بچوں کی جسمانی نشونما

بچوں کی جسمانی نشونما

بچوں کی نشوونما کے کئی ایریاز ہیں۔ بچے اپنی پیدائش کے بعد ان ایریاز میں سے ہرایریا میں ایک خاص تناسب سے نشونما پاتے ہیں۔ ان میں ذہنی نشونما، جذباتی نشوونما، لسانی و سماجی نشونما، روحانی نشوونما اور جسمانی نشونما سب سے اہم ہیں۔ ان مختلف ایریاز میں بچوں کی نشونما بھی عمر کے لحاظ سے مختلف تناسب کے ساتھ  کبھی تیز اور کبھی آہستہ ہوتی رہتی ہے۔

  اپنے اس اسپیشل آرٹیکل میں آج ہم بچوں کی صرف جسمانی نشونما کاجائزہ لیں گے۔ تاکہ والدین بچوں کی جسمانی نشونما کے ان مراحل کو اور اس دوران بچوں کی ضروریا ت کو نہ صرف سمجھ سکیں۔ بلکہ ان کابھرپور خیال رکھتے ہوئے جسمانی طورپر فٹ اورصحت مندنسل کو پروان چڑھاسکیں۔

بچوں کی درست پرورش وپرداخت اور ان کی بہترین تعلیم وتربیت والدین کی نہ صرف ذمہ داری ہے۔ بلکہ ان کے مقصد حیات کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ والدین کے چاہیے کہ وہ اس موضوع کی اہمیت و نزاکت کا ادراک کرتےہوئے اس کو پوری طرح سمجھنے کی شعوری کوشش کریں۔ مزید پڑھیے

  یہاں پر قارئین کے لئے بچوں کی جسمانی نشونما  کی اہمیت  اور اس کے بنیادی تقاضوں کے بارے میں چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔

:بچوں کی جسمانی نشونما

  ظاہر ہے کہ جسم ہی وہ پیکر ہے۔ جس میں تمام انسانی خصوصیات پروان چڑھتی ہیں۔ جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کردیتی ہیں۔ان تمام خصوصیات کا حامل جسم ہوتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ صحت مند دماغ صحت مند جسم میں پایا جاتا ہے۔ تو سب سے پہلے انسانی جسم کاصحت مند، متناسب، متوازن اور تہذیب یافتہ ہونا ضروری ہے۔

اگر تربیت کے معاملے میں انسانی جسم کو نظر انداز کیا جائے۔ صرف عقل وشعور کو بڑھانے پر ہی توجہ دی جائے۔ تو یہ جامع تربیت کے خلاف ہوگا۔ جسم کو صحت مند، بیماریوں سے محفوظ ، متوازن اور مہذب بنانے کے لئے بنیادی طور پرمندرجہ ذیل چار چیزوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

:بچوں کی جسمانی نشوونما کے لئے چار بنیادی چیزیں

متوازن غذا

مناسب آرام/نیند

جسمانی ورزش

جسمانی صفائی کا اہتمام

 :جسمانی نشوونما کیلئے متواز ن غذا کی ضرورت

متوازن غذا انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ بچے کی نشوونما میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو قدرت کی طرف سے اس کی غذا ایک نالی کے ذریعے اس تک  پہنچادی جاتی ہے ۔ دوران حمل خود  ماں کو متوازن اور اچھی غذا لینی چاہیے۔ تاکہ ماں کے پیٹ میں پرورش پانے والے جنین کو متوازن غذا ماں کے ذریعےملتی رہے ۔

 پیدائش کے بعد بچے کے لئے سب سے بہترین اور مکمل غذا ماں کا دودھ ہوتاہے۔ کوئی مجبوری نہ ہو تو بچے کو ماں کادودھ لازمی پلادینا چاہیے۔اگرماں کا دودھ کم ہو تو ابتدائی چار ماہ تک بچے کو اوپر کا دودھ دینے کےبجائے ماں کو کوئی ایسی غذا دی جانی چاہیے جو ماں کا دودھ بڑھادے۔

چار ما ہ کے بعد ماں کے دودھ کے ساتھ دیگر غذائیں آہستہ آہستہ دی جاسکتی ہیں۔ بچوں میں اچھی اور متوازن غذالینے کی عادت ابتدائی دنوں سے ہی ڈلوائی جاسکتی ہے۔ ورنہ بعد میں بچےمتوازن  اورآئیڈیل غذا کو چھوڑ کر غیر متوازن اور نقصان دہ غذا کی طرف بھاگتے ہیں۔ اس وقت بچوں کی متوازن غذا کا مسئلہ معاشرہ کا سب سے اہم مسئلہ بن کررہ گیا ہے ۔کیونکہ بچے وہ غذا نہیں لینا چاہتے جو ان کو لینی چاہیے۔ بلکہ وہ جنگ فوڈز لینے کے لئے ضد کرتے ہیں۔

 اس کا حل والدین کی طرف سے بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ نہیں۔ بلکہ بچپن سے ہی اس کی غذا کے متعلق محتاط رہنا اور باقاعدہ فوڈ پلان تیارکرنا ہے۔تاکہ بچوں کی روٹین اسی کے مطابق بن سکے۔بچوں کے لئے آئیڈیل، متوازن اور صحت مند غذا کیا ہوتی ہے؟ اس عنوان کے تحت مشہور چائیلڈ اسپیشلٹ ڈاکٹر جین بیکر اپنی کتاب میں لکھتےہیں۔

بچوں میں اچھی غذا کی عادت کیسے ڈالیں؟

اچھی غذائی عادات کسی کی زندگی میں ابتداء ہی سے ڈالی جاسکتی ہے۔ابتدائی8سال غذائی عادات کو ڈھالنے اور بنانے کے لئے انتہائی اہم ہوتے ہیں ۔اور یہ بات بھی اہم ہے کہ مختلف النوع خوراک گھر پر ہی تیار کی جائیں۔ خوراک میں روٹی، دلیہ، اناج، پھل اور سبزیاں شامل ہونی چاہییں۔ یہ سب ہماری خوراک کا سب سے اہم حصہ ہوتی ہیں۔دوسری اہم کیٹیگریز میں پروٹین شامل  ہے۔ جس میں چکنائی کے بغیر گوشت، سویا پروڈکٹس اور دالیں شامل ہیں۔

 اورآخری کیٹیگری جو شاذ ونادر استعمال کرنی چاہیے۔ وہ چکنائی، آئل اور  میٹھا ہے۔ گھر میں ایسے سادہ کھانے پکائے جائیں جو سیچوریٹیڈ ہوں۔ اور کولیسٹرول سے پاک ہوں۔ اورکھانوں میں نمک اور شکر اعتدال سے موجود ہوں۔ بڑھتے ہوئے بچوں کو کیلشیم کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے۔ لہذا انہیں گہرے ہرے پتوں والی سبزیاں، تل اور مچھلی کھلانی چاہیے۔

:جسمانی نشوونما کیلئے آرام/نیند

بچوں کی جسمانی تربیت اور نشوونما کے لئے متوازن غذا کے علاوہ مناسب آرام اور نیند بھی بہت ضروری ہے۔ چنانچہ جسمانی تربیت کرتے ہوئے بچوں کے مناسب آرام کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مناسب آرام سے مراد ہرانسان کے لئے اتنی نیند ہے کہ جس کے بعد وہ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرے۔ اور اسے مزید سستی اور اونگھ کی سی کیفیت کا سامنا نہ کرناپڑے۔ بچپن میں نیند کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ بڑے ہونے کے بعد اس  ضرورت میں کمی آتی رہتی ہے۔ جو چوبیس گھنٹوں میں تقریبا چھ سے آٹھ گھنٹے کے درمیان ہونی چاہیے۔

 بچوں کی نیند کی حتمی مقدار کے لئے کوئی لگابندھا اصول تو نہیں۔ عموما یہ دس سے بارہ گھنٹے کی ہوتی ہے۔ تاہم  یہ بھی خیال میں رہنا چاہیے کہ ضروری آرام سے زیادہ سونے سے بھی انسان سستی اور تکان کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لئے بچوں کی تربیت میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کو صحت مند رہنے کے لئے کتنی نیند کی ضرورت ہے؟

:بہتر نشوونما کیلیے جسمانی ورزش

جسمانی صحت کے لئے متوان غذا اور مناسب آرام کے علاوہ جسمانی ورزش بھی ضروری ہے۔جسمانی ورزش سے خوراک جزوبدن بن جاتی ہے اور پسینہ نکلنے سے جسم کے فاسد مواد خارج ہوجاتے ہے۔اگرا نسان کھا پی کر سویا رہے یا بیٹھا رہے اور ورزش نہ کرے تو اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔

 اس سے غذا جسم کو نہیں لگتی۔ جسم متوازن نہیں رہتا بلکہ بے ہنگم سا ہوجاتا ہے۔ انسان موٹاپے کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سے انسان جسمانی طورپر بیمار ہونے کے علاوہ نفسیاتی طور پر بھی غیرمتوازن ہوجاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ باہر میدان میں نکل کر جسمانی مشقت والا کھیل کھیلے ۔خوب بھاگ دوڑ کرے پسینہ نکالے اور اپنے جسم کو خوب تھکائے۔ اس سے اس کے  جذبات اور عقل وشعور پربھی  انتہائی مثبت اثرات پڑیں گے۔

:جسمانی نشوونما  کیلئےصفائی و ستھرائی

خوراک، آرام اور ورزش کے علاوہ بہتر جسمانی نشوونما کے لئےایک اور اہم چیز صفائی و ستھرائی ہے۔ صفائی ستھرائی کو دین میں آدھا ایمان کہاگیا ہے ۔ اس کے بغیر ایمان ہی نامکمل رہ جاتا ہے۔ اور جسمانی لحاظ سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے بہت سی بیماریوں سے بچاجاسکتاہے۔

صفائی کا خیال رکھنے والا انسان جسمانی وروحانی دونوں طورپر تروتازہ رہتا ہے۔ اللہ اور اس کی مخلوق میں ہردلعزیز بن جاتا ہے۔لہذا جسمانی صفائی بچے کی تربیت کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے۔ اور اسکی عادت بچپن سے ہی ڈال دینی چاہیے۔

جسمانی صفائی میں روزانہ دانتوں پربرش کرنے کے علاوہ پورے جسم کی صفائی اورصاف ستھرالباس پہننا بھی شامل ہے۔ جسم اور لباس دونوں صاف ستھرے ہوں تو انسان روحانی طور پر بھی خوشگوار  محسوس کرتا ہے ۔ دماغ میں اچھے خیالات جنم لیتے ہیں۔ اور انسان کی خوداعتمادی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔ مزید پڑھیے

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*