وطن کی محبت عقل و شرع کی روشنی میں

وطن کی محبت عقل و شرع کی روشنی میں

وطن کی محبت کسی دلیل کی محتاج نہیں

وطن کی محبت ایک فطری جذبہ ہے جس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ،انسان جس جگہ پیدا ہوتا ہے ، جہاں پل بڑھتا ہے ،جن گلی محلوں میں کھیل کود کر بڑا ہوتا ہے وہاں کے در و دیوار سے مانوس ہو جاتا ہے وہاں کے ذرے ذرے سے اس کو پیار ہو جاتا ہے ، وہ اپنے آبائی وطن اور اس کی یادوں کو لاکھ بھلانا چاہے نہیں بھلا پاتا ۔

ہر ذی روح اپنے وطن سے محبت کرتی ہے

انسان تو اشرف المخلوقات ہے اس کا اپنے وطن سے محبت کرنا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ،انسان کے علاوہ دیگر ذی روح بھی فطری طور پر اپنے وطن اور مسکن سے محبت کرتے ہیں اور ٹوٹ کر کرتے ہیں ، شیر اپنی کچھار کی حفاظت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتا، لومڑی جیسا بزدل جانور بھی اپنے بل کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ وار دیتا ہے ، کیڑے مکوڑے تک کسی غیر کو اپنے بل میں گھسنے نہیں دیتے صرف اس وجہ سے کہ ان کو اپنے مسکن سے پیار ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے اس میں گھسنے کو اس کے تقدس کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ ہم کبھی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر تو دیکھیں اپنے مسکن کی محبت سے سرشار بھڑیں ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں ، وہ اپنے مسکن کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کو شل کرکے واپس بھیج دیں گے ، بھڑ اپنے چھتے کی طرف بڑھتے ہاتھوں پر اس لئے نہیں جھپٹے کہ آپ نے ان کو مشتعل کیا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ آپ نے ان کے وطن کی سرحدوں کو پامال کیا ہے ، ان کے اشتعال کے پیچھے ان کی اپنے مسکن سے محبت ہی کار فرما ہوتی ہے ۔

ہم نے بچپن میں بعض پرندوں کے گھونسلوں سے چھیڑ خانی کرکے دیکھی ہے بہ ظاہر بےضرر سے ، خوب صورت سے اور ترنم ریز آواز کے مالک پرندے ایسے موقع پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ان کی سریلی آوازیں غراہٹ میں تبدیل ہوتی محسوس ہوتی ہیں ، وہ اپنے تنکوں کے بنے گھونسلے پر مر مٹنے کی باتیں شروع کرتے ہیں ، چھیڑ خانی کرنے والے کے سر پر چونچ مارنے کی کوشش کرتے ہیں ، گھونسلے کے دفاع کے لئے وہ اپنے ساتھی پرندوں کو جمع کرتے ہیں ، گھونسلہ تو کیا گھونسلے کا کوئی تنکا بھی گر جائے پرندے اس کا پیچھا کرتے ہیں اور اسے واپس اپنے گھونسلے میں لا کر ہی دم لیتے ہیں ۔

ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ وطن کی محبت کو ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ،ہمارے ہاں ہر معاملے کو مذہبی دلیل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش میں کبھی غلطیاں بھی کی جاتی ہیں ۔

وطن کی محبت کا انکاری طبقہ

مثلاً ایک طبقہ وطن کی محبت کو سرے سے کوئی اہمیت نہیں دیتا ،یہ طبقہ کہتا ہے کہ وطن کی محبت کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ انسان اسے ہر صورت تسلیم کرے ، حالانکہ یہی طبقہ قومیت ،لسانیت اور عصبیت کے نام پر مر مٹنے کو بھی تیار ہوتا ہے ، قومیت اور لسانیت در حقیقت وطن ہی کی محبت میں غلو کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں ، یہ طبقہ ملک سے محبت کو تو ضروری نہیں سمجھتا البتہ اس ملک کے اندر اپنے مخصوص علاقے ، اس کی تہذیب اور اس کی زبان کو جنگ و جدال اور قتل وغارت گری کا سبب بنانے سے بھی نہیں کتراتا ۔ کہنے کو تو یہ طبقہ ” حب الوطنی” کے خلاف ہوتا ہے جب کہ عملی طور پر حب الوطنی کے محدود تصور کا قائل ہوتا ہے ۔

کیا حب الوطنی ایمان کا جز ہے ؟

دوسری طرف ایک طبقہ ایسا ہے جو جو حب الوطنی کو مذہب سے ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے ، یہ طبقہ حب الوطنی کو ایمان کا جز قرار دیتا ہے اور اس کےلئے “حب الوطنی من الایمان” جیسی ضعیف ترین حدیث سینہ تان کر پیش کرتا ہے حالانکہ اس قسم کے تکلفات کی چنداں ضرورت نہیں ہے ، وطن کی محبت کو ایک سماجی اور فطری عمل قرار دینا ہی کافی ہے ہاں اس کی تائید میں مذہبی دلائل پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،یہ بات فرض ، واجب ،کفر اور ایمان کے فتووں کے بغیر بھی کی جا سکتی ہے ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حب الوطنی

وطن کی محبت چونکہ انسان کا فطری جذبہ ہے اس لئے اسلام سمیت تمام آسمانی مذاہب نے اس کی حوصلہ شکنی نہیں کی ہے بلکہ اسے پسند کیا ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے وطن مکہ کی ترقی اور بہتری کے حوالے سے دعائیں قرآن پاک میں مذکور ہیں ، ایک موقع پر آپ کی دعا یوں نقل کی گئی ہے۔

واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا بلدا آمنا ورزق اھلہ من الثمرات (البقرہ)
اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے پروردگار! اس شہر کو امن وامان والا بنا اور اس کے مکینوں کو مختلف قسم کے پھلوں کا رزق عطا فرما!

اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان کے وطن مکہ مکرمہ سے محبت عیاں ہے ۔

رسول اللہ کی وطن سے محبت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب نبوت عطا ہوئی اور پہلی وحی نازل ہونے کے غیر معمولی واقعے کے بعد آپ کچھ پریشان سے تھے تو ان کی زوجہ محترمہ ،ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو لے کر اپنے عزیز ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو تورات کے بڑے عالم تھے ،ورقہ بن نوفل نے آپ سے ساری باتیں سننے کے بعد کہا ؛ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ پر جو فرشتہ نازل ہوا ہے یہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ پر تورات لے کر نازل ہوا تھا ۔ ورقہ نے تورات کی پیشن گوئی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قریش کے متوقع سلوک کا ذکر کیا ؛ مثلآ ” آپ کی قوم آپ کی دشمن بن جائے گی،آپ کو جھٹلائے گی وغیرہ، ورقہ بن نوفل نے اپنی گفت گو کے دوران جب یہ کہا ؛
” کاش میں اس وقت زندہ اور جوان ہوتا جس وقت آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی تو میں آپ کی بھرپور مدد کرتا ” یہ بات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت تعجب بھی ہوا اور آپ آزردہ خاطر بھی ہوئے اور فرمایا
او مخرجی ھم؟ (کیا یہ لوگ مجھے اپنے وطن سے نکالیں گے ؟)
گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش مکہ کی ان تمام متوقع ایذا رسانیوں میں سے مکے سے نکالا جانا سب سے تکلیف دہ محسوس ہوا جو اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر کی اپنے وطن سے بے لوث محبت پر دلالت کرتا ہے ۔

وطن کی خرابیاں وطن سے نفرت کا جواز فراہم نہیں کرتیں

چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو آپ نے مکہ مکرمہ کی طرف الوداعی نگاہ دوڑائی اور ارشاد فرمایا
“ما اطیبک من بلد واحبک الی ولولا ان قومی اخرجونی منک لما سکنت غیرک”
(مکہ! تو کتنا پاکیزہ اور پیارا شہر ہے جو مجھے تمام شہروں میں عزیز ہے اگر میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے شہر کو کبھی مسکن نہ بناتا
سوچنے کی بات ہے کہ جو مکہ شرک کا گڑھ ہے، جہاں توحید پر قائم رہنا جرم ہے ، جس مکے میں حق بات کہنے کی اجازت نہیں ہے ،جس مکہ میں لڑکیاں زندہ درگور کی جاتی ہیں ،جس مکے میں جہالت، عصبیت اور ظلم کا راج ہے ، جس مکے میں توحید پرستوں پر جبرو ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، جس مکے میں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ہے اور ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے اسی مکہ سے اللہ کے پیغمبر والہانہ محبت کا اظہار فرما رہے ہیں ، معلوم ہوا وطن میں پائی جانے والی خرابیاں اس سے نفرت کا جواز فراہم نہیں کرتیں ۔

صحابہ کی وطن سے محبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو شروع میں صحاںہ کا دل وہاں نہیں لگتا تھا بعض کو تو آب وہوا ہوا بھی راس نہ آئی ، مہاجر صحابہ کو مکے اور وہاں بیتے ایام کی یاد ستاتی ،وہ مکے کی محبت میں اشعار گنگناتے رہتے ،اللہ کے رسول کو جب صحابہ کی یہ حالت معلوم ہوئی تو آپ نے دعا فرمائی ؛
اللھم حبب الینا المدینۃ کما حبیب الینا مکہ واشد
(اے اللہ ہمارے لئے مدینے کو مکہ جیسا محبوب بنا دے بلکہ مکے سے بھی بڑھ کر محبوب بنا دے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے صحابہ کرام کی کیفیت تبدیل ہوئی اور ان کا دل مدینے میں لگنا شروع ہوگیا ۔

غور طلب بات یہ ہے کہ صحابہ نے اللہ کے حکم سے مدینے کی طرف ہجرت کی تھی اس کے باوجود ان کا دل مکے کی محبت میں دھڑکتا تھا ،اللہ کے رسول نے بھی اس پر کوئی سرزنش نہیں کی کہ کیوں ایسے وطن کی محبت میں خود کو ہلکان کر رہے ہو جہاں بت پرستی ہے، جہاں باطل کا راج ہے جہاں سے اللہ کے نبی اور اس کے ماننے والوں کا نکالا گیا ہے ، کیونکہ اپنی جائے پیدائش اور آبائی وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے جس پر انسان کا بس نہیں چلتا ۔

اللہ کے رسول نے جب مدینے کو اپنا مستقر بنایا تو وہی آپ کا وطن ہوگیا ، آپ علیہ السلام مدینے سے بھی ٹوٹ کر محبت فرماتے تھے ،روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوے سے واپس آتے تو جوں ہی مدینے کے مکانات اور راستے نظر آنا شروع ہوتے تو فرط محبت میں اپنی سواری کی رفتار تیز کر دیتے ۔

1 Comment

3 Trackbacks / Pingbacks

  1. ڈیلر مارجن میں اضافہ کر دیا گیا
  2. یہ بزرگوں کی نشانی - EduTarbiyah.com
  3. پاکستان کیوں بنا؟ - EduTarbiyah.com

Leave a Reply