دینی اور دنیوی تعلیم میں تفریق

دینی اور دنیوی تعلیم میں تفریق

دینی اور دنیوی تعلیم میں تفریق

ڈاکٹر محمد یونس خالد

(یہ آرٹیکل ” کامیاب شخصیت کی تعمیر” نامی زیر طبع کتاب سے ماخوذ ہے)

ہمارے معاشرے میں عام تصور یہ موجود ہے کہ دینی تعلیم اور دنیوی تعلیم دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ لہذا ان دونوں کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جاسکتا یاجمع کرنا مناسب نہیں، یہ تصور نہایت غلط ہے۔ مثلا سائنس میں بیالوجی، کیمسٹری، فزکس، ایسٹرونومی یادیگر علوم کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ کوئی دنیوی علوم ہیں درست نہیں ۔یہ سب علوم خداکی بنائی ہوئی حیات وکائنات کے مختلف راز اور بھید ہیں جو تحقیق اور ریسرچ کے بعد ان موضوعات کی کتابوں میں لکھ دی جاتی ہیں۔

قرآن کریم نے خود ان تمام موضوعات کو بغور پڑھنے اوران پر غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ سورہ آل عمران میں فرمایا:

“آسمانوں او ر زمینوں کی تخلیق میں، لیل ونہار کے آنے جانے میں عقل مندو ں کے لئے نشانیاں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے ،بیٹھے اورپہلووں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی تخلیق پر غوروفکر کرتے ہیں۔”

اس لئے ہمیں دینی تعلیم اور دنیوی تعلیم کے نام سے الگ الگ خانے بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

مختلف علوم کے مختلف موضوعات

مختلف علوم کے موضوعات الگ ہوسکتے ہیں۔ مثلا تفسیر قرآن کے موضوع میں قرآنی مضامین ومفاہیم اور ترجمہ وتفسیر جیسی چیزیں زیر بحث آئیں گی۔ حدیث کے علوم میں حدیث کی سند ، حدیث کا متن ، اس کی صحت وضعف جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ اسی طرح فزکس میں خداکی بنائی ہوئی کائنات ، مادہ اور توانائی کے بارے میں مضامین ہوں گے یا بیالوجی میں زندگی اور اس کے مسائل کے بارے میں گفتگو ہوگی۔

جو کائنات خداکی بنائی ہوئی ہے اس کے بارے میں تحقیق وجستجو دین کے منافی نہیں اور زندگی کے بارے میں ریسرچ کرنا اور گفتگو کرنا بھی دین کے خلاف ہرگز نہیں بلکہ عین دین ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالی نے فرمایا: “عنقریب ہم ان کو دکھادیں گےاپنی نشانیاں کائنات میں اور خود ان کی جانوں میں۔ ” (سورہ فصلت) ۔ اب کائنات اور مادے کی کھوج لگانا فلکیات (ایسٹرونومی) اور فزکس کا موضوع ہے جبکہ انسانی زندگی کے بارے میں تحقیق بیالوجی کا موضوع ہے جو عین تقاضا قرآنی ہے۔ اب ان علوم کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ یہ کوئی دنیاوی علوم ہیں جو دین سے ہٹ کر ہیں سراسر بے شعوری کی بات ہے۔

ذیل میں ہم پاکستان میں قائم دینی اور جدید تعلیمی سیٹ اپ(اسکولز ، کالجز، یونیورسٹیز اور مدارس دینیہ) اور ان کے نصاب، کورس ورک نیز اس سیٹ اپ کے تحت قائم اداروں کی طرف سے جاری ہونے ہونے والی مرحلہ وار ڈگریوں کا خاکہ پیش کریں گے۔تاکہ شخصیت سازی کے دوران آپ کو اپناتعلیمی کیرئیر بنانے میں رہنمائی مل سکے۔

مدارس دینیہ کا کورس ورک اور ڈگری

پاکستان میں اس وقت دینی مدارس کے پانچ نیٹ ورک یا تعلیمی بورڈز کام کررہے ہیں جو مسلکی بنیادوں پر قائم ہیں جومندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان (دیوبند مکتب فکر)
2۔ تنظیم المدارس پاکستان (بریلوی مکتب فکر)
3۔ وفاق المدارس السلفیہ (اہل حدیث مکتب فکر)
4۔ وفاق المدارس الشیعہ (شیعہ مکتب فکر)
5۔ رابطۃ المدارس پاکستان( جماعت اسلامی)

یہ مدارس دینیہ کے کورس ورک کا خاکہ ہے جو مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی ویب سائٹ سے لے کر یہاں پیش کیا گیا ہے۔ تاکہ قارئین کو مدارس دینیہ کے کورس ورک کی ایک جھلک سمجھ میں آجائے ۔ باقی تفصیلات اس چھوٹی سی کتاب میں پیش کرنا کتاب کے اصل موضوع سے انحراف کا باعث بن سکتا ہے اس لئے اسی خاکے پر اکتفاکیا جاتا ہے۔ مزیدجاننے کے لئے مدارس دینیہ کے کورس ورک اور خدمات کے موضوع پر بے شمار کتابیں پہلے سے مارکیٹ میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔نیز دینی مدارس کے تعلیمی بورڈز کی ویب سائٹس سے بھی معلومات مل سکتی ہیں۔

عصری نظام تعلیم ، کورس ورک اور ڈگری

اسکول ایجوکیشن

عصری تعلیم(اسکول کی تعلیم) کا پہلا مرحلہ پری پرائمری سے شروع ہوکر پرائمری، مڈل اور سیکنڈری یعنی میٹرک لیول تک جاتا ہے۔ اس طرح میٹرک پاس کرتے ہوئے ایک بچے کو 13 سال لگ جاتے ہیں۔ اسکولنگ کے اس مرحلے میں بچے کو مندرجہ ذیل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔

1۔اسلامیات 2۔ اردو 3۔ انگریزی 4۔ ریاضی 5۔ سائنس 6۔ کمپیوٹر 7۔ معاشرتی علوم 8۔ قرآن کریم ناظرہ 9۔ سندھی 10۔ دیگر اسکلز۔

اسکولنگ کے مرحلے میں بچے کی ریڈنگ اور رائٹنگ کو بہتر بنانے کے ساتھ دیگرچھوٹی چھوٹی اسکلز ڈویلپمنٹ پر کام کیا جاتا ہے ۔ تاکہ ان اسکلز کو بنیاد بناکر وہ انٹر اور ہائرایجوکیشن کے طرف آگے بڑھ سکے۔اسکولنگ ایجوکیشن کے بارے میں چند چیزیں جاننا ضروری ہے۔

1۔ اسکولنگ ایجوکیشن کے دوران تعلیم دینے کے لئے دو طرح کے میڈیم یعنی ذریعہ تعلیم ہمارے ملک میں رائج ہیں ؛انگلش میڈیم اور اردو میڈیم ۔ جن کو عام طور پر سرکاری اسکول اور پرائیویٹ اسکول کے نام سے لوگ جانتے ہیں۔
2۔ اسکول لیول میں دوطرح کے ایجوکیشن سسٹم کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔میٹرک سسٹم اور اولیول /اے لیول ایجوکیشن سسٹم۔ پاکستان کا سرکاری ایجوکیشن سسٹم میٹرک سسٹم ہی ہے اور یہاں کے تعلیمی اداروں کی غالب اکثریت اسی سسٹم کو فالوکرتی ہے۔ تاہم بعض اسکول او لیول اور اے لیول سسٹم کو بھی فالوکرتے ہیں جو درحقیقت برطانوی تعلیمی نظام ہے۔
3۔ اسکول ایجوکیشن میں میٹرک لیول تک پہنچ کر عام طور پر بچوں کے پاس کیرئیر بنانے کے لئے تین آپشنز ہوتے ہیں۔ پہلاآپشن سائنس سبجیکٹس کا ہے، دوسراآپشن کمپیوٹر سائنس کا ہے جبکہ تیسرا آپشن آرٹس کاہے۔ بچے ان تین میں سے کوئی ایک آپشن اختیار کرسکتے ہیں۔ تاہم ہر ایک کے مضامین ذرا مختلف ہیں۔

تعلیمی ڈگریاں ایک نظر میں

ڈگری لیول
ڈگری مکمل کرنے کا دورانیہ
بنیادی اہلیت

میٹرک /او لیول

دس سالہ اسکولنگ پروگرام
مڈل اسکول پاس

انٹرمیڈیٹ/ایسوسی ایٹ

دوسالہ ہائر سیکنڈری تعلیمی پروگرام
میٹرک پاس

گریجویشن/بیچلرز ڈگری

دوسالہ گریجویشن ڈگری پروگرام
انٹرمیڈیٹ پاس

ماسٹرڈگری

دوسالہ ڈگری پروگرام
گریجویشن/بیچلرز ڈگری

ایم فل/پی ایچ ڈی

2-4 سالہ ڈگری پروگرام
ماسٹرڈگری

انٹرمیڈیٹ لیول

انٹر میڈیٹ لیول میٹرک مکمل کرنے کے بعد دوسال پرمشتمل ایک تعلیمی لیول ہے جسے بعض اوقات ایسوسی ایٹ ڈگری بھی کہا جاتا ہے۔ میٹرک مکمل کرنے کے بعد انٹر لیول میں داخلہ لینے کے لئے بچے کے پاس چھ سے زیادہ آپشنز ہوتے ہیں جبکہ ایک آپشن علوم شرعیہ میں اسپیشلائزیشن کے لئے مدارس دینیہ کی طرف رجو ع کرنا اور وہاں درس نظامی میں ایڈمشن لینا بھی ہوتا ہے یہ آپشنز مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ پری میڈیکل (ایف ایس سی) 2۔ پری انجینئرنگ (ایف ایس سی)
3۔ انٹر کمپیوٹر سائنس (آئی سی ایس) 4۔ انٹر کامرس (آئی کام)
5۔ انٹر آرٹس جنرل گروپ (ایف اے) 6۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن 7۔ ہوم اکنامکس وغیرہ

ذیل میں انٹرمیڈیٹ لیول کے مختلف شعبوں میں داخلہ لیتے وقت اختیار کئے جانے والے مضامین کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ان میں سے چند مضامین تمام شعبوں میں لازمی ہوتے ہیں ان کے علاوہ مضامین اپنے شعبوں کی مناسبت سے اختیارکرنے پڑتے ہیں۔

انٹرمیڈیٹ کے لازمی مضامین

1۔ انگریزی دونوں سال لازمی 2۔ اردو دونوں سال لازمی
3۔ اسلامیات پہلے سال 4۔ پاکستان اسٹڈیز (مطالعہ پاکستان)ایک سال
مندرجہ بالا لازمی مضامین کے علاوہ ذیل کے تمام مضامین اپنے شعبوں کی مناسبت سےاختیار کیے جاسکتے ہیں۔

انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل (ایف ایس سی)
Part-1
Part-2

Biology(Zoology+Botany)
Biology(Zoology+Botany)

Physics
Physics

Chemistry
chemistry

انٹرمیڈیٹ پری ایجینئرنگ (ایف ایس سی)

Subjects

Part-1
Part-2

Mathematics
Mathematics

Physics
Physics

Chemistry
Chemistry

انٹرمیڈیٹ کامرس(آئی کام)

Commerce Subjects

Part-1
Part-2

Accounting
Accounting

Principles of Commerce
Principle of Commerce

Economics
Commercial Geography

Business Mathematics
Statistics

انٹرمیڈیٹ آرٹس (ایف اے)

آرٹس گروپ میں داخلہ لینے کے لئے مندرجہ بالا لازمی مضامین کے علاوہ ذیل کے تین گروپ میں سے ہرگروپ سے کوئی ایک مضمون لیاجاسکتا ہے۔

Arts Elective Subjects

Statistics
Mathematics
Economics

Geography
Philosophy
Psychology

World History
Civics
Islamic History

Arabic
Islamic studies
Music

Nursing
Sociology
Education

Geography
Home Economics
Computer science

Logic
Library Science

Health and physical education
Persian
Advanced Urdu

English Languages
Literature French
Fine Arts
Islamiat elective

ان کے علاوہ انٹرمیدیٹ لیول میں کچھ اور گروپس مثلا ہوم اکنامکس گروپ اور فزیکل ایجوکیشن گروپ بھی دلچسپی لینے والوں کے لئے کیرئیر بن سکتے ہیں۔

بیچلرز لیول ڈگری

انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد بیچلرز ڈگری کا مرحلہ آتا ہےجسے ہائر ایجوکیشن کہتے ہیں۔ اس ڈگری کو حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹیز یا ڈگری کالجزکی طرف رجوع کرنا پڑتاہے۔ اس مرحلے کے لئے اسٹوڈنٹس خوب غور وخوض کرتےہیں کہ انہیں مستقبل میں کونسا کیرئیر اپنا نا چاہیے۔اگرچہ کیرئیر کی بنیاد انٹر لیول یا اس سے بھی پیچھے جائیں تو میٹرک کے تین آپشنز(سائنس/آرٹس/کمپیوٹرسائنس) میں سے کوئی ایک اختیارکرنے کے بعد ہی پڑ جاتی ہے لیکن حقیقی معنوں میں ایک خاص فیلڈکوبطور کیرئیر اپنانے کا مرحلہ بیچلرز ڈگری کے دوران ہوتا ہے۔ بیچلرز ڈگری کے لئے جاتے ہوئے ایک اسٹوڈنٹس کے پاس مندرجہ ذیل آپشنز ہوتے ہیں۔
1۔ بیچلرز آف سائنس (بی ایس سی)
2۔ بیچلرز آف انجینئرنگ (بی ای)
3۔ بیچلرزآف کامرس (بی کام)
4۔ بیچلرز آف آرٹس (بی اے)
5۔ بیچلرز آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے)
6۔ بیچلرز آف لا (ایل ایل بی)
7۔ بیچلرز آف ایجوکیشن (بی ایڈ)
8۔ بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک)
ان تمام ٹائٹلز میں آپ بیچلزر کی ڈگری حاصل کرسکتے ہیں البتہ ان میں داخلہ کی کچھ شرائط ہوتی ہیں جو عام طور یونیورسٹیز کی ویب سائٹس پر موجود ہوتی ہیں۔آپ کو چاہیے اپنے متعلقہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کو وزٹ کریں۔

ماسٹرز ڈگریل لیول

ماسٹرڈگری کا نمبر بیچلرز مکمل کرنے کے بعد آتا ہے یہ ڈگری بنیادی طور پریونیورسٹی میں ہی ہوتی ہے۔ اس ڈگری کی بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ اسٹوڈنٹ نے متعلقہ مضمون میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی ہو۔یہ دوسالہ اکیڈمک پروگرام ہوتا ہے جو کسی خاص سبجیکٹ میں کیا جاتا ہے۔ ماسٹرز ڈگری کے بنیادی ٹائٹل ذیل میں بیان ہوں گے تاہم ان میں سے ہرٹائٹل کے تحت کئی ایریاز ہوتے ہیں جن میں ماسٹرکیا جاسکتا ہے۔ مثلا ہم ایم اے کو ہی لے لیں تو آرٹس کے متعددایریاز، سوشل سائنسز کے کئی میدان، مختلف لینگویجز، اسلامک اسٹڈیزوغیرہ سب کی ڈگر ی کو ایم اے کی ڈگری کہاجاتا ہے ڈگری ٹائٹلز مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ ماسٹر آف آرٹس(ایم اے)
2۔ ماسٹر آف سائنس (ایم ایس)
3۔ ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے)
4۔ ماسٹر آف ایجوکیشن (ایم ایڈ)
5۔ ماسٹر آف لا (ایل ایل ایم) وغیرہ۔

ایم فل (ماسٹر آف فلاسفی)

یہ ماسٹر لیول کی ریسرچ پر مبنی ڈگری ہوتی ہے، یعنی ماسٹر کلاسز عموما کسی سبجیکٹ کے کورس ورک پر مشتمل ہوتی ہیں جبکہ ایم فل انہی کلاسز کے ریسرچ ورک پر مبنی ہوتی ہے۔ایم فل میں داخلے کی بنیادی شرط ماسٹر / ایم اے کی ڈگری ہوتی ہے۔ جس کے بعد ایم فل میں ایڈمشن کے لئے درخواست دی جاسکتی ہے۔ ایم فل میں ایڈمشن کے بعد یہ لیول بھی دوچیزوں پر مشتمل ہوتا ہے پہلے ایک سال کورس ورک کروایاجاتاہے ۔ کورس ورک کرائٹیریا مکمل کرنے کے بعد ایم فل ایم ریسرچ ورک یعنی کسی خاص ٹاپک پر تھیسس لکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ یوں تھیسس مکمل ہونے اوردیگر تمام شرائط مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی کی طرف سے ایم فل کی ڈگری عطا کی جاتی ہے۔

پی ایچ ڈی (ڈاکٹرآف فلاسفی)

یہ موجودہ اکیڈمک سسٹم کی سب سے اعلی اور آخری پروفیشنل ڈگری ہوتی ہے۔جس کی مدت تکمیل تین سے سات سال تک کی ہوتی ہے۔یہ ڈگری کورس ورک کی تکمیل اور ریسرچ ورک یعنی تھیسس مکمل کرنے کے بعد دیگر تمام شرائط مکمل کرنے پر یونیورسٹی محقق کو عطاکرتی ہے۔ اوریونیورسٹی ہی کی طرف سے ریسرچ اسکالر کو ڈاکٹر کا ٹائٹل بھی دیا جاتا ہے۔پی ایچ ڈی میں ایڈمشن کے لئےایم فل کی ڈگری شرط ہوتی ہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد محقق کسی بھی یونیورسٹی میں اپنی دلچسپی کا موضوع پڑھانے اور مزید ریسرچ کرنے کا اہل قراردیا جاتا ہے۔یوں اس ڈگری کے بعد اکیڈمک سسٹم اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔

خلاصہ:

ہم نے بہت ہی مختصر انداز میں موجودہ ایجوکیشن سسٹم کا ایک ڈھانچہ یہاں آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ تعمیر شخصیت پر کام کرنے والوں کے سامنے ایک تعلیمی خاکہ موجود ہو۔ اوروہ اس خاکے کی مدد سےاپنا راستہ خود تلاش کرنے کے قابل ہوسکیں۔ باقی تمام تفصیلات کی یہ چھوٹی سی کتاب متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ہم یہا ں شخصیت کی تعمیر کا ایک مختصر خاکہ دینا چاہتے ہیں جس کا ایک جز ذہنی اور تعلیمی ترقی بھی ہےچنانچہ اس کا مختصر خاکہ یہاں پیش کیا گیا۔اللہ تعالی ہماری اور ہماری نسلوں کی زندگی کو بامقصد بنائے۔ آمین

موجودہ دور میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت

Be the first to comment

Leave a Reply