پنجاب کے سرکاری اساتذہ کا المیہ

استاد قوم کا محسن بھی ہوتا ہے اور معمار بھی۔ استاد وہ عظیم ہستی ہے جس کا مقام بہت بلند ہے استاد نونہالان وطن کی تعلیم کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ استاد کی وجہ سے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
روبوٹس انسانوں کے روزگار کے لئے سنگین خطرہ

ٹیکنالوجی کی ترقی سے جہاں انسانوں کو بے پناہ سہولیات میسر آئی ہیں، وہیں اس سے بہت سے لوگوں کو مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی واضح مثال روبوٹس کا بہت سارے شعبوں میں انسانوں کی جگہ لینا بھی ہے۔
ترک کمپنی نے الیکٹرک کار تیار کرلی ، عالم اسلام کے لئے بڑی خوش خبری

60 سال انتظار کے بعد ترکوں کا خواب شرمندہ تعبیر۔ ترک کمپنی Togg نے بجلی سے چلنے والی اپنی پہلی کار تیار کرلی۔
وادی نیلم کے جنت نما گاؤں اڑنگ کیل کی سیر

کیل وادی نیلم کا ایک خوبصورت گاؤں نما قصبہ ہے۔ یہ بالائی نیلم میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں فوجی چھاؤنی اور کئی انتظامی دفاتر کے علاوہ تعلیمی ادارے اور خاصا بڑا بازار بھی ہے۔ ہمیں گاؤں آّتے جاتے یہاں سے گزرنا پڑتا ہے اور ایک زمانے سے گزر رہے ہیں لیکن کبھی یہاں سیر سپاٹے کی نیت سے گھومنے گھامنے کا اتفاق نہیں ہو سکا۔ دو ہفتے قبل گاؤں جاتے ہوئے یہاں ایک بار پھر رکنا پڑا۔ اس بار قیام اس لئے کچھ طویل ہو گیا کہ عین سڑک میں ایک چھکڑا خراب ہو گیا تھا اور گزرنے کا کوئی رستہ نہیں تھا۔
تین صوبوں کا سنگم سر سبز و شاداب ضلع رحیم یار خان

جنوبی پنجاب کا ضلع رحیم یار خان، تین صوبوں کے سنگم پر واقع دریائے سندھ کے کنارے ایک سر سبز و شاداب ضلع ہے صوبہ پنجاب میں رحیم یار خان رقبے کے لحاظ سے چوتھا بڑا ضلع ہےجس کا کل رقبہ 11880 مربع کلومیٹر ہے
اسکلز اور مہارتوں کا شخصیت سازی میں کردار

زندگی میں اسکلز ، ہنر اور مہارتیں سیکھنا ہرانسان کی ضرورت ہوتی ہے۔جس انسان کے پاس زیادہ ہنراور مہارتیں ہوں گی، دنیا میں اس کی مانگ بھی زیادہ ہوگی اور وہ دنیا میں زیادہ بہتر طریقے سے زندگی گزارسکے گا۔کیونکہ لوگ ضرورت کے مطابق اس کی مہارتوں سے فائدہ اٹھائیں گے اور صاحب ہنر انسان کو اس کے ہنر کی قیمت اداکرکے وہ مہارت اس سےخرید لیں گے ، جس سے اس کو اچھی آمدن ہوسکتی ہے اور وہ اپنی زندگی بہتر طریقے سے جی سکتا ہے۔انسان کچھ خداداد صلاحیتیں لے کر دنیا میں پیدا ہوتا ہے لیکن بیشتر مہارتیں اپنے زمانے ، علاقے اورضروریات کے مطابق وہ سیکھ سکتا ہے۔
آسٹریلیا،دنیا کے سب سے چھوٹے برا اعظم پر مشتمل ملک

دولت مشترکہ آسٹریلیا جنوبی نصف کُرے کا ایک ملک ہے جو دنیا کے سب سے چھوٹے براعظم پر مشتمل ہے۔ اس میں تسمانیہ کا بڑا جزیرہ اور بحر جنوبی، بحر ہند اور بحر الکاہل کے کئی چھوٹے بڑے جزائر شامل ہیں۔ اس کے ہمسایہ ممالک میں انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور پاپوا نیو گنی شمال کی طرف، سولومن جزائر، وانواتو اور نیو سیلیڈونیا شمال مشرق کی طرف اور نیوزی لینڈ جنوب مشرق کی طرف موجود ہے۔
پاکستان میں پیناڈول کی پیداوار بند ، متبادل کیا؟

پاکستان میں پیناڈول کی قلت نئی بات نہیں۔ اس سے قبل گذشتہ سال نومبر میں بھی اس کی قلت سامنے آئی تھی جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ڈریپ کی مداخلت کے بعد ہی دستیابی یقینی بنائی جا سکی تھی، پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں زندگی بچانے والی ادویات کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوتا رہتا ہے اور اس وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
روس کی آٹھ جامعات میں پاکستانی طلباء کو اسکالر شپس کی پیش کش
روسی نائب قونصلر نے کہا کہ روسی جامعات کے افسران پاکستان کا دورہ کریں گے ، محمد علی جناح یونیورسٹی پہلی یونیورسٹی ہے جس کے ساتھ مشترکہ پروگرامز کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے ۔
لیڈرشپ کے اوصاف

لیڈرشپ کے اوصاف کیا ہیں؟ یہاں پر ہم ان اوصاف کو بیان کریں گے، ان اوصاف کی تعیین میں دنیا کے سب سے بڑے قائد، لیڈر اورعظیم رہنما اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمدمصطفی ﷺکی سیرت وکردارکو بطور اسوہ حسنہ سامنے رکھیں گے۔جس نے صرف 23سال کے مختصر عرصے میں اللہ کی مددونصرت اور اپنی بہترین قائدا نہ صلاحیتوں کے ذریعے دنیا میں عظیم انقلاب برپاکیا اور لیڈرشپ کے عظیم معیارات اور اسٹینڈرڈز قائم کئے۔
مغل عہد سلطنت کا نظام تعلیم ، لائبریریاں اور سائنسی ایجادات

مغلوں کے بارے میں تاریخ دانوں ، قارئین اور عصر حاضر کے دانشوروں کی رائے شدید تلخ ہے۔ مغل حکمرانوں کو محض عیاش پرست اور دولت لٹانے والے جابر حکمران سمجھا جاتا ہے۔اس مضمون میں ہم مغلوں کی لائبریریوں اور ان کے ہاں رائج تعلیمی نظام اور ان کی سائنسی ایجادات کا جائزہ لیں گے اور اس الزام کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مغل حکمران کس حد تک ہندوستان کے زوال کے ذمہ دار ہیں۔
اسلام آباد , دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت

اسلام آباد سطح مرتفع پوٹھو ہار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کیا۔1960ء میں اسلام آباد پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان Constantinos A. Doxiadis نے کیا۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔