والدین کی تنظیم ذات

والدین کی تنظیم ذات

 تنظیم ذات کی بنیاد یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا کنٹرول اس کے اپنے پاس ہو، کسی دوسرے کے پاس نہ ہو ۔ وہ اپنی زندگی کے تمام فیصلوں کو اپنے اختیار اور ارادے سے کرنے کے قابل ہو۔ اس  کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اپنے وجود اور اپنی ہر سرگرمی کو منظم انداز  سےکرنے پر نہ  صرف قادر ہو بلکہ اس کے لئے پرعز م بھی ہو۔    والدین کو چاہیے کہ اپنے اندر تنظیم ذات کی خصوصیت پیدا کریں۔دنیا میں رہتے ہوئے یقینا کئی طرح کے مسائل اورمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایسی صورت حال میں ذہنی دباو کاشعوری مقابلہ کرکے اس سے باہر نکلنے میں کامیابی تنظیم ذات کی بنیاد پر ہوسکتی ہے؟ 

بحیثیت والدین اس ہنر کو سیکھنا نہایت ضروری ہے ۔ ورنہ خدشہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی جامع تربیت نہ کرپائیں۔ اوربہت ممکن کہ محض اس ایک مہارت کے نہ ہونے کی وجہ سے باقی کوششیں بھی ناکام ہوجائیں۔ بچوں کی پرورش کے لئے جوسازگار ماحول ان کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے اہم ترین چیز خودوالدین کی اپنی اندرونی کیفیات اور مزاج کو بہتربنانا ہے۔تنظیم ذات کوقائم کرکے اسے برقرار رکھنا ایک نفسیاتی معاملہ ہے۔

جس کے بارے میں کچھ کہنا شاید آسان ہو ۔لیکن عمل کرنا کافی مشکل کام ہوتا ہے۔ اس مشکل کو آسان بنانے کے لئے ماہرنفسیات، پیرنٹنگ اینڈ تربیہ کے معروف استاد جناب سلمان آصف صدیقی صاحب کچھ ٹپس بتاتے ہیں جن کا خلاصہ ان کے شکریے کے ساتھ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ تنظیم ذات کے حصول کے لئے ان ٹپس کو اپنانا  نہایت ضروری ہے۔

شکرگزار اور خوش مزاج رہنے کی کوشش کیجئے۔

والدین کے لئے یہ لازم ہے کہ ہرحال میں اللہ تعالی کے شکرگزاربنیں۔ ہمیشہ خوش مزاجی کی عادت اپنانے کی کوشش کریں۔یہ اولاد کی تربیت کے لئے نہایت ضروری ہے۔شکرگزاری ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان مشکلات کے باوجود خوش رہ سکتا ہے۔کیونکہ انسان جتنی مشکل میں بھی کیوں نہ ہو ، ذرا اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کا ذہن میں استحضار کرے اور ان نعمتوں کو گن کر دل سے محسوس کرنے کی کوشش کرے، تو اللہ کا شکردل سے نکلے گا ۔ اور اللہ کا شکر دل ودماغ کی ایک ایسی کیفیت ہے۔  جس کے نتیجے میں انسان خوشی محسوس کرتا ہے۔  اور شکر گزاری ایک ایسی عبادت ہے  جسے حدیث میں نصف دین کہا گیا ہے۔

:ذہنی دباو کو کم کرنے کی کوشش کریں

تنظیم ذات پر کام کرتے ہوئے آپ کے لئے یہ سیکھنا بھی ضروری ہے۔ کہ بحیثیت والد یا والدہ ذہنی دباو کا مقابلہ شعور ی طور پرآپ کتنے اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں ۔ ایک فیملی میں رہتے ہوئے بے شمارپریشان کن واقعات پیش آسکتے ہیں۔ جو ذاتی صحت سے لیکر خاندانی معاملات تک ، بچوں کی پروش اور تعلیم وتربیت سے لے کر میاں بیوی کے باہمی تعلقات تک، نیز معاشی حالات سے لے اچانک پیش آنے والے حادثات تک ہوسکتے ہیں۔

غرض دنیا میں بے شمار ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں ۔ جن میں کسی بھی انسان کو سخت ترین ذہنی دباو یااعصابی تناو کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔لیکن ہرمشکل صورت حال میں اپنے آپ پر کنٹرول میں  رکھنا اور ذہنی دباو کو اپنے ہوش وحواس اور عقل وشعور پر حاوی نہ ہونے دینا ایک مہارت ہے۔ جو سیکھنے کی چیز ہے۔والدین کے لئے ضروری ہے کہ اس مہارت کو ضرور سیکھیں۔ تاکہ ہرقسم کی صورت حال میں اپنے اوپر اپنا کنٹرول برقرار رہے ۔ اورذہنی دباو کے باوجود بھی  اپنی اولاد کی بہتر تربیت کرسکیں۔

: سیکھنے کے لئے خود پہل کرنےکریں

والدین اپنے بچوں کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ اور ان کی رول ماڈلنگ سے ہی بچے سب کچھ سیکھتے ہیں۔ اگر والدین یہ چاہتے ہیں کہ بچے ان سے اچھی چیز سیکھیں۔ تو اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں  کے سامنے اچھی رول ماڈلنگ پیش کریں۔ بچوں کو اچھا سکھانے کا عزم والدین پر ہر وقت سواررہتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا آغاز والدین خوداپنی ذات سے کریں ۔خود نئی نئی چیزیں سیکھیں۔ اپنی صلاحیتوں ، مہارتوں اور اپنے نکتہ نظر کو ہمیشہ بہتر بنانے کی جستجو میں لگے رہیں۔ خصوصا بحیثیت والدین اپنا اہم ترین فریضہ پیرنٹنگ کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے کورسز کریں ، ورکشاپس میں شرکر کریں اور کتابیں پڑھیں۔

جب آپ خود سیکھنے کے عمل میں پہل کریں گے۔ تو آپ کے علم اور مہارتوں میں تو اضافہ ہوگا ہی۔ بچے بھی آپ کی اچھی رول ماڈلنگ سے بہت کچھ سیکھیں گے۔ وہ بھی مختلف مہارتوں کو خود سے سیکھنے کے لئے آمادہ ہوجائیں گے۔لہذا والدین بچوں کی اچھی پیرنٹنگ کے لئے خود پہل کریں۔ اور گھرمیں سیکھنے سکھانے کا ماحول بنائیں۔ جس سے بچے خودبخود سیکھنا شروع کریں گے۔

:اپنی ذات کا بھرپور خیال رکھیں

یہ بہت اہم ہے کہ آپ اپنی ذات کا پور ا پوراخیال رکھتے ہوں۔یعنی اپنے آپ کوجسمانی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر فٹ رکھنے کے لئے اس کی بنیادی ضروریات کو اہمیت دیتے ہوں۔جب آپ بذات خودجسمانی طور پرصحت منداور جذباتی طور پرمتوازن ہوتے ہیں۔ تو بچوں پر توجہ دینا آپ کے لئے نہ صرف آسان ہوجاتا ہے۔ بلکہ بچوں کی تربیت کے لئے متحرک رہنا آپ نے لئے خوشگوار کام بن جاتا ہے۔ آپ بڑی آسانی سے اور خوشی سے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھرپور توجہ دینے لگتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگرآپ اپنی ذات کا خیال نہیں رکھتے، خود کو جسمانی طور پر صحت مند اور ذہنی وجذباتی طور پر فٹ رکھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ تو یقینا بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھی اس کا برااثر ضرورپڑے گا۔

:مثبت انداز سے سوچنےکی عادت اپنائیں

آپ کی شخصیت وہی ہے جو آپ کی سوچ ہے۔ کیونکہ آپ جو سوچتے ہیں اسی کا عملی اظہار کرتے ہیں۔ اور پھروہی سوچ رویوں اور عادتوں کا روپ دھار کر آپ کی شخصیت کامظہر بن جاتی ہے۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کی سوچ مثبت ہو۔ مثبت سوچ یہ ہے کہ آپ دوسروں کے بارے میں نیک گمان کو اپنے دل ودماغ میں جگہ دیتے ہوں ۔بدگمانی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوں۔ اور ہر وقت پرامیدرہتے ہوں۔ بحیثیت والدین جب آپ مثبت سوچ کے حامل ہونگے۔ تو بچوں کی تربیت کرتے ہوئے بڑی آسانیاں پیدا ہوں گی۔حدیث میں مومنین کے ساتھ نیک گمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم میں فرمایا کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ، لہذاا ن سے احترازکرنا ضروری ہے۔

ہمارے معاشرے کے اکثر مسائل کی بنیادیں محض بدگمانی کی دلدل میں بچھی ہوئی ہوتی ہیں۔ہمارے معاشرتی مسائل ہوں یاخاندانی مسائل، ملکی مسائل ہوں یا سیاسی مسائل۔ ان تمام کی بنیاد میں بدگمانی ایک اہم عنصر کے طورپر کارفرماملے گی۔ اس لئے والدین چونکہ ایک نسل کی تربیت جیسے اہم منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ مثبت سوچ اور مثبت عادتوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں ۔ تاکہ بچوں کو اچھی رول ماڈلنگ مل سکے ۔اور مستقبل کے لئے اچھی نسل تیار ہوکر سامنے آسکے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*