لیڈرشپ کے اوصاف

لیڈرشپ کے اوصاف کیا ہیں؟ یہاں پر ہم ان اوصاف کو بیان کریں گے، ان اوصاف کی تعیین میں دنیا کے سب سے بڑے قائد، لیڈر اورعظیم رہنما اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمدمصطفی ﷺکی سیرت وکردارکو بطور اسوہ حسنہ سامنے رکھیں گے۔جس نے صرف 23سال کے مختصر عرصے میں اللہ کی مددونصرت اور اپنی بہترین قائدا نہ صلاحیتوں کے ذریعے دنیا میں عظیم انقلاب برپاکیا اور لیڈرشپ کے عظیم معیارات اور اسٹینڈرڈز قائم کئے۔
مغل عہد سلطنت کا نظام تعلیم ، لائبریریاں اور سائنسی ایجادات

مغلوں کے بارے میں تاریخ دانوں ، قارئین اور عصر حاضر کے دانشوروں کی رائے شدید تلخ ہے۔ مغل حکمرانوں کو محض عیاش پرست اور دولت لٹانے والے جابر حکمران سمجھا جاتا ہے۔اس مضمون میں ہم مغلوں کی لائبریریوں اور ان کے ہاں رائج تعلیمی نظام اور ان کی سائنسی ایجادات کا جائزہ لیں گے اور اس الزام کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مغل حکمران کس حد تک ہندوستان کے زوال کے ذمہ دار ہیں۔
اسلام آباد , دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت

اسلام آباد سطح مرتفع پوٹھو ہار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کیا۔1960ء میں اسلام آباد پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان Constantinos A. Doxiadis نے کیا۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
لیڈرشپ کی اہمیت ،اقسام اور خصوصیات

لوگوں کے کسی گروپ ، جماعت، تنظیم یا ادارے میں تحریک پیدا کرکےآگے بڑھنے کے لئے ان کودرست رہنمائی فراہم کرنا تاکہ وہ طے شدہ منزل کو پاسکیں، لیڈرشپ یا قیادت کہلاتا ہے۔یعنی بصیرت اور وژن کی بنیاد پر لوگوں کو کسی اہم مقصد پر جمع کرکے ان میں تحریک پیداکرنا اور پھر ان کو منزل کی طرف بڑھانا لیڈرشپ ہے۔ جوشخص یہ سرگرمی سرانجام دے اسے قائد یا لیڈرکہتے ہیں
دنیا میں شدید ہوتا غذائی بحران اور قحط کا خطرہ

پوری دنیا کے اہل دانش اور اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی تنظیمیں متنبہ کر رہی ہیں کہ ہماری دنیا میں وسائل خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں اور بڑھتی آبادی کا بوجھ ہمارا یہ سیارہ نہیں اٹھا پا رہا ہے ۔ طاقتور ممالک سمیت ہر ذمہ دار ملک کو چاہیئے کہ بروقت اقدامات کر لے کہیں ایسا نہ ہو دیر ہو جائے اور دنیا کو ایک خطرناک غذائی بحران یا قحط کا سامنا کرنا پڑے۔
سیلف مینجمنٹ اور ٹائم مینجمنٹ کامیابی کی کلید

زندگی کے لئے متعین کردہ اہداف اور مقاصد کو حاصل کرنا کامیابی کہلاتا ہے جس کی خواہش دنیاکا ہرانسان رکھتا ہے لیکن مقاصد کے حصول تک کا سفر یاجدوجہد سیلف مینجمنٹ کے بغیر ممکن نہیں ۔سلیف مینجمنٹ مستقل مزاجی کے ساتھ درست سمت میں جہدمسلسل کرنے کا نام ہے۔
دنیاکاتباہ ہوتا ایکو سسٹم اور معدومیت کا شکار جنگلی حیات

میں سیاست کی بات کیوں کروں ؟ کیا میرے لیے سب اچھا ہے اور کیا میری آنے والی نسلوں کے لیے سب اچھا ہے کہ میں سیاست جیسے دقیق موضوع پر بات کر کے اپنا اور اپنے قارئین کا وقت ضائع کروں ؟ نہیں میرے لیے اور میری آنے والی نسلوں کے لیے سب اچھا نہیں ہے ، میرے اردگرد کا ماحول تیزی سے خراب ہو رہا ہے، گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں میرے وطن کے موسم شدید ہوتے جا رہے ہیں، میرے وطن میں جنگلات کاٹنے والا مافیا آزاد گھوم رہا ہے اور ایک نہر کا کنارہ ایسا نہیں بچا جہاں درخت صحیح سلامت ہوں۔
حکیم محمد سعید ایک عہد ساز شخصیت

حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو متحدہ ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے ، ان کے والد ایک جدید تعلیم یافتہ تھے، دو سال کی عمر میں والد کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا ، ان کی پرورش ان کی والدہ اور بڑے بھائی حکیم عبد الحمید خان نے کی۔
جوائنٹ فیملی سسٹم اور بچوں کی تربیت

فیملی سسٹم یا خاندانی نظام بنی نوع انسان کا ایک ایسا بہترین ادارہ ہے جہاں انسان پل کر جوان ہوتاہے۔ اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوجاتاہے۔ یہ خاندانی نظام اس وقت سے قائم ہے جب سے انسان اس دنیا میں آباد ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی ایک پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کو پیداکرکے اللہ تعالی نے اس فیملی سسٹم کا آغاز فرمایا۔
تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے اجاگر کریں ؟

تخلیقیت کا بنیادی انحصار دوچیزوں پر ہوتا ہے نیا سوچنا اور نئی چیز وجود میں لانا۔ یعنی تخلیقی ذہن کا حامل انسان پہلے نہایت گہرائی میں جا کر کسی چیز پر غور وفکر کرتا ہے دنیا میں پہلے سے پائے جانے والے اس چیز کے تمام ماڈلز کو سامنے رکھتا ہے اور پھر ان ماڈلز سے ہٹ کر کوئی نیا ماڈل پیش کرتا ہے یہی تخلیق کہلاتی ہے۔
دینی مدارس، عصرحاضر کے تقاضے

دینی مدارس نے دینی علوم کے فروغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ہر دور میں انتہائی محنت اور جستجوکے ساتھ اپنی ذمے داریوں کو نبھانے کی بھرپورکوشش کی ہے۔ معاشرے نے بھی اعتماد کرتے ہوئے بچوں کی ایک بڑی تعداد دینی مدارس کے سپرد کی، یہی وجہ ہے ان کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، تاہم دینی مدارس کو مقدار میں اضافے کے ساتھ معیار میں کمی کا مسئلہ ضرور درپیش ہے، کیونکہ تحقیقی و علمی مزاج ان سے مفقود ہوتا جارہا ہے۔
دنیا کا سب سے زیادہ صفائی پسند ملک سنگاپور

سنگاپور کے پاس تیل اور کوئلے جیسے قدرتی وسائل موجود نہیں، اس کے باوجود اس کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ قدرتی وسائل سے محرومی کے باوجود اس ملک کے پاس ایک چیز ایسی ہے جو کسی اور کے پاس نہیں۔ یہ ہے اس کا محل وقوع۔