پاکستان میں تعلیم و تربیت کے مسائل

Education problems
Education problems in Pakistan

فہمیدہ ویانی

ترقی کے عمل میں تعلیم ایک اہم ترین جز اور بنیادی انسانی حق ےٖ۔ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت نہ صرف ایک اچھی قوم کے لئے ضروری ہے بلکہ یہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔بغیر  تربیت تعلیم کی حیثیت اس بنجر زمین کی سی ہے، جو کسی بھی طرح کی پیداواری صلاحیت سے عاری ہو۔

 تعلیم اگر شعور دیتی ہے تو اچھی تربیت اس شعور کو مہمیز دے کر فرد کو معاشرے کا ایک مفید کارکن بناتی ہے۔ پہلی وحی جو آسمان سے نازل ہوئی وہ اقرأ کے حکم کے ساتھ آئی : اِقرَابِاسمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ۔     ( سورہ علق: ۱)  (ترجمہ) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا۔

    پہلے معلم کا کردار اللّٰہ پاک نے خود ادا کیا اورعلم کو اللّٰہ اور بندے کے درمیان تعلق استوار کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔ اسی لئے وہ علم جو آپ کو آپ کے پیدا کرنے والے سے نہ جوڑے وہ بیکارہے۔

اگرچہ  ہم نے پاکستان کی ریاست کو کلمے کی بنیاد پر لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا  ہے۔لیکن صد افسوس ہے کہ ہم نے جس نظریئے کی بنیاد پراس ملک کوحاصل کیا تھا۔ آج اس نظریئے کوپسِ پشت ڈال دیا ہے۔مملکتِ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو قائم ہوئے 75سال ہو چکے لیکن ہم ابھی تک لارڈ میکالے کے دیئے گئےتعلیمی سسٹم سے جان نہیں چھڑا سکے۔

لارڈ میکالے نے ھندوستان کے دورے کے بعد2فروری 1935کوبرطانوی  پارلیمینٹ سے خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ”میں نے ھندوستان کے ہر خطے کا سفر کیاےٖ مجھے وہاں کوئی بھکاری اور چور نظر نہ آیا۔میں نے اس ملک میں بہت خوشحالی دیکھی ہے لوگ اخلاقیات و اقدار سے مالا مال ہیں عمدہ سوچ کے مالک ہیں اور میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو زیر نھیں کر سکتے جب تک کہ ہم انھیں مذہبی اور ثقافتی طور توڑ نہ دیں۔ جو کہ ان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے میں تجویز دیتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظامِ تعلیم اور تہذیب بدل دیں۔

اگر ھندوستانیوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر مغربی اور غیر ملکی شے ان کے لئے بہتر ےٖ تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے۔ اور حقیقت میں  ایک مغلوب قوم بن جائیں گے۔ جیسا کہ ہم انھیں بنانا چاہتے ہیں۔ لارڈ میکالے نے اس وقت یہ تجویز بھی دی تھی کہ مسلمانوں کو انگریزی ادب پڑھا یا جائے۔ حالاں کہ اس وقت بھی برطانیہ کے اندر جو علم پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے وہ وہی ہے جو انہوں نے مسلمانو ں سے حاصل کیا تھا یعنی سائنس اورفنون۔ اقبال نے اسی لئے کہا تھا

مگر وہ علم کے موتی     کتابیں اپنے   آبا کی

  • جو دیکھیں ان کو یورپ میں  تو دل ہوتا ہے سیپا رہ

  پاکستان میں تعلیم کے مسائل کی فہرست

ذیل میں ہم ان مسائل پر بات کریں گے جو ہمارے ملک میں تعلیم کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔جب تک ان مسائل کو ختم یا کم کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ان پر قابو پانے کے لیے ریاستی سطح پر منظم پالیسی نہیں بنائی جاتی، اس وقت تک ہمارے ملک میں تعلیم کے فروغ اور شرح خواندگی بہتر بنانے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔

                   غربت

           دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہیں۔ پھر حالیہ برسو ں میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان کی وجہ سے بھی معاشی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اور ان کے زیادہ  تراثرات ترقی پذیر ملکوں میں نظر آئے ہیں۔ جو پہلے ہی معاشی لحاظ سے بد حال ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ جہاں غربت کا تناسب 39.3  فیصد ہے۔ جس کے اثرات جہاں زندگی کے اور میدانوں میں نمایاں ہیں، وہیں اسکا اثر تعلیم وتربیت پر بھی ظاہر ہوا ےٖ۔جس نے پاکستان میں تعلیم وتربیت کے ان گنت مسائل کو جنم دیاہے۔آج پاکستان کا ایک ایسا نقشہ دنیا کے سامنےہے۔ جو بھوک و افلاس کے ساتھ ساتھ جہالت کی نمائندگی کررہا ہے۔

 آج پاکستان کے اندرتقریباً 2کروڑ 20لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں ،جن میں لڑکیوں کی تعداد تقریباً 32فیصد ےٖ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ گوڑنمنٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کا حال ناگفتہ بہ ہے۔ جبکہ پرائیوٹ سیکٹر کے تعلیمی ادارے ہر ایک کی پہنچ سے دور ہیں۔اس لئے پاکستان میں تعلیم وتربیت کے مسائل میں غربت ایک اہم فیکٹرہے۔ جہاں خوراک اور صحت کے مسائل ہی حل نہ ہوں وہاں تعلیم ایک ثانوی چیز ہو کررہ جاتی ےٖ۔

صنفی امتیاز۔

پاکستان میں تعلیم وتربیت کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ صنفی امتیاز کا بھی ہے ۔ پاکستان میں آج بھی بہت سے علاقوں میں تعلیم کے معاملے میں لڑکیوں سے لڑکی ہونے کی بناءپر تفریق برتی جاتی ہے۔ اور ان کی تعلیم وتربیت کو غیر اہم سمجھا جاتا ےٖ۔

اللّٰہ کے نبی نے اپنے خطبہء حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا” اے لوگوں عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے ڈرو،

آپ صلیٰ اللّٰہُ علیہ والہ ِوسلم کی تین محبوب چیزوں میں سے ایک عورت تھی۔ آپ آخر وقت تک اپنی اُمت کو عورتوں سے حُسنِ سلوک کی تلقین کر تے رہے۔سوچنے کا مقام ہے کہ اگر ماں ہی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ ایک اچھی نسل کی پرورش کیسے کر سکتی ےٖ۔

نپولین نے کہا تھا کہ” تم مجھے بہترین مائیں دو میں تمھیں بہترین قوم دوں گا“۔

قوم کی درست تربیت خواتین کی سہی تر بیت پر موقوف ےٖ ۔اس قوم سے بڑھ کر خوش نصیب قوم کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس کی خواتین تعلیم و تربیت کے ضمن میں اپنے فرائض منصبی درست انداز میں ادا کرنے والی ہوں۔

 چوں کو عورت کی تعلیم وتربیت کو نظر انداز کرکے کوئی قوم ترقی نھیں کر سکتی ۔ عورت تخلیق کار ہی نھیں تخلیق ساز بھی ےٖ ۔اس لئے ایسا سماجی اور تعلیمی ماحول فراہم کرنا نا گزیر ہے،جہاں لڑکی اور لڑکے کو بغیر کسی صنفی امتیاز کے اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر بہترین کارکردگی دکھانے اور آگے بڑ ھنے کے وافر مواقع میسر ہوں۔ نیز ایسے نصابِ تعلیم کی فراہمی بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

جو مرد وعورت کو روایتی انداز میں دیکھنے کی بجائے انھیں معاشرے کے ایک مفید رکن کے طور پر آگے بڑھائے ۔ ہم اسی صورت میں ایک بہتر اور پُرسکون ماحول میں اپنی نسلوں کی آبیاری کر کے اپنے ملک وقوم کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حکومت کی عدم دلچسپی

آئین کے آرٹیکل25-Aکےتحت حکومت تمام 5سے 16سال کے بچوں کو مفت تعلیم دے گی۔ جب کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے 22.8ملین بچے جن کی عمریں5 سے 16 کے درمیان ہیں وہ اسکول جاتے ہی نھیں۔

 تعلیم کے فروغ میں ہماری حکومتوں کا رویۂ ہمیشہ ہی سرد مہری والا رہا ےٖ۔ پاکستان میں تعلیم کا بجٹ عموماً کم ہی رکھا گیا 2020-21میں تعلیم کا بجٹ2.931 اور2021-22میں 326.86بلین رکھا گیا۔اس میں سے بھی ایک بڑی رقم اسأتذہ اور عملے کی تنخواہوں میں صرف ہو جاتی ےٖ۔ بجٹ میں تعلیم کے لئے اتنی معمولی رقم مختص کرکے ہم ملک میں کس طرح تعلیمی  اصلاحات کا سکتے ہیں۔

فرسودہ نصابِ تعلیم

نصابِ تعلیم کا بنیادی مقصد اپنے مذہب، تاریخ اور تمدن کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ تاکہ وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک بخوبی منتقل ہو سکے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایسی نئی فکر اور نئے رحجانات سامنے آسکیں۔ جو ہمارے مذہب اور کلچر سے ہم آہنگ ہوں۔ جدید ترقی ٹیکنالوجی، ریسرچ اور کھوج کی مرہونِ منت ہے۔ نصابِ تعلیم ایسا ہونا چاہئے، جو آپ کی آئیڈیالوجی سے منسلک ہو۔ جو وقت کی رفتار سے ہم آہنگ ہو اور آپ کو بدلتی ہوئی  دنیا کے قدم کے ساتھ  قدم ملا کر کھڑا کرنے کے قابل بنا ئے۔ یہ نہیں  کہ آپ کو آپ کے موجودہ مقام سے بھی پیچھے دھکیل دے۔

  بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم وتربیت کے بنیادی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ فرسودہ نصابِ تعلیم ہے۔ جو کہ جدید تحقیق اور نظریات سے ہٹ کر لگی بندھی تعلیم کو ترویج دیتا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے ڈگری یافتہ  افراد تو مل رہے ہیں  لیکن تعلیم یافتہ نھیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کا فقدان 

پاکستان کے اندر تقریباً 174یونیورسٹیاں ہیں ،جن میں سے  23گوڑنمنٹ کے ماتحت ہیں۔ پاکستان کی آبادی کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ پندرہ سو میوزک انسٹر کٹر زکی  تعیناتی کے لئے ہمارے پاس فنڈ ہیں۔ لیکن اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی درستگی کے لئے ہمارا خزانہ خالی ےٖ۔

بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔جہاں دنیا بھر میں علم سیکھنے اور سیکھانے کے لئے نئے زاویے تلاش کئے جارےٖ ہیں۔ وہیں ہم اپنے طلباء کو ابھی تک ایک بہتر بلڈنگ ،پُرسکون کلاس روم ،مکمل لائبریری ولیبارٹری اور دیگر بنیادی ضروریات کا ہی انتظام نھیں کر سکے۔

مادری زبان کی زبوں حالی 

قوموں کی ترقی کا راز ان کی اپنی زبان میں نصاب کی تعلیم وتدریج ہے ۔امریکہ ،یورپ ہوں یا جاپان اور کوریا، ان کی ترقی کا راز نصابِ کا ان کی اپنی زبان میں ہونا بھی ہے ۔چین آج سپر پاور بننے کی جانب پیش قدمی کررہا ہے ۔اس کی اس ترقی کا راز چینی زبان ہے۔  انھوں نے اپنی نئی نسل کی تعلیم وتربیت کے لئے اپنی قومی زبان کو چنا ۔ چین کے صدر نے ایک موقع پر کہا تھا ” چین گونگا نھیں ےٖ“۔

 بد قسمتی سے ہم 75سال گزرنے کے باوجود اپنے نصابِ تعلیم کو اپنی زبان میں منتقل نہ کر سکے ۔یہ ایک قومی المیہ ےٖ ۔اس رویے نے ایک ایسا کلاس سسٹم متعارف کروایا۔ جہاں انسانوں کی قابلیت کی معاشرتی درجہ بندی  کی جاتی ہے۔ اُردو پڑھنے اور بولنے والا کم فہم اور انگریزی پڑھنے اور پڑھانے والا ذہین اور برتر تصور کیا جاتا ہے۔اس غلامانہ ذہنیت نے ہم سے ہماری شناخت چھین لی ہے۔ جس کا نتیجہ مذہبی اور ثقافتی تنزلی کی صورت میں  ہمارےسامنے ہے ۔

نقل کا رحجان

پاکستان کے تعلیم وتربیت کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے۔ کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کےحصول اور اچھی جاب تک محدود ہوکررہ گیا ہے۔ تن آسانی اور جلدی کی خواہش نے نوجوانوں کو محنت کی بجاۓ شارٹ کٹ  ڈھونڈنے کی طرف متوجہ کیا ےٖ ۔بڑھتا ہوا نقل کا رحجان کسی وضاحت کا محتاج نھیں۔ جلدی جلدی اور بغیر کسی محنت اور کوشش کے ڈگری حاصل کرنے کے رجحان نے پاکستان میں تعلیم  وتربیت کے ان گنت مسائل کو جنم دیاےٖ۔  روزگار کو ڈگری سے وابستہ کرکے تعلیم کی اہمیت اور تحقیق کے رجحان کو ختم کر دیا گیا ۔

اور المیہ یہ کہ کوئی اس پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کو تیار نھیں۔ نہ والدین نہ اسأتذہ اور   نہ ہی حکومتیں و سماجی ادارے۔ ایک ایسی کھیپ تیار ہو رہی ےٖ جس کی کوئی سمت نھیں ہے۔

والدین کا کردار

خاندان کا ادارہ تمدن انسانی کی بقا کے لئے اس بات کا خواہش مند ہوتا ہے، کہ والدین کی جگہ لینے والے بچے ان سے بہتر ہوں۔ایک نسل اپنے بعد آنے والی نسلِ انسانی کو نہایت محبت و خیر خواہی سے تیار کرتی ہے۔والدین اپنی بہترین صلاحیتیں اورکوششیں ایک بہتر نسل کی بقا کے لئے لگا دیتے ہیں۔نتیجتاً ہر آنے والی نسل پہلی نسل سے بہتر ہوتی ہے۔ یہی دنیا کے اندر قوموں کی ترقی کا راز ےٖ۔

 لیکن بد قسمتی سے پاکستان کے اندر یہ سوچ عنقاہے ۔ پاکستان کی آبادی 70فیصد نوجوانوں پر مشتمل ےٖ افسوس ناک امر یہ ہے، کہ انھیں سماج کا ایک مفید کل پرزہ بنانے کے لئے جس رہنمائی کی ضرورت ہے۔ کوئی مذہبی ،سیاسی،سماجی و معاشی ادارہ اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نھیں۔ والدین اسکول بھیج کر اوراسأتذہ رٹی رٹائی تعلیم دےکر سمجھتے ہیں کہ ہم نے حق ادا کر دیا۔

 ہر گز نھیں اس طرح کی تعلیم شعور اور آگہی دینے کی بجاۓ انسانوں کی ایک ایسی کھیپ تیارکررہی ہے۔ جو گدھوں کی طرح بوجھ تو ڈھو سکتے ہیں۔ لیکن ملک وملت کی ترقی کےامکانات پیدا نہیں کر سکتے۔

شوشل میڈیا کی وباء 

ہم سنتے آرہے ہیں کہ جب وباء پھیلتی تھی تو آبادیوں کی آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی تھیں ۔ پھر اس صدی کے اندر تو ہم نے خود مشاہدہ کیا کہ کس طرح کرونا نے انسانی زندگی کو غیر محفوظ بنا دیا ۔ بالکل اسی طرح انسانی شعور کو منجمد کرنے میں سوشل میڈیا کے کردار کو نظر انداز نھیں کیا جا سکتا ۔سوشل میڈیا کے تعلیمی اور تحقیقی استعمال کے بارے میں کوئی دو راۓ نھیں ہو سکتیں۔ لیکن یہ میرے ملک کا المیہ ہےکہ ہمارے یہاں سوشل میڈیا کا استعمال تو ہو رہا ہے۔ لیکن علم اور مقصد کو نظر انداز کرکے ۔

 پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد4 کروڑ 60لاکھ ےٖ جن میں اکثریت نوجوانوں کی ےٖ۔ زیادہ دور نہ جائیں اپنے گھروں ،دفتروں ،اسکولوں، کالجوں ،اور یونیورسٹیوں کے اندر ایک نظر دوڑائیں ایک حقیقی نقشہ سامنے آ جاۓ گا۔طالبعلم سے لے کر استاد تک ڈاکٹر سے لے کر مریض تک اور والدین سے لے کر چھ ماہ کے بچے تک کی زندگی یہیں سے شروع ہوتی ہے اور یہیں پر ختم۔www.ورلڈ وائد ویب نے ذہنوں کو ہی نھیں جکڑا بلکہ ہمارے جسموں کو بھی جکڑ لیا ےٖ۔

  ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید دور کے سارے وسائل کو استعمال کرتے ہوۓ ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا جاۓ جو ہماری مذہبی و روایاتی فکر سے ہم آہنگ ہو۔ جب ہی ہم اس گلوبلائزیشن کے دور میں اپنا لوہا  بحیثیت ایک ترقی یافتہ قوم کے منوا سکتے ہیں۔

     نہیں ہے اقبال نا امید اپنی کشتِ ویراں سے۔

  ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ےٖ ساقی                                                                          

1 Trackback / Pingback

  1. کراچی میں 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے - EduTarbiyah.com

Leave a Reply