تربیت کے لئے ترجیحات کا تعین

تربیت کے لئے ترجیحات کا تعین

ترجیحات کا تعین کیے بغیر کسی بھی کام کو کامیابی سےمنطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔ترجیحات کا تعین ہی انسانی سرگرمیوں کو سمت فراہم کرکے انہیں  منزل تک پہنچانے میں مددفراہم کرتا ہے۔جولوگ کسی بھی کام کو منظم، موثر، منضبط اور دیئے گئے وقت کے اندر مکمل کرنا چاہتے ہوں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کام کے لئے سب سے پہلے ترجیحات کا تعین کریں۔ترجیحات کا تعین ایک ایسا عمل ہے۔جسے دنیا کا ہرکامیاب انسان اختیار کرتا ہے۔ بلکہ کسی بھی کامیابی میں شاید اس کا بنیادی کردار ہوتاہے۔

ہمارے دین نے ہمیں ترجیحات کے تعین کی نہ صرف تعلیم دی ہے۔ بلکہ شریعت کے احکامات کو دیکھا جائے تو ترجیحات کے تعین کی بنیاد پر ہی ان کی ساری ترتیب مقرر کی گئی ہے۔ مثلا جن چیزوں کا حکم دیا گیا ہے ان میں پہلے فرض پھر واجب پھر سنت اور مستحب کا درجہ آتا ہے۔ اسی طرح جن کا موں سے منع کیا گیا ان کی درجہ بندی میں پہلے حرام پھر مکروہ تحریمی اورپھر مکروہ تنزیہی کورکھنا اس بات کا ثبوت ہے۔ کہ جب تک اس طرح سے ترجیحات کا تعین نہ کیا جائے ۔کسی بھی چیز کے مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے۔

ترجیحات کے تعین سے ہدف آسان ہو جاتاہے۔

ترجیحات کا تعین کرنے سے انسان کے لئے اپنے ہدف پر فوکس کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔وہ اس سے اپنی جدوجہد کی سمت کو بھی متعین کرسکتا ہے۔ترجیحات کے تعین کی اہمیت انسان کی ذاتی زندگی، سماجی زندگی، معاشی زندگی،روحانی واخلاقی زندگی کے علاوہ ہر شعبہ حیات میں ہمیں نظرآتی ہے۔ جب انسان کا ہدف واضح ہونے کے ساتھ اس کا حصول اولین ترجیح بن جائے۔ تو اس کی طرف بڑھنا اور جدوجہد کرنا انسان کا عشق ا ورجنون بن جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی سیر ت طیبہ سے اس کی بے شمار مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ ایک مثال پیش خدمت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت شروع کی۔ توکفار نے ابتداء کافی مزاحمت کی اور زورزبردستی اس کام کو روکنے کی ناکام کوششیں کیں۔ایک مرتبہ آپ ﷺ کے چچا حضرت ابوطالب پر پریشر ڈالنے کی غرض سے ان کو پیغام بھیجا ۔کہ ابوطالب! آپ ہمارے درمیان سے ہٹ جائیں یا اپنے بھتیجے کو سمجھا کراسے منع کریں۔ کہ وہ ہمارے بتوں کو کچھ نہ کہے۔ اگروہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ان کو دنیا کی ہرعزت اور نعمت دینے کو تیار ہیں۔ ورنہ ہم ان کے خلاف اور آپ کے خلاف بھی انتہائی قدم اٹھائیں گے۔

کفار کی دھمکی پر رسول اللہﷺ کا عزم 

کفار کی اس بات پر جناب ابوطالب کوکافی پریشانی لاحق ہوئی۔ اور آپ ﷺ کو بلاکر کہا بھتیجے! آپ مجھ پر اوراپنے اوپر رحم کیجئے۔ مجھ پر وہ بوجھ مت ڈالئے جسے میں اٹھانہیں سکتا۔ لہذا آپ اس کام چھوڑ دیجئے۔تاہم اس شدید دھمکی پر رسول اللہ ﷺ بالکل پرسکو ن رہے۔ اور جواب میں ایک  جملہ ارشاد فرمایا: چچا جان اگریہ لوگ میرے داہنے ہاتھ پر سورج رکھ دیں اور بائیں ہاتھ پر چاند۔ تب بھی میں یہ کام نہیں چھوڑ سکتا۔ یہاں تک کہ یا تو اللہ تعالی مجھے غالب کردیں گے۔ یا میں اسی راہ میں فناہو جاؤں۔

رسول اللہ ﷺ کے جواب سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے۔ کہ جب ترجیحات متعین ہوں۔ تو انسان اپنے عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کس طرح عزم مصمم اختیار کرسکتا ہے۔دراصل ترجیحات کے تعین سے انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے ہرکام میں مقصدیت آجاتی ہے۔

اولاد کی تربیت درحقیقت انسان کی زندگی کے اہم ترین اور مقصدی کاموں میں سے ایک ہے۔ جب تک والدین اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین نہیں کریں گے۔ اور تربیت کے کام کو اس کی حیثیت کے مطابق ترجیحات میں جگہ نہیں دیں گے۔ اس وقت تک تربیت کا عمل درست انداز سے شروع ہی نہیں ہوسکتا۔اگر والدین اپنی جاب کو اپنی بزنس کی مصروفیات کو اپنے دفتری کاموں کو زیادہ اہمیت دیں گے۔ یا مائیں اپنے کچن کی مصروفیات کو یا شاپنگ کوبچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ اہمیت دیں گی۔ تب تک تربیت کا یہ عمل مناسب انداز سے شروع ہی نہیں ہوسکتا۔

بچوں کی تربیت والدین کی اولین ترجیح

والدین پہلے اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین کریں۔ اور اس میں بچوں کی تعلیم وتربیت کو اپنی زندگی کی  پہلی ترجیح  بنائیں۔ اورپھر تربیت کا عمل شروع کریں۔ تب یہ عمل مناسب انداز سے شروع ہوسکتا ہے۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اولاد کی تربیت ان کی بنیادی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اور یہ ذمہ داری خود خالق کائنات نے ان کے ذمہ لگائی ہے۔چنانچہ فرمایا: یاایھاالذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “ایمان والو! تم اپنی جانوں کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاو۔” ظاہر ہے یہ تربیت کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔

حدیث میں رسول کریم ﷺ نے والدین کو خطاب کرکے فرمایا: الاکلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ ”خبردار!تم میں سے ہر ایک راعی (ذمہ دار) ہے۔ اور تم سے تمہاری ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“لہذا اولاد کی تربیت کو پہلی ترجیح بنانا والدین کا اہم  فریضہ ہے۔

تربیت شروع کرنے سے پہلے والدین اپنا کردار متعین کریں۔

جب والدین اپنے اس فریضے کی ادائیگی کو شروع کرنے لگیں۔تو یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ تربیت بذات خو د ایک بہت بڑااو ر صبرآزماکام ہے۔  والدین کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت کے لئے پہلے سوچ بچار کریں ۔والد اور والدہ اپنے اپنے کردار کو متعین کریں۔ اپنے کردار کی ادائیگی کے لئے بھرپور تیاری کریں ۔پھرا س کام کو شروع کریں۔ بچے کی تربیت اور ا س کے لئے ترجیحات کے تعین کو والدین اس طرح سمجھ لیں۔ کہ وہ مستقبل کے لئے ایک عمارت تعمیر کرنے جارہے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ عمارت بننے سے پہلے اس کے تما م خدوخال، اس کی ڈرائنگ اور اس کا پورا نقشہ اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ واضح ہونا چاہیے۔

پینٹنگ سے پہلے پینٹر کے ذہن میں ایک خاص تصویرموجود ہوتی ہے۔ جسے بعد میں وہ کاغذ پر پینٹ کرتا ہے۔ اگر خود پینٹر کے ذہن میں پہلے سے تصویر موجود نہ ہو تو وہ بے ہنگم برش ادھر ادھر پھیرسکتا ہے۔ جس سے تصویر تو بن نہیں سکتی البتہ ایک الجھی ہوئی بے ہنگم سی شکل وجود میں آجائے گی۔ بالکل اسی طرح بچے کی شخصیت کے بارے میں کوئی واضح تصویریا خاکہ والدین کے ذہن میں نہ ہو۔اور اس تصویر کے تمام اجزا کی کمیت و کیفیت نیز اس کو بناتے وقت کے مختلف مراحل کے دوران کے لئے ترجیحات کا تعین نہ ہو۔توبچے کی جامع شخصیت نہیں بن سکتی۔ بلکہ بے ہنگم برش پھیرنے سے جو الجھی ہوئی شکل بنتی ہے۔ اسی طرح بچے کی شخصیت بھی الجھی ہوئی اور بے ہنگم سی ہوگی۔

اس لئے ضروری ہے کہ والدین بچے کی تربیت کے حوالے سے پہلے ترجیحات کا تعین کریں۔ اور پھر اس تصویر کے خاکے کو ذہن میں یا کاغذ پر واضح طور پر بنائیں۔ترجیحات کے تعین اور ذہنی تصویر یا ڈرائینگ مکمل کرنے کے بعد ہی بچے کی تعمیرشخصیت کا عمل باقاعدہ طورپر شروع کریں۔

:والدین کی ترجیحات

ایک سروے کروایاگیا جس میں والدین سے کچھ سوالات پوچھے گئے تھے ۔کہ آپ اپنے بچے کوکیا بنانا چاہتے ہیں؟ کیسے بنائیں گے؟ اور کیوں ایسا بنانے کا ارادہ کیاہے؟مختلف والدین سےان سوالات کے جوابات لینے کے بعد پتہ چلا ۔کہ تقریبا ستانوے فیصد والدین کے پاس اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح نقشہ موجود ہی نہیں تھا ۔کہ وہ اپنے بچے کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ اور کیسے بنائیں گے؟ان میں سے اکثر والدین نے پہلے سوال کا جواب یہ دیا ۔کہ ہم اپنے بچے کو ایک کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں ۔

لیکن کامیابی سے ان کی کیا مراد ہے؟ یہ بات ان کے ذہن میں واضح نہیں تھی۔ حالانکہ ہرانسان کے لئے کامیابی کامعیارایک الگ  ہوتا ہے۔ کسی کے لئے کامیابی علم حاصل کرنا ہے۔کسی کے لئے کامیابی بہت زیادہ پیسہ کمانا ہے اور کسی کے لئے کامیابی کا معیار دینداری ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض ہرانسان کی کامیابی کا معیار الگ ہوسکتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچے کے لئے کامیاب انسان ہونا معیار ٹھہرائیں۔ تو ان کے ذہن میں یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے۔ کہ کامیابی سے ان کی کیا مراد ہے؟ اور وہ اسے کیسے حاصل کریں گے؟ ورنہ وہ اپنے بچے کے لئے ترجیحات کا تعین نہیں کرسکیں گے۔

بعض والدین نے اس سوال کا یہ جواب دیا ۔کہ وہ اپنے بچے کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ اپنے بچے کا کیریئر اچھا بنانا چاہتے ہیں ۔اور کچھ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچے کو متوازن انسان بنانا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سوال کا جواب والدین عموما کچھ اسی طرح ہی دیتے ہیں۔ لیکن یہ سب جوابات اس لئے ناکافی ہیں۔ کہ ان میں سے کسی میں بھی ترجیحات کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ اگروالدین یہ کہیں کہ ہم اپنے بچے کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں ۔تو اس سے ان کی کیامراد ہے؟ کیا اس سے دنیا کی خوشحالی مراد ہے یا آخرت کی؟ دونوں میں سے ہرایک کے لئے ترجیحات الگ ہونگی۔

دنیا کے حوالے سے دیکھا جائے تو کیا پیسے کے حوالے سے خوشحالی مراد ہے۔ یا سکون قلب کے حوالے سے؟بسااوقات بہت پیسے والے بھی سکون قلب سے محروم نظر آتے ہیں۔ لہذا والدین کو اپنے بچوں کی تعمیر شخصیت کے لئے پہلے وژن بنانا ہوگا۔ پھر تربیت کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کرنی ہوگی۔ اوربچوں کے لئے ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ذیل میں ترجیحات کا تعین کرتے وقت جن نکات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے وہ نکات پیش کیے جاتے ہیں۔

:ترجیحات کو واضح ہونا چاہیے

زندگی میں انسان بے شمارکام کرتا ہے۔ ان میں کچھ ضروری کام ہوتے ہیں اور کچھ غیرضروری ہوتے ہیں۔ ترجیحات جب واضح ہوجاتی ہیں۔ تو انسان کے لئے غیر ضروری کاموں کو چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے ۔اور جو وقت اس سے بچ جاتا ہے اسے ضروری اور ترجیحی کاموں پر لگاسکتا ہے۔اس لئے ترجیحات کو واضح طورپر لکھ لینا چاہیے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ترجیحات واضح ہونے سے کام کی سمت متعین ہوجاتی ہے۔ اور ہدف پر فوکس کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یوں انسان کی کامیابی تقریبا یقینی ہوجاتی ہے۔

دنیا میں جتنے کامیاب انسان گزرچکے ہیں یا ابھی موجود ہیں۔ ان تمام کی زندگی کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا ۔کہ انہوں نے زندگی میں اپنی ترجیحات کو واضح طور پر لکھ لیا تھا۔ جب انسان کی ترجیحات واضح ہوجائیں۔ تو بتائے بغیر بھی اس کے رویوں، کردار اورعمل سے وہ جھلکنے لگتی ہیں ۔وہ جس چیز کو بہت زیادہ ویلیودیتا ہے وہی اس کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔

:ترجیحات جامع ہوں اور پوری زندگی پرحاوی ہوں

انسان جسم وروح، عقل وشعور، جذبات وہیجانات اور اخلاق وکردار کے مجموعے کا نام ہے۔ انسان سفر کی حالت میں ہے۔ کچھ وقت کے لئے اس دنیا میں آیا ہے پھر اسے آگے جاناہے۔ اس دنیا میں جو کرے گا اس کا حساب وکتاب آخرت میں دینا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا ایک معیار ہے جبکہ آخرت کی کامیابی کااپنا معیار ہے۔ایک مسلمان ہونے کے ناطے اپنے لئے یا اپنی اولاد کی تربیت کے لئے جو ترجیحات متعین کریں۔ اس میں ہمیں ان تمام چیزوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ہم ترجیحات میں صرف دنیا کو یا دنیا وی زندگی کے کسی ایک حصے کو پیش نظر نہ رکھیں۔ بلکہ ہماری اپروچ جامع اور زندگی کے تمام احوال پر حاوی ہونا چاہئے۔

انسان کو خدانے پیدا کیا۔ زندگی کے لمحات عطا کئے۔ اور ساتھ ہی ان لمحات کو کامیاب طریقے سے گزارنے کے لئے آسمانی  ہدایات کا مجموعہ بھی عطا کیا۔ جسے ہم اسلامی تعلیمات یا قرآن وسنت کہتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے ترجیحات کا تعین کرتے وقت قرآن وسنت کی تعلیمات کو پیش نظر رکھیں۔قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق انسان کا ایک مقصد تخلیق ہے۔یعنی انسان کی زندگی کا وہ مقصد جس کے لئے خالق نے اسے پیدا کیا۔ اس مقصد کو خود قرآن کریم نے بیان کیاہے ۔فرمایا:  وما خلقت الجن والانس الالیعبدون ( )”ہم نے جنات اور انسان کو اپنی بندگی  کے لئے پیدا کیاہے۔

اس آیت میں عربی گرامر کے مطابق حصر یعنی تاکید کے ساتھ واضح کیا گیا ۔کہ انسان کا مقصد تخلیق یہی ہے کہ وہ اللہ کی بندگی اور عبادت اختیار کرے۔ جب انسان کا مقصد تخلیق یہی ہے توہمیں اپنی زندگی اور اپنے بچوں کی زندگی کے لئے ترجیحات کا تعین کرتے وقت اس مقصد کو اولین ترجیح پر رکھنا ہوگا۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پرزندگی کے دیگر اہداف کو رکھنا ہوگا۔ دنیا میں زندگی گزارنے اور معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے انسان  ایک کیرئیریا پیشہ اختیارکرتاہے۔ اس  کوبھی پہلے سے متعین کیا جانا چاہئے۔

تاکہ بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے کی جانے والی کوششوں اور جدوجہد کی کوئی سمت متعین ہوجائے۔نیز زندگی کی ترجیحات یا بچوں کے لئے ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے۔ کہ یہ دونوں یعنی مقصد تخلیق اور کیرئر یا پیشہ آپس میں ایسے جڑجائیں ۔کہ دونوں کی ایک لڑی میں پروجائیں ۔

زندگی کی اولین ترجیح کیا ہے؟

یہاں ایک اور اہم نکتہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کہ ترجیحات کے تعین کے لئے رہنمائی کا ماخذ ہمیں قرآن وسنت کوبناناچاہیے۔ ہمیں اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے ترجیحات کا تعین کرتے وقت رہنمائی انہی مآخذ سے لینا چاہیے۔ تعمیر شخصیت کے لئے اسلام نے ترجیحات کا تعین پہلے سے کررکھا ہے۔ اور اگر کہیں ترجیحات میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے تو کس کو چھوڑنا ہے؟ اور کس کو رکھنا ہے ؟یا پہلے کس کو  رکھنا اور بعد میں کس کو رکھنا ہے؟ یہ تمام پیمانے اسلام نے بہت جامع انداز میں پہلے سے دے رکھے ہیں۔ بس ہم اس رہنمائی سے استفادے کی ضرورت ہے۔

اس کی وجہ ظاہر ہے کہ قرآن وسنت کی تعلیمات خود خالق کی طرف سے آئی ہیں۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کس چیز کا کیا مقام ہونا چاہیے؟ زندگی کی ترتیب کیا ہونی چاہیے؟ یہ اسلام ہی ہے جو ہمیں دنیا کی بھلائیوں کے ساتھ ساتھ آخرت کی دائمی کامیابیوں کے حصول تک پہنچاتا ہے۔ ورنہ دنیا کا کوئی ایسا نظام نہیں جودونوں جہانوں کی کامیابی کا ضامن ہو۔

اور یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے ۔کہ زندگی میں بڑے خسارے کا سودا یہ ہوگا کہ انسان آخرت کی زندگی اور آخر ت کی کامیابی کی قیمت پر دنیا کا سکون اور یہاں کی عارضی خوشحالی حاصل کرے۔ کیونکہ دنیاکی خوشحالی چندروزہ اور وہ بھی غیر یقینی ہے۔ جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور یقینی ہے۔ توکیاکوئی عقلمند انسان دائمی اور یقینی چیزکی قیمت پر عارضی اور غیر یقینی چیز کو ترجیح دے سکتا ہے؟

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*