی مسلم بن عقیل کو حالات کی تحقیق کے لئے بھیجتا ہوں، جیسا کہ تم نے لکھا ہے اور تمہارے آدمیوں کا بیان ہے، اگر واقعی میری خلافت پر متفق ہو تو مسلم وہاں کے حالات دیکھ کر مجھے اطلاع دیں گے، میں فوراً روانہ ہوجاﺅں گا۔“
یہ خط لیکر مسلمؒ کوفہ پہنچے اور مختار بن ابی عبید کے گھر میں قیام کیا، ان کی آمد کی خبر سن کر ان کے پاس شیعان علیؓ کی آمدروفت شروع ہوگئی، کوفہ کے حاکم نعمان بن بشیر کو اس کی خبر ہوگئی، لیکن وہ بڑے دیندار، نیک فطرت اور امن پسند آدمی تھے، اس لئے کسی قسم کی سختی نہیں کی، بلکہ لوگوں کو بلا کر صرف انہیں سمجھا دیا کہ:
”فتنہ و اختلاف میں نہ پڑو، اس میں جان و مال دونوں کی ہلاکت و بربادی ہے، جب تک کوئی شخص میرے مقابلے کے لئے نہ کھڑا ہوگا، اس وقت تک میں محض بد گمانی پر کسی سے باز پرس نہ کروں گا۔“

مسلم بن عقیل کی بیدخلی کے لئے عبید اللہ بن زیاد کی مہم جوئی

لیکن یزید کے جاسوسوں نے دمشق اطلاع بھیج دی کہ مسلم بن عقیل کوفہ آگئے ہیں اور لوگوں کو برگشتہ کر رہے ہیں۔ اگر حکومت کی بقا منظور ہے تو فوراً اس کا تدارک کیا جائے۔ اس اطلاع پر یزید نے عبید اللہ بن زیاد والی بصرہ کو حکم بھیجا کہ کوفہ جاکر جس طرح ممکن ہو مسلم کو نکال دو، یہ حکم پاکر وہ کوفہ پہنچا اور اہل کوفہ کے سامنے تقریر کی۔
”باشندگان کوفہ! امیر المومنین نے مجھے تمہارے شہر کا حاکم مقرر کرکے بھیجا ہے اور مظلوموں کے ساتھ انصاف، مطیع وفرمانبردار کے ساتھ احسان و سلوک اور نا فرمانوں کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا ہے، اس حکم کو پورا کروں گا، مطیع و فرمانبردار کے ساتھ پدرانہ شفقت سے پیش آﺅں گا، لیکن مخالفوں کے لئے سم قاتل ہوں۔“ (ابن اثیر ج 2 ص 10)
اور ہر محلہ کے سر کردہ آدمی کو اس کے محلہ کا ذمہ دار بنایا کہ وہ اپنے اپنے محلہ کے فتنہ پرداز خوارج اور مشتبہ لوگوں کے نام لکھ کر اطلاع دیں جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا، اس کے دروازے پر اس کو سولی پر لٹکایا جائے گا۔

اٹھارہ ہزار کوفیوں کی مسلم بن عقیل کے ہاتھ بیعت

ان انتظامات کو دیکھ کر مسلم بن عقیلؒ مختار کے گھر سے ایک دوسرے محبِ اہل بیت ہانی بن عروہ مذحجی کے یہاں منتقل ہوگئے۔ انہیں ٹھہرانے میں تامل ہوا، لیکن پاس مروت سے انکار نہ کرسکے اور بادل نخواستہ انہیں جگہ دے دی، یہاں بھی شیعان علیؓ کی آمدروفت برابر جاری رہی اور اٹھارہ ہزار کوفیوں نے مسلمؒ کے ہاتھ پر بیعت کرلی، انہوں نے حضرت سیدنا حسینؓ کو خط لکھ بھیجا کہ ”حالات موافق ہیں، آپ فوراً تشریف لایئے۔“

کوفیوں کی غداری اور مسلم بن عقیل کی شہادت

عبید اللہ بن زیاد برابر مسلم کی جستجو میں لگا ہوا تھا۔ لیکن پتہ نہ چلتا تھا۔ ہانی بن عروہ عمائد کوفہ میں تھے، اس لئے کوفہ کے والیوں کے یہاں ان کی آمدورفت رہتی تھی، لیکن جب سے حضرت مسلمؒ ان کے گھر آئے تھے، اس وقت سے انہوں نے عبید اللہ بن زیاد کے پاس آنا جانا بند کردیا تھا، ایک دن وہ بعض شرفائے کوفہ کے ساتھ عبید اللہ کے پاس گئے،

اس نے پوچھا تم نے مسلم کو چھپایا ہے؟ اور لوگوں کو ان کی بیعت کے لئے جمع کرتے ہو؟ انہوں نے انکار کیا، ان کے انکار پرمعقل نے شہادت دی، اس عینی شہادت کے بعد انکار کی گنجائش نہ تھی، ہانی نے اقرار کرلیا اور اصل واقعہ بیان کردیا کہ میں نے ان کو بلایا نہیں تھا، وہ خود میرے یہاں آئے تھے، مجھے انہیں ٹھہرانے میں تامل تھا، لیکن مروت سے انکار نہ کرسکا۔ اگر یہ فعل آپ کے مزاج کے خلاف ہے تو میں ابھی جاکر ان کو نکال دیتا ہوں، ابن زیاد نے کہا تم یہاں سے جا نہیں سکتے، یہیں ان کو بلا کر ہمارے حوالے کرو، ہانی کی غیرت نے اس کو گوارا نہ کیا، انہوں نے کہا میں اپنے یہاں پناہ لینے والے کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا، ان کے انکار پر ابن زیاد نے انہیں قید کردیا۔

کوفہ میں خبر پھیل گئی کہ ہانی قتل کردیئے گئے، یہ افواہ سن کر حضرت مسلمؒ اپنے عقیدت مندوں کو لیکر نکل پڑے اور عبید اللہ بن زیاد کو قصر امارت میں گھیر لیا گیا، اس وقت ابن زیاد کے پاس حفاظت کا کوئی سامان نہ تھا، صرف پچاس آدمی تھے، ان میں کچھ پولیس کے آدمی اور چند اشراف کوفہ تھے۔ ابن زیاد نے انہیں حکم دیا کہ وہ لوگ اپنے اپنے قبیلہ اور اثر والوں کو واپس کریں اور اعلان کرا دیا، جو شخص امیر کی اطاعت کرے گا، وہ انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور جو مخالفت کرے گا اسے سخت سزا دی جائے گی، کچھ لوگ اس کی دھمکی کے خوف سے اور کچھ لوگ اشراف کے سمجھانے سے مسلم کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہوگئے۔ کچھ لوگوں کے اعزا واقربا انہیں واپس لے گئے، غرض مسلمؒ کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے، اس وقت وہ بہت گھبرائے اور ایک بوڑھی عورت کے گھر پناہ لی۔

ابن زیاد نے یہ بھی اعلان کروا دیا کہ مسلمؒ جس کے گھر سے برآمد ہوں گے اسے سخت سزا دی جائے گی اور جو انہیں گرفتار کرکے لائے گا اسے انعام دیا جائے گا، اس اعلان کے ساتھ ہی گھروں کی تلاشی شروع کرا دی، اس اعلان سے خوفزدہ ہو کر بوڑھی عورت کے لڑکے نے بتا دیا، ابن زیاد نے اسی وقت محمد بن اشعث کو گرفتاری کے لئے بھیج دیا۔ انہوں نے مکان کا محاصرہ کرلیا، مسلمؒ نے جب دیکھا کہ بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو جان پر کھیل کر نکل آئے اور تن تنہا پوری جماعت کا مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہوگئے، اس وقت محمد بن اشعث جان بخشی کا وعدہ کرکے انہیں ابن زیاد کے پاس لے آیا اور اس سے کہا میں انہیں امان دے چکا ہوں۔

ابن زیاد نے ڈانٹا کہ میں نے تم کو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا تھا، تمہیں امان دینے کا کیا حق تھا، یہ سن کر مسلمؒ نے محمد بن اشعث سے کہا کہ میرا بچانا تمہارے بس میں نہیں ہے، لیکن اتنا کرنا کہ حضرت حسینؓ کو میرے انجام کی خبر کرکے کہلا دینا کہ وہ کوفہ والوں پر ہر گز ہر گز اعتبار نہ کریں اور جہاں تک پہنچ چکے ہوں، وہیں سے لوٹ جائیں۔ ابن اشعث نے ایفا کا وعدہ کیا۔ پھر عمر بن سعد سے جو ان کا قریبی عزیز اور اموی حکام میں تھا وصیت کی کہ میں نے سات سو درہم اہل کوفہ سے قرض لئے تھے، انہیں ادا کردینا اور میری لاش کو دفن کردینا، حضرت سیدنا حسینؓ کو اطلاع دیکر راستہ سے واپس کردینا۔ ان وصیتوں کے بعد ابن زیاد نے ان کو شہید کرا دیا۔ ان کی شہادت سے حضرت سیدنا حسینؓ کا ایک بازو ٹوٹ گیا۔

امام حسینؓ کا کوفہ کا قصد اور خیر خواہوں کا مشورہ

حضرت مسلمؒ نے حضرت سیدنا حسینؓ کو کوفہ کے حالات کی اطلاع دیکر آپ کو بلا بھیجا تھا، اس اطلاع پر آپ نے روانگی کی تیاریاں شروع کردی تھیں، اہل مکہ اور حضرت سیدنا حسینؓ کے اعزا کوفیوں کی غداری سے پوری طرح واقف تھے، اس لئے انہیں جب آپ کی تیاریوں کی خبر ملی تو تمام بہی خواہوں نے روکا۔
عمرو بن عبد الرحمن نے کہا: میں نے سنا ہے آپ عراق جا رہے ہیں، وہاں آپ کے دشمنوں کی حکومت ہے۔ ان کے حکام موجود ہیں، ان کے ہاتھ میں فوج اور خزانہ ہے، عوام بندہ زر ہوتے ہیں، جن لوگوں نے آپ کی مدد کا وعدہ کیا ہے، وہی آپ سے لڑیں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے سمجھایا کہ خدارا! اس ارادہ سے باز آئیں، اگر عراقیوں نے شامی حکام کو قتل کرکے شہر پر قبضہ کرلیا ہو تو بے شک جاﺅ اور اگر مخالفین کی حکومت قائم ہے تو یقین مانو کہ عراقیوں نے تم کو محض لڑنے کے لئے بلایا ہے، شامی حکام کے ہوتے ہوئے کوئی تمہارا ساتھ نہ دے گا، تم سب کو بے یارو مددگار چھوڑ دیں گے، جن لوگوں نے تم کو بلایا ہے وہی تم کو جھٹلائیں گے اور تمہارے خلاف لڑیں گے، حضرت سیدنا حسینؓ نے جواب دیا: میں استخارہ کروں گا۔
دوسرے دن پھر حضرت ابن عباسؓ نے سمجھایا کہ میرا دل کسی طرح نہیں مانتا، اس راہ میں تمہاری جان کا خوف ہے، عراقی غدار ہیں، ہر گز ان کے یہاں نہ جاﺅ، مکہ ہی میں رہو، تم حجازیوں کے سردار ہو، اگر عراقی واقعی تمہارے حامی ہیں تو ان کو لکھو کہ پہلے وہ تمہارے دشمنوں کو اپنے یہاں سے نکال دیں، اس وقت تم وہاں کا قصد کرو، لیکن اگر تم نے جانے ہی کا فیصلہ کرلیا ہے اور مکہ میں رہنا نہیں چاہتے تو عراق کے بجائے یمن جاﺅ، وہ ایک الگ تھلگ مقام ہے، وہاں تمہارے والد کے حامی موجود ہیں، ہر طرح کی حفاظت کا سامان ہے، وہاں بیٹھ کر اپنی خلافت کی کوشش کرو، اس طرح آسانی سے تمہارا مقصد حاصل ہو جائے گا، حضرت سیدنا حسینؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ آپ میرے سچے بہی خواہ ہیں، لیکن اب میں پختہ عزم کرچکا ہوں، حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو کم از کم اہل وعیال کو ساتھ نہ لے جاﺅ، مجھے ڈر ہے کہ حضرت عثمانؓ کی طرح تم بھی شہید کئے جاﺅ گے۔

حضرت امام حسینؓ کی کوفہ روانگی

لیکن مشیت کچھ اور تھی، اس لئے خیر خواہوں کی ساری کوششیں بیکار گئیں اور حضرت سیدنا حسینؓ ذی الحجہ 60 ہجری کو مع اہل وعیال مکہ سے کوفہ روانہ ہوگئے۔ مکہ سے نکلنے کے بعد فرزدق شاعر جو کوفہ سے آرہا تھا، ملا اس نے بتایا کہ کوفیوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں، لیکن تلواریں بنی امیہ کے ساتھ۔
آپؓ کی روانگی کے بعد آپؓ کے چچیرے بھائی حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ نے عمرو بن سعید اموی حکام مکہ سے خط لکھوا کر بھیجا کہ آپ لوٹ آیئے، میں ہر طرح سے آپ کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں، آپ اطمینان و سکون کے ساتھ مکہ میں رہئے، میں ہر طرح سے آپ کی مدد کروں گا، یہ خط آپ کو راستہ میں ملا، آپ نے اس کے جواب میں عمرو بن سعید کو شکریہ کا خط لکھا، مگر واپس نہ ہوئے۔

شامی حکومت کی امام حسینؓ کا راستہ روکنے کی کوششیں

شامی حکومت کو آپ کی روانگی کی خبر مل چکی تھی، اس لئے آپ کے اور اہل کوفہ کے درمیان نامہ وپیام کا سلسلہ منقطع کرنے کے لئے تمام راستوں پر پہرہ بٹھا دیا تھا، چنانچہ آپ کے ایک قاصد قیس بن مسہر صیداوی جنہیں آپ نے کوفہ کے حالات کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا، گرفتار کر کے شہید کردیئے گئے۔ مقام ثعلبیہ میں پہنچ کر آپ کو کوفہ کے ایک مسافر سے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی یہ خبر سننے کے بعد مسلم کے بھائیوں نے کہا یا تو مسلم کے خون کا بدلہ لیں گے یاخود لڑکر جان دیدیں گے۔ ان کے اصرار پر آپ نے فرمایا کہ جب تم ہی لوگ نہ رہو گے تو میری زندگی کس کام کی۔ غرض سفر جاری رہا کچھ دور چل کر محمد بن اشعث اور عمروبن سعید کے قاصد جنہیں ان دونوں نے مسلم کی وصیت کے مطابق حضرت امام حسینؓ کو روکنے کے لئے بھیجا تھا ملے، ان سے کوفہ کے تفصلی حالات سننے کے بعد آپ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا مسلم بن عقیل ہانی بن عروہ اور عید بن قطر کے قتل کی خبریں موصول ہوچکی ہیں۔ ہمارے حامیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے اس لئے تم میں سے جو شخص لوٹنا چاہے وہ خوشی سے لوٹ سکتا ہے، میری جانب سے اس پر کوئی الزام نہیں یہ سن کر عوام کا ہجوم جو راستہ سے ساتھ ہوگئے تھے، چھٹنے لگا اور صرف وہی جان نثار باقی رہ گئے جو مدینہ سے ساتھ آئے تھے۔

حر بن یزید تمیمی کے لشکر کا سامنا

مقام ذی حثم میں حُربن یزید تمیمی ایک ہزار سپاہ کے ساتھ جسے ابن زیاد نے حضرت امام حسینؓ کو گھیر کر لانے کے لئے بھیجا تھا ملا، اس سے آپ نے فرمایا کہ میں خود سے نہیں آیا ہوں بلکہ تم لوگوں کے خطوط اور آدمی آئے تھے کہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے آپ آکر ہماری رہنمائی کیجئے۔ اگر تم لوگ اس بیان پر قائم ہو تو میں تمہارے شہر چلوں، ورنہ یہیں سے لوٹ جاﺅں، حر اور اس کے ساتھیوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے کوفیوں کے تمام خطوط اس کے سامنے ڈھیر کردیئے۔ اس نے کہا ہم کو اس سے بحث نہیں ہے۔ ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ آپ جہاں کہیں مل جائیں، آپ کو لے جاکر ابن زیاد کے پاس پہنچادیں، یہ سن کر حضرت حسینؓ نے قافلہ کو لوٹانا چاہا، حر نے روکا، دونوں میں تیز گفتگو ہوگئی۔ لیکن حر نے آپ کے مرتبہ کا پورا لحاظ رکھا اور عرض کیا اگر میرے ساتھ نہیں چلتے تو ایسا راستہ اختیار کیجئے جو عراق اور حجاز دونوں کے راستہ سے جدا ہو میں ابن زیاد کو لکھتا ہوں، آپ یزید کو لکھئے، ممکن ہے مفاہمت کی صورت نکل آئے اور میں بھی آزمائش سے بچ جاﺅں، حضرت امام حسینؓ اس پر راضی ہوگئے۔

مقام بیضہ میں امام حسینؓ کا خطبہ

مقام بیضہ میں حضرت امام حسینؓ نے ایک پرجوش خطبہ دیا:
”لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ظالم، محرمات الہیٰ کو حلال کرنے والے، خدا کے عہد توڑنے والے، خدا اور رسول کے مخالف اور خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قولاً وعملاً اس پر غیرت نہ آئی تو خدا کو حق ہے کہ اس شخص کو اس بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کردے لوگو! خبردار ہوجاﺅ ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی اور رحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے۔ ملک میں فساد پھیلایا ہے، حدود الہیٰ کو معطل کردیا ہے۔ مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کردیا ہے اس لئے مجھ کو غیرت آنے کا زیادہ حق ہے۔“

حضرت امام حسینؓ کا کربلا میں پڑاؤ

نینویٰ میں حر کو ابن زیاد کا حکم ملا کہ امام حسین کو چٹیل میدان میں اتارو جہاں کوئی اونٹ اور پانی وغیرہ نہ ہو، حر نے حضرت حسینؓ کو یہ حکم سنادیا، لیکن اس کی تعمیل پر کوئی اصرار نہیں کیا اور 2 محرم 61 ھ کو حضرت امام حسین ؓ نے کربلا میں یہ قافلہ اتارا، تین محرم کو عمر بن سعد چار ہزار فوج لیکر کربلا پہنچا۔ یہ حضرت حسینؓ کا قریبی عزیز تھا، بڑی کشکمش کے بعد حکومت کی طمع میں اس نے یہ مہم اپنے سر لی تھی، لیکن اس کا ضمیر برابر ملامت کررہا تھا، اس نے کربلا آنے کے بعد مفاہمت کی بڑی کوشش کی، حضرت امام حسین ؓ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں کوفیوں کے بلاوے پر آیا تھا، اب واپس جانے کے لئے تیار ہوں، لیکن وہاں سے حکم آیا کہ پہلے ان سے بیعت لے لو، اس کے بعد غور کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی دوسرا حکم پانی بند کردینے کا پہنچا۔

فرات پر شامی لشکر کا پہرہ اور پانی کی بندش

اس حکم کے بعد عمر بن سعد نے 7 محرم 61 ھ سے فرات پر پہرہ بٹھا دیا، حضرت امام حسینؓ کے سوتیلے بھائی عباسؓ بن علیؓ بڑے بہادر تھے، یہ چند آدمیوں کو لے کر زبردستی پانی لے آئے۔ عمر بن سعد حکومت کی طمع میں حضرت امام حسینؓ سے مقابلہ کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ لیکن تلوار اٹھانے کی ہمت نہ پڑی تھی اور اس امید پر جنگ کو ٹال رہا تھا کہ شاید مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے، ابن زیاد کو اس کا اندازہ ہوگیا اس نے شمرذی الجوشن کو بھیجا اور عمر بن سعد کو لکھ بھیجا کہ میں نے تم کو حسینؓ کی خیر خواہی اور ان کو بچانے کے لئے نہیں بھیجا تھا میرا حکم پہنچتے ہی ان سے بیعت لے کر ان کو میرے پاس بھیج دو، اگر تم سے یہ کام نہیں ہوسکتا تو فوج ذی الجوشن کے حوالے کردو، ابن سعد پر یہ حکم بہت گراں گزرا لیکن حکومت کا چھوڑنا اس سے زیادہ دشوار تھا۔ اس لئے بادل ناخواستہ اس کی تعمیل کے لئے تیار ہوگیا اور محرم کی نویں تاریخ کو خود حضرت امام حسینؓ سے مل کر ان سے آخری گفتگو کی، لیکن مصالحت کی کوئی صورت تھی ہی نہیں، حضرت امام حسینؓ بیعت نہیں کرسکتے تھے اور شام کی حکومت بغیر بیعت لئے ہوئے ان کو چھوڑ نہیں سکتی تھی، اس لئے آخری گفتگو بھی ناکام رہی ۔

نو محرم کو حضرت امام کا اپنے ساتھیوں سے خطاب

اس موقع پر حضرت امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
”لوگو! موعودہ وقت آپہنچا اس لئے میں تم کو بخوشی واپس جانے کی اجازت دیتا ہوں، میرے اہل بیت کو ساتھ لے کر لوٹ جاﺅ۔“
عوام کی بھیڑ پہلے ہی چھٹ چکی تھی، صرف خواص اور اعزا باقی رہ گئے تھے ان کی واپسی کا کوئی سوال ہی نہیں تھا اس کے جواب میں سب نے جان نثاری کا اظہار کیا حضرت امام حسینؓ نے اہل بیت کے خیموں کی حفاظت کے انتظامات کر کے صبح کو بَہتّر جان نثاروں کی مختصر فوج مرتب کی، میمنہ پر زبیر بن قیس کو میسرہ پر حبیب بن مطہر کو متعین کیا اور عباسؓ کو علم مرحمت فرمایا ۔

جنگ سے قبل حضرت امام حسینؓ کی رب کے حضور دعا

آغاز جنگ سے قبل حضرت امام حسین نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی:
”خدایا تو ہر تکلیف میں میرا بھروسہ اور ہر تکلیف میں سہارا ہے، مجھ پر جو وقت آئے ان میں تو ہی میرا پشت پناہ تھا غم واندوہ میں دل کمزور پڑجاتا ہے کامیابی کی تدبیریں کم ہوجاتی ہیں اور رہائی کی صورتیں گھٹ جاتی ہیں دوست ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور دشمن شماتت کرتے ہیں، میں نے ایسے نازک وقتوں میں سب کو چھوڑ کر تیری طرف رجوع کیا، تجھی سے اس کی شکایت کی ہے تو نے مصائب کے بادل چھانٹ دیئے اور ان کے مقابلے میں میرا سہارا بنا تو ہی ہر نعمت کا والی ہر بھلائی کا مالک اور ہر آرز اور تمنا کا منتہیٰ ہے۔

دشمنوں سے اتمام حجت کے لئے آخری خطاب

اس دعا کے بعد اتمام حجت کے لئے دشمنوں کو مخاطب کر کے تقریر فرمائی، اس میں آپ نے اپنی شخصیت بتائی اور اپنے آنے کے اسباب بیان کر کے واپسی کی اجازت چاہی لیکن اب اس کا وقت ختم ہوچکا تھا۔ جواب ملا کہ اپنے ابن عم کی بیعت کرلو، وہ تمہاری ہر خواہش پوری کردیں گے اور تمہارے ساتھ کوئی ناپسندیدہ سلوک نہ ہوگا، حضرت امام حسینؓ نے جواب دیا خدا کی قسم میں یزید کی بیعت کر کے خادم کی طرح اس کی خلافت تسلیم نہ کروں گا آپ کے بعد آپ کے جان نثاروں نے تقریریں کیں۔ لیکن عراقی فوج پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ البتہ حُربن زید تمیمی عراقیوں کا ساتھ چھوڑ کر آپ کے ساتھ ہوگئے۔

حسینی قافلے کی شجاعت

جنگ شروع ہوگئی پہلے ایک ایک آدمی میدان میں آیا، پلہ حسینی فوج کا بھاری رہا، اس کے بعد عام جنگ شروع ہوگئی، دونوں کی قوت میں تناسب نہ تھا ایک طرف ہزار مسلح سپاہ تھی، دوسری طرف کل 72 آدمی، تاہم یہ مٹھی بھر آدمی بڑی شجاعت سے لڑے دوپہر تک حضرت حسینؓ کے بہت سے آدمی کام آئے۔
ان کے بعد باری باری سے حضرت علی اکبر، عبداللہ بن مسلم، جعفر طیار کے پوتے عدی، عقیل کے فرزند عبدالرحمن، ان کے بھائی، حضرت حسینؓ کے صاحبزادے قاسم اور ابوبکر وغیرہ میدان میں آئے اور شہید ہوئے۔ ان کے بعد حضرت امام حسینؓ نکلے، عراقیوں نے ہر طرف سے یورش کردی، آپ کے بھائی عباسؓ، عبداللہ، جعفر اور عثمانؓ آپ کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور چاروں نے شہادت حاصل کی۔

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا لمحہ

اب امام حسینؓ بالکل خستہ اور نڈھال ہوچکے تھے۔ پیاس کا غلبہ تھا، فرات کی طرف بڑھے، پانی لے کر پینا چاہتے تھے کہ حسین نمیر نے تیر چلایا، چہرہ مبارک زخمی ہوگیا، آپ فرات سے لوٹ آئے اب آپ میں کوئی سکت باقی نہ تھی، عراقیوں نے ہر طرف سے گھیر لیا۔ ذرعہ بن شریک تمیمی نے ہاتھ اور گردن پر وار کئے۔ سنان بن انس نے تیر چلایا اور آپ زخموں سے چُور ہو کر گر پڑے۔ آپ کے گرنے کے بعد سنان بن انس نے سراقدس تن سے جدا کردیا، یہ حادثہ عظمیٰ 10 محرم 61 ھ بمطابق 681ءمیں پیش آیا۔

بغیر سر کے جسد مبارک کی تدفین

اس معرکہ میں 72 آدمی شریک ہوئے جن میں بیس خاندان بنی ہاشم کے چشم وچراغ تھے، شہادت کے دوسرے دن غاغریہ والوں نے شہدا کی لاشیں دفن کیں۔ حضرت امام حسینؓ کا جسد مبارک بغیر سر کے دفن کیا گیا سر ابن زیاد کے ملاحظہ کے لئے کوفہ بھیج دیا گیا۔ (طبریٰ ج 7 ص375 واخبار الاحوال ص 372)

اہل بیت کے باقی ماندہ قافلے کی شام روانگی اور مدینہ واپسی

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے بعد اہل بیت کا قافلہ ابن زیاد کے پاس کوفہ بھیجا گیا اس نے معائنہ کے بعد شام بھجوادیا، اس کے بعد جب اہل بیت کا قافلہ شام پہنچا تو یزید ان کی حالت دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور ان سے کہا خدا ابن مرجانہ کابرا کرے۔ اگر اس کے اور تمہارے درمیان قرابت ہوتی تو وہ تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا اور اس طرح تم کو نہ بھیجتا، فاطمہؓ بنت علیؓ کا بیان ہے جب ہم لوگ یزید کے سامنے پیش کئے گئے تو ہماری حالت دیکھ کر اس پر رقت طاری ہوگئی، ہمارے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آیا اور ہمارے متعلق احکام دیئے۔ (طبریٰ ج 7 ص 378)

چند دن ٹھہرانے کے بعد جب اہل بیت کرام کو کسی قدر سکون ہوا تو یزید نے انہیں بڑے اہتمام کے ساتھ رخصت کیا۔ امام زین العابدین کو بلا کر ان سے کہا، ابن مرجانہ پر خدا کی لعنت ہو، اگر میں ہوتا تو خواہ میری اولاد ہی کیوں نہ کام آجاتی میں حسینؓ کی جان بچا لیتا، لیکن اب قضائے الٰہی پوری ہوچکی، آئندہ تم کو کسی قسم کی بھی ضرورت پیش آئے مجھے لکھو۔ (طبریٰ جلد 7 ص 378) اس کے بعد بڑی حفاظت اور اہتمام کے ساتھ قافلہ کو روانہ کیا، چند دیانتدار اور نیک آدمیوں کو حفاظت کےلئے ساتھ کیا، ان لوگوں نے بڑے احترام کے ساتھ اہل بیت کو مدینہ پہنچایا۔ (بحوالہ: تاریخ اسلام، شاہ معین الدین ندوی)

</محرم الحرام اور ہماری حساسیت>

1 Trackback / Pingback

  1. محرم الحرام اور ہماری حساسیت - EduTarbiyah.com

Leave a Reply