خواب کی حقیقت اور اس کی قسمیں

خواب کی حقیقت اور اس کی قسمیں

تحریر: لطیف الرحمن لطف

عام طور پر کسی چیز کے غیر حقیقی، ناممکن اور ناپائیدار ہونے کو بیان کرنے کےلئے اسے خواب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے ” یہ تو خواب ہے” یا ” ایسا ہوجانا ایک خواب ہے۔”

دنیاوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کےلئے بھی خواب ہی کا استعارہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے فانی بدایونی نے کہا ہے:

اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

صوفیاء کا ایک طبقہ تو اس سے بھی آگے گیا اور کہا کہ عالم ناسوت اور عالم مثال دونوں غیر حقیقی ہیں۔ اس طبقے کے بقول انسان جب جاگ رہا ہوتا ہے، تو عالم ناسوت میں ہوتا ہے۔ جب سو جاتا ہے تو عالم مثال میں ہوتا ہے۔گویا جاگنے کی حالت میں عالم مثال کا وجود نہیں ہوتا اور سونے کی حالت میں عالم ناسوت موجود نہیں ہوتا ۔

اس بنا پر یہ طبقہ اصل حقیقت انسان کو قرار دیتے ہوئے کہتا ہے، کہ عالم ناسوت ہو یا عالم مثال دونوں ہی انسان کی ذات کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ دونوں عالم انسان کے بغیر خود اپنا وجود نہیں رکھتے ۔اس طبقے کے نزدیک جو کچھ کائنات میں ہے۔ محض وہم و خیال ہے اس کی وہی حیثیت ہے جو کسی آئینے میں نظر آنے والے عکس کی ہے۔

ایک چینی فلاسفر کے مطابق اس نے خواب میں خود کو ایک تتلی کے روپ میں دیکھا ۔جو مختلف پھولوں پر اڑتی اور ان کا جوس چوستی پھر رہی تھی ۔ان کے بقول نیند سے جاگنے کے بعد وہ مسلسل اس سوچ میں گرفتار ہے۔ کہ آیا وہ، وہ فلسفی ہے جس نے خواب میں خود کو تتلی کےروپ میں دیکھا تھا۔ یا وہ تتلی ہے جو حالت بیداری میں فلسفی کی صورت میں نظر آرہا ہے۔

 فلسفیانہ نکتہ رسی اور شاعرانہ خیال آرائی اپنی جگہ تاہم  یہ کائنات اور اس میں موجود زندگی دونوں ناقابل تردیدحقیقت ہیں ۔زندگی تو پھر زندگی ہے اس زندگی میں انسان کے دیکھے ہوئےخواب بھی اتنے بے حقیقت نہیں  ہوتے  جتنا سمجھا جاتا ہے۔

 سائنس دانوں کے نزدیک خواب کا محرک اور اس پر سوالات

خواب کی حقیقت کا انکار تو سائنس بھی نہیں کر سکتی۔ تاہم وہ اس کے محرک کا تعین کرپائی ہے اور نا ہی  خوابوں کی حقیقی زندگی میں اثر پذیری کا قائل ہے۔

خواب کی حقیقت کا انکار تو سائنس بھی نہیں کر سکتی۔ تاہم وہ اس کے محرک کا تعین کرپائی ہے اور نا ہی  خوابوں کی حقیقی زندگی میں اثر پذیری کا قائل ہے۔ چنانچہ کچھ سائنس دان خوابوں کو انسانی حسرتوں اور تمناوں کا  غیر شعوری اظہار قرار دیتے ہیں۔ گویا خواب کی اپنی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

بعض سائنس دان “تحرک بصری کو خواب کا محرک سمجھتے ہیں ۔کچھ کے نزدیک دماغ خوابوں کی تولید کرتا ہے۔ پھر دماغ کا وہ کونسا حصہ ہے جہان خواب کی تولید ہوتی ہے ؟اس حوالے سے بھی سائنسی آرا مختلف ہیں ۔اور ہر رائے انسانی ذہن میں خواب کے حوالے سے پائی جانے والی تشنگی  بجھانے کے بجائے مزید پیاس پیدا کرتی ہے۔ دوسری طرف اطباء ہیں جو پیٹ اور معدے میں گیس کی کثرت کو خواب کا محرک گردانتے ہیں۔

جو لوگ آسمانی مذاہب اور روحانیت پر یقین رکھتے ہیں ۔وہ روز اول سے خواب کو ایک حقیقت سمجھتے چلے آرہے  ہیں۔ یہ طبقہ عملی زندگی میں بھی خوابوں کی اثر پذیری کا قائل ہے۔ قرآن پاک میں حضرت ابراھیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوابوں کا ذکر موجود ہے، جو سب کے سب شرمندہ تعبیر ہوئے ۔بلکہ سورہ یوسف میں اس وقت کے بادشاہ کے خواب کا بھی تذکرہ ہے۔ جس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائی ۔اور کئی سالوں کے بعد وہ خواب ایک حقیقت کی صورت میں ظہور پذیر ہوا۔ اس واقعے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کسی کافر کا خواب بھی درست ہو سکتا ہے۔بعض احادیث میں  اچھے خوابوں کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔

خواب کی تین  بنیادی قسمیں

اسلامی علماء نے خواب کی بنیادی طور پر تین قسمیں بیان کی ہیں ۔

نمبرایک روئا صادقہ:

یعنی سچے خواب ،حدیث میں اسی قسم کو نبوت کا چھالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے

نمبر دو حدیث نفس :

یعنی انسان بیداری کی حالت میں جو صورتیں دیکھتا یا سوچتا رہتا ہے، وہ خواب میں نظر آتی ہیں۔ یا قوت خیالیہ خود ان صورتوں کا اختراع کر لیتی ہے۔

 نمبر تین تخویف الشیطان :

 شیطان انسانی بدن میں ان مقامات میں دوڑتا ہے جہاں جہاں خون کی گردش ہوتی ہے۔ اس لئے شیطان بسا اوقات قوت خیالیہ میں کوئی ہیبت ناک یا تفریح آگیں صورت ڈال دیتا ہے۔

اسلامی مفکرین کے نزدیک خواب کا محرک

اسلامی مفکرین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ خواب ایک حقیقت ہے ۔اور سچے خوابوں کا عملی زندگی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ تاہم خواب کی محرک قوت کے بارے میں یہاں بھی اختلاف موجود ہے۔ کوئی قوت مصورہ کو خواب کا منبع سمجھتا ہے، تو کوئی قوت متخیلہ کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔کسی کے نزدیک خواب روح کی کارستانی ہے۔ لیکن ان تمام نظریات پر عقلی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔

خوابوں کے بارے میں ہمارے ہاں کوئی ڈھنگ کا تحقیقی کام نہیں ہوا ہے۔ اس موضوع پر جتنا لکھا گیا ہے وہ محض خوابوں کی تعبیر کے دائرے تک محدود ہے۔

خواب کے محرک کے بارے میں ایک اچھوتی تحقیق

 اردو  کے نامور ادیب،شاعر اور محقق جناب نقشبند قمر نقوی صاحب نے “خواب” کے عنوان سے ایک گراں قدر کتاب تصنیف کرکے اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والوں کی مشکل آسان کر دی ہے۔

اس تحقیقی کاوش میں اس موضوع کے تمام پہلووں پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے ۔یہ کتاب مصنف کے انگریزی، عربی اور اردو کی سینکڑوں کتابوں کے مطالعے کا نچوڑ اور ان کے اپنے قیمتی تجزیوں کا مجموعہ  ہے۔

 یوں تو کتاب میں بے شمار نئے پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔تحریر کی طوالت کےخوف سے ہم صرف خواب کے محرک کے حوالے سے صاحب تصنیف کے تجزئے کو مختصرا پیش کئے دیتے ہیں ۔مصنف رقم طراز ہیں:

“انسانی بدن میں روح کے تابع ایک قوت ہے، جو جسم کی بیداری کی حالت میں سوئی رہتی ہے۔ اور جب جسم نیند میں غرق ہوجاتا ہے، تو وہ جسم سے الگ ہو کرکائنات کی وسعتوں میں کھو جاتی ہے۔ اور مختلف مقامات اور دور دراز علاقوں کی سیر کرنے لگتی ہے۔ اس حالت میں وہ زمان ومکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔مصنف نے اس قوت کو “قوت سیاحی” کا نام دیا ہے

مصنف کے اس نقطہ نظر کو تسلیم کر لینے کی صورت میں وہ تمام اشکالات رفع ہوجاتے ہیں ۔جو دیگر اسلامی مفکرین اور سائنس دانوں کے پیش کردہ نظریات پر وارد ہوتے ہیں۔ دو سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں موضوع سے دل چسپی رکھنے والوں کےلئے اس کےعلاوہ  بھی بہت کچھ موجود ہے۔

1 Comment

Leave a Reply