تعمیر شخصیت کی اہمیت

تعمیر شخصیت کی اہمیت
تعمیر شخصیت کی اہمیت

تعمیر شخصیت کی اہمیت

ڈاکٹر محمد یونس خالد

(یہ آرٹیکل ایجو تربیہ ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر محمد یونس خالد کی زیر طبع کتاب ” کامیاب شخصیت کی تعمیر”سے ماخوذ ہے)

شخصیت کے دو پہلو

انسانی شخصیت(Personality) کا ایک جسمانی روپ ہوتا ہے جو اس کے ظاہری جسم، اعضاو جوارح اور اس کے جسمانی خدوخال کی شکل میں سامنے ہوتا ہے۔ جبکہ اس کا دوسرا روپ کرداری ہوتا ہے جواسی انسان کے برتاو، رویوں اور اخلاق وکردار کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ شخصیت کاپہلاروپ وقتی اور عارضی ہوتا ہے مثلا کوئی انسان جسمانی طور پر بہت خوب صورت اور جاذب نظر ہو تو وقتی طورپر لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتا ہے لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ روپ زوال پذیر ہوناشروع ہوجاتا ہے جبکہ دوسرا کرداری روپ اگر اعلی اخلاقی اقدار اور اچھے کردار پر مشتمل ہوتو اس کاحسن اور اس کے اثرات طویل المدت ہوتےہیں۔

ظاہری اور باطنی شخصیت کی اصطلاح

جب ہم پوری شخصیت کی تعمیر کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر انسانی شخصیت کے یہ دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ ظاہر میں نظرآنے والے جسمانی روپ کی تہذیب بھی ضروری ہے اور ساتھ ہی اس جسمانی روپ میں نکھار ،خوب صورتی ،اعلی خصوصیات اور دوام پیدا کرنے والا کرداری روپ کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ کیونکہ انسانی شخصیت کے ظاہری روپ اور کرداری روپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ یعنی کرداری روپ اپنے اظہار کے لئے ظاہری روپ کا محتاج ہے کیونکہ جو بھی کردار ہوگا اسی جسم کے توسط سے ظاہر ہوگا۔ جبکہ ظاہری اور جسمانی روپ اپنی خصوصیات کو ظاہر کرنے کے لئے کردار کا محتاج ہوتا ہے چاہے وہ کردار اچھا یا برا ہو۔

اس کتاب میں پوری شخصیت کی تعمیر پر کام کرتے ہوئے یہ کوشش ہوگی کہ جسمانی فٹنس ، جذباتی توازن، ذہنی وشعوری تعمیر ،دینی تعلیم و تربیت اور بہترین معاشرتی تعلقات کی استواری کے علاوہ کردارکی بہتری اور مہارتوں کے حصول پر بھی گفتگو کی جائے۔ کیونکہ انسانی شخصیت کے یہ تمام پہلو ہیں جن پر مستقل کام کرنے سے ہی شخصیت میں نکھارآسکتا ہے اور پوری شخصیت کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے۔ اگر شخصیت کے بعض پہلووں پر بھرپور توجہ دی گئی اور دیگر بعض پہلووں کو نظرانداز کیا گیا تو شخصیت میں توازن آنا تو دور کی بات، شخصیت کی تعمیر بھی پوری طرح نہ ہوسکے گی۔ کیونکہ تعمیر شخصیت کے اکثرپہلو ایک دوسرے سے لازم وملزوم ہیں ، کسی ایک کو ترک کرنے یا نظرانداز کرنے سے اس کا برااثر دیگر پہلووں پر بھی لازمی طور پر پڑے گا۔

انسان کی دوسری مخلوقات پر برتری کی وجہ

اللہ تعالی نے انسان کوکائنات کی دیگر مخلوقات پر فوقیت عطافرمائی ہے چنانچہ سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا: اور ہم نے اولاد آدم ( انسان) کو عزت بخشی ہے ، اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں، اوران کو پاکیزہ رزق دیا ہے، اوران کواپنی مخلوقات پر فوقیت عطاکی ہے۔۔ دیگر مخلوقات پر یہ فضلیت انسان کو علم، عقل وشعور،غوروفکرکی صلاحیت اور اخلاق وکردار کی وجہ سے عطاہوئی ہے کیونکہ یہ چیزیں انسان ہی کی امتیازی خصوصیات ہیں۔چنانچہ انسان اپنی ان صلاحیتوں کی بناپر دنیا کی ہرمخلوق کو کو اپنے قابو میں کر لیتا ہے اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے چاہے وہ مخلوق انسان سے جسمانی طورپر زیادہ طاقت ور ہی کیوں نہ ہو ۔

انسانوں میں فضیلت کا معیار

لیکن اگرخود افراد انسانی کے درمیان باہمی فضلیت کی بات کی جائے تو اللہ کے ہاں سب سے زیادہ فضلیت والا انسان وہ ہےسب سے زیادہ متقی اور اعلی کردار والا ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انسا ن کو اپنی پوری شخصیت کی تعمیر پر کام کرنا پڑتا ہے یعنی ظاہری جسم ، لباس وپوشاک کی تہذیب ودرستگی کے علاوہ تہذیب نفس اور بلندکرداری پربھی باقاعدہ کام کرنا پڑے گا۔

تعمیر شخصیت میں کردار ادا کرنے والے عناصر

انسان کی تعمیر شخصیت میں کئی عناصر حصہ لیتے ہیں۔ جن میں ماں باپ کی نشوونما اور تعلیم و تربیت، گھراور خاندان کا ماحول،مسجد، معاشرہ ، مکتب ومدرسہ، اسکول وکالج اور یونیورسٹی ، اساتذہ ، یہ سب مل کر انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سارے عناصر ایک بچے کی پیدائش سے لے کر بلوغت اور بعد از بلوغت بھی اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔اگر خوش قسمتی سے ان عناصر نے تعمیر شخصیت میں مثبت کردار ادا کیا ہو تو بچے کی شخصیت مثبت بنیادوں تعمیر ہوجاتی ہے لیکن بدقسمتی سے اگر ان عناصر نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا یا غلط کردار کا باعث بنے ، تو تعمیر شخصیت غلط بنیادوں پرہوجاتی ہے۔

تعمیر شخصیت کے لئے درکار دو بنیادی شرطیں

اب بلوغت کے بعد اگرکسی کو شعوری طور پر یہ احساس ہوا کہ مجھے اپنی شخصیت پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان لوگوں کے لئے اس کتاب میں مختصر لیکن عملی(پریکٹکل ) طریقے اور مشورے دیئے جائیں گے۔ جن سے وہی لوگ کما حقہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے اندر احساس زیاں بھی ہو اور اپنی شخصیت کی تعمیر کی سچی طلب بھی ہو۔ اگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوں تو یہ کتاب کسی کوکوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔

یہ مضمون بھی ملاحظہ فرمائیے

زندگی کا ماسٹر پلان

2 Trackbacks / Pingbacks

  1. کامیابی کیا ہے؟
  2. قاری حبیب الرحمن ،اسلاف کا ایک نمونہ

Leave a Reply