اخلاقی تربیت

اخلاقی تربیت
اخلاقی تربیت تحریر: ڈاکٹر محمد یونس خالد

اخلاقی تربیت

ڈاکٹر محمد یونس خالد

(یہ آرٹیکل کامیاب شخصیت کی تعمیر نامی زیر طبع کتاب سے ماخوذ ہے)

اخلاق کا اعلی اور ادنی معیار

ایمان کی پختگی کے ساتھ اخلاق وکردار کی تربیت کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اخلاقی تربیت کا اعلی معیار تو یہ ہے کہ آپ کا وجود معاشرے کے لئے فوائد سے بھرپور ہو۔معاشرے کے بہت سارے مسائل کا حل آپ سے منسلک ہو۔ معاشرے میں کوئی مسئلہ پیداہو توحل کے لئے امید کی نظر یں آپ کی طرف اٹھیں۔ اخلاقی تربیت کا سب سے کم اور ادنی معیار یہ ہے کہ لوگ آپ کے شرسے محفوظ رہیں۔ آپ کا کردار معاشرے میں اس طرح نہ ہو کہ لوگ آپ کے شرسے پناہ مانگنے لگیں۔ کوشش کریں کہ خوش اخلاق اور ملنسار بنیں ،آپ کے چہرے پر ہر دم مسکراہٹ ہو۔

اخلاق اور ایمان کا تعلق

اخلاق و کردار کی جڑیں ایمانی کیفیت کے اندر پیوست ہوتی ہیں انسان کا ایمان جتنا مضبوط ہوتا ہےاس کی اخلاقی قدریں اتنی ہی توانا ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس کا کردار بلندی کی چوٹی کو چھولیتا ہے ۔ یعنی اخلاق وکردار کو بہتر اور معیاری بنانے کے لئے آکسیجن انسان کی ایمانی کیفیت ہی فراہم کرتی ہے۔ لہذا پہلے ایمان کومضبوط بنانے کی کوشش کی جائےاور پھر اخلاق وکردار کی تعمیر اسی ایمانی اساس پر کی جائے، اس سے انسان کے اخلاق اور کردار کی بلندی ناقابل یقین سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ انسانی کردار واخلاق کی بلندی کا یہی وہ طریقہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا تھا، کہ پہلے ایمان ویقین کی پختگی اور مضبوطی پر کام ہوا ،اورپھر اسی بنیاد پر معاشرے کے کردار واخلاق کی عمارت تعمیر کی گئی ۔آج بھی یہی طریقہ تعمیر شخصیت کے حوالے سے کار آمد ہوسکتا ہے۔

تعلیم سے شعور کو پروان چڑھانا

(Intellectual Development)

انسانی عقل و شعور اللہ تعالی کی خاص امتیازی عطا ہے جس کے بل بوتے پر انسان دیگر مخلوقات سے برتر و افضل ہے بلکہ علم ہی کی وجہ سے اللہ نےاسے ملائکہ پر بھی فوقیت بخشی اور اپنا نائب وخلیفہ قرار دیا۔ اور اسی عقل وشعور کی وجہ سے آج انسان ترقی کے اوج کمال پر پہنچ چکا ہے۔ تعلیم وہ چیز ہے جس کے ذریعے خداداد شعوراورعقل کو جلا بخشنے اوراسے پروان چڑھانے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔جب عقل وشعور کو علم کی روشنی مل جاتی ہے تووہ بھرپور طریقے سے اپنا جوہر دکھلانے لگتے ہیں، انسان ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔موجودہ زمانے میں انسان کی دنیاوی ترقی اور اس کی چکاچوندخداکی دی ہوئی عقل وشعور کو علم کی روشنی سے منور کرنے اور سائنس وٹیکنالوجی کی مدد سے کائنات کے رازوں کو ڈھونڈ نکالنے کی مرہون منت ہے۔

وحی الہٰی کے ذریعے تربیت سازی

دنیا میں سائنس وٹیکنالوجی یعنی مشاہداتی وتجرباتی علوم اور عقل وشعورکے علاوہ ہمارے پاس ایک اور علم ہے جو وحی الہی کہلاتا ہے جس کو ہم قرآن و سنت کا بھی علم کہتے ہیں اس علم کے پیکیج سے وجود میں آنے والے نظام کو دین وشریعت کہا جاتا ہے۔وحی پر مبنی اس علم کا دائرہ کار سائنس وٹیکنالوجی ، جدید علوم اور عقل سے کہیں ماوراء اور فائق ہے ۔ جہاں جاکر جدید علوم ،سائنس وٹیکنالوجی اور عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے وہاں سے وحی الہی کا دائرہ کار شروع ہوجاتا ہے۔ بہرحال سائنس وٹیکنالوجی یعنی جدید علوم اور وحی الہی کے ذریعے سے انسانی ذہن وشعور کو تربیت فراہم کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں انسانی ذہن ترقی ونموپاتا ہے اور اس کی کارکردگی کے حدود متعین ہوجاتے ہیں اس طرح سے دونوں جہانوں کی کامیابی انسان کامقدر بن جاتی ہے۔

علوم وحی اور جدید علوم دونوں ناگزیر ہیں

دورحاضرمیں ان دونوں علوم (وحی کے علوم اورجدید سائنس کے علوم) سے استفادہ کرنا اور ان کو بھرپور طریقے سےحاصل کرنا ہرمسلمان فرد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان دونوں کے ملاپ سے ایسا جوہر پیدا ہوتا ہے جوانسان کی دنیوی زندگی اوراخروی حیات میں لازوال کامیابیوں کے لئے ضروری ہے۔ تعمیر شخصیت کی راہ کے مسافر وں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ذہنی تربیت کے سلسلے میں سنجیدہ ہوجائیں اپںے عقل وشعور کو وحی الہی کے نور سے منور کرنے کا انتظام کریں اور ساتھ ہی دنیاوی ترقی کے حصول کے لئے جدید علوم سے خودکو آراستہ کریں۔ اس سلسلے میں کسی ایک علم کوبھی چھوڑ دینا انسان کے ذہن وشعور اور کردار کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

دینی اور عصری علوم سیکھنے کی آئیڈیل ترتیب

تاہم ان دونوں میں آئیڈیل ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ پہلے دین کا بنیادی اور ضروری علم سیکھا جائے ۔ یعنی دین کا وہ علم جو ہرمسلمان پر فرض ہے پہلے وہ سیکھا جائے قرآن کریم کو درست تجوید و تلفظ کے ساتھ سیکھا جائے اس کے بعد دیگر علوم کو سیکھنا شروع کرنا چاہیے۔تعلیم کا عمل چونکہ بچپن سے شروع ہوتا ہے اس سلسلے میں والدین کو بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے یہ ترتیب بتائی گئی ہے کہ بچہ جیسے ہی بولنے لگ جائے اس کو کلمہ طیبہ سکھایا جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ اپنے بچوں کو سب سے پہلے کلمہ لاالہ الا اللہ سکھاؤ اور موت کے وقت بھی انہیں لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو۔“

مولانا تھانوی اور مولانا تقی عثمانی کا قول

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے مسلمان بچے کو قرآن سکھانا چاہیے ضروریات دین کی تعلیم دینی چاہیے، خواہ اردو میں ہو یا عربی میں ہو مگر انگریزی سے قبل ہو۔ یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ آنکھ کھلتے ہی ان کو انگریزی میں لگادیا جائے،اول تو قرآن شریف پڑھاؤ۔حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
”بچپن میں ایک مرتبہ بچوں کو قرآن کریم ضرور پڑھاؤ، اس کے قلب کو قرآن کریم کے نور سے منور کرو، اس کے بعد اس کو کسی بھی کام میں لگاؤ ان شا ء اللہ قرآن کریم کے انوار و برکات اس کے اندر شامل حال ہوں گے۔ شروع میں قرآن اسے پڑھادیا جائے یاکان کے ذریعے ایمان کا بیج اس کے دل میں پیوست کردیا جائے تجربہ یہ ہے کہ جو بچے مکتب میں قرآن کریم پڑھ کرجاتے ہیں تو وہ کسی بھی ماحول میں چلے جائیں ایمان کا بیج ان کے دل کے اندر محفوظ رہتا ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ بچے کو دینی تعلیم اور جدید تعلیم دونوں سے آراستہ کرنا چاہیے دونوں کی اپنی جگہ ضرورت ہے بچے کو کسی ایک علم سے محروم کرنا اس کے ساتھ بہت زیادتی ہے۔ البتہ ترتیب میں دینی علم مقدم ہے کہ شروع اسی سے کیا جائے اور پھر اس کو دنیا کی اعلی تعلیم بھی دلائی جائے اس سے انشاء اللہ بچے دین سے قلبی او ر شعوری طور پر مانوس ہوجائیں گے۔ اوریہ بچے والدین کے لئے دنیا میں سہارا نیک نامی کا ذریعہ اور آخرت کے لئے صدقہ جاریہ اور سرخروئی کا سبب بنیں گے

یہ بھی پڑھئے:

شخصیت کی تعمیر میں ایمان و یقین کا کردار

Be the first to comment

Leave a Reply