حجاج کی قربانی کا گوشت کہاں جاتا ہے؟

حجاج کی قربانی کا گوشت کہاں جاتا ہے؟
ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ لاکھوں جانوروں سے حاصل ہونے والے کئی ملین ٹن گوشت کہاں جاتا ہے

ہر سال حجاج کرام منیٰ میں لاکھوں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ پہلے اپنے ہاتھ سے یہ عمل سرانجام دیا جاتا تھا۔ مگر اب سارا عمل ایک منظم نیٹ ورک کے تحت انجام پاتا ہے۔ جانوروں کی خریداری سے لے کر گوشت کی تقسیم تک تمام امور کا ذمہ دار ”ادارہ اضاحی پروجیکٹ“ ہے۔ ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ لاکھوں جانوروں سے حاصل ہونے والے کئی ملین ٹن گوشت کہاں جاتا ہے؟ تو مذکورہ ادارے نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ قربانی آپریشن مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اندرون و بیرون ملک گوشت کی تقسیم کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ سبق ویب سائٹ کے مطابق ادارے نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے تیسرے دن تمام قربانیاں مکمل ہوچکی ہیں۔

رواں سال ساڑھے چار لاکھ کے قریب بکرے ذبح ہوئے

امسال 4 لاکھ 44 ہزار 554 بکرے قربان ہوئے ہیں، جو افریقی ممالک سے درآمد کئے گئے تھے۔ تمام بکرے صحت کے ضوابط پر پورے اترتے تھے، جبکہ ذبح کے بعد بھی طبی نگرانی اور صفائی کے معیارات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ اضاحی پروجیکٹ پر 30 ہزار کارکنوں نے کام کیا، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

لاکھوں ٹن گوشت دنیا بھر کے مستحقین میں تقسیم ہوگا

قربانی کا عمل مکمل ہونے کے بعد طے شدہ کوٹے کے مطابق ملک کے اندر اور بیرون ملک بھی گوشت کی تقسیم کا کام شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے گوشت کو مستحق غریب ملکوں میں بھجوانے کا ایک سسٹم بنایا گیا ہے۔ اس طرح قربانی کا گوشت ضائع ہونے سے بچتا ہے، کیونکہ جب تک یہ سسٹم نہیں تھا تو ہر سال اتنے حاجیوں کی ایک ہی شہر میں ہزاروں لاکھوں قربانیوں سے نہ صرف جانوروں کی آلائشوں سے تعفن پھیلتا تھا، بلکہ اتنی بڑی مقدار میں حاصل ہونے والے گوشت کو تقسیم کرنا بھی ممکن ہی نہ تھا۔ چنانچہ یہ گوشت بھی گل سڑ کے تعفن پھیلانے کا سبب بن جاتا تھا، جس کی بنا پر ذبح ہونے والے ہزاروں لاکھوں جانوروں کو زمین میں دبا دیا جاتا تھا یا جلا دیا جاتا تھا۔ اس مسئلے کا کوئی اور حل موجود نہیں تھا۔ اب اس مسئلے کو سعودی حکومت نے ایک سسٹم کے تحت حل تو کر لیا ہے، لیکن چند اور شرعی مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ جن کا فی الحال کوئی حل نظر نہیں آتا۔ مثلاً لاکھوں جانور ایک ساتھ درآمد کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ہر جانور کا قربانی کیلئے شرعی طور پر درست ہونا، عیوب سے پاک ہونا، عمر پوری ہونا وغیرہ یقینی نہیں ہوتا۔ حجاج کے پاس بھی اپنے قربانی کے جانور کی جانچ کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ بس انہیں ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور پھر بتایا جاتا ہے کہ آپ کی قربانی ہوگئی تو اسی پر بھروسہ کرکے احرام اتار کر حلال ہوجاتے ہیں۔ بہرحال انفرادی طور پر ہر حاجی کا اپنا جانور دیکھنا اور اسے پرکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ آگے چل کر شاید اس کا کوئی حل نکالا جائے۔

حجاج کی قربانی اسلامی ترقیاتی بینک کے توسط سے کی جاتی ہے

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ڈی بی) کے توسط سے قربانی کا خصوصی انتظام کرتی ہے۔ حاجی حضرات آئی ڈی بی قربانی اسکیم کے کوپن خرید لیتے ہیں، جانوروں کی فراہمی، ان کا طبی معائنہ، انہیں ذبح کرنا، مستحق افراد میں گوشت کی تقسیم آئی ڈی بی اسکیم کی انتظامیہ کا کام ہے۔ بہرحال اضاحی پروجیکٹ نے منیٰ میں ذبح ہونے کے فوراً بعد ہی گوشت کو محفوظ کرکے اس کے پیکٹ بنانے کا جدید ترین سسٹم لگایا ہے۔

منی میں دیوہیکل ریفریجریٹر سسٹم میں گوشت محفوظ کیا جاتا تا ہے

”قربانی گوشت استفادہ اسکیم“ کی انتظامیہ نے تین برس قبل منیٰ میں 10 لاکھ سے زیادہ جانوروں کا گوشت محفوظ کرنے کے لیے دیوہیکل ریفریجریٹر سسٹم قائم کیا تھا، جسے دنیا کا سب سے بڑا ریفریجریٹر قرار دیا جاتا ہے۔ پھر یہاں محفوظ شدہ گوشت ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور ریفریجریٹر ٹرکوں کے ذریعے ہر سال ایشیا اور افریقہ کے دسیوں ممالک کے لاکھوں ناداروں میں تقسیم کرایا جاتا ہے۔

کوئی حاجی اپنے طور پر قربانی کا گوشت کہیں منتقل نہیں کر سکتا

اخبار 24کے مطابق سعودی عرب حج کے دوران کی جانے والی قربانیوں کے گوشت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مکمل بندوبست کرتا ہے۔ مشینی نظام کے ذریعے کھال اتارنے، بوٹیاں بنانے، گوشت صاف کرنے اور پھر اسے ریفریجریٹر میں محفوظ کرنے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہ گوشت مکہ مکرمہ کے ناداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور باقی ماندہ دنیا بھر کے غریبوں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ دیوہیکل ریفریجریٹر کے نائب نگران اعلیٰ ڈاکٹر عمر عطیہ نے بتایا کہ ہمارا یہ انتظام ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ اس میں گوشت سائنٹفک بنیادوں پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ریفریجریٹر ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے طور پر قربانی کا گوشت منیٰ سے کہیں لے جانا چاہے تو یہ قانوناً منع ہے۔ بلدیہ کے اہلکار ایسے گوشت کو ضبط کرکے تلف کر دیتے ہیں۔

مکہ اور مشاعر مقدسہ سے گوشت کی غیر قانونی منتقلی روکی جاتی ہے

یاد رہے کہ ہر برس عید الاضحیٰ کے موقع پر مکہ مکرمہ اور جدہ کے راستے پر بلدیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی جانب سے تفتیشی چوکیاں قائم کی جاتی ہیں تاکہ ان مشاعر مقدسہ سے گوشت لانے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ اخبار 24 کے مطابق ریجنل بلدیہ کے سیکریٹری انجینئر محمد الزھرانی نے بتایاکہ گزشتہ 2 دنوں میں مکہ مکرمہ، جدہ شاہراہ پر موجود خصوصی چیک پوسٹوں پر متعین اہلکاروں نے 13 گاڑیوں کی تلاشی لی جن میں قربانی کا گوشت جدہ لایا جا رہا تھا۔ قربانی کا گوشت انتہائی غیر معیاری طریقے سے لایا جارہا تھا جس کی وجہ سے وہ خراب ہو گیا اور انسانی استعمال کے قابل نہیں تھا جس پر تمام گوشت جو کہ 49 جانوروں کا تھا تلف کر دیا گیا۔ جدہ، مکہ شاہراہ پر بلدیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چار خصوصی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں تاکہ اس امر کویقینی بنایا جاسکے کہ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے مذبح سے گوشت لانے کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر متعدد افراد مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ کے مذبح میں قربانی کے جانور ارزاں داموں میں خرید کر انہیں جدہ اور دیگر شہروں میں قائم ہوٹلوں اور دکانوں میں فروخت کرتے ہیں۔ یہ لوگ گوشت گاڑیوں میں چھپا کرلاتے ہیں، جن میں کسی قسم کی حفاظتی اقدامات نہیں ہوتے، جبکہ گرم موسم کی وجہ سے گاڑی کی ڈگی میں رکھا گوشت خراب ہو جاتا ہے۔

عید قربان کا پیغام

Be the first to comment

Leave a Reply