بچوں کی تربیت کے عملی طریقے

بچوں کی تربیت کے عملی طریقے

بچوں کی تربیت کے عملی طریقے
تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

بچوں کی تربیت کے عملی طریقے کیا ہیں؟ والدین اور اساتذہ کے لئے یہ بات جاننا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ تربیت بچے کو صرف لیکچر دینے سے نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ایک وقت طلب، فکر طلب،صبر آزمااور مسلسل  کرنے کام ہے۔ جو مستقل مزاجی سے انجام دینا پڑتا ہے۔ اور اس کے لئے موثر حکمت عملی کی ضرورت بھی  پڑتی ہے۔ اولاد کی تربیت کے مختلف طریقے ہیں۔جو ایک دوسرے پر منحصر ہونے کے ساتھ ایک دوسرے سے لازم وملزوم بھی ہیں ۔

تدریجا ًان میں ایک سے دوسرے کی طرف ضرورت اور وقت  کے تقاضوں کے مطابق منتقل بھی ہونا پڑتا ہے۔ اور ان سب کو یکے بعد دیگرے ضرورت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق آزمانا بھی پڑتاہے۔بچوں کی عملی تربیت کے مندرجہ ذیل طریقے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

:فکرمندی

والدین کی فکرمندی بچے کی تربیت کا  پہلا اسٹیج ہے۔ یعنی والدین یہ ضرورت محسوس کریں اور اپنے اندر یہ احساس جگائیں۔ کہ بچے کی تربیت ان کی ذمہ داری اور فرض منصبی میں شامل  ہونے کے ساتھ ان کی ضرورت بھی ہے۔ جب تک والدین شدت سے یہ احساس اپنے اندر پیدا نہ کریں۔  اور اس فریضہ کی انجام دہی کے لئے فکر مند نہ ہوں ۔تب تک ظاہر ہے کہ یہ کام   ممکن ہی  نہیں۔اسی احساس کو اجاگر کرنے کے لئے قرآن کریم نے سورۃ تغابن میں اولاد کو  آزمائش قرار دے کرفرمایا: انمااموالکم واولاکم فتنۃ( التغابن)”لوگو!  تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئےآزمائش ہیں۔

 اولادکو آزمائش  قرار دینے کے باوجود اگر والدین اپنی اولاد کی تربیت کی ذمہ داری  ہی محسوس نہ کریں ۔تو خدا نخواستہ اولاد  دنیا کی زندگی میں  وبال جان جبکہ آخرت کی زندگی میں شرمندگی اور اللہ کے ہاں پکڑ کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی فکرمندی اور احساس کو اجاگر کرنے کے لئے سورۂ تحریم میں اللہ تعالی نے مومنین کو حکم دیا ۔کہ وہ خود کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے فکر مند ہوجائیں۔ یہ فکرمندی اور احساس  ہی کسی  کام کے آغاز کی  بنیاد بن جاتی  ہے۔

اگر یہ احساس ہی  دل میں اجاگر نہ ہو تو تربیت کا عمل سرے سے شروع ہی نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں بے شمار والدین   آج بھی ایسے ہیں جن کو اپنے بچوں کی تربیت کا احساس ہی نہیں ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے بڑے ہوکر خود بخود سیکھ جائیں گے۔ حالانکہ یہ بہت بڑادھوکہ ہے۔

کہاجاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ انسان کو جب بھوک کااحساس ستاتا ہے۔ تو وہ کھانے کی طرف لپکتا ہے۔ جب پیاس کا احساس جاگنے لگتاہے توانسان پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اولاد کی تربیت ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، جو والدین کے سپرد کردی گئی ہے۔ اسی ذمہ داری کے نتیجے میں والدین کو اللہ تعالی نے وہ حقوق عطا کئے۔ جو والدین کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی۔ وہ اس بار تربیت کو اٹھانے کے نتیجے میں ہی رکھی گئی ہے۔ بہرحال اولاد کی تربیت کا پہلا مرحلہ والدین کی فکرمندی اور احساس ذمہ داری ہے۔

:منصوبہ بندی

جب کسی کام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کو کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ دنیا میں گھر بنانا ہو تو اس کے لئے منصوبہ بندی بہت پہلے سے کیجاتی ہے۔ اس کے لئے رقم کا انتظام کیا جاتا ہے۔موزوں کا جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور اس کیلئے نقشہ پاس کروایا جاتا ہے۔ کہ گھر کے کمرے کتنے ہوں؟ اس میں کچن کہاں ہوگا ؟بیڈ روم کہاں اورواش روم کس طرف ہونگے؟ اور دیگر تمام تفصیلات کو بڑی باریک بینی سے نقشے میں شامل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اسی نقشے اور پلاننگ کے مطابق یہ گھر ڈیزائن ہوکر مستقبل میں وجود میں آنے والا ہے۔ جوچیز جتنی طویل المدت اور جنتی قیمتی ہو اس کے حصول کی منصوبہ بندی بھی اسی جامعیت اور باریک بینی سے کی جاتی ہے۔

اولاد انسان کے لئے متاع عزیز ہے۔ اس سے قیمتی دنیاکی کوئی دوسری چیز نہیں ہوسکتی۔ اور اس کا وجود بھی صرف دنیا کے لئے ہی نہیں۔ بلکہ دنیا میں سہارے کے علاوہ آخرت میں نجات اور  رفع درجات کا باعث بھی بنتا ہے۔ نیزوالدین کی یہ محنت  اور  سرمایہ کاری  دنیا وآخرت دونوں جگہ کام آتی  ہے۔ لہذا بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے والدین کی فکرمندی  کے بعد دوسرا مرحلہ تربیت کی جامع  منصوبہ بند ی  اور اس کے لئے ترجیحات کا تعین کرنا ہے، جو نہایت ضروری چیزہے۔

کیونکہ منصوبہ بندی کے بغیر کوئی بھی کام الل ٹپ اور ناقص ہو جاتاہے۔ لہذا بچوں کی بہترین تعلیم وتربیت کے لئے ترجیحات کا تعین کرنا اور جامع حکمت عملی ترتیب دینا والدین کے لئے ضروری ہے۔ اسلا م نے اس کا آغاز دین دار اور باشعور شریک حیات کی تلاش سے کیا ہے۔تاکہ اولاد کے آنے سے پہلے ہی اس کےلئے بہتر ماحول فراہم کیا جاسکے۔

:دعاومناجات

مناسب دینداررشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد اللہ تعالی سے نیک اولاد کی تمنااور دعا کرنا پیغمبروں کا شیوہ رہا ہے۔ قرآن کریم میں بے شمار دعائیں ایسی آئی ہیں۔ جو اللہ تعالی کے پیغمبروں نے نیک اولاد کے حصول کے لئے اللہ تعالی سے مانگی ہیں۔یہاں ان میں سے چنددعائیں ذکرکی جاتی ہیں۔

حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں

رب ھب لی من الصالحین( الصافات:100)” اے اللہ مجھے نیک اولاد عطافرما۔“
رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء (ابراھیم:40  ) ” اے اللہ!مجھے نماز کا پابند بنادے۔ اور میری اولاد کو بھی اور اے ہمارے رب ہماری دعا قبول فرما۔“
ربنافاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم( ابراھیم: 37)” اے اللہ!تو لوگوں کے دل ان(میری اولاد) کی طرف مائل فرمادے۔“

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا

ھب لی من لد نک ولیا۔ یرثنی ویرث من آل یعقوب واجعلہ رب رضیا ( مریم:5،6) ” اے اللہ!مجھے ایک وارث(اولاد)عطافرما ۔جومیرااور یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا بھی وارث ہو۔اور اے میرے رب!اسے پسندیدہ بنا۔

٭ رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ انک سمیع الدعاء(آل عمران: 38 ) ” اے میرے رب!مجھے اپنے ہاں سے نیک اولاد عطافرما۔بیشک تو دعاؤں کاسننے والا ہے۔
اولاد کے حوالے سے قرآن کریم نے ایک اورد عابھی سکھائی ہے اور نیک مومنین کی علامات میں سے ذکر کیا ہے کہ وہ اللہ سے یہ دعا مانگتے ہیں

٭ ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما( الفرقان:74) ” اے اللہ! ہم کو ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرمااورہمیں پرہیزگاروں کاامام بنا۔
اولاد جب نیک ہوتی ہے۔ تو اپنے ساتھ اپنے والدین کے لئے بھی اللہ سے دعائیں مانگتی ہے۔چنانچہ قرآن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعامنقول ہے ۔جو انہوں نے اپنے اور اپنے والدین کے لئے مانگی۔ قرآن کریم حضرسلیمان علیہ السلام کی دعا یوں نقل کی ہے۔

٭ رب اوزعنی ان اشکر نعمتک اللتی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضاہ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین( نمل :19) ” پروردگار! مجھے اس بات کا پابند بنادیجئے۔ کہ میں ان نعمتوں کا شکراداکروں۔ جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطافرمائی ہیں۔ اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو۔ اوراپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجئے۔

یہ قرآن کریم میں منقول دعائیں ہیں جوا نبیاء کرام علیہم السلام نے نیک اولاد کی تمنا کے ساتھ اللہ تعالی سے مانگیں۔رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے اور بچے کی امید ہونے کے بعد سے اس کیلئے فکر مند ہونے کے ساتھ دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔ کہ اللہ تعالی نیک اولاد عطافرمائے۔ جو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ نیک صالح اور فرمابنردار ہو۔اس کا نصیب اچھا ہو۔ لوگوں میں مقبولیت اور رزق میں کشادگی کی بھی دعائیں مانگتے رہنا چاہییں۔

اسوہ حسنہ سے تربیت

اسوہ حسنہ سے تربیت کا مطلب یہ ہے کہ والدین اچھی رول ماڈلنگ کے ذریعے اپنی اولاد کی تربیت کریں۔ یعنی والدین اپنے اچھے اخلاق اور اچھے اعمال وکردار کے ذریعے اپنی اولاد کی تربیت کریں۔بچے فطری طور پر نقا ل ہوتے ہیں۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں اسے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔بچہ لاشعور سے جیسے ہی شعور کی آنکھ کھول لیتا ہے۔ وہ اپنے ماحول میں  اپنے  ماں باپ کودیکھ کر ان کی نقل کرنا شروع کرتا ہے۔

ایک چھوٹا بچہ اپنے بچپن میں بہت زیادہ  بات چیت اور لیکچرکو نہیں سمجھتا ۔اور نہ ہی وہ کسی کی تقریر کو سمجھنے کا متحمل ہوسکتا ہے۔ لیکن  وہی کام کرنے لگتا ہے جواپنے ماں باپ کو کرتے ہوے دیکھتا ہے۔ چنانچہ والدین جب نماز پڑھتے ہیں تو ان کو دیکھ کر چھوٹا بچہ بھی مصلی بچھاتا ہے۔ اور ننھےہاتھ کندھوں تک اٹھاکر باندھتاہے۔ رکوع کرتا اور سجدے میں جاتا ہے۔ اور پھر  والدین کی طرف دیکھ کر سلام پھیرتا ہےاور دعا کے لئے اپنے ننھے سے ہاتھ اٹھالیتا ہے۔

اب ذرا غور کیجئے اس بچے کو نماز پڑھنا کسی نے نہیں سکھایا ۔لیکن ماں باپ کا عمل دیکھ کر وہ خود ہی نقل کرنے لگتاہے۔ بالکل یہی اصول دیگرتمام کاموں میں بھی کارفرما ہے۔ کہ بچہ ماں باپ کے اخلاق، اسوہ اورہر عمل وکردارکو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں والدین اگر اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرناچاہتے ہیں۔ تو سب سے پہلے اپنے کردار واخلاق کو درست کریں۔ بچہ اپنے والدین کو دیکھے گا تو اس کے نتیجے میں اچھے کرداراور اعمال واخلاق خود ہی سیکھے گا۔

والدین بچوں کو صحت مند کاموں کا مشاہدہ کروائیں

اگرگھر میں والدین آپس میں محبت سے رہتے ہوں، ایک دوسرے کو عزت واحترام دیتے ہوں۔بہت زور سے اور برے الفاظ سے ایک دوسرے کونہ پکارے ہوں۔ بلکہ آپ جناب سے بات چیت کرتے ہوں۔ رشتہ داروں کو اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کرتے ہوں۔ ان کے ساتھ خیر خواہی وہمدردی اور صلہ رحمی کی کوشش کرتے ہوں۔ گھر میں صوم وصلوۃ کی پابندی کی جاتی ہو۔ ہرکام وقت پر کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ گھر میں نظم وضبط اور ڈسپلن موجود ہو۔

وعدہ خلافی اور جھوٹ سے اجتناب کیا جاتا ہو۔ گھر میں رات کو جلدی سونے اور فجرمیں جلدی اٹھنے اور نماز ، تلاوت ودعاکا اہتمام کیا جاتاہو۔ صفائی ستھرائی، نفاست، ڈسپلن اور سلیقہ مندی والدین کے ہرکام میں موجود ہو۔ تو بچہ ان چیزوں گھر میں دیکھ کر خود ہی سیکھ جائے گا۔

جب گھر کے ماحول میں یہ اقدار پائی جاتی ہوں، اور بچہ شعور آتے کے ساتھ ہی اپنے گھر میں ہی ان اقدار کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یقینا یہ بچہ ان اقدار کو خود بخود اپنانے کی کوشش کرے گا ۔اس کو الگ سے تقریر اور لیکچر سنانے کی قطعا ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اگر یہ اقدارخود والدین کی زندگی اور گھرکے ماحول میں موجود نہ ہوں ۔اور والدین یہ چاہیں کہ ان کے بچوں کی زندگی میں آجائیں۔  یقینا بہت مشکل کام ہوگا۔

اچھی رول ماڈلنگ کے بغیر تربیت ممکن نہیں

کیونکہ بچوں نے زندگی میں کبھی ان اقدار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کیاہوگا۔اپنے کانوں سے پیار محبت کے الفاظ کم ہی سنے ہونگے۔ کبھی شکریہ یا معذرت کے الفاظ گھر کے ماحول میں کانوں سے ٹکرائے نہیں ہونگے۔ والدین کو کبھی گھرپر نماز پڑھتے اور دعاکرتے دیکھا نہیں ہوگا۔ لیکن والدین کسی اہل علم کی تقریر یا عمل سے متاثر ہوکر یہ چاہتے ہوں۔ کہ ان کے بچوں میں یہ چیزیں آجائیں۔ تو معذرت کے ساتھ یہی کہنا پڑے گاکہ ایسا ہونا بظاہر ممکن نہیں ۔ اللہ تعالی کسی پر اپنا خاص کرم کرکے ہدایت دے وہ الگ بات ہے۔

اب ہوگا کیا! والدین اپنے بچوں میں یہ اقدار پیداکرنے کے لئے ان کولیکچردینااور تقریر کرنا شروع کریں گے۔ ان کو بتانا اور سمجھانا شروع کریں گے۔ بچوں نے چونکہ اپنے والدین کو ان باتوں پر عمل کرتے دیکھا نہیں ہوگا ۔اور نہ ہی   بچوں نے کبھی گھر کے ماحول میں ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہوگا۔ توان باتوں پر عمل کرناان کے لئے سخت دشوار ہوگا۔

جب والدین باربار بچوں کو ایساکرنے پر اصرار کریں گے ۔اور بچے عمل میں کوتاہی کریں گے۔ تو والدین پھر غصہ میں آکر ان کو ڈانٹا اور برا بھلا کہنا شروع کریں گے۔ جس سے بات مزید بگڑ جائے گی، اور بچے والدین سے باغی ہوجائیں گے۔اب پریشانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اس کام کوکرنے کا بہتر راستہ یہی ہے، کہ والدین پہلے اپنے اخلاق وکردار اور رویوں پرکام کرکے ان کو درست کرنے کی کوشش کریں ۔پھراپنی رول ماڈلنگ سے بچوں کو پریکٹیکل کرکے دکھائیں اور بتائیں۔ انشااللہ بچوں میں وہی عادات نشوونماپائیں گی جو والدین چاہتے ہیں۔

رول ماڈلنگ اور عملی تربیت کی اہمیت

عملی تربیت کی اہمیت کے پیش نظرہی اللہ تعالی نے آسمان سے صرف قرآن کریم اوردیگر آسمانی کتابیں نازل نہیں فرمائیں۔ بلکہ ساتھ  اس کتاب کی عملی تعبیر پیش کرنے والا پیغمبر بھی بھیجا۔جو ان کتابوں کی تعلیمات کو عملی طور پر پریکٹس کرکے امت کو سکھاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں قرآن کی ہرآیت کی عملی تعبیر امت کے سامنے پیش کی۔اسی وجہ سے اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کی زندگی کو ”اسوۂ حسنۃ“ زندگی گزارنے کا نمونہ قرار دیا  اور فرمایا:

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (احزاب:21 ) “بے شک رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔“
خلاصہ یہ ہے کہ اگروالدین اپنے بچوں کی  تربیت  پرکام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ تو ان کو چاہیے کہ اس کا آغاز اپنی تربیت سے شروع کریں۔ اپنے اخلاق و اعمال ا ورکردار پر کام کریں۔ اپنی تربیت میں کمی اورخامیوں کو دور کریں۔ اور پھر اپنے عمل سے بچوں کو تربیت کا پیغام دینا شروع کریں ۔اس سے بہت جلد اور آسانی سے بچوں کی اچھی  تربیت ممکن  ہوجائیے گی انشاء اللہ۔

:  بچوں کو وعظ ونصیحت سے  تربیت کرنا

بچوں کو بتانا ، سمجھانا، اوروعظ ونصیحت کرنا تربیت کا  اہم ترین ذریعہ ہے۔ یعنی اچھی باتیں سمجھاکر ان پر عمل کی تلقین کرنا اور بری باتیں سمجھا کر ان سے اجتنا ب کرنے کی نصیحت کرنا اور مسلسل یہ کام کرتے رہنا یہ بھی کار پیغمبری ہے۔ قرآن کریم کے نزول کا مقصد بھی وعظ ونصیحت ہی ہے۔ کہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کی جائے۔ان کو اچھی باتوں کی تلقین کی جائے۔ مختلف پیرائے میں بار بار سمجھایا  جائے۔کبھی جنت کے باغات ومحلات ودیگر انعامات کی ترغیب سے اور کبھی جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرا کر لوگوں کو اچھے اعمال کی تلقین کی جائے۔ اور برائیوں سے ان کو روکا جائے۔

تاریخی واقعات بیان کرکے وعظ و نصیحت

کبھی گزشتہ اقوام وملل کی تاریخ بیان کرکے ان سے عبرت حاصل کرنے کو کہاجائے۔ اور کبھی انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے لوگوں کو سمجھا یاجائے ۔تا کہ وہ  زندگی میں اچھے کاموں پر آمادہ ہوں اور برے کاموں سے اجتنا ب کریں۔ قرآن کریم میں اوامرونواہی  کے احکام سے بھی لوگوں کی تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔یعنی کچھ کاموں کو کرنے کا براہ راست حکم دیا گیا۔ اور کچھ کاموں سے اجتناب کا حکم دیا گیاہے۔

قرآن کریم کا انداز تربیت نہایت آئیڈیئل  ہے۔جس میں موقع محل کی مناسبت سے مختلف پیرایوں میں مختلف مثالوں سے بات سمجھائی جاتی ہے۔ تاکہ مخاطبیں شعوری طور پر اچھے کاموں کو کرنے پر آمادہ ہوں۔ اور  برے کاموں سے اجتناب کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اور یہی تربیت کا اصل مقصد بھی ہے۔ کیونکہ جو تربیت شعوری سطح پر نہ کی جائے۔بلکہ محض ڈنڈے کے زور پر ہو۔ وہ تربیت نہیں کہلاتی۔ قرآن کریم نے اس مقصد کے حصول کے لئے بے شمار واقعات اور قصص بیان کئے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم واقعہ سورۂ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام کا بیان کیا گیا ہے۔ جس میں حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے  کو کچھ نصیحتیں فرمارہے ہیں۔

حضرت لقمان کی بیٹے کو نصیحت

قرآن کریم نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اس تقریر کی نہ صرف تحسین کی۔ بلکہ اس کو سورۂ لقمان کاباقاعدہ حصہ بنادیا ۔یہاں سورۃ لقمان کی وہ چند آیات بیان کی جاتی ہیں۔ جن میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت فرمارہے ہیں ۔چنانچہ فرمایا: واذقال لقمان لابنہ وھو یعظہ یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم(لقمان )” (وہ وقت قابل ذکر ہے)جب حضر ت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتہے ہوئے کہ کہ اے میرے پیارے بیٹے!تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ بے  شک شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔

نصیحت مشفقانہ انداز سے

اس نصیحت پرذرا غور کیجئے جس کی تحسین رب تعالی نے فرمائی۔ کہ حضرت لقمان ؑ اپنے بیٹے کو نصیحت کر تے ہوئے نہایت مشفقانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ اور انتہائی پیار سے اپنے بچے کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”اے میرے پیارے بیٹے“۔ اس سے معلوم ہوا کہ جوتربیت نرمی اور پیار سے ہوسکتی ہے۔ وہ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے نہیں کی جاسکتی۔ تربیت میں پیار اور نرمی وگداز وہ گر ہے جو مخاطب کو عمل پر آمادہ کرسکتاہے۔ تاہم اگر کبھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت بھی پڑجائے تو اس کا تناسب پانچ فیصد سے بھی کم ہونا چاہیے۔ پچا نوے فیصد یا اس سے بھی زیادہ پیار ہی سے تربیت کا عمل انجام دینا چاہیے۔

سب سے پہلے توحید کا سبق دیا

اس کے بعد دوسرانکتہ حضرت لقمانؑ کی اس نصیحت سے ہمیں یہ ملتا ہے۔ کہ اپنی اولاد کی تربیت کا آغاز عقیدہ توحید سے کرنا چاہیے ۔جو اسلام کے پورے فلسفے کی بنیادہے ۔ہمیں اولاد کی تربیت کے پورے اسٹریکچر کی بنیاد دین کی اساس پر رکھنی چاہیے۔ جب بچے کو پہلی فرصت میں اللہ سے جوڑیں گے۔ تو انشاء اللہ اس کے تمام اثرات و ثمرات نہایت مثبت اور میٹھے پھل کی شکل میں آئیں گے۔ چنانچہ حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے کو پہلی نصیحت یہ کی کہ۔ ”پیارےبیٹے!اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک دنیا کا سب سے بڑا ظلم ہے“۔

اللہ کی صفت قدرت کو بیان کیا

 دوسری نصیحت میں اللہ کی صفت قدرت کو بیان کیا فرمایا: یبنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ او فی السموات اوفی الارض یات بھا اللہ۔ ان اللہ لطیف خبیر(لقمان ) پیارے بیٹے!اگرکوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو۔ اور وہ کسی چٹان کے اندر ہو، یاآسمانوں یا زمین میں کسی جگہ ہو۔ تب بھی اللہ اسے ضرور حاضر کردے گا۔ یقین جانو اللہ بڑاباریک بین بہت باخبر ہے۔“ اس آیت میں حضرت لقمانؑ نے بیٹے کو سمجھانے کے لئے نہایت خوبصورت پیرایے میں اللہ تعالی کے علم محیط کو بیان کیا ہے۔ کیونکہ توحید کے بعد اللہ کی صفات کے بارے معلومات بچے کے ذہن رسا میں اتارنا یہ بھی تربیت اولاد کابنیادی حصہ ہے۔ اور والدین کی ذمہ داری ہے۔

دینی احکام اور اخلاقی اوصاف پر زوردیا

اور تیسری نصیحت میں دینی احکام اور اخلاقیات پر زوردیا فرمایا:   بنی اقم الصلوۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی مااصابک، ان ذالک من عزم الامور۔ولاتصعرخدک للناس ولاتمش فی الارض مرحا ان اللہ لایحب کل مختال فخور۔واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ان انکرالاصوات لصوت الحمیر(لقمان)

ترجمہ: بیٹے نماز قائم کرو۔ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو اور برائی سے روکو۔ اور جوتمہیں تکلیف پیش آئے اس پر صبر کرو۔ بے شک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔اور لوگوں کے سامنے اپنے گال مت پھلاؤ۔اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں اعتدال پیدا کرو۔ او ر اپنی آواز کو پست رکھو۔ بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔

مذکورہ آیات میں حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے کی دینی ،اخلاقی اور نفسیاتی تربیت کی ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو کچھ کاموں کو کرنے کا حکم دیا ۔اور کچھ کاموں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ساری تربیت تقریر کے ذریعے ہورہی ہے۔ جس کا لہجہ نہایت پیار اور شفقت بھرا ہے۔ اور یقینا حضرت لقمان ؑ نے جو بیٹے کو نصیحتیں کی ہیں۔ خود عملی طور پر پہلے سے ان تمام باتوں پر قائم تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بچوں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود والدین کا ا س بات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اور پھر مزید تاکید اور وضاحت کے لئے مشفقانہ انداز میں ان باتوں کی نصیحت اپنے بچوں کو کی جاسکتی ہے۔

لہذا معلوم ہوا خود عمل  کیے بغیر بچوں کو لیکچر دینے کا رویہ نہایت غیر موثرہے۔ اس سے نصیحت نہیں ہوسکتی ۔اور دوسری بات یہ ہے کہ  خود عمل کے بعد بھی بچوں کو نصیحت پیار اور محبت بھرے لہجے میں کرنا چاہیے۔ ڈانٹ ڈپٹ سے نہیں ۔یہاں ایک اہم نکتہ قابل توجہ ہے۔ کہ والدین کا عمل اور ان کی نصیحت بچوں کے لئے اسوہ  اسی وقت بن سکتی ہے جب والدین اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہو۔ اگر یہ تعلق کمزور پڑ جائے تو پھر بچے کے لئے والدین کی تقریر میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ جس کے نتیجے میں تربیت کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ لہذا بچے کے ساتھ رشتہ تعلق کو مضبوط کرنا نہایت ضروری ہے۔

:سختی اور ڈانٹ سے تربیت

 بچے پرسختی اور ڈانٹ ڈپٹ  کرنا تربیت اولاد کے عمل کے لئے کوئی آئیڈیل تونہیں۔ کیونکہ  اس کے نتیجے میں بچے سے تعلق کمزور پڑجاتا ہے۔ مکالمے کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔اور شفقت ومحبت جو اس راستے کی زاد راہ ہوناچاہیے  وہ بھی ماند پڑجاتی ہے۔یہی نہیں بلکہ بچے کا ذہن بھی تربیت کی قبولیت سے انکار کردیتا ہے۔ اور بغاوت کا عنصر اس میں غالب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اگرچہ ڈانٹ سے وقتی طور پر بچہ دب کر ڈانٹ کھا بھی لے، اور مصنوعی طور پر والدین کی چاہت پر عمل بھی کرلے۔

لیکن بہرحال کیفیت تادیر باقی نہیں رہتی۔ ڈانٹ ڈپٹ کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تربیت کے بھی خلاف ہے ۔حضرت انس ؓفرماتے ہیں ۔کہ میں بچپن میں دس سال تک رسول اللہ ﷺ کے خادم کی حیثیت کام کرتا رہا۔ اس دوران رسول اللہﷺ نے نہ کبھی مجھے ڈانٹا۔ نہ کبھی مجھے یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟اور نہ کبھی یہ فرمایاکہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟

رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا ایک واقعہ

ایک روایت میں حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ ﷺ کی کفالت میں تھا ۔ایک مرتبہ کھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ادھر ادھرگھوم رہاتھا ۔تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: یاغلام سم اللہ وکل بیمینک وکل ممایلیک ( ) ” بیٹے!بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا کرو۔ اپنے دائیں ہاتھ سے کھا نا کھایا کرو ۔اور اپنے سامنے سے کھایاکرو۔
ان احادیث سے ایک تو یہ بات معلوم ہورہی ہے۔ کہ تربیت بچپن سے ہی شروع کی جاتی ہے۔ کیونکہ اس وقت بچوں کی عادتیں پختہ نہیں ہوچکی ہوتیں ۔بلکہ ابھی عادتیں بن رہی ہوتی ہیں۔ اور آہستہ آہستہ پختگی کی طرف جارہی ہوتی ہیں۔اب اگرخدانخواستہ اس وقت بچے کی تربیت نہ کی گئی۔  ادب نہ سکھایاگیا ۔اور بری عادتوں نے خوب جگہ پکڑلیں۔ تو بعد میں ان عادتوں کی پختگی کے بعد ان کی اصلاح کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

لہذا ایسے مواقع پر بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں ۔کہ ابھی تو بچہ ہی ہے اس کو اپنے حال پر چھوڑدو ۔بڑا ہوکر خود ہی ٹھیک ہوجائے گا، وہ سخت غلطی پر ہیں۔بچپن سے ہی بچوں کواچھے کلمات اور آداب سکھانے کاحکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے۔ آپ نے فرمایا:افتحوا علی صبیانکم اول کلمۃ بلاالہ الا اللہ ولقنوھم عندالموت لاالہ الا اللہ( )” اپنے بچوں کو سب سے پہلے کلمہ لاالہ الا اللہ سکھاؤ اور موت کے وقت بھی انہیں لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو۔“

نہایت پیار محبت سے بچوں کی دینی تربیت

کنزالعمال کی ایک حد یث ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من ربی صغیراً حتی یقول لا الہ الا اللہ لم یحاسبہ اللہ( )”جو شخص اپنے بچے کی اس طرح پرورش کرے کہ وہ لاالہ الا اللہ کہنے لگے۔ تو اللہ تعالی اس کا حساب نہیں لیں گے۔حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچوں کو غیرضروری ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس سے ان کی خوداعتمادی ختم ہوجاتی ہے۔ اور وہ ڈھیٹ پنے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ بچے پھر پیار محبت سے کسی کام کو کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ بلکہ ہر کام کے لئے ان کو پھر ڈانٹنا ہی پڑتا ہے۔ یوں یہ بری عادت ان کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔

کیابچے پر سختی کرنا بالکل درست نہیں؟

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا بچے پر بالکل سختی نہیں کرنا چاہیے؟کہ وہ کچھ بھی کرتا پھرے بس اس کو صرف پیار سے ہی سمجھادیا جائے۔ چاہے وہ عمل کرے یا نہ کرے؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس سلسلے میں دین نے ہمیں اعتدال سکھا یاہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بچے کی تربیت کی آئیڈیل صورت  یہی ہے۔ کہ اس کو نہ مارا جائے اور نہ ڈانٹا جائے۔ بلکہ پیار محبت اور شفقت سے ہی اس کی تربیت کی جائے ۔ایک اندازے کے مطابق پچا نوے فیصد یہی رویہ ہونا چاہیے۔

لیکن بعض اوقات والدین کو کچھ  کرنےسختی کی اور بعض اوقات  تنبیہ کے لئے تھوڑی بہت  مارنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے وقت میں اس کی بقدرضرورت اجازت بھی دی گئی ہے۔ تاہم اس  ڈانٹ ڈپٹ یا مار کی  اس وقت گنجائش ہے۔  جب سمجھانے بجھانے سے کام بالکل ہی نہ بن پڑے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مروا اولادکم بالصلوۃ وھم ابناء سبع واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر وفرقوا بینھم فی المضاجع ( ) “جب تمہاری اولاد کی عمر سات سال کی ہوجائے تو انہیں نماز کا حکم کرو۔اور جب ان کی عمر دس سال کی ہوجائے تو نماز نہ پڑھنے پر ان کو مارو۔ اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔

اولاد کی تربیت کب سے شروع کی جائے؟

اس حدیث مبارک سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ اولاد کی تربیت بچپن سے ہی شروع کی جانی چاہیے۔ تاکہ بڑی ہونے پر وہ اس تربیت کی عادی ہوجائے۔بلکہ وہ عادتیں اس کی شخصیت کا حصہ بن جائیں۔ مثلاگھرمیں نمازوں کاا ہتمام کرناچاہیے۔ تاکہ بچے اس عمل کو دیکھتے رہیں۔سات سال کی عمرہونے پر بچے کو نماز پڑھناسکھانا چاہیے۔ اور اسے اس کی عادت ڈلوالنے کے کوشش کرتے ہوئے نماز کی تاکید کرتے رہنا چاہیے۔ جب بچے کی عمر دس سال کی ہوجائے۔ تو نماز ترک کرنے پر اسکی تھوڑی بہت سزا کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ تاکہ نماز کی عادت پختہ ہوجائے ۔تاہم یہ سزا حدود کے اندررہتے ہوئے ہونی چاہیے۔ کہیں حد سے تجاوز  ہو اور نہ ہی جسم پر نشان  پڑجائیں۔

یہ اجازت اس لئے دی گئی ہے۔ تاکہ بچوں کو نماز جیسے اہم  فریضے کی عادت پڑجائے۔ ورنہ جب بچے کو نما ز پڑھنے کی عادت ہی نہ ہو۔تو بلوغت کے بعد بھی اس کی پابندی نہیں کرے گا۔اگر ہم نماز سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو زندگی کی دیگر چیزوں پر بھی اطلاق کریں ۔تو یہ اصول بن سکتا ہے کہ اچھی عادتیں بچے میں پیدا کرنے اور بری عادتیں چھڑوانے کے لئے ضروری ہے۔ کہ سات سال کی لگ بھگ عمر میں اچھی عادتوں کی نشوونما بچے میں کی جائے۔ اس کو پیار محبت اور شفقت سے سمجھاتے رہنا چاہیے۔

تربیت کے جونفسیاتی اصول ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے بچے کی عادتوں پر کام کیا جائے۔ اچھی عادتیں  اپنانے کی تلقین کی جائے۔  اور  بری عادتوں سے چھٹکارے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح چھوٹی عمر سےہی بچوں کی عادتوں پر کام کرنا چاہیے۔کیونکہ سات سال سے کم عمر میں عادتوں کی داغ بیل پڑجاتی ہے۔ اوراس کے بعد کی عمر میں یہ عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ اس مرحلے میں اگر سختی کی بھی ضرورت ہو تو حدود میں رہتے ہوئے سختی اپنائی جاسکتی ہے۔ تاہم حدود متعین ہیں ان سے تجاوز کی قطعا اجازت نہیں دی گئی۔

بچوں میں جذباتی توازن پیدا کرنا

1 Trackback / Pingback

  1. جامع تربیت کی 8 بنیادی باتیں

Leave a Reply