بچوں کے  حقوق اسلام کی نظر میں (حصہ اول) 

  بچوں کے  حقوق اسلام کی نظر میں (پہلاحصہ) 

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

بچہ جیسے ہی پیدا ہوجائے اسے غسل دیا جائے اچھی طرح صفائی کا اہتمام کیاجائے اور کپڑے پہنائے جائیں۔ اس کے بعد اس کے داہنے کان میں مناسب آواز سے اذان دی جائے اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے یہ عمل رسول اللہ ﷺ  کی سنت سے ثابت ہے۔ ابوداؤد اور مسند احمد کی روایت ہے کہ حضر ت عبیداللہ بن رافع اپنے والد سے روایت کرتےہیں،کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پیدائش کے بعد حضرت حسنؓ کے کان میں اذان اور اقامت کہتے ہوئے سنی۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے اس بچے کو ام الصبیان یعنی مرگی کی بیماری نہیں ہوگی۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ حدیث کے مطابق بچہ اللہ کی طرف سے فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے اذان اور اقامت سے بچے کو اس کی اطلاع ہوجاتی ہے۔

:اچھانام رکھنا
بچے کی پیدائش کے بعد اچھا نام رکھنا بچے کا حق اور والدین کی ذمہ داری ہے۔امام بیہقی ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: والد پر بچے کا حق یہ ہے کہ پیدائش کے بعد اس کا اچھا سا نام رکھے اور اس کی بہترین تربیت کرے۔“ نام انسان کی اولین پہچان اور پہلی شناخت کا کام دیتا ہے جس سے اس کو گھرخاندان میں، دوستوں میں،محلے، مکتب اور اسکول میں، کالج و یونیورسٹی میں، دفتراور پروفیشنل لائف میں بلکہ زندگی بھرپکارا جاتا ہے بالاخر مرنے کے بعد آخرت میں بھی اللہ کے ہاں اسی نام سے اس کو پکارا جائے گا جس نام سے دنیا میں اس کوپکارا جاتا تھا اور جو نام والدین نے پیدائش کے بعد اسے دیا تھا۔

حضرت ابوالدرداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن تمہیں اپنے ناموں اور تمہارے والد کے ناموں سے پکارا جائے گا،اس لئے بہتر نام رکھا کرو۔“ کہاجاتا ہے کہ نام والدین کی طرف سے بچے کودیا گیا پہلاتحفہ ہوتا ہے اگر نام اچھا ہو تواس نام سے پکارنے پر بچہ خوشی محسوس کرتا ہے عزت محسوس کرتا ہے نام اچھا نہ ہو تو اپنے ہم جولیوں میں بے عزتی محسوس کرتا ہے۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ نام رکھنے کے سلسلے میں بہت ہی محتا ط رویہ اختیار کریں۔ اور دوسری بات یہ کہ نام انسانی شخصیت پر ایک لیبل کا کام کرتا ہے جس کے گہرے اثرات انسانی شخصیت پراخلاقی و نفسیاتی اور روحانی طور پر بھی پڑتے ہیں۔نام کسی عظیم نسبت سے رکھا جائے تو اس نسبت کے اثرات بھی بچے کے مزاج ومذاق کا حصہ بن جاتے ہیں۔

بچوں کے اچھے نام رکھنے کے کچھ اصول ہیں جنہیں جاننا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ بچے کانام اسلامی عقائد اور مسلم اخلاقیات کا آئینہ دار ہواور ساتھ ہی خوبصورت اور بامعنی نام ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پیارے اور پسندیدہ نام ”عبداللہ اور عبدالرحمن“ ہیں ۔ کیونکہ ان ناموں سے اسلامی عقائد کی بنیاد یعنی توحید جھلکتی ہے ورنہ اس سے پہلے لوگ عبدشمس یعنی سورج کابندہ اور عبدالدار یعنی گھر کا بندہ وغیرہ نام رکھا کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں عبداللہ اور عبدالرحمن کے معنی اللہ کا بندہ اور رحمن کا بندہ کے ہیں۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ نام بامعنی ہونے کے ساتھ زبان پر ہلکا پھلکابھی ہو، غیرضروری طور بہت ثقیل یا بہت طویل لفظ کانام نہ رکھا جائے ورنہ لوگ اس نام کو بگاڑیں گے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگرکہیں عبداللہ یا عبدالرحمن کے لفظ کوبگاڑنے یا کاٹ کر بے معنی بنانے کا اندیشہ ہو تو یہ نام نہیں رکھنے چاہییں۔ مثلا ہمارے معاشرے میں بعض لوگ عبدالرحمن کو رحمن کہہ کرپکارتے ہیں جو حرام ہے کیونکہ رحمن اللہ کی خاص صفت ہے جو کسی انسان کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں،نیز ایسا کرنا مسلم عقائد کے بھی خلاف ہے۔حضور اکرم ﷺ کے پاس کوئی شخص مسلمان ہوکر آتا اور اس کا نام درست معانی کا حامل نہ ہوتا تو آپ فورا اس کا نام تبدیل فرمالیتے۔

نام رکھنے کا ایک اوراہم اصول یہ بھی ہے کہ بچے کا نام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام وصحابیات، سلف صالحین، اولیاء عظام یا اس طرح کی نیک نام عظیم شخصیات کے نام پر رکھنا چاہیے کیونکہ نام جس نسبت سے رکھا جائے اس نسبت کی اہم تاثیر ہوتی ہے جو بچے کی شخصیت پر انداز ہوتی ہے۔ موجود دورمیں جدید نسل کے اندرٹی وی ڈراموں، فلمی اداکاروں یا ناول کے کرداروں کے نام پر نام رکھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے جو نئی نسل کے لئے نیک شگون نہیں ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ نام کی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے بچے کی شخصیت پر اس کے اثرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اپنی اولاد کو اچھے نام کا تحفہ دیدیں۔

:عقیقہ
بچے کی پیدائش کے ساتویں دن کوئی جانوروغیرہ صدقے کے طور پر ذبح کرنا عقیقہ کہلاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیارے نواسوں حضرات حسنین ؓ کے لئے عقیقہ کیا تھا اوردوسروں کو اس کی تاکید بھی فرمائی ہے۔ شریعت کی نظر میں عقیقہ سنت عمل ہے اس کے کرنے پر ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر گناہ نہیں ہوتا۔ سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہربچہ پیدائش کے بعد سے عقیقہ تک گروی ہوتا ہے جب تک کہ ساتویں دن کوئی جانور ذبح کیا جائے بچے کے بال منڈوائے جائیں اور اس کا نام رکھا جائے۔“

عقیقہ میں صاحب استطاعت والدین لڑکے کی طرف سے دوبکرے ذبح کرسکتے ہیں جبکہ لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ذبح کیا جاسکتا ہے، یہ والدین پربچے کا حق ہوتا ہے۔ عقیقہ اسلام سے پہلے بھی عرب میں رائج تھا بچے کی پیدائش پر لوگ خوشی کے طور پر جانور ذبح کرتے تھے اور اس کے خون سے بچے کے جسم کو رنگ دیتے تھے۔ اسلام نے اس عمل کو باقی رکھتے ہوئے اس کی اصلاح بھی کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے نواسوں حضرات حسنین ؓ کے لئے عقیقہ کیا تو حضرت فاطمہ ؓ کو نومولود کے بال منڈوانے اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا،چنانچہ یہی سنت عمل ہے۔

:ختنہ
ٍ ختنہ اسلام میں سنت ابراہیمی ہے جو پانچ حنیفی خصلتوں میں سے ایک ہے۔اسلام کے علاوہ دین یہود میں بھی ختنہ کاحکم موجود ہے یہودی بھی اپنے لڑکوں کا ختنہ کراتے ہیں۔عیسائی بھی کرواتے ہیں لیکن ان کے ہاں یہ کوئی مذہبی حکم نہیں ہے بلکہ اختیاری کام ہے۔ اس کا سنت طریقہ ساتویں دن کرانا ہے لیکن اگر تاخیر ہوجائے تو سات سال کے اندر اندر کروانا چاہیے۔ ختنہ کے طبی فوائد بھی بے شمار ہیں یہ کئی قسم کی بیماریوں اور انفیکشن سے بچاؤ کا بہت اہم ذریعہ ہے اس لئے دنیا کے اکثر ملکوں میں طبی فائدے کے پیش نظر بچوں کا ختنہ کروایاجاتا ہے۔ اپنے بچے کاختنہ سات دن میں کرانا سنت عمل ہے اور والدین کی ذمہ داری ہے زیادہ سے زیادہ تاخیر ہو تو سات سال کے اندر کروانا چاہیے لیکن اس سے زیادہ تاخیر درست نہیں۔

 

:بچوں کے آئینی حقوق
بچے مستقبل کے والدین اور معاشرہ سازہوتے ہیں انہیں سے انسانی نسل اور معاشرتی اقدار کا تسلسل برقرارررہتا ہے، آج والدین اور معاشرے کی طرف سے ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جائے گا کم وبیش اسی کو وہ مستقبل میں دہرائیں گے۔اگر آج ان کے ساتھ عزت واحترام والارویہ اختیار کیا گیا جس میں بچوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت کے اقدار موجود ہوں تویہ رویہ اگلی نسل میں منتقل ہوگا ورنہ اس کے برعکس صورت حال کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ اسلام نے آج سے چودہ سوسال پہلے بچوں کو آئینی حقوق عطا کیے تھے جن میں ان کی جان کی حفاظت، حق پرورش، لباس وخوراک کی فراہمی، تعلیم وتربیت، حق میراث اور حق نکاح وغیرہ شامل تھے۔ ہم ذیل میں ان تمام حقوق کوذرا تفصیل سے بیان کریں گے۔

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے 1989 میں بچوں کے حقو ق کے لئے ایک کمیشن بنایاگیا اور بچوں کے حقوق بین الاقوامی پلیٹ فارم سے باقاعدہ طور پر متعین کئے گئے اور ملکوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ہاں قانون سازی کرکے ان حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ ذیل میں پہلے ان بین الاقوامی حقوق کی لسٹ فراہم کی جاتی ہے۔
۔1۔بین الاقوامی قانون کے مطابق 18سال سے کم عمر انسان کوبچہ تصور کیا جائے گا، 18سال پورے ہونے پر اسے بالغ فرد شمار کیاجائے گا۔
۔ ۲۔بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال والدین کی ذمہ داری ہوگی۔
۔ ۳۔ہرنومولودبچے کا اندراج قومی اعداد وشمار کی فہرست میں کرنا لازمی ہوگا۔
۔۴۔ بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنے کا حق رکھتے ہیں۔
۔ ۵۔بچوں پر تشدد غیر قانونی عمل تصورہوگا۔
۔ ۶۔اچھی تعلیم اور تمام اشیاء ضروریہ کی فراہمی بچوں کابنیادی حق ہے۔
آگے بچوں کے ان حقو ق کا ہم مختصراجائزہ لیں گے جو اسلام نے بچوں کو عطا کیے یہ نہایت جامع حقوق ہیں جن کی ادائیگی والدین کی ذمہ داری ہے اور ادائیگی میں کوتاہی قابل سزا جرم بن سکتی ہے، تاکہ یہ بچے مستقبل کے معمار بن سکیں۔

:حق حیات
حق حیات وزیست ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ ہرانسان کو جینے کا حق ملے، اسی طرح یہ بچے کا بھی بنیادی حق ہے کہ اسے جینے کا موقع دیا جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ چونکہ بچے کمزور ہوتے ہیں وہ اپنے حقوق کا ادراک اور تحفظ نہیں کرسکتے لہذا اس حق تحفظ کی ذمہ داری والدین کو دی گئی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہویا پیدائش کے بعد بچپن کا زمانہ ہو دونوں صورتوں میں ان کی زندگی کا تحفظ ماں باپ پر لازم ہے۔

سرزمین عرب میں جب اسلام آیا تو اس وقت مختلف بہانوں سے بچوں کو قتل کرنے کارواج عام تھا بعض اوقات والدین غربت وافلاس کے ڈر سے اپنے بچوں کو قتل کرتے تھے اور بعض اوقات قبائلی عصبیت کی بنا پر بچیوں کو قتل کرتے یا ان کو زندہ زمین میں گاڑدیتے تھے اور بعض اوقات بچوں کو بتوں کی بھینٹ چڑھالیاکرتے۔ یوں مختلف وجوہات کی بنا پر بچوں کا قتل کرنا عام رواج تھا۔ اسلا م نے قتل کی ان تینو ں وجوہات کو یکسر مستردکیا اوربچے کی جان کو والدین کے ہاتھ میں امانت قراردیا اور اس کے قتل کی کسی بھی کوشش کو جرم قراردیا۔

بچوں کے قتل کی ایک وجہ معاشی محرومی کا اندیشہ تھا، بعض والدین اپنی اولاد کے بارے میں نہایت فکرمند ہوتے کہ ان بچوں کو کہاں سے کھلائیں گے اور کہاں سے پہنائیں گے۔ یہ معاشی محرومی کا خوف ہی تھا جس کی وجہ سے خود ماں باپ اپنی اولاد کے قتل پرآمادہ ہوجاتے تھے قرآن کریم نے والدین کو سختی منع کیا کہ وہ کسی جان کو چاہے وہ تمہارا اپنا بچہ کیوں نہ ہو کو قتل کریں چنانچہ فرمایا: ولاتقتلوا اولادکم خشیۃ املاق، نحن نرزقہم وایاکم ان قتلھم کان خطئا کبیرا . ”اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرناکیونکہ ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں،بے شک ان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے۔“

قرآن کریم کی ایک اور آیت میں کئی محرمات یعنی حرام چیزوں کا ایک ساتھ ذکرفرمایا اور ساتھ ہی قتل اولاد کو بھی حرام قراردیتے ہوئے فرمایا: قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم ان لاتشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احساناولاتقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقھم وایاکم “اے پیغمبرآپ ان لوگوں سے کہیے کہ آؤ میں تمہیں وہ چیزیں بتاؤں جو تم پرتمہارے رب نے حرام کی ہیں:کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنانا،اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اپنی اولا د کو محض ناداری کے خدشے سے قتل مت کرنا کیونکہ ہم ہی ان کوبھی اورتمہیں بھی رزق عطاکردیتے ہیں۔“

بچوں کے قتل کی ایک وجہ غلط مذہبی عقائدواوہام یا خیالات تھے جن کی وجہ سے لوگ اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے مثلا بعض لوگ اپنی اولاد کو کسی دیوی دیوتا، کسی درگاہ یا کسی پیر فقیرکی نذر کرتے ہوئے قتل کردیتے تھے بلکہ آج کے دور میں بھی کسی نہ کسی سطح پر یہ عمل جاری ہے آئے دن کوئی نہ کوئی خبر آتی ہے کہ فلاں جگہ والدین نے اپنے بچے کو کسی جاہل عامل یا کسی جاہل پیر کے کہنے پر ذبح کیا یہ ایک جاہلانہ اور ظالمانہ عمل ہے جس کو قرآن کریم نے سختی سے منع کیاہے اور اس عمل کو جاہلانہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:

قدخسرالذین قتلوا اولادھم سفہا بغیر علم وحرموا مارزقھم اللہ افتراء علی اللہ قد ضلواوماکانوامھتدین۔ ”جن لوگوں نے اپنی اولادکو بے وقوفی اور ناسمجھی سے قتل کیااور خدا پرافتراباندھ کر اس کے عطاکردہ رزق کو حرام ٹھہرایا،وہ خسارے میں پڑ گئے اورایسے لوگ قطعا ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔“ ایک اور آیت میں اس مضمون کو یوں ارشاد کیا: وکذالک زین لکثیرمن المشرکین قتل اولادھم شرکاء ھم لیردوھم ولیلبسوا علیھم دینھم ولو شاء اللہ مافعلوہ فذرھم وماکانوا یفترون ”اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے اپنے بچوں کو جان سے مارڈالنا اچھا کردکھایاتاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں،اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں، اگر خداچاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس تم ان کو چھوڑ دو وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔“

حق حیات سے محروم کرنے اور اولاد کو قتل کرنے کی ایک وجہ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کو معاشی بوجھ سمجھنے کے ساتھ قومی غیرت کے خلاف سمجھنا بھی تھا۔ بیٹی کو آج بھی بعض معاشروں میں معاشی بوجھ سمجھاجاتا ہے اور بیٹے کے مقابلے میں اس کی توقیر کم کی جاتی ہے اسکے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات آج کے معاشرے میں بھی بے شمار ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں یہ رویہ پوری شدت سے پایا جاتا تھا اس کی ایک وجہ وہی معاشی بوجھ سمجھنا تھی کہ لڑکی کو پال پوس کر جوان کیا جائے اور پھر اسے کسی دوسرے کے حوالے کیا جائے یہ کام ان کو بہت بھاری لگتا تھا اور دوسری وجہ اس دورمیں قومی غیرت کے حوالے سے غیر ضروری حساسیت تھی کیوں کہ وہ اس بات کو معیوب سمجھتے تھے کہ ہماری قوم کی لڑکی کسی غیرقوم کے لڑکے کے ساتھ بیاہی جائے۔

بہرحال یہ وہم یا غیر ضروری حساسیت ہی تھی جس کی وجہ سے وہ بیٹی سے کتراتے تھے اسے سخت ناپسند کرتے تھے۔وہ یا تو اسے کسی بہانے قتل کردیتے یا زندہ زمین میں گاڑدیتے تھے اگرقتل نہ بھی کرتے تب بھی اس بیچاری عورت کی زندگی نہایت کسمپرسی کی حالت میں گزرتی تھی۔اسلام نے اس رسم بد کو اور بیٹی کے حوالے سے ان لوگوں کے غلط تصورات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ختم کیا اور ان کے اس عمل کو جاہلیت کا عمل قراردیا۔ اسلام نے بچہ ہو یا بچی دونوں کے حق حیات کو تحفظ فراہم کیا بچی کو اللہ کی رحمت قراردیتے ہوئے اس کے قتل کو بہت بڑاجرم قراردیا اور اس عمل کے مرتکب عناصر کو سخت الفاظ سے متنبہ کیا۔بیٹیوں کے حوالے سے زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے رویے کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

واذابشر احدھم بالانثی ظل وجہہ مسودا وھوکظیم۔ یتواری من القوم من سوء مابشربہ ایمسکہ علی ھون ام یدسہ فی التراب الاساء مایحکمون ( )”اورجب ان میں کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر ملتی ہے تو اس کا چہرہ غم کے مارے کالا پڑجاتا ہے،اور اس کے دل کودیکھوتو وہ اندوہناک ہوجاتا ہے،اور اس خبر بد کی وجہ سے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیاذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا اسے زندہ زمین میں گاڑدے۔دیکھویہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری بات ہے۔“سورۃ زخرف کی ایک اور آیت میں فرمایا: واذا بشراحدھم بماضرب للرحمن مثلاظل وجھہ مسودا وھوکظیم( ) ”اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جوانہوں نے اللہ کے لئے بیان کی ہے،تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غم سے بھرجاتا ہے۔“

خلاصہ یہ ہے کہ حق حیات ہرانسان کو اللہ تعالی نے عطافرمایا ہے بچے کے حق حیات کے تحفظ کی ذمہ داری اللہ تعالی نے والدین پر ڈالی ہے۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے نومولود کی چاہے وہ بچہ ہو یا بچی زندگی کا تحفظ کریں۔ کسی بھی بہانے چاہے وہ دورحاضر کی مختصر خاندان کے لئے فیملی پلاننگ ہو یا کوئی اور وجہ ان کی زندگی کو ختم کرنے کا جواز ان کے پاس موجود نہیں۔اس کو قابل تعزیرجرم قراردیا   اور ایسے کسی بھی عمل کو ناجائز قراردیا۔ مضمون کا حصہ دوم پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کیجے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*