مثالی والدین اور ان کی سات خصوصیات

مثالی والدین اور ان کی سات خصوصیات

مثالی والدین اور ان کی سات خصوصیات

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

والدین بننانہایت صبرآزماکام ہے۔ کیونکہ جواس منصب پر فائز ہوتا ہے، اس کی ذمہ داریاں دن کے چوبیس گھنٹے ،ہفتے کے ساتوں دن اور عمرکے ہرمرحلے میں جاری وساری رہتی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں بسااوقات انسان کے صبرکاپیمانہ لبریز کردینےوالی ہوتی ہیں۔ ہم یہاں مثالی والدین کی خصوصیات کے بارے میں بات کررہے ہیں۔اگر لفظ مثالی سے کامل اور تمام خصوصیات کا جامع ہونامرادلیں۔ تو حقیقت میں اللہ تعالی کے پیغمبروں کے علاوہ ایسی کوئی ہستی نہیں جس میں تما م اچھی خصوصیات موجود ہوں۔

کوئی بھی انسان کاملیت کا دعوی نہیں کرسکتا۔جوان سات خصوصیات کے جتنے قریب ہو ۔اور ان کے حصول کی کوشش میں لگا ہوا ہو۔وہ اتنا ہی بہتر ہوسکتا ہے۔ دنیا میں تمام اچھی خصوصیات کے حامل والدین نہیں پائے جاتے۔ بعض اچھے والدین میں ان میں سےکچھ خصوصیات زیادہ اور کچھ خصوصیات کم ہوسکتی ہیں۔ جو نسبتا دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں بہتروالدین ہوتے ہیں۔ اور ان کی تعلیم وتربیت کابھی انداز دوسروں سے بہتر ہوتا ہے۔اگر والدین سے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے جائیں کہ

۔ کیا وہ اپنے بچے کی اچھی تعلیم وتربیت کےلئے ہروقت فکرمندرہتے ہیں؟

۔ کیا وہ بچے کی اچھی تعلیم وتربیت کے لئے خود کوہروقت تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

۔ کیا وہ اپنے بچے کی اچھی تعلیم وتربیت کرنے کے لئے خود تربیت حاصل کر رہے ہیں؟

۔ کیا بچوں کی تربیت کے لئے وہ صبروتحمل ، محبت وشفقت، علم نافع اور مزاج موزوں اپنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں؟

اگر والدین ان جیسے سوالات کا مثبت جواب دیں۔ اور واقعتا وہ ان باتو ں کی کوشش بھی کرتے ہوں۔ تو سمجھ لیجئے یہی مثالی والدین بن سکتے ہیں۔ کیونکہ مثالی والدین وہی ہوسکتے ہیں جن کو مذکورہ بالا سوالات اپنے آپ سے پوچھنے کی توفیق ملتی ہو۔ اور ان کے درست جوابات حاصل کے لئے وہ بےتاب بھی رہتے ہوں۔ وہی والدین مثالی والدین کہلانے کے اہل ہیں۔ اور اس اہم راستے پر گامزن ہیں ۔ ذیل میں ہم مثالی اور اچھے والدین کی سات خصوصیات ذکر کررہے ہیں۔ جن کو پیش نظر رکھ کر والدین اپنا جائزہ خود لے سکتے ہیں۔ اور خود کو سات میں سے نمبردے سکتے ہیں۔ اور باقی نمبروں کے لئے خود کو بہتر سے بہت  بناسکتے ہیں۔

مثالی والدین کی سات خصوصیات
مثالی والدین کی سات خصوصیات

:صبروتحمل کی خصوصیت

صبروتحمل اور برداشت اچھے اور مثالی والدین بننے کے سفر کی پہلی سوغات ہے۔ جس کے بغیر یہ سفر ممکن ہی نہیں ۔مثالی والدین نہایت صابر اور شاکر ہوتے ہیں۔ بچوں کی پرورش اور تربیت کے دوران اس خصوصیت کی تھوک کے حساب سے ضرورت پڑتی ہے۔ بچوں میں شعور کی کمی ہوتی ہے۔ وہ دنیا کوابھی تازہ دریافت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تمام ضروریات کی تکمیل میں والدین پر انحصار کررہے ہوتے ہیں۔

وہ فی الحال اپنا نفع نقصان کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ان کا قلب ودماغ کورے کاغذ کی مانند ہوتاہے۔ جس پر خوبصورت نقش و نگار اور گل بوٹے بنانا والدین کے ذمہ اہم کام ہوتاہے۔ وہ جذبات سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن ان کو دنیا میں اپنے سوا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا ۔ ان تمام خصوصیات کے حامل بچے کی پرورش اور تعلیم وتربیت والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔جو یقینا نہایت صبر آزماکام ہے ۔

بچے غلطیاں کرتے رہتے ہیں۔ وہ گندگی پھیلاتے ہیں۔ وہ ضد کرتے ہیں اور شورشراباکرتے ہیں۔ ان کو ہر لمحے تمیز کی تلقین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے نفسیاتی تقاضے بھی بڑھتے رہتے ہیں۔ جن کو سمجھنا اور ان کی تکمیل کرنا بھی نہایت صبرآزماکام ہوتاہے۔بچوں کی غلطیوں پر صبر کرنا اور اں کی خوبیوں  پر اللہ کے شکر کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کرنا یہ سب والدین کی ذمہ داریوں میں داخل ہیں۔

یہ صبر ہی کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات والدین چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کے لئے مثالی والدین نہیں بن پاتے۔ وہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپے سے باہرہوجاتے ہیں ۔اور وہ حرکت کربیٹھتے ہیں کہ جس کانقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ۔

بے صبری میں یہ سب کچھ کرنے کے بعد ان کو پھر پچھتانا پڑتا ہے۔صبراور شکر انسانی زندگی کے دو بہترین متاع ہیں ۔اور بچوں کی تربیت انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ اور بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ بچوں کی تربیت کے دوران صبراور شکر کی بہت زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔

 :علم نافع

مثالی والدین بننے کی دوسری خصوصیت والدین کے پاس علم نافع کا ہونا ہے۔جن والدین کے پا س تربیت کا نافع علم موجود ہو۔وہ بہتر انداز سے تربیت کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔علم نافع سے مراد بچوں کی تربیت کے حوالے سے واضح، معیاری اور مستند علم کا ہونا ہے۔ علم نافع کے بغیر والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے سے درست سمت ملنا بہت مشکل ہے۔ اور درست سمت کے بغیر سفرپر روانہ ہونا حماقت اور وقت کے ضیاع کے سواکچھ نہیں ۔ اسی لئے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے علم نافع مانگنا سکھایا ہے۔

علم نافع کے لئے زیادہ علم ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ تھوڑاعلم بھی علم نافع ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے انسان کو درست سمت مل جاتی ہو ۔ اور اس کی ابتدا وانتہا میں کوئی ابہام نہ ہو۔ والدین کو اپنی اولاد کی تربیت شروع کرنے سے پہلے اور تربیت کے دوران ضرور علم نافع حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اور یہ کوشش زندگی بھرجاری رہنی چاہیے ۔نیز علم نافع کے لئے اللہ تعالی سے دعا مانگتے رہنا چاہیے۔کیونکہ علم نافع مسلسل جدوجہداور کوششوں کے علاوہ اللہ تعالی کے فضل سے ملتا ہے۔ چنانچہ علم نافع کے ساتھ والدین مثالی بن سکتے ہیں۔

:ملٹی ٹاسکنگ کی مہارت

اس کا مطلب ایک وقت میں ایک سے زیادہ کاموں کو نمٹانے کی صلاحیت اور مہارت ہے۔ والدین کو اس مہارت کی خاص ضرورت ہوتی ہے۔ مثلا گھرمیں ماں اگر کھانا بنانے یا ٹیبل پر کھانالگانے میں مصروف ہے۔ عین اسی وقت بچہ اپنا ہوم ورک کا مسئلہ لے کرآتا ہے۔ اور اصرار کرتا ہے کہ پہلے اس کا کام مکمل کروایا جائے۔ ایسے میں ماں کو اس طرف لازمی توجہ دینا ہوگی۔

اگرماں کے پاس ملٹی ٹاسکنگ کی مہارت ہوگی۔ تو وہ بڑی آسانی سے دونوں کام ایک وقت میں نمٹاسکے گی۔ورنہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔کہ ایک کام کی قیمت پرہی دوسرا کام ہوسکے گا۔ اس جیسے بے شمار واقعات گھر میں پیش آتے رہتے ہیں ۔کہ والدیا والدہ کو بیک وقت ایک سے زیادہ کاموں کو نمٹانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔

اس لئے مثالی والدین وہ ہوتے ہیں ،جو ملٹی ٹاسکنگ کی مہارت رکھتے ہوں ۔ جس انسان کے پا س یہ مہارت جتنی زیادہ ہوگی وہ اپنی ذمہ داریوں کو اتنا بہتر انداز سے انجام دینے کے قابل ہوگا۔ یہ مہارت جب انسان کے پاس ہوتی ہے۔ تو دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ ایک وقت میں دس دس کام بڑی آسانی سے نمٹارہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک  مینجمنٹ اسکل ہے، جسے والدین کو سیکھ لینا چاہیے۔اورگھر کی کامیاب مینجمنٹ کے لئے والدین کے پاس اس کا ہونا بہت ضروری ہے۔

:لیڈرشپ اور رول ماڈلنگ

والدین اپنے بچوں کے لیڈر اور رول ماڈل ہوتے ہیں۔ والدین کو اپنا یہ کردار نہ صرف جانناچاہیے۔ بلکہ ہمیشہ اس کردار کو پیش نظربھی رکھنا چاہیے۔اور قائدانہ کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ بحیثیت والدین بچوں کے سامنے کوئی ایسا کام بالکل نہ کریں، جس سے بچے مس گائیڈ ہوں۔ والدین کو بحیثیت قائداور رول ماڈل اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے وژنری انسان بن جانا چاہیے۔ تاکہ طویل المدتی اور قلیل المدتی اہداف مقرر کرنے اور کامیابی کے راستوں کی طرف لے کر جانے میں اپنے بچوں کی مدد کریں۔

بلکہ والدین کا لمحہ لمحہ ان کی گفتگو، ان کے بولنے کا طریقہ کا ر، والدین کے آپس کے معاملات، گھر سے نکلنے سے لے کرگھر میں داخل ہونے اور گھر میں رہتے ہوئے کئے جانے والے تمام معاملات بچوں کے لئے رول ماڈلنگ کا کردار ادا کرتے ہیں۔

بحیثیت لیڈر اور رول ماڈل وہ اپنے والدین کو نہ صرف پسند کرتے ہیں ۔بلکہ ان کے کاموں اور انداز کی پیروی بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ والدین کے پاس اچھی لیڈرشپ اور رول ماڈلنگ کی مہارت ہو۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کی صحت مند انداز سے تربیت کرسکیں۔

:حس مزاح

یہ خصوصیت مثالی والدین بننے کے لئے نہایت ضرور ی ہے کہ وہ حس مزاح  بھی رکھتے ہوں۔ حس مزاح سے ہی ایک تناہوا ماحول ایک دم سے کشت زعفران بن سکتا ہے۔ بچوں سے کام لیتے ہوئے اس اوزارسے بھرپور کام لیا جاسکتا ہے۔ جن والدین کے پاس یہ مہارت موجود ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان پر یہ اللہ کاخاص فضل ہے۔ حس مزاح سے زندگی میں رونق آجاتی ہے اور لطف محسوس ہوتا ہے۔

بچوں کی زندگی میں بے شمار ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ اور خود بچے بے شمار ایسی حرکتیں یا کام سرانجام دیتے ہیں۔ جن سے لطف اٹھائے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ ایسے مواقع پر بچوں کے ساتھ مل کرہنسنا، خوش ہونا ، ان خوشیوں کو انجوائے کرنا اور اپنی ظرافت طبع کے ذریعے ان کو مزید چار چاند لگانا۔ یہ وہ مہارت ہے جو مثالی والدین کے پاس  ہونی چاہیے۔ اور وہ اس کا بھرپور استعمال بھی کرسکتے ہوں۔

 :لچک

والدین بچوں کی تربیت کے لئے پلان بناتے ہیں ۔لیکن بعض اوقات وہ پلان کامیاب نہیں ہوپاتا ۔ ایسے وقت کے لئے والدین کے پاس ایک مہارت کا ہونا ضروری ہے۔ کہ وہ لچک کا مظاہر کریں اور کوئی دوسرا پلان بنانے کی کوشش کریں۔ مثالی والدین ہمیشہ لچک کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے پلان کو ناکام ہوتے دیکھ کر بھی بچوں کے ساتھ تعلقات کو خراب نہیں کرتے ۔ والدین کے پاس ایک سے زیادہ پلان کا ہونا بھی ضروری ہےکہ وہ ایک ایک کرکے ان کو اپلائی کرسکیں۔ اوراپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں۔ والدین اگرلچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ تو دوسرے پلانزکی طرف جانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ اور وہ وہیں پھنس کررہ جائیں گے۔ اس لئے لچک کی خصوصیت بہت اہم ہوتی ہے۔

:ہمت اور قربانی کا جذبہ

ہمت اور قربانی کا جذبہ ہوتوانسان بڑے سے بڑاکام آسانی سے کرسکتا ہے۔اگرہمت اور جذبہ نہ ہوتو چھوٹے سے چھوٹاکام بھی انسان کوپہاڑلگنے لگتاہے۔ والدین کا اپنے فرائض سرانجام دینا یا مثالی والدین بننا کوئی آسان کام نہیں ۔یہ سراسرہمت اور قربانی مانگتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کو اپنا فریضہ سمجھا جائے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس فریضے کی ادائیگی کو دل ودماغ میں بہت مشکل قرارنہ دیا جائے ۔ بلکہ ہمت اور قربانی کے جذبے سے سرشارہو کر دل کو یہ سمجھا یا جائے۔ کہ یہ میراکام ہے اور مجھے اپنے اس کام کو بخوشی انجام دینا ہے۔ دل ودماغ کی جب یہ کیفیت بنے گی تو انشااللہ کوئی کام مشکل نہیں لگے گابلکہ آسانی کے ساتھ اسے سرانجام دیا جاسکے گا۔

اس کی مثال ہم رمضان المبارک کے روزوں سے لے سکتے ہیں ۔کہ رمضان سے ایک دن پہلے عام آدمی کے لئے یہ تصور کرنا بہت مشکل کا م ہوتا ہے ۔کہ وہ رات تین بجے اٹھے گا اور کھانا کھائے گا۔ اور پھراگلے پورے دن طلوع فجر سے لے کر اذان مغرب تک وہ کچھ بھی نہیں کھائے گا۔ اور نہ ہی پیئے گا ۔ لیکن جیسے ہی رمضان کا چاند نظرآتا ہے۔ اور وہ ذہنی طور پر اس قربانی کے لئے تیار ہوکر ہمت کرلیتا ہے۔ تو یہ کام وہ بڑی آسانی سے کرلیتا ہے۔ بالکل اسی طرح والدین کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ہمت اور قربانی کے جذبے سے سرشارہوناپڑتا ہے۔ اور یہ مثالی والدین بننے کی بنیادی کلید ہے۔

 بچوں کی کامیابی کے لئے کامیاب والدین کا ہونا نہایت ضروری ہے، ۔مذکورہ خصوصیات وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر کامیاب والدین بننا خواب تو ہوسکتا ہے حقیقت نہیں۔ لہذا مثالی والدین بننے کے لئے ان خصوصیات کو سیکھنا اور اپنانا نہایت ضروری ہے ورنہ کامیاب  بچے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

والدین کی تنظیم ذات

Be the first to comment

Leave a Reply