بچوں کو کس عمر میں اسکول داخل کرایا جائے

بچوں کو کس عمر میں اسکول میں داخل کرایا جائے

بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے والدین کی طرف سے یہ سوال عام طور پر کیا جاتا ہے۔ اور کرنا بھی چاہیے بلکہ یہ سوال ایسا ہے کہ اس پر بچوں کی پوری زندگی کا دارومدارہے۔ کہ بچے کس عمر میں اپنی تعلیم کی ابتدا کریں اور کب تک اس کی تکمیل کریں؟ تاکہ وہ مناسب عمر میں اپنے کیرئیر کا آغاز کرسکیں۔ اس حوالے سے عموما والدین سے خطا ہوجاتی ہے۔ بعض والدین بہت جلدی اسکول میں ایڈمشن کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

جس کے نتیجے میں بچے اچھی تعلیم کے چکر میں جذباتی ونفسیاتی طور پر متاثر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ بعض والدین اپنی کسی مجبوری کی وجہ بہت لیٹ ایڈمشن کراتے ہیں ۔ اوپر سے وہ ہوم اسکولنگ بھی ان بچوں کو نہیں دیتے ۔ جس کے نتیجے میں بچے اپنی ایج گروپ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہم یہا ں پر اسلامی تعلیمات، جدید ریسرچ، اور طویل ذاتی تجربات کا سہارا لیں گے۔ کہ بچوں کو اسکول میں باقاعدہ ایڈمشن کرانے کی مناسب عمر کیا ہے؟ اور اس مناسب عمر سے پہلے والدین کو کن باتوں کاخیال رکھنا چاہیے؟

عمر اور تعلیم کا خاکہ

پہلے ہم بچے کی تعلیم کے آغاز سے تکمیل تک کے آئیڈیل وقت کا تعین کریں گے اس کے بعد پری اسکول کی تعلیم کا تفصیل کے ساتھ ذکرکریں گے۔
0 تا 6 سال : پری اسکولنگ
6 تا 16 سال: میٹرک تک تعلیم
16 تا 18 سال : انٹرمیڈیٹ تک تعلیم
18 تا 22 سال بی ایس تک تعلیم

پری اسکولنگ

پری اسکولنگ سے ہماری مراد 6 سال سے کم عمر بچوں کی اسکولنگ ہے۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات اور جدید سائنٹفک ریسرچ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی باقاعدہ اسکولنگ کیلئے 6 سال کی عمر کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی بچہ چھ سال مکمل کرکے ساتویں سال میں لگ چکا ہو۔

پری اسکولنگ کامطلب ہے کہ باقاعدہ اسکولنگ یعنی پرائمری کی پہلی کلاس میں داخل کرنے کیلئے بچے کو تیار کرنا۔ چونکہ پہلی کلاس سے میٹرک تک کیلئے قومی سطح پر حکومت کی طرف سے باقاعدہ ایک سلیبس، خاکہ یا کریکولم تیار کیا جاتاہے۔ جس کو سامنے رکھ مختلف پبلشرز اپنی اپنی کتابیں تیار کرتے ہیں۔

جبکہ حکومت کی ایجوکیشن پالیسی کے مطابق چھ سال سے کم عمر بچوں کیلئے ایسا کوئی سلیبس تیار نہیں کیا جاتا ۔ کیونکہ سال سے کم عمر
باقاعدہ اسکولنگ کی عمر نہیں شمار کی جاتی۔

بچوں کو کس عمر میں اسکولمیں داخل کیا جائے

پری اسکولنگ ضروری کیوں؟

تاہم چھ سال سے کم عمر میں پری اسکولنگ اس لئے ضروری ہے تاکہ بچہ اپنے ایج گروپ سے پیچھے نہ رہ جائے ۔وہ پری اسکولنگ کے دوران اسکول کی پہلی جماعت کے سلیبس کیلئے اپنے آپ کو تیار کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرائمری میں بچے کو داخل کرنے کیلئے چھ سال کی عمر ضروری ہے۔ اس سے پہلے والدین یا اسکول اپنی مرضی سے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

پری اسکولنگ اور تربیہ۔

تربیہ ایک بڑی چیز کا نام ہے جس کے پانچ حصوں میں سے ایک حصہ تعلیم بھی ہے۔ تربیہ بچے کی پوری شخصیت کی نشوونما کا نام ہے۔ جس کا آغاز رحم مادر میں بچہ آنے کے بعد سے ہوجانا چاہیے۔ اور پوری شخصیت کی تعمیر کیلئے بچے کی شخصیت کے پانچ ڈومینز یا پانچ ایریاز پر بیک وقت کام کرنا ضروری ہے۔

وہ پانچ ایریاز مندرجہ ذیل ہیں۔

جسمانی نشوونما

جس میں بچے کی متوازن غذا، مناسب آرام، جسمانی ورزش، ڈسپلن اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا پڑتاہے۔

جذباتی نشوونما

اس میں بچے کے جذبات واحساسات ، پسندوناپسند، اس کی توقیرذات اوراس کی خود اعتمادی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

عقلی نشوونما

اس میں بچے کی تعلیم، شعور ی سطح کی بلندی، چیزوں کی توجیہ کی صلاحیت، اسکلز اور مہارتیں،بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما اور اس کو زمانے کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق تیارکیا جاتا ہے۔

روحانی اور اخلاقی نشوونما

اس میں اسلامی بنیادوں پر بچوں کی رجحان سازی، ایمان کی مضبوطی، کردارکی بلندی، اعلی اخلاق واحسان اور تزکیہ نفس کیلئے بچوں کو تیار کیا جاتاہے۔

سماجی نشوونما

اس میں بچوں کومعاشرے میں رہتے ہوئے لوگوں سے میل جول رکھنے، گھر خاندان اور کنبے کا خیال رکھنے،معاشرتی روایات کی پاسداری، خوش اخلاقی، خدمت خلق اور سماج میں رہتے ہوئے اپنا مثبت کردار اداکرنے کیلئے تیار کیا جاتاہے۔

پری اسکول میں بچوں کو کیا پڑھائیں۔

پری اسکول یعنی بچے کی عمر چھ سال ہونے تک اس کو بہت زیادہ پڑھانے کی بجائے اس کو دین واخلاق اور آداب زندگی سیکھنے اوراپنانے پر آمادہ کرنا چاہیے۔ بلکہ دین واخلاق اور آداب زندگی کی باقاعدہ پریکٹس کروانی چاہیے۔
ظاہر ہے یہ چیز بچوں کومحض سمجھانے ، ڈانٹ ڈپٹ کرنے یا مارنے اور پیٹنے سے نہیں آئے گی بلکہ والدین کو عملی طور پر بچوں کا رول ماڈل بننا ہوگا۔

دین واخلاق اور آداب زندگی کوئی الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ سب ایک چیز کے کئی نام ہیں۔ بچوں کو جلدی اسکول بھیجنے کے بجائے حتی الامکان ان کو اپنے والدین ، دادا ، دادی اور نانا ، نانی کے پا س رکھ کر ان کو دین واخلاق اور آداب زندگی سکھانے چاہییں۔
حدیث میں معلم انسانیت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بچپن میں اہتمام سے مندرجہ ذیل تین چیزیں اپنے بچوں کو سکھاو۔
میری ذات سے محبت
میرے اہل بیت سے محبت
اور قرآن کریم کی تعلیم
اس حدیث سے ہمیں پری اسکول سلیبس کاایک اہم مضمون تو مل گیا۔ یعنی یہ چیزیں ایک مسلمان بچے کی گھٹی میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بچے جب ایک لفظ بولنے کے قابل ہوں تو وہ لفظ “اللہ” ہونا چاہیے۔ اورجب ایک جملہ بولنے کے قابل ہوں تو وہ جملہ” لاالہ الا اللہ ” ہونا چاہیے۔

اسی طرح ہم اپنے گھر میں اور اپنی محفلوں میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر خیر کرتے ہوں۔ درود شریف پڑھتے ہوں۔ اہل بیت اطہار کا ذکر ادب واحترام سے کرتے ہوں۔ گھر میں نمازوں کی پابندی کے علاوہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوں۔ ان تمام کاموں کوخود عملی طورپر کرنے اور بچوں کیلئے ان چیزوں کا ماحول بنانے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے بچے دین ، دینی شعائر اور اللہ رسول کے ناموں سے خوب مانوس ہونگے۔ یعنی دین بچپن سے ہی ان کی گھٹی میں شامل ہوگا۔

اس کے علاوہ اس عمر میں اسکول میں پڑھائے جانے والے سبجیکٹس کی تیار ی کروائیں۔ تاہم اس تیاری میں ان کو پریشر بالکل نہ دیں۔ ان کو زیادہ سے زیادہ عملی نوعیت کے کام کروائیں۔ وہ اپنے ذاتی کام خود کرنے کے عادی ہوں۔ گھرمیں امی ابو کاہاتھ بٹانے کے قابل ہوں۔ وہ لوگوں سے ملنے جلنے ، ہنسنے بولنے ، دوسروں کے ساتھ مل کرکوئی کام کرنے کے قابل ہوں۔

غرض پری اسکول کی عمر ایسی ہے کہ اسی میں بچوں کی عادات کی پلنتھ بن جاتی ہے۔ چاہے اچھی عادات ہوں یا بری عادات ہوں بہرحال ان کی بنیادیں بچپن سے ہی پڑجاتی ہیں۔ لہذا یہ عمر بچے کے مسقبل کیلئے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

پری اسکولنگ کیسے کروائیں۔

بہتر تو یہ ہے کہ پری اسکولنگ یعنی چھ سال کی عمر سے پہلے والدین اپنے بچوں کو مکمل طور پر ہوم اسکولنگ دیں۔ والدین خود اپنے بچوں کو پڑھائیں اور خود ان کی تربیہ کریں۔ اس کیلئے ظاہر ہے والدین کو خو د پر کافی کام کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس صورت میں وہ والدین کے کردار کے ساتھ ٹیچر کا رول بھی ادا کریں گے۔ یہ پری اسکولنگ کا آئیڈیل طریقہ ہے۔ میں نے کئی والدین کو دیکھا ہے وہ بڑی کامیابی سے اپنے بچوں کی ہوم اسکول کررہے ہیں۔

ہوم اسکولنگ کے فائدے بے شمار ہیں۔اگر اس کو درست طریقے سے کیا جائے تو اس سے بچوں کی تعلیم ہی نہیں بلکہ تربیت بھی اچھی ہوجائے گی۔ نیز اس سے بچے جذباتی طور پر بہت متوازن ہونگے ۔ عام طور پر چھوٹے بچے پریشر زیادہ لیتے ہیں۔ اگر اس عمر میں ان کو اسکول میں داخل کرادیا جائے تو وہ ماں کی شفقت سے محروم اور دوسروں کے رحم وکرم میں چلےجاتے ہیں۔ ایک ہی ٹیچر نے پوری کلا س کے بچوں کو سنبھالنا ہوتا ہے تو ہربچے کو پوری توجہ نہیں مل پاتی۔ اور بچوں کو اس عمر میں توجہ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔

پری اسکول کیسے کرایا جائے

چھوٹے بچوں کی ہوم اسکولنگ کا ایک قابل عمل حل

اگر والدین اپنے چھوٹے بچوں کو خود سے ہوم اسکولنگ اور ا س کا سلیبس نہ دے پائیں۔ تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ بچے کو تین سال کی عمر اسکول داخل کرائیں ۔ اس کا پور ا کورس اور سلیبس اسکول سے حاصل کر لیں۔ لیکن اسکول کے رولز کے مطابق اس بچے کو اپنے گھر میں خود یا ٹیوشن کے ذریعے پڑھائی دیں۔ اور سال مکمل ہونے پر اسکول سے امتحان دلوائیں۔ درمیان سال میں ہوم اسکولنگ کراتے ہوئے بچے کے اسکول پرنسپل اور ٹیچر سے رابطہ اور مشاورت برقرار رہنی چاہیے۔

یہ ہوم اسکولنگ والدین خود بچے کو دیں یا کسی ٹیوٹر کے ذریعے اسکول سلیبس کو فالو کریں۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ بچے کی تعلیم بھی اسکول کے مطابق جاری رہے گی ۔ لیکن بچے پر اسکول کا زیادہ پریشر نہیں آئے گا۔ اس طرح بچے کی تعلیمی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کی جذباتی ونفسیاتی نشوونما بھی ہوتی رہے۔ جو ایک بچے کی اچھی تعلیم وتربیت کیلئے آئیڈیل طریقہ کا ر ہے۔
ا س میں یہ کیا جاسکتا ہے کہ تین سال کی عمر میں بچے کو اسکول میں داخل کروادیا جائے۔

وہاں کا کورس، سلیبس ، ہفتے وار پلانرز وغیرہ حاصل کیے جائیں ۔ اسکول والوں سے معاہدہ کرکے روزانہ یا ہفتے وار بچوں کا کام حاصل کریں اور یہ سارا کام اپنے گھر پر کروائیں بچے کو اسکول نہ بھیجیں۔ ہاں کسی فنکشن وغیرہ شامل ہونے کیلئے یا بچہ خود شوق سے جانے کیلئے کہہ دے تو بھیجاجاسکتاہے۔ سالانہ امتحان کے بعد پریپ ون میں بھی اسی طرح روزانہ یا ہفتے وار کام حاصل کیا جائے ، لیکن کام اپنے گھر پرہی کروایاجائے۔

اس طرح پری اسکول کا سارا کام اپنے گھر پر مکمل کرواکر بچے کو پری اسکول اسکلز سے لیس کرکے چھ سال کی عمر میں پہلی کلاس میں داخل کروایا جائے۔ اس سے تعلیم اور جذباتی تربیت دونوں ایک ساتھ نشوونما پاجائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں میں خود اعتمادی کیسے پیدا کی جائے؟

ایک معیاری تعلیمی و تربیتی ادارہ

Be the first to comment

Leave a Reply