تحمل اور ثابت قدمی تربیت کی کلید  

تحمل اور ثابت قدمی تربیت کی کلید  

بچوں کی پرورش اور درست تربیت کہنے کوتو آسان لگتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بہت مشکل عمل ہے۔ کیونکہ اس میں جیتے جاگتے انسان کی نفسیات سے کھیلناپڑنا ہے۔ اس کے جذبات وخواہشات کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ کب کیا موڈ اختیار کرتا ہے؟ کب کیا پسند کرتا ہے اور کیا ناپسندکرتا ہے؟یہ انسانوں میں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک  بچہ دن کے مختلف اوقات میں اور عمر کے مختلف مراحل میں الگ الگ تقاضے، مطالبات اور الگ الگ خواہشات لے کرسامنے آتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے۔ کہ ہرانسان چاہے وہ بچہ ہو یا بڑاآزادی چاہتا ہے۔ پابندی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتا ہے۔ اور اپنی مرضی و خواہشات کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ مرضی،  آزادی اور خواہشات کی پیروی اس کے مستقبل کے لئے کسی خطرے کی علامت ہونے کی وجہ سے والدین کوان پر قدغن لگانا پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بچہ ان پابندیوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے مزاحمت پر اترآتا ہے۔ جس سے بعض اوقات والدین کو پریشانی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تیسری بات یہ ہے۔ کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔ وہ اپنی محنت کا فورا صلہ مانگنا شروع کردیتا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ ادھر سے دوبول بولے ادھر سے فورا ان پر عمل درآمد شروع ہونا چاہیے۔ والدین کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ بچے ان کی ہدایات سے سرموانحراف نہ کریں۔بلکہ ہر بات پر سرتسلیم خم کردیں۔ دوسری طرف بچے لاابالی پن کا مظاہرہ  کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ابھی شعور کی سطح پر نہیں ہوتے ۔اور وہ والدین کے علاوہ بھی اپنے ماحول اوردوستوں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں۔

لہذاتربیت اولاد کے دوران جسے دوسرے الفاظ میں انسان سازی کا عمل بھی کہاجاتا ہے۔ اس کا رزلٹ فورا کیسے مل سکتا ہے؟ اوریہ بھی ممکن نہیں کہ بچے سوفیصد والدین کی ہدایات کے مطابق ہی عمل کریں۔ لہذا اس معاملے میں بہت ہی زیادہ صبر، تحمل، برداشت اور ثابت قدمی کی ضرورت پڑتی ہے۔

:بچوں کی مختلف قسمیں

بچے مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے شریف الطبع، نرم مزاج اور فرمانبرار طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کو قدرت کی طرف سے یہ ملکہ حاصل ہوتاہے۔ کہ اچھی باتوں کی طرف ان کا فطری رجحان ہوتا ہے۔وہ والدین کی ہدایات کے بھی محتاج نہیں ہوتے۔ بلکہ فطری طور پر دو قدم والدین سے بھی آگے مثبت رجحان کے مالک ہوتے ہیں۔ والدین کی طرف سے ان بچوں کو جوبتایا جائے فورا مان لیتے ہیں جو سکھایا جائے فورا سیکھ جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کی تربیت میں والدین کا زیادہ کمال نہیں ہوتا۔ وہ فطری طورپر ہدایت یافتہ اور نیک صالح ہوتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں دوسری قسم ان بچوں کی ہوتی ہے۔ جو ذرا خودسر طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ضدی اور اکھڑ مزاج کے حامل ہوتے ہیں ۔ان کو بتانے سے فورا سنتے نہیں اور ا نہیں سکھانے سے فورا سیکھتے نہیں۔ یہ بچے والدین اور اساتذہ کو تنگ کرنے والے ہوتے ہیں۔  ایسے بچے اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ ان عادات کے حامل بچے کو سکھانا سمجھانا اور تربیت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ خصوصا اس وقت جب ان بچوں کا ماحول بھی خراب ملا ہو تو سونے پرسہاگہ۔ پھر تو والدین سمجھا سمجھا کر تھک جاتے ہیں بالاخر مایوس ہوکر تربیت کرنا ہی چھوڑدیتے ہیں۔

بچے فطری طور نیک ہوں تو اللہ کا شکرادا کریں

پہلی قسم کے بچوں کی تربیت میں والدین کا کوئی کمال نہیں ہوتا۔ یہ بچے اللہ کی طرف سے ا ن کے لئے آسانی، نعمت،راحت اور عطا ہوتے ہیں۔ ایسی اولاد ملنے پر والدین کو اللہ تعالی کا بہت زیادہ شکر ادا کرنا چاہیے ۔کہ ان کو آزماؤئش میں نہیں ڈالا گیا۔لیکن اگر اولاد خدانخواستہ دوسری قسم کی ہو، تب بھی والدین کوگھبرانا نہیں چاہیے۔ان مشکل بچوں کو سکھانے، سمجھانے اور تربیت کرنے کا درست طریقہ او ر سلیقہ والدین کو سیکھناچاہیے۔ایسے بچوں میں والدین اور اساتذہ کونہایت صبروتحمل سے کام لینا پڑتاہے۔

یوں سمجھ لیجئے کہ اللہ کی طرف سے ان بچوں کے ذریعہ والدین کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ان بچوں کی ہدایت کے لئے اللہ سے خوب دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔ ان کی طرف سے پیش آمدہ پریشانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔مایوس نہیں ہوناچاہیے۔ بلکہ تحمل، ثابت قدمی اور صبر کے ساتھ ان بچوں کی تعلیم وتربیت میں لگے رہنا چاہیے۔یہ بات کہناشاید آسان ہو لیکن عمل کرنا یقینا مشکل ہے۔ لیکن انسان جب عزم کرلیتا ہے اور دعاؤں کے ساتھ جدوجہد اور اللہ کی توفیق کا سہارا لیتا ہے۔ اللہ تعالی ضرور کامیابی عطافرماتے ہیں۔

والدین اپنی کمائی اور تربیت کا بھی جائرہ لیں

جب یہ صورت حال ہو تووالدین کو اپنا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ والدین اپنی کمائی کے ذرائع پربھی نظر ڈالیں کہ کہیں کوئی حرام لقمہ ان کی زندگی میں شامل نہ ہوگیا ہو۔اپنے عمل وکردار کا بھی جائزہ لیں کہ کہیں کسی مظلوم کو ستایا تو نہیں ہے۔ نیز اپنے انداز تربیت کا بھی جائزہ لیں کہ کہیں اس میں غلطی تو نہیں ہے؟غرض جب بچے کی طرف سے پریشانی کا سامنا ہو تو ساری خرابیاں بچے میں تلاش کرنے کے بجائے والدین کو اپنے عمل وکردار کابھی جائزہ لینا پڑے گا۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ بچے کی تربیت پر گہری نظر رکھتے ہوئے مناسب انداز سے ہینڈل کریں۔ تو اللہ سے امید ہے کہ خرابی ختم ہوجائے گی۔

یہاں ایک نکتہ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بچے اپنی عمر کے مختلف مراحل میں مختلف انداز اختیار کرلیتے ہیں۔ خصوصا عنفوان شباب، لڑکپن اور بلوغت کے آس پاس کی عمر میں بچوں میں جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ نفسیاتی وجذباتی عوارض بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ اس عمر میں والدین کو یہ نکتہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ کہ یہ عمر کا ایک فیز اور مرحلہ ہوتا ہے۔ جو بعض اوقات بچوں کی زندگی میں بہت زور وشور سے ہنگامہ خیز بن کر آتا ہے اور پھرگزرجاتا ہے۔، اس کے گزر نے کے بعد ہرچیز اپنی اصلی حالت پرواپس آجاتی ہے۔ غرض کسی بھی صورت حال سے گھبراکرپریشان نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ تربیت کے عمل کو درست اصولوں کے مطابق مستقل مزاجی سے اداکرتے رہنا چاہیے۔

:عبداللہ بن مبارک ؒ کا واقعہ

اس حوالے سے یہاں حضرت عبداللہ بن مبارک ؒکا واقعہ پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جو محدثین، فقہاء،مفسرین اور مجاہدین میں سب کے امام شمار ہوتے ہیں۔ اور اللہ کے بہت بڑے ولی گزرے ہیں۔ ان کی زندگی کے ابتدائی ایام نہایت ہیجان خیزگزرے ہیں۔ یہ سنٹرل ایشیاء کے رہنے والے تھے۔ ان کے سوانح سے ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ بڑے امیرکبیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھرمیں دین کا چرچا تھا والدین بہت نیک متقی تھے۔ گھر میں صوم وصلوۃ، تلاوت اور شب بیداری کا معمول تھا۔

ابتداءً گھر میں ان کی تربیت بھی دینی انداز سے کی گئی ۔ لیکن جب یہ بلوغت کو پہنچے تو غلط لوگوں کے ساتھ دوستی شروع ہوگئی۔ جس کے نتیجے میں ناچ گانے کے علاوہ مختلف قسم کی غلط محافل میں شرکت ہونے لگی۔ اور بظاہر اچھی تربیت کا سارا اثرزائل ہوکررہ گیا۔ یہ دورانیہ ان کے والدین کے لئے نہایت آزمائش کا تھا۔ گھر والے والدین اور بہن بھائی سب مل کر ان کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے۔ اور ساتھ میں کوششیں کرتے رہتے تھے۔ بالاخر کچھ عرصے کے بعد اللہ تعالی نے دل کی دنیا بدل دی۔ وہ غلط کاموں سے توبہ تائب ہوئے۔ علم دین حاصل کیا اور فقہاء ومحدثین میں بڑا مقام پایا۔

اچھے گھرانے کے بچے بعض اوقات خراب ہوجاتے ہیں

بعض اوقات اچھے اور دین دار گھرانے کے بچے بھی بلوغت کے قریب پہنچ کر اس طرح کی صورت حال سے دوچار ہوجاتے ہیں۔والدین کی تربیت کا سارا رنگ زائل ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ والدین نے ان کی تربیت کی ہی نہ تھی۔ یہ بچے نہ صر ف اپنے والدین کےلئے دردسری اور پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ بلکہ ان کے والدین ان کی وجہ سے ندامت وشرمندگی کا احساس دل میں رکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔

بعض اوقات یہ کہنے لگتے ہیں۔ کہ نہ  معلوم  یہ ہمارے کس عمل کی سزا ہے؟یقینا اولاد کا صدمہ بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ یہ والدین کے لئے بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ جس سے نکلنے کے لئے ان والدین کو راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ایسی صورت حال جب بھی پیش آجائے۔ سب سے پہلے اپنی ذات پر نظر کرنی چاہیے ۔اپنی کمائی، اپنے انداز تربیت، اپنی  طرف سے کی جانی والی کوششوں پرنظر کرنے کے بعد اگران سب چیزوں پرا طمینان  ہو تو گھبرانا نہیں چاہیے۔ بلکہ معاملہ اللہ پر چھوڑدینا چاہیے۔

کیا حضرت نوح ؑ جیسے اولوالعزم پیغمبر کے گھر میں کافر بیٹا پیدا نہیں ہوا ؟جب آخر وقت تک حضرت نوحؑ اس کو بلاتے رہے۔ مگر پھر بھی اس نے کفار کی معیت میں غرق ہونے کو باپ کی معیت  پر ترجیح دی۔ کیا حضرت یعقوب علیہ السلام کے گھرمیں یوسف ؑ کے گیا رہ حاسد بھائی موجودنہیں تھے ۔جنہوں نے حضر ت یوسف ؑ کو قتل کرنے کی پلاننگ کی تھی۔ یقینا یہ واقعات ایسے والدین کے اطمینا ن قلب  کےلئے کافی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*