تحریک پاکستان اور علماء کرام

تحریک پاکستان اور علماء کرام
تحریک پاکستان میں علماء کرام کا کردار

تحریک پاکستان اور علماء کرام 

مفتی کلیم اللہ حنفی ملتان

علماء کے تین گروہ

بر صغیر میں جب ایک جدا گانہ مسلم ریاست کے قیام کا تخیل مختلف ایام میں مختلف شکلوں اور مختلف نوعیتوں میں سامنے آتا رہا مگر اصل میں اس کی صحیح نشو نما اور آبیاری اس وقت شروع ہوئی جب 1937ء کے عام انتخابات کے بعد کانگریسی حکومت نے اپنے اکثریتی صوبوں میں ہندو راج قائم کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد کی تدابیر اختیار کیں ۔

پھر مسلم لیگ کی حمایت اور مخالفت میں علما کے تین گروہ ہوگئے جن میں سے ایک گروہ کے سر خیل حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تھے ۔ یہ گروہ کلیتا مسلم لیگ کی تائید و حمایت کرتا تھا ۔

مولانا تھانوی کی پیشن گوئی

پروفیسر انوار الحسن رحمہ اللہ نے مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی ایک پیشین گوئی بیان کی ہے جو موصوف نے 1938ء فرمائی تھی ، حضرت تھانوی نے ایک موقع پر دوران گفت گو فرمایا تھا

“میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلم لیگ والے اپنی جد وجہد میں کامیاب ہو جائیں گے اور جو سلطنت ملےگی وہ انہیں لوگوں کو ملے گی جن کو آج سب لوگ فاسق وفاجر کہتے ہیں لہذا کوشش کرنی چاہیئے کہ یہی لوگ دین دار بن جائیں ۔

مولانا اشرف علی تھانوی اور قائد اعظم

حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس بات کی وجہ سے فکر مند تھے کہ تقسیم ہند کے بعد مسلم حکومت مسلم لیگ والوں کو ملے گی اور یہ لوگ دین سے کما حقہ واقف نہیں ہیں ۔لہذا کوشش کرنی چاہیئے کہ یہی لوگ دین دار بن جائیں ۔چنانچہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو حکم دیا کہ وہ مسلم لیگی رہنماؤں اور لیڈروں پر دینی حوالے سے محنت کریں اور ان کی دینی تربیت کرکے ان کے اندر اسلامی سوچ و فکر اجاگر کریں ۔ حضرت تھانوی نے اس مقصد کے لئے مسلم لیگی قیادت کے پاس مختلف تبلیغی وفود بھیجے۔

علماء کے وفود کی قائد اعظم سے تبلیغی ملاقاتیں

اس سلسلے میں پہلا وفد 24 دسمبر 1938ء کو مولانا مرتضیٰ حسن رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں قائد اعظم کے پاس بھیجا گیا کیونکہ اس وقت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اپنی والدہ کی علالت کی وجہ سے وفد کی قیادت کرنے سے معذور تھے ۔اس وفد نے قائد اعظم کو دین کی تبلیغ کی اور نماز پڑھنے کی تلقین کی ۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے بڑے احترام سے علماء کی گفت گو کو سنا اور پھر جواب میں بڑے ادب سے فرمایا کہ میں تو بہت گناہگار ہوں ،خطا کار ہوں آپ کو حق ہے کہ آپ مجھے سمجھائیں اور میرا فرض ہے میں آپ کو سنوں !

علماء کرام کے اسی وفد سے قائد اعظم نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ نماز نہیں چھوڑوں گا ۔

علماء کا دوسرا وفد 12 فروری 1939ءکو علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی قیادت میں قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس دہلی گیا ،اس وفد میں مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اور مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس وقت سیاست اور مذہب پر خوب گفتگو ہوئی ۔

سیاست مذہب سے الگ نہیں

اس دوسرے وفد سے ملاقات اور علماء کی گفت گو سننے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اب مجھ پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ دنیا کے مذاہب میں سیاست الگ ہو یا نہ ہو لیکن اسلام میں سیاست مذہب سے الگ نہیں ہے بلکہ سیاست مذہب کے تابع ہے ۔

تیسرے وفد نے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ہی کی قیادت میں قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی اس ملاقات کے دوران ڈاکٹر ضیاء الدین وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بھی موجود تھے ۔

اس ملاقات کے نتیجے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ سے کہا کہ مجھے آپ کی وجہ سے خاصی مذہبی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا جو اور کسی ذریعہ سے نہیں ہوسکتا تھا، میں آپ کی گفتگو کو بڑے شوق اور رغبت سے سنتا ہوں ۔

الغرض مولانا تھانوی رحمہ اللہ نے قائداعظم محمد علی علی جناح کی دینی اصلاح کے لئے مولانا شبیر احمد عثمانی کو مامور کیا تھا اور انہوں نے احسن طریقے سے اپنا فریضہ ادا کیا۔یہ امر ملحوظ رہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح فرقہ وارانہ تعصبات سے کوسوں دور ایک نیوٹرل مسلمان تھے وہ اکثر اسلامی عبادات کو سنی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ادا کیا کرتے تھے۔

علماءِ کی جانب سے قرار داد پاکستان کی حمایت

 علماء کے اسی گروہ نے قرارداد پاکستان کی کھل کر تائید اور حمایت کی ان علماء میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ،مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ، مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ سر فہرست تھے ۔

 علامہ شبیر عثمانی نے 1946 ء کو علمائے اسلام کانفرنس لاہور کے اپنے صدارتی خطبے میں صراحت کے ساتھ کہا تھا کہ عام مسلمانوں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ ہندوستان کے ایک حصہ کو پاکستان بنایا جائے گا جو اسلامی نظریہ ، ثقافت، دیانت اور سیاست وحکومت کا آزاد مرکز ہوگا۔مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے تمام متعلقین ، مریدوں اورشاگردوں کو تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی حمایت اور سرگرم کردار ادا کرنے کی تاکید کی تھی آپ ہی کے کہنے پر علامہ شبیر احمد عثمانی ،علامہ ظفر احمد عثمانی ،مولانا مفتی محمد حسن امرتسری ،مولانا مفتی محمد شفیع ،مولانا جمیل احمد تھانوی ، مولانا خیر محمد جالندھری، مولانا رسول خان ہزاروی مولانا محمد ادریس کاندھلوی ، مولانا احتشام الحق تھانوی سمیت درجن بھر چوٹی کے علماء نے تحریک پاکستان میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔

دل چاہتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک بزرگ کا تعارف اور خدمات کا تذکرہ کیا جائے لیکن اختصار کی خاطر صرف علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

تحریک پاکستان اورعلامہ شبیر احمد عثمانی

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ برصغیر پاک وہند کے نامور عالم دین اور تحریک آزادی ہند کے ممتاز رہنما مولانا محمود الحسن دیوبندی کے شاگرد خاص تھے جنہیں شیخ الہند کے لقب سے جانا جاتا ہے ۔ علامہ شبیر احمد عثمانی بلند پایہ مفسر ،خطیب ، ادیب،عالم دین اور سیاست دان تھے آپ رحمہ اللہ نے تحریک ریشمی رومال اور تحریک خلافت میں سرگرم کردار ادا کیا ۔ سید محبوب رضوی اپنی کتاب تاریخ دیوبند میں لکھتے ہیں کہ علم و فہم و فراست اور اصابت رائے کے لحاظ سےعلامہ عثمانی رحمہ اللہ کا شمار ہندوستان کے چند مخصوص علماء میں ہوتا ہے آپ رحمہ اللہ نے مسلم لیگ میں رہ کر تحریک پاکستان کو بہت تقویت پہنچائی۔

 پروفیسر مولانا انوار الحق شیرکوٹی اپنی کتاب تجلیات عثمانی میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کا وجود قائد اعظم کے بعد علامہ عثمانی رحمہ اللہ کا مرہون منت ہے قائد اعظم کو علامہ عثمانی کی خدمات کا پورا پورا احساس و اعتراف تھا ،یہی وجہ ہے کہ بابائے قوم نے 14 اگست 1947ء کو کراچی میں پاکستان کا پرچم لہرانے کے لئے علامہ عثمانی کا نام تجویز کیا ، قائد اعظم نے یہ بھی وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ علامہ عثمانی پڑھائیں گے اسلیے قائد اعظم کی وصیت کے مطابق قائد اعظم کی نماز جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے پڑھائی۔

پاکستان میں تعلیم و تربیت کے مسائل

Be the first to comment

Leave a Reply