شخصیت کی تعمیر میں ایمان و یقین کا کردار

شخصیت کی تعمیر میں ایمان و یقین کا کردار
شخصیت کی تعمیر میں ایمان و یقین کا کردار (تحریر محمد یونس خالد)

شخصیت کی تعمیر میں ایمان و یقین کا کردار

ڈاکٹر محمد یونس خالد

(یہ آرٹیکل “کامیاب شخصیت کی تعمیر” نامی کتاب سے ماخوذ ہے)

روحانی ترقی (Spiritual Development)

دین کی بنیاد ایمان بالغیب یا یقین کی وہ کیفیت ہےجس میں اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ہرجگہ حاضر و ناظر محسوس کیا جائے۔ استحضار کی یہ کیفیت جب انسان کے اوپر طاری ہوجاتی ہے تو نیکی کرنا اس کے لئے آسان اور برائی کا ارتکاب اس کے لئےمشکل ہوجاتا ہے۔یوں وہ آٹو موڈ پر چلاجاتا ہے یعنی اچھائی پرعمل پیرا ہونے اور برائی سے بچنے کے لئے اس کو باہر سے کسی طاقت اورمحرک کے بجائے اندر کی ایمانی طاقت ہی کافی ہو جاتی ہے۔ اس کو اچھے کام کرتے ہوئے خوشی محسوس ہونے لگتی ہے اور برائی سے طبعی طور پر اسے نفرت ہونے لگتی ہے۔

نگرانی کا خوف انسان کو محتاط کر دیتا ہے

جب انسا ن کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ کوئی دیکھنے والا اسےدیکھ رہا ہے یا کیمرے سے اس کی نگرانی کی جارہی ہے تو وہ ویسے بھی محتاط ہوجاتا ہے۔اس کی مثال آج کل کے سپراسٹور کے کیمرہ سسٹم سے دی جاسکتی ہے، ہرطرح کے لوگ سپراسٹور زمیں داخل ہوتے ہیں وہاں انواع واقسام کی چیزیں ڈسپلے پر رکھی ہوتی ہیں لیکن کوئی شخص وہاں چوری کرنے کی کوشش نہیں کرتا کوئی چیز چھپانے کی کوشش نہیں کرتا ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ سب کو پتہ ہے اسٹو ر میں داخل ہونے والا ہرفرد کیمرے کی نگاہ میں ہوتا ہے اگر وہ کوئی چیز چھپانے کی کوشش کرے گا تو گیٹ پرپہنچتے ہی پکراجائے گا۔ یقین کی یہ کیفیت ہی ہوتی ہے جو اس کو چوری کرنے سے با ز رکھتی ہے ۔
جیسے ہی یقین کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے تو انسان دوبار ہ چوری کرنے پرآمادہ ہوجاتا ہے ۔ مثلا ایک مرتبہ امریکہ میں کیلیفورنیا کے ایک سپر اسٹور میں اچانک بجلی بند ہوگئی۔اندرجو لوگ موجود تھے ان کو معلوم ہوا کہ اب کیمرے بند ہوگئے ہیں تو تھوڑی دیر میں ہی چوری کے بے شمار کیسز بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اندرموجود لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ کیمرے کی نگرانی ختم ہوگئی ہےچنانچہ انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کردی۔ کیمرہ ایک الیکٹرانک آلہ ہے جس کو کسی ٹیکنیکل طریقے سے دھوکہ بھی دیا جاسکتا ہے لیکن اس کی نگرانی کے خوف سے لوگ غلطی نہیں کرتے بلکہ محتاط ہوجاتے ہیں ۔ اگر کسی انسان کے دل میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ ہم ہر لمحہ احکم الحاکمین کی براہ راست نگرانی میں ہیں جس سے نہ کبھی غلطی کا امکان ہے اور نہ اس کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے تو یقینا ایسے شخص کا زاویہ فکر اور طرز عمل بہت ہی مختلف ہوگا وہ اپنے لئے اور اپنے معاشرے کے لئے یقینا رحمت کا باعث ہوگا۔

رسول اللہ کی تربیت کا صحابہ پر اثر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پر اسی طرح کی محنت کی تھی ان کی تربیت اسی انداز پر ہوئی تھی کہ سب سے پہلے ان کے دلوں میں ایمان کی کیفیت کو راسخ کرنے پر کام کیا گیا تھا۔ اللہ تعالی پر تمام صفات کے ساتھ ایمان ان کے دلوں میں اس طرح راسخ ہوگیا تھا کہ ان کو یقین کامل حاصل ہوگیا تھا کہ اللہ تعالی ہرحال میں ان کو دیکھ رہے ہیں۔قرآن کریم کی یہ آیت ہر وقت ان کے پیش نظر رہتی تھی :

یعلم خائنۃ الاعین وماتخفی الصدور( غافر)

وہ نظروں کی خیانت اور دل کے بھیدوں سے پوری طرح باخبر ہے۔”
وہ جہاں جاتے ان کے دلوں میں ایمانی طاقت موجود ہوتی اورایمان اپنی پوری طاقت و کیفیات کے ساتھ موجود رہتا، جس کی وجہ سے ان کے لئے غلطی کرنا اور گناہ کرنا طبعی طور مشکل کام بن چکا تھا ۔اور بشری تقاضے سے کہیں کبھی غلطی ہوجاتی تو فورا توبہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی سعی کرتے ۔ یہی وجہ تھی کہ قرآن میں ان کے لئے یہ بشارت سنائی گئی۔

“اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے”( مجادلہ)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ ایمانی تربیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرہون منت تھی اللہ کی مدد ونصرت کے ساتھ یہ آپ ہی کی کامیاب تربیہ پالیسی تھی جس کی وجہ سے چشم فلک نے وہ مناظر دیکھے جو نہ اس پہلے کبھی دیکھے گئے تھے اور نہ بعد میں اس طرح کے مناظر دیکھے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یافتہ اور تربیت یافتہ یہ جماعت خود ہدایت یافتہ ہونے کے ساتھ دنیا کے لئےبھی مینارہ نور بن گئی جبکہ اس سے پہلے ان کی یہ حالت تھی کہ ان کی جہالت ، ہٹ دھرمی اور انارکی پسندی کی وجہ سے کوئی ان پر حکومت تک کرنا نہیں چاہتا تھا۔

ایمانی طاقت کے ذریعے تربیت کی چند اعلی مثالیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے بعد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بعد کے لوگوں نے بھی جب اسی انداز کی تربیت حاصل کی اوراسی انداز سے اپنی اولاد کی تربیت کی تو وہ بھی صحابہ کی صفات کے حامل ہوگئے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کہیں سفر پر جارہےتھے راستے میں ایک نوجوان چرواہا ملا جو بکریاں چرارہا تھا، آزمائش کی غرض سے اس سے کہا کہ توایک بکری ہمیں دے دے ہم تمہیں اس کی قیمت دیں گے۔ چرواہے نے کہا کہ بکریاں میری نہیں مالک کی ہیں تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مالک کونسا تجھے دیکھ رہا ہے تو کہہ دے کہ ایک بکری مرگئی ، تو جواب میں نوجوان چرواہے نے کہا “اللہ کی قسم مالک تو نہیں دیکھ رہا لیکن اللہ تو دیکھ رہا ہےاس کو میں کیا جواب دوں گا؟
اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک بڑھیا اور اس کی بیٹی کا وہ مکالمہ بھی اس دور کے لوگوں میں ایمانی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے ، واقعہ یوں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فجر سے پہلے مدینے کی کسی گلی سے گزررہے تھے کہ اچانک ان کوایک گھر کے اندر سے آواز آئی ، ایک ماں اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ آج بکری نے دودھ کم دیا ہے ابھی دودھ لینے والا آئے گا اس کے آنے سے پہلے تم اس میں پانی ملادو تاکہ خریدار کادودھ پورا ہوجائے ۔ اس پر بیٹی نے کہا امی ! امیرالمومنین نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ۔ اس پر ماں نے کہا تم پانی ڈال دو اس وقت امیرالمومنین کونسا تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ جواب میں بیٹی نے کہا کہ امی! امیراالمومنین اگر نہیں دیکھ رہے اللہ تودیکھ رہا ہے لہذا میں یہ کام نہیں کرسکتی ۔
امیرالمومنین نے یہ مکالمہ سن لیاتھا اگلے دن ماں بیٹی دونوں کو بلوایا اور یہ مکالمہ ان کے سامنے رکھ دیا یہ سن کروہ انکار نہ کرسکیں۔ اس بیٹی کی ایمانی کیفیت سےعمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے چنانچہ بڑھیاسے اپنے بیٹے کے لئے اس لڑکی کا رشتہ مانگا۔ یہ واقعات ایک طرف تو اس دور کی ایمانی کیفیات اوران کیفیات کی قدردانی کو ظاہر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس دور کے انداز تربیت کی کامیابی کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جب دل میں ایمان کی طاقت راسخ ہوجاتی ہے تو پھر انسان خود ذمہ دار بن جاتا ہے اس کے پیچھے پولیس اور فوج لگانے کی قطعا ضرورت نہیں رہتی۔
ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایمان زندگی میں ہمارے لئے اولین ترجیح کا درجہ حاصل کرے، بلکہ ایمان ہماری آنکھوں کا لینس بن جائے جس سے ہم اپنی ہرسرگرمی کو دیکھیں اور پرکھیں۔کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے ہم ذرا رک کر سوچیں کہ اس حوالے سے ایمانی تقاضا کیا ہے۔کیا ایمان مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے یا نہیں ؟جب اس طرح ایمان تناظر کا درجہ حاصل کرلےتو انسا نی شخصیت کےحسن اور اس کی معنویت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔

ایمانی طاقت کے حصول کے ذرائع

اِیمانی طاقت وہ ڈرائیونگ فورس اور محرک ہے جو انسان کو اس کے اپنے اندرسے ملتی ہے اور اسے درست ٹریک پر رکھتی ہے غلط راہوں سے اسے بچاتی اور درست راستے پر اسے گامزن رکھتی ہے۔یہی ایمانی طاقت تھی جس نے تاریخ کے عام انسانوں کو مشاہیر میں تبدیل کردیا۔ ایمانی طاقت کے حصول کے کئی ذرائع ہیں جن سے ہم بھی ایمانی طاقت حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی شخصیت کو ایمانی نور سے معمور کرکے کامیابی کی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اللہ والوں سے تعلق

انسان جس سے تعلق رکھتا ہے اس کے اثرات غیر محسوس طریقے سے اس میں منتقل ہوجاتے ہیں، اللہ والوں سے تعلق کے بڑے مثبت اثرات ہوتے ہیں اس سے ایمان میں افزودگی ہوجاتی ہے ، اللہ کی معرفت اور محبت دل میں پیدا ہوجاتی ہے۔حدیث کامفہوم ہے کہ تین چیزوں کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو۔ اللہ تعالی کی محبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی محبت اور قرآن کریم کی محبت۔ یہ ساری محبتیں اہل محبت کی صحبت اور اللہ والوں سے تعلق کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں۔اس لئے اللہ والوں سے تعلق رکھیں، ان سے دوستی کریں۔اور اللہ والوں کا تذکرہ گھر میں محبت کے ساتھ کریں اور گھروالوں کو بھی اس تعلق سے جوڑدیں۔ اس سے اللہ تعالی کی معرفت ومحبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور قرآن سے محبت کا جذبہ انشااللہ پیداہوگا۔

عبادات کا اہتمام

عبادات اللہ تعالی کے ساتھ تعلق میں مضبوطی اور ایمان کی افزودگی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔نماز ، روزہ، زکوۃ، حج، سنن ونوافل اور صدقات وخیرات کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے ۔عبادات کے ذریعے انسان اللہ تعالی سے بہت زیادہ قریب ہوجاتا ہے حتی کہ سجدے کی حالت میں تو سب سے زیادہ قرب حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالی کے قرب سے ایمانی لذت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور انسان کی اندرونی کیفیات بہت اعلی اوربہت نفیس تجربہ سے ہمکنار ہوجاتی ہیں۔

ایمانی مراکز سے جڑے رہنا

یہ بھی ایمان کی افزودگی کا ایک بہترین ذریعہ ہے کہ انسان ایمانی مراکز (جہاں ایمان پر کام کیاجاتا ہے) سے جڑجائے۔ مثلا مساجد ومدارس، خانقاہیں، تبلیغی جماعتیں اور اس نوعیت کے دیگر مراکز سے انسان جڑجائے۔ چونکہ وہاں کا موضوع اور وہاں کا ماحول اس طرح کا ہوتا ہے اور وہاں پائے جانے والے لوگ اس فکر سے معمور ہوتے ہیں۔ ان مراکز اور لوگوں سے جڑنے کے نتیجے میں انشا اللہ ایمان کی افزودگی میں مد د ملے گی اور روحانی دنیا آباد ہوگی۔

دینی کتابوں کا مطالعہ

دینی کتابوں خاص کر قرآن کریم کا مطالعہ ترجمہ وتفسیر کے ساتھ کریں۔ اس سے براہ راست قرآن سے آپ جڑجائیں گے اور قرآن کریم کے مفاہیم سے آراستہ ہوجائیں گے ۔ قرآن کریم اللہ تعالی کی اتنی موثر کتاب ہے کہ اس کا باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کی دنیا بدل نہ جائے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر کتابیں پڑھیں ۔ ان کتابو ں کے حوالے سے میرا مشورہ یہ ہےکہ سیرت کی کوئی تین کتابیں شروع سے آخر تک باقاعدہ مطالعہ کریں ۔ قرآن اور سیرت کے مطالعے کے بعد آپ دیگر موضوعات پر بھی حسب توفیق مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے انشااللہ ایمانی افزودگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اگرآپ کتابوں کے مطالعہ کے حوالے سے نئے ہیں اور مطالعہ کی ترتیب آپ کو معلوم نہیں کہ پہلے کونسی کتاب پڑھنی چاہیے اور بعد میں کونسی پڑھنی چاہیے تو آپ کسی اہل علم سے رابطہ کرکے مشورہ لے سکتے ہیں۔ انشااللہ اس مشورے سے بہت فائدہ ہوگا۔

کوئی دینی کورس ضرور کریں

دینی موضوعات پرمختلف کورسز ، ورکشاپس یا کورس ورک کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ باقاعدہ دینی کورس کرنے سے دینی علوم اورایمانی تقاضوں کے حوالے سے آپ کو مستقل پیراڈائم اور تناظرمل سکتاہے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنے دیگر دینی مسائل کو بھی حل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ اور اس میدان میں ترقی کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply