خبروں میں زہر کیسے ملایا جاتا یے؟؟؟

Adbul Khaliq

تحریر: عبد الخالق ہمدرد

ذرائع ابلاغ نے جس قدر ترقی اس زمانے میں کی یے، پہلے کبھی ایسا نہ تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ ایک جگہ کی خبر دوسرے مقام تک بڑے وقت کے بعد پہنچتی تھی لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ اگر امریکا میں کوئی واقعہ ہوا ہے تو اس کی خبر اگلے لمحے پاکستان پہنچ جائے گی۔ ایسے ہی کوئی واقعہ رونما ہوتے ہی، اس کے مختلف رخ سامنے آنے لگتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی یہ تیزی ہر وقت ہمارے ذہن میں کچھ نہ کچھ منفی یا مثبت انڈیلتی رہتی ہے اور جب ہم ایک جیسی خبریں بار بار دیکھتے ہیں تو ان کے صحیح یا غلط ہونے سے پہلے ہمارے دماغ میں یہ بات آنے لگتی ہے کہ جب سب یہی لکھ رہے ہیں تو یہی ٹھیک ہوگا، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہوتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جو خبر ہزاروں لوگ نشر کر رہے ہیں وہ غلط اور اس کے مقابلے میں کوئی ایک آدمی جو بات کر رہا ہے وہ درست ہو۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مختلف لوگ ایک ہی خبر کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ اس لئے ایک ہی خبر کئی ایک عنوانات سے شائع ہوتی ہے حالانکہ اس کے اندر باتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ خبر ایک واقعہ ہوتی ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، مگر خبر پھیلانے والا اپنی رائے اس میں مختلف طریقوں سے شامل کرتا ہے اور یہی بات ایک ہی خبر کو مختلف بنا دیتی ہے۔

اس طریقے سے خبر نشر کرنے والا اس خبر میں اپنی سوچ بھی ملا دیتا یے۔ اس کی وضاحت کے لئے یہ مثال ملاحظہ فرمائیے کہ اگر کابل میں طالبان ایک اخباری کانفرنس میں یہ اعلان کر دیں کہ “ملک کا آئین اسلامی شریعت ہوگی”. یہ یہ ایک خبر ہے اور کوئی بھی ادارہ، اخبار یا ذریعہ ابلاغ اس کا انکار نہیں کر سکتا مگر اس پر حاشئے چڑھا سکتا ہے۔

سو کسی اخبار کی سرخی ہو بہو یہی ہوگی کہ ملک کا آئین اسلامی شریعت ہوگی۔ یہ اخبار اس نظرئے کا حامی یا بالکل غیر جانبدار ہے جس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دوسرے اخبار نے لکھا “طالبان نے شریعت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا”, تیسرے نے لکھا “طالبان نے سخت اسلامی قوانین نافذ کرنے کا اعلان کر دیا”. چوتھے نے سرخی جمائی کہ “ملک کے سارے قوانین ختم، اب صرف اسلامی شریعت قانون ہوگی” وعلی ہذا القیاس۔ آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح ایک ہی خبر کے عنوان کے ذریعے ہر اخبار نے اپنی رائے کو غیر محسوس طریقے سے اس میں شامل کر دیا۔

اس سے اگلی بات یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ ایک طرف غیر جانبداری کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسی طرح خبروں میں ایک ایک لفظ شامل کر کے زہر افشانی کرتے ہیں۔ آپ کوئی بھی خبر پڑھ کر اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ غیر محسوس زہر خالص زہر کے مقابلے میں بہت کارگر اور موثر ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے اب اسلامی احکام کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکثر لوگ کھلی مخالفت کی بجائے اسی اسلوب کو استعمال کرتے ہیں۔

اس لئے خبریں پڑھتے اور لکھتے وقت اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ کیا مجھ تک خبر پہنچ رہی ہے یا اس کے ساتھ زہر بھی ذہن میں جاگزیں ہو رہا ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور ذرائع ابلاغ کی تیزی اس بارے میں مزید چوکنا رہنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply