IslamIslam & Muslimsاسلامی معلوماتتاریخ اسلامی

دین اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر

اسلامی تاریخ کی پہلی جنگ غزوہ بدر ہے جو کہ بدر کے مقام پر وقوع پزیر ہوئی اسلام اور کفر کے درمیان لڑی جانے والی یہ پہلی جنگ تھی

اسلامی  تاریخ  کی پہلی  غزوہ جنگ بدرہے جو  اسلام اور کفر کے درمیان وقوع پزیر ہوئی مسلمان اور مشرکین مکہ آمنے سامنے  یہ حق  اور باطل  کی وہ پہلی   غزوہ  تھی جو  بدر کے مقام پر ہوئی  غزوہ بدر جسمیں اللہ تعالی نے  مومنیں کو فتح سے ہمکنار کیا اور مشرکیں کو شکست وہزیمت سے دوچار کیا۔بدر مکے اور مدینے کے درمیان    ایک پانچ میل لمبا اور چار میل چوڑا میدان ہے جہاں  غزوہ  بدر سنہ2ھجری17رمضان المبارک کو وقوع پزیر ہوئی۔جس میں حق تعالی کی مدد اور نصرت مومنٰین کے شامل حال رہی اور کفار اور منافقین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔غزوہ بدر سے یہ ثابت ہوگیا کہ جیت ہمیشہ اسلام  کی ہی ہوا کرتی ہے اور کفر  کے حصے میں ذلت ورسوائی اور شکست وہزیمت کے سوا کچھ نہیں آتا۔غزوہ بدر میں مشرکین کی تعداد 1000 جبکہ مسلمان تعداد میں صرف 313تھے۔مسلمان آلات حرب کی قلت وکمی کا شکار جبکہ باطل آلات حرب سے آراستہ وپیراستہ لیکن غزوہ بدر سے یہ ثابت ہوا کہ کفر اور شرک  چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہاسلام   کے مقابلے میں بلآخر اسے پسپا ہونا پڑتاہے۔

بلحاظ محل وقوع بدر کی اہمیت

 جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ بدر مکے اور مدینے کے درمیان واقع ایک  میدان کانام ہے ۔اس میدان کی اہمیت یہ تھی کہ مکے سے شام جانیوالے تجارتی قافلوں کا یہاں سے گزر ہوتا رہتا تھا۔ مشرکین مکہ کے قافلے اسی  بدر کے راستے سامان تجارت لے کر شام اوردیگر علاقوں کو جایا کرتے تھے۔مسلمان بھی اس مقام  بدر کی اہمیت سے آگاہ تھے۔ان کو معلوم تھا کہ یہی  بدر کا ایک مقام ایسا ہے جہاں سے جانیوالے   مشرکین مکہ کے تجارتی قافلوں کو روک کر نہ صرف یہ کہ ان سے مسلمانوں  کو مکہ سے نکالنے کا بدلہ لیا جاسکتا ہے بلکہ ان پر اپنا رعب ودبدبہ بھی قائم کیا جاسکتاہے

 اسباب غزوہ بدر

 مقام بدر کی اہمیت کے پیش نظر مسلمان  بحکم رسوؒﷺ  یہاں سے گزرنے والے قافلوں پر کڑی نظر رکھا کرتے تھے۔اس حوالے سے رسولﷺ بھی مختلف موقعوں پر صحابہ کرام کی  ٹولیوں کو بھیجا کرتے  تاکہ مشرکین مکہ کی سرگرمیوں اور ان کی نقل وحمل پر نظر رکھی جاسکے۔

 عمرو بن الخضرمی کا قتل

 حضور ﷺ نے ایک مہم عبداللہ بن جحش کی سر براہی میں مقام نخلہ کی جانب روانہ کی  انہیں کہا یہ گیا کہ مقام نخلہ میں پڑاؤ کریں اور قریش کے حالات کا پتہ لگا کر  بارگاہ رسالت میں اطلاع دیں۔ اس مقام نخلہ سے  مشرکین مکہ کا ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ جو کہ تجارتی سامان لے کر شام جارہا تھا۔حضرت عبداللہ نے ان پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں عمرو بن الخضرمی مارا گیا۔ مال غنیمت ہاتھ آیا اور دوافراد  گرفتار بھی ہوئے۔

جب یہ مال اور قیدی بارگاہ رسالت میں لائے گئے تو آپﷺ عبداللہ بن جحش سے فرمایا کہ” میں نے تمہیں اس بات کی اجازت نہیں دی تھی” آپﷺ نے مال غنیمت    قبول  کرنے سے بھی انکار کردیا۔علامہ طبری فرماتے ہیں کہ جس چیز نے جنگ  بدر   کو ابھارا اور وہ تمام  لڑائیاں چھیڑ دیں  جو آپ ﷺ اور  مشرکیں مکہ کے  درمیان پیش آئیں ان سب کا سبب یہی عمرو بن الخضرمی کا قتل تھا۔

 ابو سفیان کا قافلہ

ابو سفیان کی سربراہی میں ایک قافلہ ملک شام تجارتی مال لے کر  براستہ بدر جا رہا تھا مسلمانوں نے اس قافلے کو روکنا چاہا لیکن قافلہ بچ نکلا  اب وہی قافلہ شام سے واپس آرہا تھا اور مسلمانوں نے اب اس واپس آنے والے قافلے کو روکنا چاہا  ابو سفیان  کو خبر ہوگئی کہ مسلما اس کے قافلے کی تاک میں بیٹھے ہیں ۔ابو سفیان نے مکے میں ابو جہل کو کہلا بھیجا کہ مسلمان قافلے کو لوٹنا چاہتے ہیں  اور تمہاری مدد درکار ہے۔ابو سفیان نےراستہ بدلا اوربدر سے دوسری جانب ہٹتا ہوا مکے جاپہنچا۔

ابو جہل کا قافلہ

جیسے ہی ابو جہل کو خبر ملی کہ قافلے پر حملہ ہونے والا ہے تو وہ مکے سے قافلے کی مدد کے لئے  بدر کی جانب چل نکلا یہ قافلہ ابھی راستے ہی میں تھا کہ ابو جہل کو اطلاع ملی کہ ابو سفیان کا قافلہ بخیر مکے پہنچ گیا ہے  لہذا وہ واپس آجائے ۔لیکن ابو جہل ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور بتدریج مقام بدر کی جانب بڑھتا چلا گیا اس کی موت اسے  مقام بدر کی جانب لئے جا رہی تھی وہ مسلمان دشمنی میں اندھا  ہو چکا تھا ۔قا فلے    والوں کے سمجھانے کے باوجود  وہ مسلسل  مقام بدر کی جانب بڑھتا چلا گیا۔

غزوہ بدر کے متعلق  مشورہ

رسولﷺ نے اصحاب کرام سے غزوہ بدر کے سلسلے میں  مشورہ فرمایا تو انہوں نے اپنی مکمل جانثاری کا یقیں دلایا۔  حضور جب انصار کی جانب متوجہ ہوئے  تو سعد بن عبادہ(سردار خزرج) نے کہا کہ”  کیا  حضور   ﷺ کا اشارہ ہماری طرف ہے؟اللہ کی قسم اگر آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں”حضرت مقداد نے کہا کہ یا رسول اللہ” ہم آپ سے قوم موسی کی طرح نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جا کر ان سے لڑیئے ہم آپ کے دائیں ؛بائیں ‘آگے ‘پیچھے سے لڑیں گے یہ جواب سن کر آپﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا

غزوہ بدر اور حا لت رسولﷺ

غزوہ بدر والے روز حضور اکرمﷺ دعا فرما رہے ہیں کہ “اے اللہ تونے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے آج پورا فرمانا ” آپ ﷺ کے کاندھے سے بار بار چادر گر پڑتی اور آپﷺ کو خبر تک نہ ہوتی کبھی سجدہ کرتے اور فرماتے تھے کہ”خدایا اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو قیامت تک  کوئی  تیرا نام لیوا نہ ہوگا” غزوہ بدر والے روز آپﷺ مسلسل اللہ کی حمد وثناء بجا لاتے رہے۔

 فوجیں آمنے سامنے

مقام بدر پر فوجیں آمنے سامنے آتی ہیں  اور  جنگ  کا آغاز ہوتا ہے۔عتبہ جو کے سردار تھا اور ابو جہل کے ا کسانے  پر غصے  میں سب سے پہلے  اپنے بھائی اور بیٹے کے ساتھ میدان جنگ میں اترا اور  مبارز کی طلبی کی مسلمانوں کی طرف سے حضرت عوف.حضرت معاذ.حضرت عبداللہ بن رواحۃ مقابلے پر آئے عتبہ نے نام ونسب ہوچھا تو معلوم ہوا کہ انصار ہیں۔پھر آپ ﷺ کی طرف خطاب کرکے پکارا کہ محمدﷺ یہ لوگ ہمارے جوڑ کے نہیں  برابر کے بندے بھیجیں ادھر سے اب حضرت حمزہ.حضرت علی. اور حضرت عبیدہ میدان میں آئے ۔عتبہ  حضر ت حمزہ اور ولید  حضرت علی سے مقابل ہوئے اور دونوں مارے گئے عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضر  ت عبیدہ کو زخمی کردیا۔اب عام حملہ ہوا مشرکیں طاقت کے نشے میں چور اور مسلمان صرف اللہ کی مدد کے سہارے لڑ رہے تھے۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے  بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافروں کا منہ پھر گیا

غزوہ بدر کے دن جب جنگ اپنے جوبن پر تھی اس وقت نبی ﷺ نے ایک مشت خاک لے کر کافرون کی جانب پھینکی اور کہا کہ شاہتٰ الوجوہ(تمہارے چہرے بگڑ جائیں) وہ خاک ہر مشرک کی آنکھ میں جا پہنچی۔قرآن کریم میں بیان ہے کہ(اے محبوب جو خاک آپﷺ نے پھینکی وہ آپﷺ نے نہ پھینکی بلکہ آپ ﷺ  کے رب نے پھینکی)امام احمد رضا خان فاضل بریلوی اپنے  نعتیہ اشعار میں کچھ اس طرح ذکر فرماتے ہیں کہ

میں تیرے ہاتھوں کے قرباں کیسی کنکریاں  تھیں وہ

جن سے کتنے کافروں کا دفعتا منہ پھر گیا

 ابو جہل کا انجام

 غزوہ بدر والے روز ابو جہل کو دو انصاری بھائیوں   معاذ اورمعوذ نے مل کر قتل کرڈالا انمیں سے ایک نے  عبدالرحمن بن عوف سے پوچھا کہ ابو جہل کہاں ہے۔انہوں نے کہا تم نے اس کا کیا کرنا ہےتو ان میں سے ایک کہنے لگا کہ”میں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ ابو جہل کو جہاں بھی دیکھا تو یا اسے قتل کرون گا یا خود لڑ کر مارا جاؤں گا  “وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک جانب اشارہ کیا کہ وہ رہا ابو جہل وہ دونوں بھائی بجلی کی سر عت سے اس کی جانب لپکے اور اگلے ہی لمحوں میں ابوجہل زمین پر آگیا۔

غزوہ بدر والے دن رسولﷺ نے  حکم دیا کہ کوئی شخص جاکر ابو جہل کی خبر لائے کہ اس کا کیا انجام ہوا حضرت عبداللہ ابن مسعود اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اسکی کچھ سانسیں ابھی باقی تھیں ۔(مزید ذلت قدرت نے اسے دکھانی تھی حضرت عبداللہ نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا تو وہ کہنے لگااو بکری چرانے والے دیکھ تو کہاں پاؤں رکھتا ہے حضرت عبداللہ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی اور اس کا سر کاٹ کر لےآئے اور حضورﷺ کے قدموں میں ڈال دیا

غزوہ بدر کا نتیجہ

 بدر میں مسلمانو ن کےساتھ اللہ کی مدد ہر ہر پل اور ہر ہر لمحہ شامل حال رہی  اللہ

                                                                                                              تعالی نے مسلمانوں پر اونگھ کی کیفیت ظاری کرکے ان کے دلوں پر سکینت نازل کی تو دوسری جانب آسماں سے پانی برسایا گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے ریتیلی زمین  میں چلنا آسان ہو گیا۔ اللہ نے فرشتوں کا نزول فرمایا جو مومنین کےساتھ مل کر کفا ر  سے مقابلہ کرتے اور انہیں واصل جہنم کرتے۔مکے والے پہلے ایک عمرو بن الخضرمی کو روتے تھے اب مکےکے ایک ایک گھر میں صف ماتم بچھ چکی تھی۔فتح بدر دراصل مسلمانون کے لئےترقی کا پہلا زینہ تھی مسلمانوں کا رعب ودبدبہ قائم ہوا کفار اور منافقین پر بھی مسلمانوں کی دحاک بیٹھ گئی.غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کے ستر بڑے سردار قتل ہو کر واصل بہ جہنم  ہوئے اور ستر ہی قید بھی ہوئے ۔اس جنگ میں چودہ صحابہ کرام نے جام شہادت نوش کیا

حرف آخر

غزوہ بدر آج کے مسلمانو ں کے لئے  روشنی کا مینار ہے  آج جو کہتے ہیں کہ  عالم اسلام عالم کفر سے کس طرح لڑ  سکتا ہے وہ تو جدید اسلحہ سے لیس ہیں ہم صرف محکومانہ ذندگی گزار سکتے ہیں اور کچھ نہیں۔آج فلسظین میں ایک قیامت برپا ہے 58 سے زائد اسلامی ممالک اور دنیا میں اسقدر ذلت آج ہم اپنے اسلاف کے کارناموں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور کچھ کرنے کو تیار نہیں ہےآج کوئی بتا سکتا ہے کہ صڑف 313 مسلمانوں کے پاس وہ کون سی طاقت تھی  بدر میں کہ  جس کے بل بوتے پر وہ اپنے  سے کئی گنا بھاری دشمن  کے سامنے ڈٹ گئے  وہ تھی طاقت ایمانی جو کہ آج ہم میں ناپید ہے

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر

حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

آج ضرورت اس امر کی ہے  کہ  غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام عالم اسلام فلسطین کی حمایت میں آواز بلند کریں۔کیونکہ یہ ہمارا فرض  ہے کہ ہم اپنے مسلما ن بھائیوں کی مدد کے لئے آگے بڑھیں

 فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

مزید پڑھیں مختصر واقعہ کربلا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button